Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
21 - 150
رسالہ

دوام العیش من الائمۃ من قریش ( ۱۳۳۹ھ)

(زندگی کا دوام اس امر میں کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

مسئلہ۲۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلطنت عثمانیہ کی اعانت مسلمانوں پر لازم ہے یانہیں فرضیتِ اعانت کے لئے بھی سلطان کا قرشی ہونا شرط ہے یانہیں یا صرف خلافت شرعیہ کےلئے یا کسی کے لئے نہیں، مولوی فرنگی محلی کے خطبہ صدارت میں اس کے متعلق چند سطور ہیں اور مسٹر ابوالکلام آزاد نے رسالہ مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں صفحہ۳۲ سے صفحہ۷۰ تک حسبِ عادت اسے بہت پھیلا کر بیان کیا ہے، ان دونوں کا محصل یہ ہے کہ خلافت شرعیہ میں بھی قرشیت شرط نہیں، یہ صحیح ہے یانہیں؟ اور اس بارے میں مذہب اہلسنت کیا ہے؟بینواتوجروا
الجواب

الحمدﷲ الذی فرض اعانۃ سلاطین الاسلام علی المسلمین وفضل قریشا بخاتم النبیین وسید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیھم وبارک وسلم الٰی یوم الدین وعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ کل اٰن وحین۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم۱؎، رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
بیشک دین یہ ہے کہ اﷲ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول سے سچا دل رکھے اور سلاطینِ اسلام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرے(اسے احمد،مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے تمیم داری سے اور ترمذی اور نسائی نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابن عباس سے اور طبرانی نے اوسط میں ثوبان رضی ا ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم         کتاب الایمان     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۵۴)

(سنن ابوداؤد         کتاب الادب     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۲۰)

(مسند احمد بن حنبل     حدیث تمیم الداری     دارالفکر بیروت    ۴/ ۱۰۲)
سلطنت علیہ عثمانیہ ایدہا اﷲ تعالٰی نہ صرف عثمانیہ ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے اس میں قرشیت شرط ہونا کیا معنی، دل سے خیر خواہی مطلقاً فرض عین ہے، اور وقت حاجت دعا سے امداد واعانت بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس سے کوئی عاجز نہیں اور مال یا اعمال سے اعانت فرض کفایہ ہے اور ہر فرض بقدر قدرت ہر حکم بشرط استطاعت۔
قال تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الّا وسعھا۲؎، وقال تعالٰی فاتقوااﷲ مااستطعتم۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ کسی نفس کواس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اور اﷲ نے فرمایا: تو اﷲ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                     ۳/ ۲۸۶) (۳؎ القرآن الکریم                    ۶۴/ ۱۶)
مفلس پر اعانت مال نہیں، بے دست وپا پراعانتِ اعمال نہیں، ولہذا مسلمانانِ ہند پر حکم جہاد وقتال نہیں۔ بادشاہ اسلام اگرچہ غیر قرشی ہواگرچہ کوئی غلام حبشی ہوامور جائزہ میں اس کی اطاعت تمام رعیت اور وقت حاجت اس کی اعانت بقدر استطاعت سب اہلِ کفایت پر لازم ہے، البتہ اہلسنت کے مذہب میں خلافت شرعیہ کے لئے ضرور قرشیت شرط ہے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں ہیں، اسی پر صحابہ کا اجماع، تابعین کا اجماع، اہلسنت کا اجماع ہے، اس میں مخالف نہیں مگر خارجی یا کچھ معتزلی کتب عقائد وکتب 

حدیث و کتب فقہ اس سے مالامال ہیں، بادشاہ غیر قرشی کو سلطان، امام، امیر، والی، ملک کہیں گے، مگر شرعاً خلیفہ یا امیر المومنین کہ یہ بھی عرفاً اسی کا مترادف ہے، ہر بادشاہ قرشی کو بھی نہیں کہہ سکتے سوااس کے جو ساتوں شروط خلافت اسلام، عقل، بلوغ، حریت، ذکورت، قدرت، قرشیت سب کا جامع ہوکر تمام مسلمانوں کا فرمان فرمائے اعظم ہو۔

