Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
27 - 150
کتبِ فقہ حنفی 

فتاوی سراجیہ کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقادیہ میں ہے:
یشترط ان یکون الخلیفۃ قرشیا ولایشترط ان یکون ھاشمیا۳؎۔
خلیفہ میں شرط ہے کہ قرشی ہو اور ہاشمی ہونا شرط نہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی سراجیہ  کتاب الاستحسان باب مسائل اعتقاد     نولکشور لکھنؤ   ص۷۰)
اشباہ والنظائر فن ثالث بیان فرق پھر ابوالسعود ازہری علی الکنز میں ہے: یشترط فی الامام ان یکون قرشیا۴؎۔
خلیفہ میں شرط ہے کہ قریشی ہو۔
 (۴؎ الاشباہ والنظائر   الفن الثالث         ادارۃ القرآن کراچی         ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴)
غمزالعیون میں ہے:
یشترط نسب قریش لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش۵؎۔
قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:خلفاء قریشی ہوں۔
 (۵؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر      الفن الثالث             ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۲۵۳ و ۶۵۴)
درمختار میں ہے:
یشترط کونہ مسلما حراذکرا عاقلا بالغا قادر اقرشیا۱؎۔
خلیفہ ہونے کے لئے شرط ہے کہ مسلمان آزاد، مرد، عاقل، بالغ، قادر، قرشی ہو۔
 (۱؎ درمختار             باب الامامۃ             مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۸۲)
طحطاوی علے الدرمیں ہے:
اشترط کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وقد سلمت الانصار الخلافۃ لقریش بھذاالحدیث۔ ۲؎
خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے کہ رسول ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: خلفاء قرشی ہوں۔ اسی حدیث سے انصار نے قریش کی خلافت تسلیم کردی۔
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الامامۃ          دارالمعرفۃ بیروت        ۱/ ۲۳۹)
ردالمحتار میں اسی کے مثل لکھ کر فرمایا:
وبہ یبطل قول الضراریۃ ان الامامۃ تصلح فی غیر قریش والکعبیۃ ان القرشی اولی بھا۳؎۔
یعنی اسی حدیث واتفاق صحابہ کرام سے ضرار یہ کا قول باطل ہوا جو کہتے ہیں کہ خلافت غیر قریش میں لائق ہے اور کعبیہ کا جو کہتے ہیں خلافت کےلئے قرشی ہونا صرف اولٰی ہے یعنی ان دونوں گمراہ فرقوں نے اہلسنت کا خلاف کیا، اول نے غیر قرشی کی خلافت کو اولٰی جانا دوم نے قرشی کی خلافت کو صرف اولٰی سمجھا لازم نہ جانا، اہلسنت کے نزدیک خلیفہ کا قرشی ہونا لازم ہے دوسرا خلیفہ  شرعی نہیں ہوسکتا۔
 (۳؎ ردالمحتار            باب الامامۃ          داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۳۶۸)
تمہید امام ابوشکور سالمی میں امام الائمہ سراج الامہ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نص سے اس کی تصریح ہے کہ:

قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ یصح امامتہ اذاکان قرشیا براکان اوفاجرا۴؎۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا: خلافت صحیح ہے بشرطیکہ قرشی ہو نیک خواہ بد۔
 (۴؎ تمہید ابو شکور سالمی        الباب الحادی عشر فی الخلافۃ والامامۃ     دارالعلوم حزب الاحناف لاہور     ص۱۵۹)
ازالہ وہم میں عباراتِ کتب عقائد وحدیث 

