(۱۹) ابن خلدون کی حالت عجیب ہے اس کے کلام سے کہیں اعتزال (عہ)کی بوآتی ہے، کہیں نیچر یانہ اسباب پرستی کی جھلک پائی جاتی ہے، اولیائے کرام کا صاف دشمن ہے، ان کو رافضیوں کا مقلد بتاتا ہے، کہتا ہے ان کے دلوں میں رافضیوں کے اقوال رچ گئے اور ان کے مذاہب کو اپنا دین بنانے میں تو غل کیا یہاں تک کہ طریقت کا سلسلہ علی تک پہنچایا اور کہا انہوں نے حسن بصری کو خرقہ پہنایا اور ان سے ان کے پیر جنید تک پہنچا اس تخصیص علی اور ان کی اور باتوں سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ رافضیوں میں داخل ہیں، ولہذا رافضیوں کی طرح ایک امام مہدی کے انتظار میں ہیں جن کے آنے کی کچھ صحت نہیں،
عہ: دور کیوں جائیے اپنے اخ معظم مولوی عبدالحی صاحب کا فتاوٰی جلد اول طبع اول ص۷۲اور خود اپنا جمع کردہ فتاوی قیام ص۳۰۶ملاحظہ کیجئے۔ علامہ عبدالرحمان حضرمی معتزلی معروف بہ ابن خلدون ۱۲ عبید الرضاحشمت علی رضوی غفرلہ۔
اسی طرح اقطاب و ابدال کا یک لخت منکر ہے اس میں بھی اولیاء کے مقلد روافض ہونے کا مشعر ہے کہ جس طرح رافضیوں نے ہر زمانے میں ایک امام باطن اور اس کے نیچے نقبا مانے ہیں، یونہی ان سے سیکھ کر صوفیہ نے ہردور میں ایک قطب اور اس کے ماتحت ابدال گھڑے ہیں، حلانکہ احادیث مرفوعہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ جن کے بیان میں امام جلال الدین سیوطی کا ایک رسالہ ہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ و دیگر اجلہ اقطاب کرام قدست اسرارہم سب سے اقطاب وابدال کی حقیقت متواتر ہے یونہی کون ساصاحب سلسلہ ہے جس کا سلسلہ امیر المومنین علی تک نہیں پہنچتا تو وہ ان تمام حضرات اکابرکرام کومعاذاﷲ دین میں مخترع اور رافضیوں کا متبع بلکہ سلک روافض میں منسلک ٹھہراتاہے، فتوحات اسلام کا راز، عربی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا وحشی ہونا بتایا ہے، اور یہ کہ امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جہاد پر بھیجتے وقت انہیں وحشیت پر اور ابھاردیا کیونکہ وحشی ہی قوم کا ملک وسیع ہوتا ہے، نیز کہتا ہے صحابہ وحشی ہونے کے سبب لکھنا ٹھیک نہ جانتے تھے، اس لئے قرآن عظیم جا بجا غلط لکھا ہے، اور اولیاء کو جادوگروں کے حکم میں رکھنے کےلئے کہا جو کسی کو اپنی کرامت سے قتل کردے وہ صاحب کرامت قتل کیا جائے گا جیسے ساحر کو اپنے سحر سے قتل کرے۔ اجلہ اکابر محبوبان خدا کو نام بنام حتی کہ شیخ الاسلام ہروی کو لکھتا ہے کہ یہ حلولی تھے اور یہ کفر انہوں نے روافض اسمعیلیہ سے سیکھا
الٰی غیر ذٰلک من ھفواتہ الشنیعۃ
(اس کے علاوہ اس کے بہت سے برے ہفوات ہیں۔ت) اور پھر تستّر کےلئے یا خود اپنے حال سے ناواقفی کے باعث جابجا سنیت واعتقاد اولیاء کا اظہار بھی کرتا ہے جس نے محققین یا شیخ الاسلام امام ہروی کی طرف کفر میں تقلید روافض نسبت کردی وہ اگر محققین وامام باقلانی کی طرف بدعت میں تقلید خوارج نسبت کردے کیا بعید ہے، ہاں عجب ان مدعیان سنت سے کہ تمام اکابر ائمہ وعلمائے اہلسنت کے ارشادات عالیہ پر پانی پھیرنے کےلئے ایک ایسے مورّخ کا دامن تھا میں، کیا آیہ کریمہ