اجمالی کلام وواقعات عام وازالہ اوہام جہال خام

اقول وباﷲ التوفیق اسم خلافت میں یہ شرعی اصطلاح ہے جملہ صدیوں میں اسی پر اتفاقِ مسلمین رہا۔

(۱) زمانہ صحابہ سے برابر علمائے کرام خلفاء ملوک کو علیحدہ کرتے آئے حتی کہ خود سلاطین اسی کے پابند رہے اور آج تک ہیں، بڑے بڑے جبار بادشاہ گزرے کبھی غیر قریش نے ترک ہوں یا مغل یا پٹھان یا کوئی اور اپنے آپ کو خلیفہ نہ کہلوایا، نہ خلافت مصطفویہ شرعیہ کا دعوٰی کیا، جب تک خلافت عباسیہ قائم رہی خلیفہ ہی کی سرکار سے سلاطین کی تاجپوشی ہوتی، سلطان دستِ خلیفہ پر بیعت کرتا اوراس منصب شرعی کا مستحق اسی کو اگرچہ زور و طاقت وسطوت میں اس سے کہیں زائد ہوتا، جب کفار تاتار کے دستِ ظلم سے محرم ۶۵۶ھ میں جامہ خلافت تار تار ہوگیا علماء نے فرمایا ساڑھے تین برس تک خلافت منقطع رہی حالانکہ اس وقت بھی قاہر سلطنتیں موجود تھیں، مصر میں ملک ظاہر سلطان بیبرس کا دور دورہ تھا،

