Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
29 - 150
نوعِ دگراز کتب عقائد

علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد میں فرماتے ہیں:
فان قیل فعلی ماذکرمن ان مدۃ الخلافۃ ثلثون سنۃ یکون الزمان بعد الخلفاء الراشدین خالیا عن الامام فتعصی الامۃ کلھم، قلنا المراد بالخلافۃ الکاملۃ ولوسلم فلعل الخلافۃ تنقضی دون الامامۃ بناء علی ان الامامۃ اعم لکن ھذاالاصطلاح لم نجدہ من القوم واما بعد الخلفاء العباسیۃ فالامر مشکل ۲؎(ملخصاً)
یعنی اگر کہا جائے کہ جب خلافت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد تیس ہی برس رہی تو خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے بعد زمانہ امام سے خالی رہا اورمعاذاﷲ تمام امت گنہگار ٹھہری کہ نصب امام امت پر واجب تھا تو ہم جواب دیں گے کہ وہ جو تیس برس پر ختم ہوگئی خلافت راشدہ کا ملہ تھی نہ کہ مطلق خلافت، اور اگر تسلیم بھی کرلیں تو شاید خلافت ختم ہوگئی امامت بعد کو رہی اور واجب نصب امام ہی تھا تو امت گنہگار نہ ہوئی یہ اس پر مبنی ہوگا کہ امامت خلافت سے عام ہے مگر ہم  نے قوم سے یہ اصطلاح نہ پائی، بہرحال جب سے خلفائے عباسیہ نہ رہے امر مشکل ہے کہ اس وقت سے نہ کوئی امام ہے نہ کوئی خلیفہ، تو اعتراض نہ اٹھاانتہی(ملخصاً)۔
(۲؎ شرح العقائد النسفیہ     دارالاشاعۃ قندھار، افغانستان     ص۱۱۰ و ۱۱۱)
اقول اولًا صحیح جواب اول ہے اور اشکال کا جواب خود علامہ کے کلام سے آتا ہے اس وقت نظر اس پر نہ کہی تھی۔ 

ثانیاً امامت بیشک عام ہے جس کا بیان ہم کرینگے ان شاء اﷲ۔ 

نیز علامہ موصوف شرح مقاصد میں اسی اعتراض کو ذکر کرکے بہت صحیح وواضح جواب سے دفع فرماتے ہیں:
فان قیل لووجب نصب الامام لزم اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علی ترک الواجب لانتفاء الامام المتصف بمایجب من الصفات سیما بعد انقضاء الدولۃ العباسیۃ قلنا انما یلزم الضلالۃ لوترکوہ عن قدرۃ واختیار لاعجز واضطرار۱؎۔
اگر کہا جائے کہ نصب امام واجب ہوتا تو اکثر زمانوں میں ترک واجب پر امت کا اتفاق لازم آتا ہے کہ امام کے لئے جو صفات لازم ہیں ایسا مدت سے نہیں خصوصاً جب سے دولتِ عباسیہ نہ رہی خلافت کانام نشان تک نہ رہا اور ایسا ترک واجب گمراہی ہے اور گمراہی پر امت کا اتفاق محال،تو ہم جواب دیں گے کہ گمراہی توجب ہوتی کہ ان کے بعد امت نصب امام پر قادر ہوتی اور قصدًا ترک کرتی، عجز و مجبوری کی حالت میں کیا الزام ہو۔
 (۱؎ شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ  المبحث الاول فی نصب الامام     دارالمعارف النعمانیہ لاہور   ۲/ ۲۷۵)
یہی مضمون مولوی علی الخیالی میں ہے حدیث عجز واضطرار بیان کرکے کہا:
وبھذا الحدیث یندفع الاشکال بعدالخلفاء الراشدین والعباسیۃ ایضًا۲؎۔
یعنی خلفائے عباسیہ کے بعد تمام عالم سے خلافت ضرور مفقود ہے مگر امت پر الزام نہیں آتا کہ عذر مجبوری موجود ہے۔
(۲؎ مولوی علی الخیالی     مطبع ہندوپریس دہلی     ص۲۵۷)
شرح عقائد امام نسفی پھر تعلیقات المسایرۃ للعلامۃ قاسم الحنفی تلمیذ الامام ابن الہمام رحمہم اﷲ تعالٰی میں ضرورت خلیفہ بتائی کہ دین و دنیا کے اِن ان کاموں کے انتظام کو اس کا ہونا ضرور ہے پھر فرمایا:
فان قیل فلیکتف بذی شوکۃ لہ الریاسۃ العامۃ اماماکان او غیر امام فان انتظام الامر یحصل بذٰلک کما فی عھد الاتراک قلنا نعم یحصل بعض النظام فی امرالدنیا ولکن یختل امرالدین وھو المقصود الاھم۳؎۔
یعنی اگر کوئی کہے کہ انتظام ہی کی ضرورت ہے تو ایک عام ریاست والے پر کیوں نہ قناعت ہوجائے وہ خلیفہ ہو یا نہ ہو کہ انتظام اس سے بھی حاصل ہوجائیگا جیسے سلطنت ترکی سے کہ خلافت نہیں اور انتظام کررہی ہے پھر خلیفہ کی کیا ضرورت، تو ہم جواب دینگے ہاں ایسی سلطنتوں سے دنیاوی کاموں کا کچھ انتظام چل جائے گا مگر دینی کاموں میں خلل آئے گا وہ بے خلیفہ نہ بنیں گے اور دین ہی مقصود اعظم ہے۔
 (۳؎ شرح العقائد النسفیہ     دارالاشاعت قندھار افغانستان ص۱۱۰)
لہذاترکی سلطنت یا اور بادشاہیاں کافی نہیں خلیفہ کی ضرورت ہے، کیاان سے بھی صاف نص کی حاجت ہے وﷲ الحجۃ البالغۃ۔