بئس للظٰلمین بدلا۱؎
(ظالموں کو کیا ہی برابدلہ ملا۔ت) یہاں وراد نہ ہوگی ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۵۰)
غالباً اس نسبت مخترعہ سے بھی اسے صوفیہ کرام پر چوٹ کرنی منظور ہے وہ بھی شرط قرشیت کو اجماعی مانتے ہیں خود اسی شخص نے اسی مقدمہ تاریخ فصل فاطمی میں ان اکابر کرام سے نقل کیا:
قالوالماکان امرالخلافۃ لقریش حکما شرعیا بالاجماع الذی لایوھنہ انکار من لم یراول علمہ۲؎الخ۔
یعنی صوفیہ کرام نے فرمایا خلافت خاص قریش کیلئے ہونا حکم شرعی ہے ایسے اجماع سے ثابت جو ناواقف ناشناس کے انکار سے سست نہیں ہوسکتا الخ
یعنی صوفیہ کرام نے فرمایا خلافت خاص قریش کیلئے ہونا حکم شرعی ہے ایسے اجماع سے ثابت جو ناواقف ناشناس کے انکار سے سست نہیں ہوسکتا الخ
(۲؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی امر الفاطمی موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۳۲۴)
لہذامحققین وامام سنت کا خلاف بتایا کہ ان کی تکذیب ہو۔
(۲۰) نہیں نہیں بلکہ اس کا راز اور ہے خود اسی مبحث سے روشن کہ وہ آپ مبتدع اور خوارج کا متبع اور اجماعِ صحابہ کرام کا خارق، اور ضرار یہ ومعتزلہ کا موافق ہے اس نے اولًا شرائط خلافت میں کہا:
اماالنسب القرشی فلاجماع الصحابۃ علی ذٰلک۱؎۔
قرشیت کی شرط اس لئے ہے کہ صحابہ کرام نے اس پر اجماع فرمایا۔
(۱؎مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ھذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
پھر اس اجماع کی منشا ومستند حدیثیں ذکر کیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الائمۃ من قریش۲؎
خلفاء قریشی ہوں۔
اور فرمایا:
لایزال ھذاالامر فی ھذاالحی من قریش۳؎۔
خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی۔
(۲؎، ۳؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
اور کہا اس پر دلائل بکثرت ہیں پھر آہستہ آہستہ رداحادیث واجماع کی طرف سرکاکہ:
لما ضعف امر قریش وتلاشت عصبیتھم فاشتبہ ذلک علی کثیر من المحققین حتی ذھبواالی نفی اشتراط القرشیۃ۴؎۔
جب قریش میں ضعف آیا اور ان کی حمیت جاتی رہی تو بہت محققوں کو یہاں شبہہ لگایہاں تک کہ نفی شرط قرشیت کی طرف گئے۔
(۴؎مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
یہاں دونوں پہلو دیکھئے، اشتباہ کہا جس سے مفہوم ہو کہ ان کو غلطی پر جانتا ہے اور انہیں محققین کہا جس سے مترشح ہو کہ ان کے زعم کو تحقیق مانتا ہے پھر ان کے دو شبہے ذکر کئے ایک اسی حدیث دربارہ غلام حبشی سے جس کے جواب کلامِ ائمہ سے گزرے اور اس پر زیادہ کلام ان شاء اﷲ تعالٰی آگے آتا ہے اس نے جواب خطائی اختیار کیا کہ یہ مبالغۃً بطور فرض ہے،
