Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
25 - 150
پھر فرمایا:
امانسب قریش فلقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش رواہ البزار وھذا وان کان خبرواحد فقد اتفقت الصحابۃ علی قبولہ الامام ابوالعباس الصابونی وغیرہ۴؎۔
قریشی ہونا اس لئے شر ط ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: خلفاء قریش سے ہوں۔ اسے بزار نے روایت کیا، اور یہ اگرچہ خبر احاد ہو مگر صحابہ کرام نے اس کے قبول پر اجماع فرمایا، یہ امام ابوالعباس صابونی وغیرہ نے افادہ فرمایا۔
(۴؎تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام     مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر    ص۳۲۰)
طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
التاسعۃ کونہ قرشیا خلافا للخوارج وجمع من المعتزلۃ قولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش واللام فی الجمع حیث لاعھد للعموم۱؎۔
یعنی خلافت کی نویں شرط قریشی ہونا ہے اس میں خارجیوں اور ایک گروہ معتزلہ کو خلاف ہے کہ وہ خلیفہ کا قریشی ہونا ضروری نہیں جانتے، ہماری دلیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلفاء قریش سے ہوں جہاں عہد نہ ہو جمع پر لام استغراق کے لئے ہوتا ہے یعنی تمام خلفاء قریش ہی سے ہوں۔
 (۱؎ طوالع الانوار علامہ بیضاوی )
مواقف میں ہے:
یکون قرشیا ومنعہ الخوارج وبعض المعتزلۃ لنا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش ثم ان الصحابۃ عملوابمضمون ھذاالحدیث واجمعواعلیہ فصار قاطعا۲؎۔
یعنی خلیفہ قریشی ہوخارجی اور بعض معتزلی اس شرط کے منکر ہیں ہماری دلیل نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلیفہ قریشی ہو، پھر صحابہ کرام اس حدیث کے مضمون پر عامل ہوئے اور ان کا اس پر اجماع ہوا تو وہ دلیل قطعی ہوگئی۔
 (۲؎ مواقف مع شرح المواقف     المرصد الرابع فی الامامۃ     منشورات الشریف رضی قم ایران     ۸/ ۳۵۰)
شرح علامہ سید شریف میں ہے:
صاردلیلا قطعا یفید الیقین باشتراط القرشیۃ۳؎۔
یعنی دلیل قطعی ہوگئی جس سے قرشیت کا شرط ہونا یقینی ہوگیا۔ اسی میں ہے:
اشترطہ الاشاعرۃ۴؎
یعنی اہلسنت کے نزدیک خلیفہ کا قرشی ہونا شرط ہے۔
 (۳؎مواقف مع شرح المواقف     المرصد الرابع فی الامامۃ     منشورات الشریف رضی قم ایران     ۸/ ۳۵۰)

(۴؎مواقف مع شرح المواقف     المرصد الرابع فی الامامۃ     منشورات الشریف رضی قم ایران     ۸/ ۳۵۰)
مقاصد میں ہے:
یشترط فی الامام کونہ قرشیا لقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش۵؎۔
امام میں شرط ہے کہ قرشی ہو، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: خلفاء قریش سے ہوں۔
 (۵؎ مقاصد علی ہامش شرح المقاصد الفصل الرابع فی الامامۃ المبحث الثانی   دارالمعارف النعمانیۃ لاہور  ۲/ ۲۷۷)
شرح مقاصد میں ہے:
اتفقت الامۃ علی اشتراط کونہ قرشیا خلافنا للخوارج لنا السنۃ والاجماع اماالسنۃ فقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش واماالاجماع فھو انہ لما قال الانصار یوم السقیفۃ مناامیرومنکم امیرمنعھم ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بعدم کونھم من قریش ولم ینکرہ علیہ احد من الصحابۃ فکان اجماعا۱؎۔
یعنی تمام امت کا اجماع ہے کہ خلیفہ کا قریشی ہونا شرط ہے اس میں مخالف خارجی ہیں اور اکثر معتزلی، ہماری دلیل حدیث اور اجماع امت ہے، حدیث تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم کا ارشاد ہے کہ خلفاء قریش سے ہیں، اور اجماع یوں کہ جب انصار رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے روز سقیفہ بنی ساعدہ مہاجرین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے کہا ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے، انہیں صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی نے دعوی خلافت سے یوں باز رکھا کہ تم قریشی نہیں(اور خلیفہ کا قریشی ہونا لازم ہے) اس پر کسی صحابی نے انکار نہ کیا تو اجماع ہوگیا۔
 (۱؎ شرح المقاصد         الفصل الرابع فی الامامۃ         دارالمعارف النعمانیہ لاہور    ۲/ ۲۷۷)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قرشیا لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش وھو حدیث مشہور ولیس المراد ادبہ الامامۃ فی الصلٰوۃ اتفاقا فتعینت الامامۃ الکبری خلافا للخوارج وبعض المعتزلۃ۲؎۔
یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ائمہ قریش سے ہیں۔ اور یہ حدیث مشہور ہے اور اس میں امامت نماز باجماع مراد نہیں تو ضرور خلافت مراد ہے اس میں مخالف خارجی ہیں یا بعض معتزلی۔
(۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     نصب الامام واجب         مصطفی البابی مصر    ص۱۴۷)
طریقہ محمد یہ میں ہے:
المسلمون لابدلھم من امام قرشی ولایشترط ان یکون ھاشمیا۳؎۔
یعنی مسلمانوں کے لئے ضرور ہے کہ کوئی قریشی خلیفہ ہو اور ہاشمی ہوناشرط نہیں۔
 (۳؎ طریقہ محمدیۃ         المسلمون لابدلہم من امام         مکتبہ حنفیہ کوئٹہ     ا/۷۱)
حدیقہ ندیہ میں ہے:
یکون من قریش ولایجوز من غیرھم۴؎۔
خلیفہ قریشی ہو غیر قریشی کی خلافت درست نہیں۔
 (۴؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمد یہ       المسلمون لابدلہم من امام    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱/ ۲۹۵)
تمہید امام ابوالشکور سالمی جسے سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدین نے درس میں پڑھا اس میں ہے:
اجمعنا علی ان الامام من قریش ولایکون من غیرہ۱؎۔
ہم اہلسنت کا اجماع ہے کہ خلیفہ قریش سے ہو ان کے غیر سے نہیں۔
 (۱؎ التمہید فی بیان التوحید        الباب الحادی عشر فی الخلافۃ         دارالعلوم حزب الاحناف لاہور     ص۱۵۹)
کتب حدیث 

صحیح مسلم وصحیح بخاری میں ہے رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس اثنان۲؎۔
خلافت ہمیشہ قریش کےلئے ہے جب تک دنیامیں دو آدمی بھی رہیں۔
 (۲؎ صحیح بخاری         کتاب الاحکام باب الامراء من قریش     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲/ ۱۰۵۷)

(صحیح مسلم             کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۱۹)
شرح صحیح مسلم للامام النووی وشرح صحیح بخاری للامام القسطلانی ومرقاۃ علی قاری میں ہے:
بین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان ھذا الحکم مستمر الٰی اٰخر الدنیا مابقی من الناس اثنان۳؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ظاہر فرمادیا کہ یہ حکم ختم دنیا تک ہے جب تک دو آدمی بھی رہیں۔
 (۳؎ شرح مسلم مع صحیح مسلم         کتاب الامارۃ         قدیمی کتب خانہ کراچی      ۲/ ۱۱۹)

(ارشاد الساری             باب الامراء من قریش         دارالکتاب العربی بیروت        ۱۰/ ۲۱۸)
Flag Counter