Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
26 - 150
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ابن المنیر سے اور عمدۃ القاری امام بدر محمود عینی حنفی میں ہے:
قریش ھم اصحاب الخلافۃ وھی مستمرۃ لھم الی اٰخر الدنیا مابقی من الناس اثنان۴؎۔
قریش ہی خلافت والے ہیں وہ ختمِ دنیا تک انہیں کے لئے ہے جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں۔
 (۴؎ عمدۃ القاری شرح البخاری     باب الامراء من قریش       ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ         ۱۶/ ۷۵)
امام قرطبی کی مفہم شرح صحیح مسلم میں پھر عمدۃ القاری وفتح الباری شروح صحیح بخاری میں ہے:
ھذاالحدیث خبر عن المشروعیۃ ای لاتنعقد الامامۃ الکبری الالقرشی مھما وجد منھم احد۱؎۔
اس حدیث میں حکمِ شرعی کا بیان ہے یہ فرمایاہے کہ جب تک دنیا میں ایک قرشی بھی باقی رہے اور وں کی خلافت صحیح نہیں۔
 (۱؎ فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۵)
امام نووی شرح صحیح مسلم پھر امام قسطلانی شرح بخاری اور علامہ طیبی وعلامہ سید شریف وعلی قاری شروحِ مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاھر ان الخلافۃ مختصۃ لقریش لایجوز عقدھا لاحد من غیرھم وعلی ھذا انعقد الاجماع فی زمن الصحابۃ وکذلک بعدھم ومن خالف فیہ من اھل البدع اواعرض بخلاف من غیرھم فھو محجوج باجماع الصحابۃ والتابعین فمن بعدھم بالاحادیث الصحیحۃ۲؎۔
یہ حدیث اور ان کے مثل اور احادیث روشن دلیلیں ہیں کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ان کے سواکسی کو خلیفہ بنانا جائز نہیں، اسی پر زمانہ صحابہ میں یوں ہی ان کے بعد اجماع منعقد ہواتو جن بدمذہبوں نے اس میں خلاف کیا یا جس نے اور کسی کے خلاف کا اشارہ کیا اس کاقول صحابہ تابعین وعلمائے مابعد کے اجماع اورصحیح حدیثوں سے مردود ہے۔
 (۲؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۱۱۹)
علامہ ابن المنیر پھر حافظ عسقلانی شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں:
الصحابۃ اتفقواعلی افادۃ المفھوم للحصر خلافا لمن انکرذلک والی ھذاذھب جمھور اھل العلم ان شرط الامام ان یکون قرشیا وقالت الخوارج وطائفۃ من المعتزلۃ یجوز ان یکون الامام غیرقرشی وبالغ ضرار بن عمرو فقال تولیۃ غیر القرشی اولی وقال ابوبکر الطیب لم یعرج المسلمون علی ھذاالقول بعد ثبوت حدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنابعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذالک قبل ان یقع الاختلاف۱؎۔
یعنی صحابہ نے اتفاق فرمایا کہ حدیث الائمۃ من قریش خلافت کا قریشی میں حصر فرماتی ہے بر خلاف اس کے جواس کا منکر ہو، اور یہی مذہب جمہور اہل علم کا ہے کہ خلیفہ کے لئے قریشی ہونا شرط اور خارجیوں اور ایک گروہ معتزلہ نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے اور ضرار بن عمرو تو یہاں تک بڑھ گیا کہ کہا غیر قریشی کا خلیفہ کرنا بہتر ہے۔ امام ابوبکر ابن الطیب نے فرمایا مسلمانوں نے اس قول کی طرف التفات نہ کیا بعداس کے کہ حدیث "الائمۃ من قریش" ثابت ہوچکی اور ہر قرن میں مسلمان اس پر عامل رہے اور اس اختلاف اٹھنے سے پہلے اس کے ماننے پر اجماع (عہ) منعقد ہولیا۔
عہ: تنبیہ ضروری: یہ کلام جلیل یادرکھنے کا ہے کہ بعونہٖ تعالٰی اس سے اہلِ باطل کا منہ کالا ہوگا۱۲ حشمت علی عفی عنہ ۔
 (۱؎ فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۶)
امام احمد ناصرالدین اسکندرانی پھر امام شہاب الدین کنانی وجہ دلالت حدیث "لایزال ھذالامر فی قریش"میں فرماتے ہیں:
المبتدأبالحقیقۃ ھٰھنا ھوالامرالواقع صفۃ لھذاوھذالا یوصف الا بالجنس فمقتضاہ حصر جنس الامر فی قریش کانہ قال لاامر الافی قریش والحدیث وانکان بلفظ الخبر فھو بمعنی الامر، بقیۃ طرق الحدیث تؤید ذٰلک۲؎۔
یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ "ھذاالامر فی قریش" دائما یہ امر خلافت ہمیشہ قریش کے لیے ہے" ھذا" مبتدا ہے اور "امر" اس کی صفت، اور "ھذا" کی صفت میں ہمیشہ جنس ہی آتی ہے، تو مطلب یہ کہ جنس خلافت قریش ہی کےلئے ہے(ان کے غیرکے لئے اس کا کوئی فرد نہیں)گویا الفاظ یوں ارشاد ہوئے کہ خلافت نہیں مگر قریش میں، حدیث اگرچہ صورۃً خبر ہے معنًی امر ہے، حدیث کی باقی روایتیں اس معنٰی کی مؤید ہیں۔
 (۲؎فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر    ۱۶/ ۲۳۶)