بالجملہ مسئلہ قطعاً یقینا اہلسنت کا اجماعی ہے ولہذا حدیث بخاری:
اسمعوا واطیعواوان استعمل علیکم عبد حبشی۵؎۔
سنو اور مانو اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام عامل کیا جائے۔
 (۵؎ صحیح بخاری     کتاب الاحکام    باب السمع والطاعۃ للامام     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۱۰۵۷)
اس کی شرح میں علما قاطبۃً ازالہ وہم کی طرف متوجہ ہوئے، شرح مقاصدمیں ہے:
ذٰلک فی غیر الامام من الحکام۱؎۔
یہ حدیث خلیفہ کے سوا اور حکام ماتحت کے بارے میں ہے۔
 (۱؎ شرح المقاصد     الفصل الرابع فی الامامۃ     المبحث الثانی     دارالمعارف النعمانیہ لاہور    ۲/ ۲۷۷)
مواقف میں ہے:
ذلک الحدیث فی من امرہ الامام علی سریۃ وغیرہا۲؎۔
یہ حدیث اس کے بارے میں ہے جسے کسی لشکر وغیرہ پر سردار کرے۔
 (۲؎ مواقف شرح المواقف     المرصدا لرابع فی الامامۃ     منشورات الشریف الرضی، قم، ایران    ۸/ ۳۵۰)
شرح مواقف میں ہے:
یجب حملہ علی ھذادفعا للتعارض بینہ وبین الاجماع،او نقول ھو مبالغۃ علی سبیل الفرض ویدل علیہ انہ لایجوز کون الامام عبدااجماعا۳؎۔
حدیث کو اس معنی پر حمل کرنا واجب ہے کہ اجماع کے مخالف نہ پڑے، یایوں کہیں کہ وہ بروجہ مبالغہ بطور فرض ارشاد ہواہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امام کا غلام ہونا بالاجماع باطل ہے۔
 (۳؎ شرح المواقف  المرصدا لرابع فی الامامۃ     منشورات الشریف الرضی، قم، ایران    ۸/ ۳۵۰)
ابن الجوزی نے تحقیق پھر امام بدر محمود عینی نے عمدۃ القاری، پھر حافظ عسقلانی نے شرح بخاری کتاب الصلوٰۃ میں فرمایا:
ھذا فی الامراء والعمال لاالائمۃ والخلفاء فان الخلافۃ فی قریش لامدخل فیھا لغیرھم۔۴؎
یہ حدیث سرداروں اور عاملوں کے بارے میں ہے نہ کہ خلفا میں کہ خلافت تو قریش میں ہے دوسروں کو اس میں دخل ہی نہیں۔
(۴؎عمدۃ القاری شرح البخاری     باب امامۃ العبد والمولٰی     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۵/ ۲۲۸)
یہیں فتح الباری میں ہے:
امر بطاعۃ العبد الحبشی والامامۃ العظمی انما تکون بالاستحقاق فی قریش فیکون غیرھم متغلبا۵؎۔
حبشی غلام کی اطاعت کا حکم فرمایا اور خلافت تو صرف قریش کا حق ہے تو غیر قریشی متغلب ہوگا یعنی زبردستی امیر بن بیٹھنے والا۔
 (۵؎ فتح الباری    شرح البخاری     باب امامۃ العبد والمولٰی      مصطفی البابی مصر        ۱۶/ ۲۳۹)
عمدۃ القاری وفتح الباری کتاب الاحکام میں اسی حدیث کے نیچے ہے:
ای جعل عاملا بان امرامارۃ عامۃ علی البلد مثلا او ولی فیھا ولایۃ خاصۃ کالامامۃ فی الصلٰوۃ اوجبایۃ الخراج او مباشرۃ الحرب فقد کان فی زمن الخلفاء الراشدین من تجمع لہ الامور الثلثۃ ومن یختص ببعضھا۔۱؎
مراد یہ ہے کہ وہ عامل کیا جائے، یوں کہ خلیفہ غلام حبشی کو کسی شہر کا عام والی کردے یا کسی خاص منصب کی ولایت دے جیسے نماز کی امامت یا خراج کی تحصیل یا کسی لشکر کی سرداری، خلفائے راشدین کے زمانے میں یہ تینوں باتیں بعض میں جمع ہوجاتی تھیں اورکسی میں بعض۔
 (۱؎ فتح الباری         باب السمع والطاعۃ             مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۹)
امام ابوسلیمٰن خطابی پھر امام عینی وامام عسقلانی علی قاری نے فرمایا:
قدیضرب المثل بمالایقع فی الوجود وھذا من ذاک واطلق العبد الحبشی مبالغۃ فی الامر بالطاعۃ وان کان لایتصور شرعا ان یلی ذٰلک۲؎اھ بلفظ المرقاۃ قال الخطابی قدیضرب المثل بمالایکاد یصح فی الوجود۳؎۔
یعنی کبھی ضرب مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جو واقع نہ ہوگی، یہ حدیث اسی قبیل سے ہے، حبشی کاذکر حکمِ اطاعت میں مبالغہ کے لئے فرمایااگرچہ حبشی غلام کا ولی بننا شرعًا متصور نہیں، مرقاۃ کے الفاظ یہ ہیں خطابی نے کہا کبھی مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جوواقع نہ ہوگی۔(ت)
 (۲؎ فتح الباری        باب السمع والطاعۃ             مصطفی البابی مصر     ۱۶/ ۲۴۰)

(۳؎ مرقاۃ المفاتیح      شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۷/ ۲۴۶)
Flag Counter