 امام جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں خاتم الخلفا مستعصم باﷲ کی شہادت کے بعد ذکر فرماتے ہیں:
ثم دخلت سنۃ سبع وخمسین والدنیا بلاخلیفۃ۱؎۔
پھر ۶۵۷ھ آیا اور دنیا بے خلیفہ تھی۔
(۱؎ تاریخ الخلفاء     احوال المستعصم باﷲ     مطبع مجتبائی دہلی     ص۳۳۰)
پھر فرمایا:
ثم دخلت سنۃ ثمان وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ ۲؎۔
پھر ۶۵۸ھ آیا اور زمانہ اسی طرح بے خلیفہ تھا۔
 (۲؎تاریخ الخلفاء     احوال المستعصم باﷲ     مطبع مجتبائی دہلی ۳۳۱)
پھر فرمایا:
وتسلطن بیبرس وازال المظالم وتلقب بالملک الظاہر ثم دخلت سنۃ تسع وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ الٰی رجب فاقیمت بمصر الخلافۃ وبویع المستنصر وکان مدۃ انقطاع الخلافۃ ثلاث سنین ونصفا۱؎۔(ملخصاً)
بیبرس سلطان ہوا اوراس نے ظلم دفع کئے اور اپنا لقب ملک ظاہر رکھا، پھر ۶۵۹؁آیا اوروقت ماہ رجب تک یونہی بے خلیفہ تھا یہاں تک کہ مصر میں پھر خلافت قائم کی گئی مستنصر باﷲ عباسی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی خلافت ساڑھے تین برس تک معدوم رہی۔(ملخصًا)۔
(۱؎ تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ   مطبع مجتبائی دہلی     ص۳۳۱)
یونہی حسن المحاضرہ فی اخبار مصر والقاہرہ میں فرمایا:
لمااخذالتاتاربغداد وقتل الخلیفۃ اقامت الدنیا بلاخلیفۃ ثلث سنین ونصف سنۃ وذٰلک من یوم الاربعاورابع عشر صفر سنۃ ست وخمسین وھو یوم قتل الخلیفۃ المستعصم رحمہ اﷲ تعالٰی الٰی اثناء سنۃ تسع وخمسمائۃ۔۲؎
یعنی جبکہ تاتاریوں نے بغداد مقدس لے لیا اور خلیفہ شہید ہوئے دنیا ساڑھے تین برس بے خلیفہ رہی اور یہ ۱۴صفر روز چار شنبہ ۶۵۶ھ سے کہ رو زشہادت خلیفہ مستعصم رحمہ اﷲ تعالٰی تھا سے ۱۳ رجب ۶۵۹ھ تک کا زمانہ ہے۔
 (۲؎ حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ )
 (۲) یہ خلافت کہ مصر میں قائم ہوئی اور ڈھائی سو برس سے زائد رہی خود سلطان کی قائم کی ہوئی تھی، سلطان بظاہر اس کا دست نگر ہوتا اور خلاف پر قادر تھا نظر بقوت بے تفویض خلیفہ بھی نظم ونسق ورتق، فتق وامر وحکم میں سلطان مستقل تھا، خلیفہ امیر المومنین کہلانے اور بیعت لینے اور خطبہ و سکہ کو زینت اور سلاطین کو تاج و خلعت دینے کے لئے ہوتا بلکہ اس کی بنا خود خلافت بغداد میں پڑچکی تھی، مقتدر باﷲکو ۲۹۶ھ میں تیرہ برس کی عمر میں خلافت ملی، طفلی واشتغال بازی واختیارات زنان واستخدام یہود ونصارٰی نے ضعف پہنچایا ملک مغرب نکل گیا، مصر نکل گیا، قرامطہ ملعونوں کا زور ہوا، پھر ۳۲۴ھ میں واسطہ کا صوبہ محمد بن رائق خلیفہ راضی باﷲ پر فائق ہوا خلیفہ نام کے لئے تھا پھر یہ بدعت شنیعہ مدتوں مستمر رہی مگر تمام علماء ومسلمین اور خودوہ جبار سے جبار سلاطین بھی خلافت انہیں قرشی خلفاء کی مانتے اور انہیں سے پروانہ وخلعت سلطنت لیتے۔ اگر غیر قرشی بھی خلیفہ ہوسکتا تو سلاطین خود خلفاء بنتے، کیا ضرورت تھی ان قرشیوں کو اپنا تغلب مٹانے کے لئے حیلہ شرعیہ کے واسطے خلیفہ بناتے اور اپنے زیردستوں کے حضور سربندگی جھکاتے اور ان کے ہاتھ سے تاج وخطاب پاتے ،مگر نہیں وہ مسلمان تھے سنی تھے جانتے تھے کہ ہم قرشی نہیں ہماری خلافت نہیں ہوسکتی اور بے تولیت خلافت بطور خود سلطنت کرینگے تو داغ تغلب ہماری پیشانی سے نہ مٹے گا اسی لئے ان عباسی قرشیوں کی خلافت رکھی تھی۔

