| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
فصل دوم خطبہ صدارت مولوی فرنگی محلی میں ۱۵سطری کارگزاری کی ناز برداری (۱) مسلمانو!تم نے دیکھا خلافت کےلئے شرط قرشیت پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں، صحابہ کا اجماع، تابعین کا اجماع، امت کا اجماع، جملہ اہلسنت کا عقیدہ، ائمہ واکابر حنفیہ کی کتب عقائد میں تصریحیں، کتب حدیث میں تصریحیں، کتب فقہ میں تصریحیں ایسے عظیم الشان جلیل البرہان اجماعی قطعی یقینی مسئلے کو فرنگی محلی کا خطبہ صدارت میں صرف شافعیہ کی طرف نسبت کرنااور حنفیہ میں فقط بعض کے کلام سے وہ بھی تصریح نہیں، فحوٰی سے سمجھے جانے کا ادعا کرنا کس درجہ خلاف دیانت واغوائے عوام ہے۔ (۲) تمہید میں تو اس پر خود حضرت سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا نص صریح مذکور، شاید امام اعظم کا نص بھی کسی مقلد حنفی کا فحوائے کلام ہوگا۔ (۳) اس پر نقول قاہرہ اجماع کو یوں گرانا کہ بعض بے اجماع نقل کیا، کیسی تلبیس ہے۔ (۴) یہ کہنا کہ ابتدااس کی قاضی عیاض سے معلوم ہوتی ہے مگر ثبوت اجماع مشکل ہے۔ ثقات ائمہ کی تکذیب کا اشعار ہے، امام اجل ثقہ عدل قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالٰی سے پہلے ائمہ نے اس پر اجماع نقل کیا، بعد کے علماء نے نقل کیا سب نے مقبول ومقرررکھا کسی نے اس میں خلاف اہلسنت کا پتا نہ دیا، معاذا ﷲ یہ سب جھوٹے ہیں اورفرنگی محلی سچے۔ (۵) جب نقول ائمہ مردود ونامعتبر ٹھہریں تو آپ ہی ہزاروں اجماعوں کا ثبوت مشکل بلکہ ناممکن ہوجائیگا کہ آخرقرآن وحدیث نے فرمایا نہیں کہ بعد عصر نبوت فلاں فلاں مسئلہ پر اجماع ہوگا ہم نے اہل اجماع کو دیکھا تک نہیں، نہ وہ سب مل کر اپنے اجماع کی دستاویز یں رجسٹری کراگئے اب نہ رہیں مگر نقولِ ائمہ وہ ان تازہ لیڈروں کو مقبول نہیں، پھر ثبوتِ اجماع کی صورت ہی کیا رہی۔ (۶) جب وہ نقلِ اجماع میں متہم تو نقل اقوال خاصہ میں کیوں معتمد ہوں گے، فقہ بھی گئی، یہ وہابیہ وغیر مقلدین کی تعظیم وتکریم و جلسوں میں ان کی صدارت و تقدیم کی شامت ہے کہ وہی غیر مقلد کا مسئلہ آگیاع
قیاس فاسد و اجماع بے اثر آمد
(قیاس فاسد ہے اور اجماع بے اثرہے۔ت)
(۷) امام اجل قاضی عیاض نے ابتداءً دعوٰی اجماع نہ کیا بلکہ یہ فرمایا کہ علمائے کرام نے اسے مسائلِ اجماع میں گنا تو ان سے ابتداءً بتانا تکذیب و گستاخی کی انتہا دکھاناہے۔ (۸) صدر اسلام میں ڈیڑھ سو برس تک تصانیف نہ ہوئیں، پھر اگلی صدیوں کی ہزاروں کتابیں مفقود ہوگئیں، اب صدہا مسائلِ اجماعیہ میں سب سے پہلے جس امام کے کلام میں نقل اجماع نظرآئے اسی کے سر رکھ دیا جائے کہ ابتداء ان سے معلوم ہوتی ہے کتنا آسان طریقہ رداجماع کا ہے۔ (۹) ائمہ کرام اس پر صحابہ و تابعین و سلف صالحین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے اب تک تمام اہلسنت کا اجماع بتاتے، اور اسی پر کتب عقائد میں اسے قطعیہ یقینیہ فرماتے ہیں اس کے مقابل اگر کسی صحابی سے کوئی اثر ملے تو اگر وہ انعقاد اجماع سے پہلے کی گفتگو ہے اس سے نقض اجماع جنون خالص ہے یوں ہی اگر تاریخ معلوم نہ ہو، اور اگر بعد کی ہے اور سند صحیح نہیں تو آپ ہی مردو د اور صحیح وقابلِ تاویل ہے تو واجب التاویل ورنہ شاذروایت اجماع کے مقابل قطعًا مضمحل نہ کہ الٹا اس سے اجماع باطل۔ (۱۰) قریش میں حصر خلافت کی احادیث بیشک متواتر ہیں بہت متکلمین کی نظر احادیث پر زیادہ وسیع نہ تھی کہ فن دوسرا ہے انہوں نے خبرآحاد سمجھا تو ساتھ ہی قبول صحابہ سے قطعی یقینی بتادیا مگر مسامرہ سے گزرا کہ حافظ الحدیث امام عسقلانی نے ایک حدیث "الائمۃ من قریش "کو چالیس کے قریب صحابہ کرام سے مروی دکھایا اور اس میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں۱؎"لذۃ العیش فی طرق حدیث الائمۃمن قریش" بتایایہ عدد صحابہ کرام میں یقینا تو اتر کاہے یہ ایک حدیث کا حال تھا اسی مدعا پر اور احادیث علاوہ۔
(۱؎ مقاصد الحسنہ تحت حدیث عالم قریش الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۸۲)
(۱۱) اس سے قطع نظر کیجئے تو اس قدر تو آج کل کی قاصر نگاہوں سے بھی نظر آرہاہے کہ وہ بلاشبہہ مشہور اور بالفاظ عدیدہ وطرق کثیرہ بہت صحابہ کرام سے ماثور، اور برابر صدر اول سے امت مرحومہ میں احتجاج وعمل کیلئے مقبول ومنظور، پھر اس کے خاص الفاظ کے احاد سے ہونے کا ذکر جس کا جواب علمائے عقائد مواقف و شرح مقاصد و شرح مواقف وغیرہامیں دے چکے کیا انصاف ہے۔ (۱۲) ائمہ نے "الائمۃ من قریش" سے استدلال فرمایا اور جمع محلی باللام کے افادہ استغراق سے اتمام تقریب فرمادیا اسے "الخلافۃ فی قریش" سے بدلنا اور "القضاء فی الانصار" سے نقض کرنا کیا مقتضائے دیانت ہے۔
(۱۳) حدیث صحیح
"لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان۱؎
(خلافت قریش کےلئے جب تک دنیا میں دو آدمی بھی ہیں۔ت) سے استدلال ائمہ کا کیا رد ہوا، کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیاکہ:
لایزال القضاء فی الانصار وھذاالاذان فی الحبشۃ مابقی من الناس اثنان۔
ہمیشہ عہدہ قضا انصار میں اور عہدہ اذان حبشیوں میں رہے جب تک دنیا میں دو آدمی بھی رہیں۔
(۱؎ صحیح بخاری کتاب الاحکام قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۰۵۷) (صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹)
جب ائمہ فرماچکے کہ صحابہ کرام نے حدیث سے حصر سمجھا اور اسی پر عمل فرمایاتو صحابہ کے مقابل اپنی چہ میگوئیاں نکالنا کیا شان دین ہے۔
