ذکر عبد برائے مبالغہ است بروتیرہ قول آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر کہ بناکند مسجدے اگرچہ مثل آشیانہ کنجشک و مرمسجد ہر گز مثل آشیانہ کنجشک نباشد لیکن مقصود مبالغہ است یا مراد نائب خلیفہ است۴؎۔
غلام کا ذکر بطور مبالغہ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کے طور پر، جو مسجد بنائے اگرچہ چڑیا کے گھونسلے کی مثل ہو، حلانکہ مسجد ہرگز چڑیا کے گھونسلے کی مثل نہیں ہوتی، لیکن مقصود مبالغہ ہے یا خلیفہ کا کوئی نائب مراد ہے(ت)
(۴؎ اشعۃ اللمعات کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۰۱)
عمدۃ القاری و کواکب الدراری ومجمع البحار میں ہے:
ھذافی الامراء والعمال دون الخلفاء لان الحبشی لایتولی الخلافۃ لان الائمۃ من قریش۱؎۔
یہ حدیث سرداروں اور عاملوں میں ہے حبشی خلیفہ نہ ہوگا کہ خلفاء تو قریش سے ہیں
(۱؎ عمدۃ القاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ ادارۃ المنیریۃ دمشق ۲۳/ ۲۲۴)
مہلب پھر ابن بطال پھر ابن حجر نے فتح میں کہا:
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسمعوا واطیعوالایوجب ان یکون المستعمل للعبد الاامام قرشی لما تقدم ان الامامۃ لاتکون الافی قریش۲؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ غلام کی اطاعت کرو اسی کو واجب کرتا ہے کہ غلام کو قریشی خلیفہ نے عامل بنایا ہو کہ خلافت تو نہیں مگر قریش میں۔
(۲؎ فتح الباری شرح البخاری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۳۴۰)
فتح الباری وارشاد الساری و مرقاۃ قاری میں ہے:
واللفظ لھا(وان استعمل علیکم عبد حبشی) ای وان استعملہ الامام الاعظم علی القوم لاان العبد الحبشی ھوالامام الاعظم فان الائمۃ من قریش۳؎۔
اگرچہ تم پر غلام حبشی عامل کیا جائے یعنی اگرچہ خلیفہ کسی غلام کو عامل بنائے نہ یہ کہ خود غلام حبشی خلیفہ ہوکہ خلفاء تو قریش سے ہیں۔
(۳؎ مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶)
مجمع البحار الانوار میں ہے: شرط الامام الحریۃ والقرشیۃ ولیس فی الحدیث انہ یکون امامابل یفوض الیہ الامام امرامن الامور۴؎۔
خلیفہ کےلئے شرط ہے کہ آزاد وقریشی ہو او رحدیث میں یہ نہیں کہ غلام خلیفہ ہو بلکہ یہ مراد کہ خلیفہ اسے کوئی کام سپرد کردے۔
(۴؎ مجمع بحار الانوار تحت لفظ جدع مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۰)
اقول(میں کہتا ہوں۔ت) بلکہ خود حدیث صحیح میں اس معنی کی تصریح صریح موجود جس کابیان فصل سوم میں آئے گا ان شاء اﷲ الغفور الودود۔
بالجملہ دربارہ خلافت ہر طبقے اور ہر مذہب کے علمائے اہلسنت ایسا ہی فرماتے آئے یہاں تک کہ اب دورِ آخر میں مولوی عبدالباری صاحب کے جد اعلٰی حضرت ملک العلماء بحر العلوم عبدالعلی لکھنوی فرنگی محلی رحمہ اﷲ تعالٰی نے شرح فقہ اکبر سید ناامام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں خلافتِ صدیقی پر اجماع قطعی کے منعقد ہونے میں فرمایا:
باقی ماند کہ سعد بن عبادہ از بیعت متخلف ماند میگویم کہ سعد بن عبادہ امارات خود می خواست وایں مخالف نص ست چہ حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ اند الائمۃ من قریش ائمہ از قریش اند پس مخالفت اودراجماع قدح ندارد چہ مخالفت مررائہاے صحابہ نبود بلکہ مخالفتِ اجماع واواعتبار ندارد۱؎۔
باقی رہایہ کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہ کی، تو ہم کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ اپنے لئے خلافت کے خواہشمند تھے ان کی یہ خواہش نص کے خلاف تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے لہذا ان کی مخالفت اجماع پر اثر انداز نہیں ہے کیونکہ یہ محض صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت نہ تھی بلکہ اجماع کی مخالفت تھی جس کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ شرح الفقہ الاکبر لعبد العلی فرنگی محلی)
پھر خلافت فاروقی پر انعقاد اجماع میں فرمایا:
ہمہ صحابہ بر آں عمل کردند و بیعت حضرت امیرا لمومنین عمر کردند و دریں ہم کسے مخالفت نکرد سوائے سعد بن عبادہ لیکن مخالفت او مخالفت نص بود چہ امارت خود میخو است چنانچہ دانستی۲؎۔
تمام صحابہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بیعت کی ا س میں بھی سوائے سعد بن عبادہ کے کسی نے مخالفت نہ کی لیکن ان کی مخالفت نص کے خلاف تھی کیونکہ وہ اپنے لئے امارت کے خواہشمند تھے جیسا کہ آپ نے جان لیا۔(ت)
(۲؎شرح الفقہ الاکبر لعبد العلی فرنگی محلی )
اب سب سے اخیر دور میں حضرت مولانا فضل (عہ) رسول صاحب مرحوم اپنی کتاب عقائد المعتقد المنتقد میں فرماتے ہیں: