الحمدﷲ الذی ادام الائمۃ من قریش وجعل الناس تبعالھم فی ھذاالامرفغیرھم بالخلافۃ العظمۃ لایدعی ولایسمّی۱؎۔
سب خوبیاں اﷲکو جس نے خلیفہ ہمیشہ قریش میں سے کئے اور تمام لوگوں کو خلافت میں ان کو تابع کیا تو غیر قرشی کو نہ خلیفہ کہا جائے گا نہ وہ اس نام سے پکارا جائے۔
اس پر قاضی القضاۃ شمس الدین حنفی کے دستخط ہوئے۔
(۱؎ حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ )
(ج) پھر مستکفی کے بیٹے ابوالعباس احمد حاکم بامر اﷲ کی صحت خلافت پر امام قاضی القضاۃ عزالدین بن جماعہ نے شہادت دی اور ان کی مثال بیعت علامہ احمد شہاب ابن فضل اﷲ نے لکھی اس میں ان کو خلیفہ جامع شرائط خلافت لکھا اور لکھا کہ:
وصل الحق الٰی مستحقہ
۲؎حق بحقدار رسید،
کل ذٰلک فی حسن المحاضرۃ
(یہ سب کا سب حسن المحاضرۃ میں موجود ہے۔ت)
(۲؎حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ)
(د) امام اجل ابوزکریا نووی اسی خلافت مصریہ کے دور سے متعلق شرح صحیح مسلم میں فرمارہے ہیں:
قد ظھرما قالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فمن زمنہ الی الاٰن الخلافۃ فی قریش ۳؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ظاہر ہوگیا کہ جب سے آج تک خلافت قریش ہی میں ہے۔
دیکھو اکابر ائمہ برابر انہیں خلفاء مانتے آئے۔
(۳؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الامارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹)
(ہ) امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں یہ تمام خلافتیں بغدادی پھر مصری ذکر کیں اور خطبہ میں فرمایا:
ترجمت فیہ الخلفاء امراء المؤمنین القائمین بامرالامۃ من عھد ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ والی عھدنا ھذا۱؎۔
میں نے اس کتاب میں ان کے احوال بیان کئے جو خلیفہ امیر المومنین کارامت پر قیام کرنے والے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے وقت سے ہمارے زمانے تک ہوئے۔
(۱؎ تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۶)
(و) پھر فرمایا میں نے اس میں کسی عبیدی کا ذکر نہ کیا کہ کئی وجہ سے ان کی خلافت صحیح نہیں، ایک تو وہ قرشی نہ تھے، دوسرے وہ بدمذہب بے دین کم از کم رافضی تھے ومثل ھؤلاء لاتنعقد لھم بیعۃ ولاتصح لھم امامۃ۲؎ایسوں کے لئے نہ بیعت ہوسکے نہ ان کی خلافت صحیح۔ تیسرے یہ کہ ان کی بیعت اس وقت ہوئی کہ خلافت عباسی قائم تھی اور ایک وقت میں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتے، چوتھے یہ کہ حدیث فرماچکی کہ خلافت جب بنی عباس کو ملے گی پھر ظہور امام مہدی تک دوسرے کونہ پہنچے گی، ان وجوہ سے میں نے عبیدیوں کو ذکر نہ کیا وانماذکرت الخلیفۃ المتفق علٰی صحۃ امامتہ۳؎میں نے وہی خلفاء ذکر کئے جن کی صحتِ خلافت پر اتفاق ہے دیکھو کیسے صریح نص ہیں کہ یہ کمزور خلافتیں بھی صحیح خلافت ہیں، آخر کس لئے، اس لیے کہ قرشی ہیں اور زبردست طاقتور سلاطین غیر قرشی۔
