Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
24 - 150
 (۴)کہ نیز دوم پر متفرع ہے ایک وقت میں تمام جہان میں ایک ہی ہوسکتا ہے اور سلاطین دس ملکوں میں دس۔ خود مسٹر آزاد لکھتے ہیں(ص۸۴): ''اسلام نے مسلمانوں کی حکومت ایک ہی قرار دی تھی یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کا صرف ایک ہی فرمانرواوخلیفہ ہو۔''

(۵)کوئی سلطان اپنے انعقاد سلطنت میں دوسرے سلطان کے اذن کا محتاج نہیں مگر ہر سلطان اذن خلیفی کا محتاج ہے کہ بے اس کے اس کی حکومت شرعی و مرضی شرع نہیں ہوسکتی، خود آزاد کے ص۷۹ سے گزرا کہ:

''خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں۔''

(۶) خلیفہ بلاوجہ شرعی کسی بڑے سے بڑے سلطان کے معزول کئے معزول نہیں ہوسکتا، خود جبار وسرکش قوّاد ترک کہ متوکل بن معتصم بن ہارون رشید کو قتل کرکے خلفاء  پر حاوی ہوگئے تھے جب ان میں کسی کو زندہ رکھ کر معزول کرنا چاہتے خود اسے مجبورکرتے کہ خلافت سے استعفٰی دے تاکہ عزل صحیح ہوجائے بخلاف سلطان کہ خلیفہ کا صرف زبان سے کہہ دینا'' میں نے تجھے معزول کیا'' اس کے عزل کو بس ہے۔

(۷) سلطنت کے لئے قرشیت درکنار حریت بھی شرط نہیں، بہتیرے غلام بادشاہ ہوئے، 

خود رسالہ آزاد صفحہ۵۵میں ہے: ''غلاموں نے بادشاہت کی ہے اور تمام سادات وقریش نے ان کے آگے اطاعت کاسر جھکایا ہے''۔

اور خلافت کےلئے حریت باجماع اہل قبلہ شرط ہے
کمافی المواقف وشرحہ وعامۃ الکتب
 (جیسا کہ مواقف اور اس کی شرح اور عامہ کتب میں ہے۔ت)
یہاں سے خلیفہ وسلطان کے فرق ظاہرہوگئے، نیزکھل گیا کہ سلطان خلیفہ سے بہت نیچا درجہ ہے، ولہذا کبھی خلیفہ کے نام کے ساتھ لفظ سلطان نہیں کہا جاتا کہ اس کی کسرِ شان ہے آج تک کسی نے سلطان ابوبکر صدیق،سلطان عمر فاروق، سلطان عثمان غنی، سلطان علی المرتضٰی بلکہ سلطان عمر بن عبدالعزیز بلکہ سلطان ہارون رشید نہ سنا ہوگا، کسی خلیفہ اموی یا عباسی کے نام کے ساتھ اسے نہ پائیے گا، تو کھل گیا کہ جس کے نام کے ساتھ سلطان لگاتے ہیں اسے خلیفہ نہیں مانتے کہ خلیفہ اس سے بلندوبالا ہے، یہی وہ خلافت مصطلحہ شرعیہ ہے جس کی بحث ہے، اسی کے لئے قرشیت وغیرہا سات شرطیں لازمی ہیں عرف حادث میں اگر کسی سلطان کو بھی خلیفہ کہیں یا مدح میں ذکر کرجائیں وہ نہ حکمِ شرع کا نافی ہے نہ اصطلاحِ شرع کا منافی۔ جس طرح اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیا ء علیہم الصلاۃ والسلام کے سواکوئی معصوم نہیں ، جو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے، پھر عرف حادث میں بچوں کو بھی معصوم کہتے ہیں یہ خارج ازبحث ہے جیسے لڑکوں کے معلم تک کو خلیفہ کہتے ہیں، یہ مبحث واجب الحفظ ہے کہ دھوکا نہ ہووباﷲ التوفیق۔

فصل اوّل 

احادیث متواترہ سرکار رسالت واجماع صحابہ وتابعین وائمہ امت ومذہب مہذب اہلسنت وجماعت سے شرط قرشیت کے روشن ثبوت