(۳) پھر ادھرہی کے سلاطین نہیں اس دور دراز ممکت ہند کے متشرع سلاطین نے بھی انہیں خلفاء سے اپنے نام پروانہ سلطنت کیا حالانکہ یہ کسی طرح تسلط کی راہ سے ان کے ماتحت نہ تھے،
تاریخ الخلفاء میں ہے:
وفی سنۃ اربع عشرۃ ارسل غیاث الدین اعظم شاہ بن اسکندر شاہ ملک الھند یطلب التقلید من الخلیفۃ وارسل الیہ مالاوللسلطان ھدیۃ۱؎۔
سنہ آٹھ سوچودہ میں بادشاہ ہند اعظم شاہ غیاث الدین بن سکندر شاہ نے خلیفہ مستعین باﷲ ابوالفضل سے اپنے لئے پروانہ تقررِ سلطنت مانگا اور خلیفہ کے لئے نذر اور سلطانِ مصر کو ہدیہ بھیجا۔
 (۱؎ تاریخ الخلفاء     احوال المستعین باﷲ ابوالفضل     مطبع مجتبائی دہلی     ص۳۵۷)
خود مسٹر کے اسی رسالہ  خلافت ص۷۹ میں ہے: ''جب تک بغداد کی خلافت رہی ہندوستان کے تمام حکمران اس کے فرماں بردار رہے جب ۶۶۰ھ(عہ) میں مصر کی عباسی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا تو اگرچہ عباسیہ کے کارواں رفتہ کا محض ایک نمود غبار تھا تاہم سلاطین ہند اس کی حلقہ بگوشی وغلامی کو اپنے لئے فخر سمجھتے رہے اور مرکزی خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے مقامِ خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں''۔
عہ: یہ غلط ہے بلکہ ۹/رجب ۶۵۹ھ۔۱۲منہ غفرلہ
پھر سلطان محمد بن تغلق شاہ وسلطان فیروز شاہ کی بندگی وغلامی جو اس خلافت سے رہی اور فیروز شاہ کے لئے دربارخلافت سے دوبار پروانہ تقرر سلطنت ونشان خلعت کاآنا لکھا اور یہ کہ سلطان نے اس کی کمال تعظیم کی اور یہ سمجھا کہ گویا یہ عزت آسمان سے اتری اور یہ سند بارگاہ رسالت سے ملی، پھر کہا(ص۸۰)

''غور کرو مقامِ خلافت کی عظمت کا ہمیشہ کیا حال رہا خلافت بغداد مٹنے کے بعد بھی خلافت کی صرف ایک اسمی نسبت بھی اس درجہ جبروت رکھتی تھی کہ ہندوستان جیسے بعید گوشہ میں ایک عظیم الشان  فرمانراوئے اقلیم مصر کے دربار خلافت سے اذن واجازت حاصل ہونے پر فخر کرتاہے مٹنے پر بھی اس مقام کی عظمت تمام عالم اسلامی پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہاں کافرمان آسمانی فرمان اور وہاں کا حکم بارگاہِ نبوت کا حکم سمجھا جاتا ہے''۔

خداجانے مسٹر آزاد یہ کس جنگ یا کس نشے کی ترنگ میں لکھ گئے، ان کا اعتقاد تو یہ ہے ص۴۵ کہ:

''انتخاب خلیفہ کا موقع نہ رہا ہوتو خلیفہ تسلیم کرلینے کےلئے بجز اسلام اور حکومت کے جماؤ اور جگہ پکڑلینے کے اور کوئی شرط نہیں۔''

سبحان اﷲ ! یہ سلاطین ہند وسلاطینِ مصر اور خود سلطان بیبرس جس نے اس خلافت کی بنیاد رکھی مسلمان ہی تھے اور ان کی حکومتیں جمی ہوئی تھیں تو آپ کی کافی ساختہ دونوں شرط خلافت موجود تھیں پھر انہوں نے خود اپنے آپ کو خلیفہ کیوں نہ جانا اور ان کی حکومت شرعی طور پر ماننے کے قابل کیوں نہ ہوئی حالانکہ آپ کے نزدیک شریعت کا حکم ہے کہ:

''اسی کو خلیفہ ماننا چاہئے خواہ تمام شرطیں اس میں پائی جائیں یا نہ پائی جائیں۔''(ص۵۱)

''ہر مسلمان پر ازروئے شرع واجب ہے کہ اسی کو خلیفہ اسلام تسلیم کرے''(ص۳۵)

خیر آپ کا تناقض آپ کو مبارک ۔سلاطین اسلام نے کیوں اپنی خلافت نہ مانی اور وہ کیا بات ان میں کم تھی جس کے لیے انھیں دوسرے کی خلافت جمانے اور اس کی اجازت کے صدقے اپنی حکومت کو شرعی منوانے کی ضرورت پڑی ۔ظاہر ہے کہ وہ نہ تھی مگر شرط قرشیت ۔