دوسرا شبہہ اس روایت سے کہ امیر المومنین فاروق سے مروی ہوا:
لوکان سالم مولی ابی حذیفۃ حیالولیتہ۵؎۔
اگر ابوحذیفہ کے غلام آزاد شدہ سالم زندہ ہوتے تو میں ضرور ان کو والی بناتا۔
یا فرمایا:
لمادخلتنی فیہ الظنۃ۶؎
ان پر مجھے کوئی بدگمانی نہ ہوتی۔
(۵؎ تا۶؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
اس کا کھلا ہوا روشن جواب تھا کہ امیرالمومنین نے فرمایا ہے "لولیتہ" من انہیں والی کرتا، نہ کہ "استخلفتہ" میں انہیں خلیفہ کرتا، والی ایک صوبہ کا بھی ہوتا ہے ایک شہر کا بھی ہوتا ہے، جسے خلیفہ مقرر فرمائے تو اسے یہاں سے کیا علاقہ، اس روشن جواب کو چھوڑ کر اول تو یہ جواب دیا کہ مذھب الصحابی لیس بحجۃ۷؎یعنی یہ اگر ہے تو عمر کا قول ہے اور عمر کا قول کچھ حجت نہیں۔ شان فاروقی میں یہ کلمہ جیسا ہے اہل ادب پر ظاہر ہے جن کی نسبت خاص حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے:
یعنی دوسرا جواب یہ کہ کسی قوم کا آزاد شدہ غلام انہیں میں سے ہے اور اس رشتہ ولاء کے باعث قریش سالم کی حمیت کرتے اور یہی قومی حمیت شرط نسب کا فائدہ ہے صاف نسب کی حاجت نہیں کہ وہ تو اسی حمیت کی غرض سے ہے اور حمیت اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی بھی کرتے ہیں۔
(۲؎ مقدمہ ابن خلدون فصل فی اختلاف فی حکم ہذا المنصب وشروط موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
ﷲانصاف ! دکھاناتو یہ ہے کہ شرط قرشیت نہیں مانتے ان کے شبہہ کاجواب دے رہا ہے اور جواب وہ دیا جس نے شرطِ قرشیت کو اکھاڑ پھینکا نسب کی کوئی حاجت نہیں قومی حمیت سے کام ہے جس طرح بھی ہو پھر بھی قرشیت کاکچھ ڈورا لگا رکھا کہ قریشی نہ ہوتو اس کا آزاد کردہ غلام تو ہو اگرچہ اس میں بھی کلا م ہے سالم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو ابوحذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے آزاد نہ فرمایا نہ وہ ان کے غلام تھے بلکہ ان کی بی بی شیبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے غلام تھے انہیں آزاد کیا اور وہ انصار یہ ہیں نہ کہ قریشیہ ۔ ہاں براہ موالات و دوستی مولٰی ابی حذیفہ کہلاتے ہیں، ابوحذیفہ نے ان کو متبنی کیا تھااور اپنی بھتیجی فاطمہ سے ان کی شادی کردی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
یعنی سالم ایک انصار یہ بی بی کے غلام آزاد شدہ تھے جب ابوحذیفہ نے اس بی بی سے نکاح کیا ان کومتبنی بنایا، جب سے ابوحذیفہ کی طرف منسوب ہونے لگے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین
(۳؎ فتح الباری شرح البخاری مناقب سالم مصطفی البابی مصر ۸/ ۱۰۲ و ۱۰۳)
لہذاارشاد الساری میں مولٰی ابی حذیفہ کی یوں شرح کی:
(مولی) امرأۃ ابی حذیفۃ۴؎
(ابوحذیفہ کے مولٰی یعنی ان کی زوجہ کے مولٰی۔
(۴؎ ارشاد الساری شرح البخاری مناقب سالم مولٰی ابی حذیفہ دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۱۳۸)