امام ابن حجر اور ان سے پہلے امام ابن بطال شرح بخاری للمہلب سے ناقل:
یجوز ان یکون ملک یغلب علی الناس بغیر ان یکون خلیفۃ، وانما انکرمعٰویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ خشیۃ ان یظن احدان الخلافۃ تجوز فی غیرقریش، فلما خطب بذٰلک دل علی ان ذٰلک الحکم عندھم کذلک اذلم ینقل عن احد منھم انکر علیہ ۳؎۔
یعنی جب حضرت عبدا ﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے کہا کہ عنقریب ایک بادشاہ قبیلہ قحطان سے ہو گا ، حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس پر سخت انکار کیا اور خطبہ پڑھا اس میں فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ خلافت قریش میں ہے، یہ انکار اس بنا پر نہ تھا کہ کوئی غیر قرشی بادشاہ بھی نہیں ہوسکتا، یہ توجائز ہے کہ کوئی بادشاہ لوگوں پر تغلب کرے اور خلیفہ  نہ ہو بلکہ انکار کی وجہ یہ تھی کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ غیر قرشی خلیفہ ہوسکتاہے لہذا حضرت امیر معاویہ نے خطبہ پڑھا کہ کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتا اوراس پر کسی صحابی وتابعی نے انکار نہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان سب کا یہی مذہب ہے۔
 (۳؎فتح الباری شرح البخاری     باب الامراء من قریش     مصطفی البابی مصر   ۱۶/ ۲۳۲)
مہلب پھر ابن بطال پھر عینی وعسقلانی وقسطلانی سب شروح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان القحطانی اذاقام ولیس من بیت النبوۃ ولا من قریش الذین جعل اﷲ فیھم الخلافۃ فھو من اکبر تغیر الزمان وتبدیل الاحکام۱؎۔
جب قحطانی قائم ہوگا اور وہ نہ خاندان نبوت سے ہے نہ قریش سے جن میں اﷲ عزوجل نے خلافت رکھی ہے تو یہ ایک بڑا تغیر زمانہ اور احکامِ شریعت کی تبدیل ہوگا۔
 (۱؎ فتح الباری     کتاب الفتن         باب تغیر الزمان حتی یعبد الاوثان     مصطفی البابی مصر     ۱۶/ ۱۹۱)
امام اجل قاضی عیاضی پھر امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
اشتراط کونہ قرشیا ھو مذھب العلماء کافۃ وقد احتج بہ ابوبکر وعمر علی الانصار یوم السقیفۃ فلم ینکرہ احدوقد عدھا العلماء فی مسائل الاجماع ولم ینقل عن احد من السلف فیھا قول ولافعل یخالف ماذکرنا وکذٰلک من بعدھم فی جمیع الاعصار ولااعتداد بقول النظام ومن وافقہ من الخوارج واھل البدع انہ یجوز کونہ من غیر قریش لما ھو علیہ من مخالفۃ اجماع المسلمین۔۲؎
خلیفہ میں قرشی ہونےکی شرط جمیع علماء کا مذہب ہے اور بیشک اسی سے صدیق اکبر فاروق اعظم نے روز سقیفہ انصار پر حجت قائم فرمائی اور صحابہ میں کسی نے اس کا انکار نہ کیااور بیشک علماء نے اسے مسائل اجماع میں گنا اور سلف صالح میں کوئی قول یا فعل اس کے خلاف منقول نہ ہوا، یونہی تمام زمانوں میں علماء سے مابعد سے اور وہ جو نظام معتزلی اور خارجیوں اور بدمذہبوں نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے کچھ گنتی شمار میں نہیں کہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
 (۲؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم     کتاب الامارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۱۱۹)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمیشہ می باشد امر خلافت در قریش یعنی مے باید کہ در ایشاں باشد وجائز نیست شرعا عقد خلافت مر غیر ایشاں را وبریں منعقد شد اجماع در زمن صحابہ وبایں حجت کردند مہاجران بر انصار۱؎۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی یعنی انہی میں ہونا چاہئے اور شرعاً ان کے غیر میں خلافت کا انعقاد جائز نہیں صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اسی حدیث کو مہاجرین نے انصار پر بطورِ حجت پیش کیا۔(ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ     باب مناقب قریش فصل اول     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۴/ ۶۱۹)
امام جلال الدین کی تاریخ الخلفاء(عہ) سے گزرا:
 لم اورد احدا من الخلفاء العبیدیین لان امامتھم غیر صحیح لانھم غیر قریش۲؎۔
میں نے اس کتاب میں خلفائے عبیدیہ سے کسی کا ذکر نہ کیا اس لئے کہ ان کی خلافت باطل ہے کہ وہ قرشی نہیں۔
عہ:اوردہ آخر کتب الحدیث تبعا ۱۲ منہ غفرلہ
ا س کوکتب حدیث کے آخر میں تابع ہونے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے(ت)
 (۲؎ تاریخ الخلفاء         خطبہ کتاب             مطبع مجتبائی دہلی         ص۷)
Flag Counter