(۴) مسٹر کو چھوڑئیے جنہوں نے دو ہی شرطیں رکھیں، ائمہ دین تو سات بتاتے ہیں دیکھئے شاید ان میں  کوئی اور شرط مفقود ہونے کے سبب سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ سمجھا، اوپر گزرا کہ وہ اسلام وحریت وذکورت وعقل وبلوغ و قدرت وقرشیت ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ان سلاطین میں چھ موجود تھیں پہلی پانچ بداہۃً اور قدرت یوں کہ حکومت کا جماؤ بے اس کے نہیں تو صرف ایک ہی قرشیت نہ تھی لاجرم اسی کے نہ ہونے تمام سلاطین نے اپنے آپ کو خلیفہ نہ مانا اورقرشی خلافت کا محتاج دست نگر جانا۔

(۵) بلکہ بطور مسٹر امر واضح تر ہے ان نام کے خلفا میں اگر قرشیت موجود تھی قدرت مفقود تھی کہ وہ سلاطین کے ہاتھوں میں شطرنج کے بادشاہ تھے، جبار خونخوار متکبر متجبر سلاطین کے سر میں یوں بھی سودائے مساوات و بے نیازی نہ سمایا اور انہیں کو خلیفہ اور اپنے آپ کو ان کو محتاج ٹھہرایا حتی کہ جب سلطان بیبرس نے مستنصر کو خلیفہ کیا اور اس سے پروانہ سلطنت لیا خلیفہ نے اظہار انقیاد کے لئے اس کے پاؤں میں سونے کی بیڑیاں ڈالیں اور سلطان نے خدم حشم کے ساتھ یونہی قاہرہ اپنے دار السلطنت کا گشت کیا کہ گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں اور آگے آگے وزیر کے سر پر خلیفہ کا عطا کیا ہو اپروانہ سلطنت (حسن المحاضرہ) روشن ہوا کہ وہ شرط قرشیت کس درجہ اہم وضروری ترجانتے تھے انہوں نے خیال کیا کہ قدرت مکتسبہ بھی ہوتی ہے بلکہ اسے اکتساب سے مفر نہیں کہ ملکوں پر تنہا کا تسلط عادۃً نہیں ہوتا مگر افواج واطاعت جماعت سے جب اقتدار والوں نے انہیں سرپررکھ لیا تو مقصود اقتدار حاصل ہوگیا جیسے خلیفہ میں خود عالم اصول وفروع ہونے کی شرط اتفاقی نہ رہی کہ دوسرے کے علم سے کام چل سکتا ہے لیکن قرشیت ایسی چیز نہیں کہ دوسرے سے مکتسب وہ لہذا اپنے اقتدار کا خیال نہ کیا اور ان کی قرشیت کے آگے سر جھکادیا۔

(۶) نہ صرف سلاطین بلکہ بکثرت ائمہ وعلماء نے اسی کو خلافت جانا خلافت بغداد پر پچھلی تین صدیاں جیسی گزریں انہیں جانے دو تو یہی خلافت مصر لو جسے تم کاروانِ رفتہ کی محض ایک نمود غبار کہتے ہو۔

(ا) جب بیبرس نے مستنصر کی خلافت قائم کرنی چاہی سب میں پہلے امام اجل امام عزالدین بن عبدالسلام نے بیعت فرمائی پھر سلطان بیبرس پھر قاضی پھر امراء وغیرہم نے۔

(ب) پھر ابوالعباس حاکم بامراﷲ کے بیٹے تیسرے خلیفہ مصری مستکفی باﷲ کی خلافت کا امضا اور اس کی صحت کاثبوت امام اجل تقی الدین بن دقیق العید کے فتوے سے ہوا ان کےعہدنامہ خلافت میں تھا،
Flag Counter