تنبیہ: اسی نوع سے ہے وہ حدیث کہ صدر کلام میں امام خاتم الحفّاظ سے گزری کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت جب بنی عباس کو پہنچے گی ظہور مہدی تک اور کو نہ ملے گی۔ ظاہر ہو اکہ۱۳۳۱ھ  سے آج تک اور آج سے ظہور حضرت امام مہدی تک کوئی غیر عباسی خلیفہ نہ ہوا ہے نہ ہوگا جو دوسرے کو خلیفہ مانے حدیث کی تکذیب کرتا ہے یہ حدیث اپنے طرق عدیدہ سے حسن ہے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا، اور دیلمی نے مسند الفردوس میں انہیں سے بسندِ دیگر اور دارقطنی نے افراد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مرفوعاً اور خطیب نے بسندِ خلفاء حضرت حبرالامۃ سے موقوفاً اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے، حدیث طبرانی کے لفظ یہ ہیں:
لکنھا فی ولد عمی صنوابی حتی یسلموھا الی الدجال۔۱؎
ہاں خلافت میرے چچا میرے باپ کی جگہ عباس کی اولاد میں ہے یہاں تک کہ اسے سپرد دجال کرینگے۔
 (۱؎ المعجم الکبیر    حدیث۱۰۱۶     مروی از ام سلمہ رضی اﷲ عنہا    مکتبہ فیصلیہ بیروت    ۲۳/ ۴۲۰)
اور حدیث ابن مسعود میں ہے:
لاتذھب الایام واللیالی حتی یملک رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی فیملؤھا قسطا وعد لاکماملئت جوراوظلما۲؎۔
شب وروز گزرنے کے بعد وہ خلافت کو میرے اہلبیت سے ایک مرد کے سپرد کریں گے جس کا نام میرا نام ہوگااور اس کے باپ کانام میرے باپ کا نام، وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم و ستم سے بھر گئی تھی یعنی حضرت امام مہدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب الفتن والملاحم    دارالفکر بیروت    ۴/ ۴۴۲)
امام خاتم الحفاظ نے اس حدیث سے استناد اور اس پر اعتماد کیا کما تقدم(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت) یہ ہیں تقریبًا پچاس حدیثیں اور کتب عقائد و تفسیر وحدیث و فقہ کی بانوے عبارتیں۔ سنی بانصاف کو اسی قدر کافی ووافی ہیں۔
وﷲ الحمد والحمد ﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔
Flag Counter