(۲؎تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷)
(۳؎تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۸)
(ز) جب خلیفہ مستکفی باﷲ نے شعبان ۷۴۰ھ یا ۷۴۱ھ میں وفات پائی اور اپنے بیٹے احمد حاکم بامراﷲ کو ولی عہد کیا سلطان ناصر الدین محمد بن قلادون ترکی نے کہ۷۳۶ھ میں مستکفی باﷲ سے رنجیدہ ہوگیا اور ۱۸ذی الحجہ کو اسے مصر سے باہر شہر قوص میں مقیم کیا(اگرچہ ادارات پہلے سے بھی زائد کردئے اور خطبہ وسکہ خلیفہ ہی کا جاری رہا اس عہد کو نہ مانا اور جبراً خلیفہ مستکفی کے بھتیجے ابراہیم بن محمد حاکم بامراللہ کے لیے بیعت لی (اگرچہ مرتے وقت خود اس پر نادم ہوا اور سرداروں کو وصیت کی کہ خلافت ولی عہد مستکفی احمد ہی کے لئے ہو جس پر ابن فضل اﷲ نے وہ لکھا کہ حق بحقدار رسید)ابن قلادون کی اس حرکت پر امام جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے ناصربن قلادون پر اس کے سب سے زیادہ عزیز بیٹے امیر نوک کی موت کی مصیبت ڈالی، یہ اسے پہلی سزادی، پھر مستکفی کے بعد سلطنت سے متمتع نہ ہوا ایک سال اور کچھ روزوں کے بعد اﷲ عزوجل نے اسے ہلاک کیا بلکہ بعض نے مستکفی کی وفات۷۴۱ھ میں لکھی ہے تو یوں تین ہی مہینے بعد مرا،
سنۃ اﷲ فیمن مس احدامن الخلفاء بسوء فان اﷲ تعالٰی یقصمہ عاجلا وما ید خرلہ فی الاٰخرۃ من العذاب اشد۔۱؎
سنت الٰہیہ ہے کہ جو کوئی کسی خلیفہ سے برائی کرے اﷲ تعالٰی اسے ہلاک فرمادیتا ہے اور وہ جو آخرت میں اسے کے لئے رکھتا ہے سخت تر عذاب ہے۔
(۱؎حسن المحاضر ۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ۔)
پھر اولاد ابن قلادون میں اس کی شامت کی سرایت بیان فرمائی کہ ان میں جو بادشاہ ہواتخت سے اتارا گیا اور قید یا جلاوطن یا قتل کیا گی، خود اس کا صلبی بیٹا کہ اس کے بعد تخت پر بیٹھا دو مہینے سے کم میں اتاردیا گیا اور مصر سے قوص ہی کو بھیجا گیا جہاں سلطان نے خلیفہ کو بھیجا تھا اور وہیں قتل کیا گیا، ناصر نے چالیس برس سے زیادہ سلطنت کی اور اس کی نسل سے بارہ ۱۲بادشاہ ہوئے جن کی مجموعی مدت اتنی نہ ہوئی۔
(ح) نیز امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
اعلم ان مصر من حین صارت دارالخلافۃ عظم امرھاوکثرت شعائرالاسلام فیھا وعلت فیھا السنۃ وعفت عنھا البدعۃ وصارت محل سکن العلماء ومحط الرجال الفضلاء وھذاسرمن اسرار اﷲ تعالٰی اودعہ فی الخلافۃ النبویۃ کمادل ان الایمان والعلم یکونان مع الخلافۃ اینما کانت ولایظن ان ذٰلک بسبب الملوک فقد کانت ملوک بنی ایوب اجل قدراو اعظم قدر امن ملوک جاء ت بعدھم بکثیر ولم تکن مصر فی زمنھم کبغداد وفی اقطار الارض الاٰن من الملوک من ھواشد بأساواکثر جندامن ملوک مصر کالعجم والعراق والروم والھندوالمغرب ولیس الدین قائما ببلادھم کقیامہ بمصر ولاشعائر الاسلام ظاھرۃ فی اقطارھم کظہورھا فی مصرو لانشرت السنۃ والحدیث والعلم فیھا کما فی مصر۱؎۔