احادیث شریفہ کو میں جدا لاؤں ان کی تخریج و شان تو اتر بتاؤں ان سے اتمام تقریب ووجہ احتجاج دکھاؤں اس سے یہی بہتر کہ کتبِ عقائد وکتبِ حدیث وکتبِ فقہ سے اقوال جلیلہ ائمہ کرام علمائے اعلام بتادیں گے کہ حدیثیں متواتر ہیں ان کی حجتیں قاہرہ ہیں ہر طبقہ وقرن کے اجماع متظافر ہیں مخالف سنی نہیں خارجی معتزلی گمراہ خاسر ہیں وباﷲ التوفیق۔

کتب عقائد

امام ہمام مفتی الجن والانس عارف باﷲ نجم الملۃ والدین عمر نسفی استادِ امام برہان الملۃ والدین صاحبِ ہدایہ رحمہمااﷲ تعالٰی کا متن عقائد مشہور بہ عقائد نسفی جو سلسلہ نظامیہ ودیگر سلاسل تعلیمیہ میں عقائد اہلسنت کی درسی کتاب ہے جسے درس میں اسی لئے رکھا ہے کہ طلبہ عقائدِ اہلسنت سے آگاہ ہوجائیں، اس کتاب جلیل میں ہے:
ویکون من قریش ولایجوز من غیرھم۱؎
یعنی خلیفہ قریش سے ہو غیر قریشی جائز نہیں۔
 (۱؎ شرح العقائد النسفیۃ     دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان     ص۱۱۱)
شرح علامہ تفتازانی میں ہے:
لم یخالف فیہ الاالخوارج وبعض المعتزلۃ۱؎۔
قرشیت کی شرط میں کسی نے خلاف نہ کیا مگر خارجیوں اور بعض معتزلیوں نے۔
 (۱؎ شرح العقائد النسفیۃ     دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار، افغانستان    ص۱۱۲)
اسی میں ہے:
یشترط ان یکون الامام قریشیا لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام الائمۃ من قریش وھذا وان کان خبراواحدا لکن لمارواہ ابوبکر محتجابہ علی الانصار ولم ینکرہ احد فصار مجمعاعلیہ۲؎۔
یعنی شرط یہ ہے کہ خلیفہ قریشی ہو بدلیل قول نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش اور یہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انصار پر حجت میں اسے پیش کیا اورصحابہ کرام میں کسی نے اس پر انکار نہ کیا تو اس پر اجماع ہوگیا۔
 (۲؎شرح العقائد النسفیۃ     دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار، افغانستان     ص۱۱۱ و ۱۱۲)
کتاب قواعد العقائد امام حجۃ الاسلام غزالی میں ہے:
شرط الامامۃ نسبۃ قریش لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش۳؎۔
خلافت کی شرط نسب قریشی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا خلفاء قریش سے ہیں ۔
 (۳؎ احیاء العلوم     کتاب قواعد العقائد     الفصل الثالث     الرکن الرابع    مکتبۃ المشہد الحسینی قاہرہ مصر  ۱/ ۱۱۵)
اس کی شرح اتحاف میں ہے:
ان کثیرامن المعتزلہ نفی ھذاالاشتراط، ودلیل اھل السنۃ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قال العراقی اخرجہ النسائی من حدیث انس والحاکم من حدیث علی وصححہ اھ قلت وکذا اخرجہ البخاری فی التاریخ وابویعلی والطیالسی والبزار عن انس واخرجہ احمد من حدیث ابی ھریرۃ وابی بکر الصدیق والطبرانی من حدیث علی وعندہ عن انس بلفظ ان الملک فی قریش واخرج یعقوب بن سفیان وابویعلی والطبرانی من طریق سکین من عبدالعزیز حدثنا سیاربن سلامۃ ابوالمنہال قال دخلت مع ابی علی ابی برزۃ الاسلمی فسمعتہ یقول سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول الامراء من قریش الخ۱؎(ملخصاً)
یعنی بہت معتزلیوں نے شرطِ قرشیت کا انکار کیا اور اہلسنت کی دلیل، رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہوں، امام زین الدین عراقی نے فرمایا یہ حدیث نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور حاکم نے امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کی اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اھ  میں کہتا ہوں یونہی اسے امام بخاری نے کتاب التاریخ اور ابویعلی وابوداؤد طیالسی و بزار نے انس اور امام احمد نے ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر اور طبرانی نے مولٰی علی سے روایت کیا رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، نیز طبرانی کے یہاں بروایت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان لفظوں سے ہے کہ سلطنت قریش میں ہے اور یعقوب بن سفیان و ابویعلٰی وطبرانی نے سکین بن عبدالعزیز سے روایت کی کہ ہم سے سیار بن سلامہ ابو المنہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس گیا انہیں یہ حدیث روایت کرتے سنا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی کو فرماتے سنا کہ خلفاء قریش سے ہیں الخ(ملخصاً)
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین     کتاب قواعد العقائد     دارالفکربیروت     ۲/ ۲۳۱)
ثم ذکرتخاریج حدیث لایزال ھذا الامر فی قریش۲؎ وشواھدہ وکلہ ماخوذ من الفتح۔
پھر انہوں نے حدیث، کہ یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی، کی تخریجات اور شواہدات کو ذکر کیا اور یہ سب فتح الباری سے ماخوذ ہے(ت)
(۲؎اتحاف السادۃ المتقین     کتاب قواعد العقائد     دارالفکربیروت     ۲/ ۲۳۱)
مسایرہ امام محقق علی الاطلاق کمال الدین بن الہام میں ہے:
شرط الامام نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ۳؎۔
خلیفہ کی شرط نسب قرشی ہے بہت معتزلیوں کا اس میں خلاف ہے(ت)
 (۳؎ مسایرۃ مع المسامرۃ     شروط الامام         متکبہ تجاریۃ کبرٰی مصر    ص۲۳۹)
مسامرہ علامہ ابن ابی شریف شافعی تلمیذ امام ابن الہمام میں ہے:
لنا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الائمۃ من قریش قدمناتخریجہ وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الناس تبع لقریش اخرجہ الشیخان وفی البخاری من حدیث معٰویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان ھذاالامر فی قریش۱؎۔
ہم اہلسنت کی دلیل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ خلفا قریش سے ہیں، ہم نے اس حدیث کی تخریج اوپر بیان کی نیز حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ سب آدمی قریش کے تابع ہیں، اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا، نیز بخاری میں امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا بیشک خلافت قریش میں ہے۔