(۱۵ و ۱۶) محققین اہلسنت عمومًا اور امام ابوبکر باقلانی کی طرف خصوصًا اس نسبت کی جرأت کہ قرشیت کی شرط سے بالکل عدول کرتے ہیں کس قدر دروغ بیمزہ ہے اکابر ائمہ اعاظم علماء اجماع صحابہ اجماع تابعین اجماع امت نقل فرمارہے ہیں ناقلان خلاف، صرف خارجیوں معتزلیوں کا خلاف بتاتے ہیں، مخالفت میں ضرار و کعبی دو گمراہوں کے قول نقل کرتے ہیں معاذا ﷲ اگر تمام محققینِ اہل سنت درکنار صرف امام سنت باقلانی کا خلاف ہوتا تو خارجیوں معتزلیوں کو مخالف بتایا جاتا، دوگمراہوں کا نام ان کے نام نامی سے زیادہ پیارا اور قابلِ ذکر عظمت والا تھا کہ انہیں چھوڑ کر ان دو کا نام گنایا جاتا۔ شرح عقائد نسفی کے الفاظ تو آبِ زر سے لکھنے کے ہیں کہ
"لم یخالف الاالخوارج وبعض المعزلۃ"۲؎
اس میں کسی نے خلاف نہ کیا سوا خارجیوں اور بعض معتزلیوں کے تمام نقول اجماع کا یہی مطلب ہے مگر اس میں محققین اہلسنت وامام باقلانی کی طرف اس نسبت باطلہ کی روشن تر تفضیح ہے وﷲ الحمد اجلہ اکابر ائمہ اہلسنت ائمہ کلام واکابرحدیث واعاظم فقہ سب کے ارشادات پس پشت ڈالنا اور ایک متاخر مورخ ابن خلدون کے قول بے سند پر(جس کے مذہب کی بھی کوئی ٹھیک نہیں نہ تاریخ نویسی کے سواکسی علم دینی میں اس کا نام زبانوں پر آتا ہے) سرمنڈابیٹھنا کیا شرط دین پر ستی ہے اجلہ ائمہ جہابذہ ناقدین کو نہ معلوم ہوا کہ خود امام سنت باقلانی و محققین اہلسنت اس مسئلہ میں مخالف ہیں، برابر اجماع نقل فرماتے رہے مسئلہ پر جزم ویقین فرمایا کئے اہل خلاف کو خارجی معتزلی بدعتی کہتے رہے، مگر آٹھویں صدی کے اخیرمیں اس مورخ کو حقیقت حال معلوم ہوئی کہ اس میں تو محققین اہلسنت و امام سنت مخالف ہیں۔
(۲؎ شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان ص۱۱۲)
(۱۷) طرفہ یہ کہ ابن خلدون نے اتنا کہا تھا:
اشتبہ ذٰلک علی کثیر من المحققین۱؎۔
بہت سے محققوں کو اس میں شبہہ لگا۔
(۱؎ تاریخ ابن خلدون فصل فی اختلاف الامۃ فی حکم ہذا المنصب وشروط۔ موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱/ ۱۹۴)
فرنگی محلی تحریر''شبہہ لگنا اڑادیا''اور ''کثیر'' کا لفظ گھٹادیا، اسے یوں بنایا کہ محققین عدول کرتے ہیں یعنی ان کا عدول ازراہِ اشتباہ نہیں بلکہ ازراہ تحقیق ہے اور وہ جو اس شرط پر قائم رہے یعنی تمام اہلسنت وہ تحقیق سے عاری ہیں۔ (۱۸) ان دونوں سے بڑھ کر چالاکی یہ کہ فرنگی محلی تحریر نے محققین کے ساتھ لفظ''اہلسنت'' بڑھالیا یہ لفظ ابن خلدون کی عبارت میں نہیں، وہ خداجانے کن کو محققین کہہ رہا ہے، ائمہ فرماچکے کہ اس میں مخالف خارجی ہیں یا معتزلی، تو انہیں میں سے کسی فریق کو محققین کہا اور ظاہراً معتزلہ کو کہا کہ دربارہ خلافت جو مضمون اس نے نقل کیا وہ ضرار بن عمرو معتزلی ہی کی مخالفت کا مؤید، نہیں نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زائد ہے
فاشتکی الی اﷲ تعالٰی۔