یعنی مصر جب سے دارالخلافہ ہوا اس کی شان بڑھ گئی، شعائرِ اسلام کی اس میں کثرت ہوئی، سنت غالب ہوئی بدعت مٹی، علماء کا جنگل فضلاء کا دنگل ہوگیا، اور یہ رازِ الٰہی ہے کہ اس نے خلافتِ نبوت میں رکھا ہے جس طرح حدیث میں آیا کہ خلافت جہاں ہوگی علم وایمان اس کے ساتھ ہوں گے، اوریہ کوئی نہ سمجھے کہ مصر میں یہ دین کی ترقی سلاطین کے سبب ہوئی کہ سلاطین بنی ایوب سلاطینِ مابعد سے بہت زیادہ جلیل القدر تھے اور ان کے زمانے میں مصر بغداد کو نہ پہنچتا تھا اور اب اطراف زمین میں وہ سلاطین ہیں کہ سلاطین مصر سے ان کی آنچ سخت اور لشکر زائد جیسے ایران ، عراق ،روم، مغرب، ہندوستان۔ مگر دین وہاں ایسا قائم نہیں جیسا مصر میں ہے، نہ شعائر اسلام ایسے ظاہر نہ سنت وحدیث وعلم کا ایسا شیوع، یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے، دیکھو کیسا جبار وبالاقتدار سلاطین کو جن میں ترک بھی ہیں الگ کردیا اور خلافت نبوت ایسی کمزور خلافت مصر میں مانی۔
(۱؎ حسن المحاضرۃ فی اخبارمصر والقاہرۃ)
آخر یہ فرقِ قرشیت نہیں تو کیا ہے۔
(۷) اگر کہے وہ خلافت سے نامزد ہوچکے تھے لہذا بعد کے سلاطین نے اگرچہ جامع شروط تھے اپنے آپ کو خلیفہ نہ جانا کہ خلافت جب ایک کے لئے ہولے دوسرا نہیں ہوسکتا،
اقول(میں کہتا ہوں۔ت) اولًا ہو تو سلاطین یا بعد میں ہو، بیبرس کی سلنطت تو پہلے منعقد ہولی تھی، پھر دوسرے کو خلیفہ بنانے اور اس کے آگے ہاتھ پھیلانے اور یہ سلسلہ ماضیہ جلانے جمانے کے کیا معنی تھے، کاش سلطان اپنے آپ کو معزول کرلیتا اور مستنصر ہی کے ہاتھ میں باگ دیتا مگر نہیں وہ سلطنت پر قائم رہا، اور تمہارے زعم میں خود بیبرس کی خلافت صحیحہ اور ہر مسلمان پر شرعاً واجب التسلیم تھی، اب اس نے انتخاب کی طر ف آکر اپنی صحیح شرعی خلافت تو باطل کردی اور ایک اسمی رسمی قائم کی، یہ کیسا جنون ہوا جسے تمام علمائے عصر نے بھی پسندکیا طرفہ تریہ کہ یہ اپنی حکومت شرعی طور پر منوانے کےلئے کیا جس کا مسٹر کو بھی اعتراف ہے حالانکہ اس سے پہلے اس کی خلافت کا ماننا آپ کے نزدیک شرعاً واجب تھا، اور اب نہ رہا کہ انتخاب نے شرائط عائد کیں وہ نہ اس میں ہیں نہ اس خلیفہ میں، تو اپنی خلافت کھوئی خلیفہ اسمی سے تولیت لی وہ گئی اور یہ نہ ہوئی دونوں دین سے گئے اسی لئے گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں پہنی تھیں۔ع
بیکسیہائے تمنا کہ نہ دنیا ونہ دین
(بیکسی کی آرزو پر افسوس ہے کہ نہ دنیا ہاتھ آئی نہ دین حاصل ہوا۔ت)
غرض یہ ایجاد آزاد وہ مہمل وبیمعنی ہذیان ہے جو سلاطین وعلماء کی خواب میں بھی نہ تھا وہ یقینا جانتے تھے کہ خلافت میں ہمارا کچھ حصہ نہیں اور داغِ تغلب ہم سے نہ مٹے گا جب تک کسی خلیفہ قرشی سے اذن نہ لیں لہذا یہ صورت خلافت قائم کی کہ
مالایدرک کلہ لایترک کلہ
(جسے نہ کلی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے نہ ہی اسے چھوڑاجاسکتا ہے۔ت)