اور تخریج حدیث چھ ورق اوپر بیان کی،
رواہ النسائی من حدیث انس ورواہ بمعناہ الطبرانی فی الدعاء والبزار والبیھقی وافردہ شیخنا الامام الحافظ ابوالفضل بن حجر بجزء جمع فیہ طرقہ نحومن اربعن صحابیا۲؎۔
یہ حدیث نسائی نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی اور یہی مضمون طبرانی نے کتاب الدعاء اور بزار و بیہقی نے روایت کیا اور ہمارے شیخ امام حافظ ابو الفضل ابن حجر عسقلانی نے خاص اس حدیث میں ایک مستقل رسالہ لکھا جس میں ا س کی روایات قریب چالیس صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے جمع کیں۔
 (۱؎ مسامرۃ شرح مسایرہ    شروط الامام     مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر     ص۳۲۰)

(۲؎مسامرۃ شرح مسایرہ    شروط الامام     مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر    ص۳۰۶)
علامہ امام قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
اماعندنا فالشروط انواع بعضھا لازم لاتنعقد بدونہ، وھی الاسلام والذکورۃ والحریۃ والعقل والبلوغ واصل الشجاعۃ وان یکون قرشیا۳؎۔
ہمارے نزدیک خلافت کی شرطیں کئی قسم ہیں بعض تو شروط لازم ہیں کہ ان کے بغیر خلافت صحیح ہی نہیں ہوسکتی وہ یہ ہیں اسلام اور مرد ہونا اور آزادی وعقل وبلوغ واصل شجاعت اور قرشی ہونا۔
 (۳؎ تعلیقات مسایرۃ مع المسامرۃ شروط الامام     مکتبہ تجاریہ کبرٰی مصر ص۳۱۹ و ۳۲۰)
Flag Counter