| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
(۸) ثانیاً دنیا میں اسلامی سلطنتیں مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں اور ہر ایک اپنے ملک کا حاکم مستقل اور آپ کی دونوں شرط خلافت کا جامع تھا اور تبدل ایام و موت، تقرر سلاطین سے کبھی یہاں کی سلطنت پہلے ہوتی کبھی وہاں کی، ان میں کسی متأخر نے یہ نہ جانا کہ خلافت اس دوسرے سلطان کا حق ہے مجھے اس سے اذن وپروانہ لینا چاہئے لیکن سمجھا تو اس قریشی خلافت کا محتاج سمجھا تو ہرگز اس کی بناء پر تقدم و تأخر نہ تھی کہ بلکہ وہی ایک اکیلی شرط قرشیت کہ نامقتدری خلیفہ کی حالت میں بھی اپنا رنگ جماتی اور بڑے بڑے اقتدار وجبروت والوں کا سراپنے سامنے جھکاتی تھی۔ الحمدﷲ کیسے روشن بیانوں سے ثابت ہوا کہ یہ سارے جلوے شرط قرشیت کے تھے تمام سلاطین کا خودیہی عقیدہ تھا کہ ہم بوجہ عدم قرشیت لائق خلافت نہیں، قرشی کے سوا دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت وقرن کے علماء انہیں یہی بتاتے رہے۔ اور قطعاً یہی مذہب اہلسنت ہے اور اسی پر احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی متواتر شہادت ہے
فماذابعد الحق الا الضلا ل
(تو حق کے بعد کیا ہے صرف گمراہی ہے۔ت)
رہا مسئلہ اعانت، کیاآپ لوگوں کے زعم میں سلطانِ اسلام کی اعانت کچھ ضرور نہیں، صرف خلیفہ کی اعانت جائز ہے کہ مسلمانوں کو اعانت پر ابھارنے کے لئے ادعائے خلافت ضرور ہوا یا سلطان مسلمین کی اعانت صرف قادروں پر ہے اور خلیفہ کی اطاعت بلاقدرت بھی فرض ہے، یہ نصوص قطعیہ قرآن کے خلاف ہے، اور جب کوئی وجہ نہیں پھر کیا ضرور ت تھی کہ سیدھی بات میں جھگڑا ڈالنے کے لئے جملہ علمائے کرام کی واضح تصریحات متظافرہ اور اجماعِ صحابہ واجماعِ امت واحادیثِ متواترہ کے خلاف یہ تحریک لفظ خلافت سے شروع کرکے عقیدہ اجماعیہ اہلسنت کا خلاف کیا جائے، خارجیوں معتزلیوں کا ساتھ دیاجائے، دوراز کار تاویلوں، تبدیلیوں، تحریفوں، خیانتوں، عنادوں، مکابروں سے حق چھپانے اور باطل پھیلانے کا ٹھیکالیاجائے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ اب ہم بتوفیقہ تعالٰی اس اجمال مفصل کی تفصیل مجمل کے لئے کلام کو ایک مقدمہ اور تین فصل پر منقسم کرتے ہیں: مقدمہ: خلیفہ وسلطان کے فرق اور یہ کہ کسی عرف حادث سے مسئلہ خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ فصل اول: احادیث متواترہ واجماع صحابہ وتابعین ومذہب اہلسنت نصرھم اﷲ تعالٰی سے شرطِ قرشیت کے روشن ثبوت۔ فصل دوم:خطبہ صدارت میں مولوی فرنگی صاحب کی پندرہ سطری کار گزاری کی ناز برداری۔ فصل سوم: رسالہ خلافت میں مسٹر ابوالکلام آزاد کے ہذیانات وتلبیسات کی خدمتگزاری۔
وباﷲ التوفیق لارب سواہ، والصلوٰۃ والسلام علٰی مصطفاہ واٰلہ وصحبہ والاہ۔
مقدمہ خلیفہ و سلطان کے فرق اور یہ کہ سلطان کہہ دیا جانا ہی خلیفہ نہ ہونے کی کافی دلیل ہے اور یہ کہ لفظ خلیفہ میں اگر کوئی عرف حادث ہوتو اس سے خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کیا اثر۔ (۱) خلیفہ حکمرانی وجہانبانی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب مطلق تمام امت پر ولایت عامہ والا ہے، شرح عقائد نسفی میں ہے:
(خلافتھم) ای نیابتھم عن الرسول فی اقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الامم الاتباع۱؎۔
ان کی خلافت، یعنی دین کی اقامت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابت کا مقام یہ ہے کہ تمام امت پر اس کی اتباع واجب ہے(ت)
(۱؎ شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار، افغانستان ص۱۰۸)
خودسر کفار کا اسے نہ ماننا شرعاً اس کے استحقاق ولایت عامہ میں مخل نہیں جس طرح ان کا خود نبی کو نہ ماننا یونہی روئے زمین کے مسلمانوں میں جو اسے نہ مانے گا اس کی خلافت میں خلاف نہ آئے گا یہ خود ہی باغی قرار پائے گا اور اصطلاح میں سلطان وہ بادشاہ ہے جس کا تسلط قہری ملکوں پر ہوچھوٹے چھوٹے والیانِ ملک اس کے زیرِ حکم ہوں،
کماذکرہ الامام جلال الدین السیوطی رحمہ اﷲ تعالٰی فی حسن المحاضرۃ عن ابن فضل اﷲ فی المسالک عن علی بن سعید۔
جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالٰی نے حسن المحاضرۃ میں ابن فضل اﷲ سے انہوں نے مسالک میں علی بن سعید سے اسے ذکر کیا۔(ت) یہ دو قسم ہے: (۱) مُولّی جسے خلیفہ نے والی کیا ہو اس کی ولایت حسبِ عطائے خلیفہ ہوگی جس قدر پر والی کرے۔ (۲) دوسرا متغلب کہ بزورِ شمشیر ملک دبا بیٹھا اس کی ولایت اپنی قلمر و پر ہوگی وبس۔ (۲) کہ اول پر متفرع ہے خلیفہ کی اطاعت غیر معصیت الٰہی میں تمام امت پر فرض ہے جس کا منشا خود اس کا منصب ہے کہنا نائبِ رسول رب ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اور سلطان کی اطاعت صرف اپنی قلمرو پر، پھر اگر مولٰی ہے تو بواسطہ عطائے خلیفہ اس منصب ہی کی وجہ سے کہ اس کا امر امرِ خلیفہ ہے اور امرِ خلیفہ امر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اور اگر متغلب ہے تو نہ اس کے منصب سے کہ وہ شرعی نہیں بلکہ دفعِ فتنہ اور اپنے تحفظ کے لئے خود مسٹر نے فتح الباری سے دربارہ سلطان متغلب نقل کیا (ص۵۱)۔
طاعتہ خیرمن الخروج علیہ لما فی ذٰلک من حقن الدماء وتسکین الدھماء۱؎۔
اس کے خلاف کے مقابلہ میں اس کی طاعت بہتر ہے کیونکہ اس میں جانوں کا تحفظ اور شورش سے سکون ہے(ت)
(۱؎ مسئلہ خلافت بحث بعض کتب مشہورہ عقائد و فقہ داتا پبلشر لاہور ص ۱۰۶)
(۳) کہ دوم پر متفرع ہے خلیفہ نے جس مباح کا حکم دیا حقیقۃً فرض ہوگیا جس مباح سے منع کیا حقیقۃً حرام ہوگیا یہاں تک تنہائی وخلوت میں بھی اس کا خلاف جائز نہیں کہ خلیفہ نہ دیکھے اﷲ دیکھتا ہے، ایک زمانے میں خلیفہ منصور نے امام الائمہ سراج الامہ سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو فتوٰی دینے سے منع کردیا تھا، امام ہمام کی صاحبزادی نے گھرمیں ایک مسئلہ پوچھا، امام نے فرمایا : میں جواب نہیں دے سکتا خلیفہ نے منع کیا ہے۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ خلیفہ کا حکم مباح درکنار فرض کفایہ پر غالب ہے جبکہ دوسرے اس کے ادا کرنے والے موجود ہوں کہ اب اس کا ترک معصیت نہیں تو حکمِ خلیفہ نافذ ہوگا اگرچہ خلیفہ ظالم بلکہ خود اس کا وہ حکم ظلم ہو کہ امام کو فتوٰی سے روکنا نہ ہوگا مگر ظلماً، اور سلطان متغلب جس کی ولایت خلیفہ سے مستفاد نہ ہو اس کے امر و نہی سے مباحات فی نفسہا واجب و حرام نہ ہوجائیں گے تنہائی میں اس طور پر کہ اسے اطلاع پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو مباح اپنی اباحت پر رہے گا۔ علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اﷲ تعالٰی صاحب نسیم الریاض وعنایۃ القاضی وغیرہما کتب نافعہ کے زمانے میں سلطان نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کیا تھا یہ پردہ ڈال کر پیتے۔
امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالہ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں: ''نہ خود حقہ پیتا ہوں نہ میرے گھر بھر میں کوئی پیتا ہے مگر مباح کو حرام نہیں کہہ سکتا''۔۲؎
(۲؎ رسالہ الصلح بین الاخوان لعبد الغنی نابلسی )
اور منع سلطانی کے جواب میں شرح ہدیہ ابن العماد میں فرماتے ہیں:
لیت شعری ای امر من امریہ یتمسک بہ امرہ الناس بترکہ اوامرہ باعطاء المکس علیہ علی ان المراد من اولی الامر فی الاٰیۃ العلماء علی اصح الاقوال کماذکرہ العینی فی اٰخر مسائل شتی من شرح الکنز وایضا ھل منع السلاطین الظلمۃ یثبت حکما شرعیا وقد قالوا من قال لسلطان زماننا عادل کفر۔۱؎
یعنی کاش میں جانوں کہ سلطان کا کون سا حکم لیاجائے یہ کہ لوگ حقہ نہ پئیں یا یہ کہ تمباکو پرٹیکس دیں معہذا آیہ کریمہ میں اصح قول یہ ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں جس طرح شرح کنز امام عینی میں ہے نیز کیا ظالم سلاطین کا حکم حکم شرعی ہوجائے گا حالانکہ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ جو ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہے کافر ہوجائیگا انتہی۔ یہ ارشاد امام علم الہدٰی ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا اپنے زمانے کے سلاطین میں ہے جنہیں ہزار برس سے زائد ہوئے نہ کہ اب۔
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔
(۱؎ شرح ہدیۃ ابن العماد )