مسئلہ۲۳:ازوانا پور محلہ شگونہ مسجد حنفیہ مسئولہ محمد حنیف خاں ۳۰ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
بگرامی خدمت فیض درجت امام اہل سنت اعلٰی حضرت عظیم البرکۃ مولانا مولوی مفتی شاہ احمد رضاخاں صاحب مدظلہم الاقدس، السلام علیکم!گزارش خدمت ہے کہ یہاں شہر پٹنہ ایک جگہ پر مجمع ہوا، جسمیں علمائے بہار بھی شریک تھے۔ اور عام لوگ بھی مولوی ابوالکلام حامی ترک موالات نے تحریک کی کہ بہار واڑیسہ کے لیے ایک امیر اسلام ہو نا چاہئے اس پر لوگوں نے حضرت اقدس شاہ بدرالدین صاحب پھلواروی کو تجویز کرکے امیرِ اسلام بنایا، اب اعلان ہے کہ لوگ شہر کے امیرِ اسلام کے ہاتھ پر بیعت کریں، لہذا حضور والا سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امیرِ اسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست ہے یانہیں؟ اور امیرِ اسلام کےلئے کیا کیا شرائط ازروئے قرآن شریف وفقہ شریف ہونا چاہئے اور جولوگ بیعت نہ کریں کیا وہ لوگ گنہگار ہیں جواب تفصیل سے مع دلائل کے عنایت ہو بینواتوجروا۔
الجواب: امیرشریعت دو قسم ہے: اختیاری وقہری۔ اختیاری وہ جو کسی پر اپنے احکام کی تنفیذ میں جبر کا اختیار نہیں رکھتا، احکامِ شریعت بتادینا اس کا کام ہے، ماننا نہ ماننا لوگوں کے اختیار،یہ امیرِ شریعت متدین فقہائے اہلِ سنت ہیں،
قال اﷲ تعالٰی یایھاالذین اٰمنوااطیعوااﷲ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۱؎، اولوالامر ھم العلماء علی اصح الاقوال کما قال تعالٰی ولوردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: اے اہلِ ایمان! اﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور تم میں سے جو صاحبِ امر ہیں ان کی۔ اصح قول کے مطابق اولوالامر سے مراد علماء ہیں جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: اور کاش وہ اسے لوٹائیں رسول کی طرف اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف، تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیں گے وہ جس کو استنباط کرتے ہیں ان میں سے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۵۹)(۲؎القرآن الکریم ۴/ ۸۳)
عدم سلطان کی حالت میں مسلمانوں پر اپنے امور دینیہ میں متدین معتمد علمائے اہلسنت کی طرف رجوع کرنا اور بھی لازم تر ہوجاتا ہے کہ بعض بعض خاص دینی کام جنہیں ولاۃ وقضاۃ اٹھائے ہوتے ہیں، ان میں تاحدِ ممکن انہیں کے حکم سے تکمیل کرنی ہوتی ہے، جیسے معاملہ عنین وتنفیذ انکحہ وخیارات بلوغ وغیرہا سوائے حدودوتعزیر وقصاص جس کا اختیار غیر سلطان کونہیں،
فاذاعسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استوااقرع بینھم۱؎۔ کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ۔
جب ایک پر اتفاق دشوار ہوتو ہر علاقہ کے لوگ اپنے عالم کی اتباع کرلیں، اگر علماء کثیر ہوں تو سب سے بڑے عالم کا اتباع کیا جائے، اگر علم میں برابر ہوں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے، جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے ہے۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱)
یہ امیر شرعی کسی کے انتخاب پر نہیں بلکہ خود بانتخاب الٰہی منتخب ہے، دیانت وفقاہت میں اس کا تفرد وتفوق خود ہی اسے متعین کرتا ہے، یہاں تک کہ لوگ اگر اس کے غیر کو منتخب کریں گے خطا کریں گے اور اسی کا اتباع لازم ہوگا کہ وہی اہل ہے اور طبائع خود ہی دینی امور میں اسکی طرف رجوع پر مجبور ہوتی ہیں کہ دوسری جگہ ویساحل شافی نہیں پاتیں یہاں تک کہ اس کے اکابر اعدا، کہ بوجہ دینی یا حسد شیاطینی اس کے سخت دشمن ہوتے ہیں، اور زبردستی اس پر اپنی تعلّی چاہتے ہیں، مسائل مشکلہ کے حل کرنے میں اسکے محتاج رہتے ہیں، اپنے گمنام جاہلوں کے ذریعہ سے اس کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں یوں اپنے لاحل مسئلوں کی گرہ کھلواتے ہیں،
ذٰلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیمo۲؎
(۲؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۱)
یہ اﷲ تعالٰی کا فضل ہے عطا کرتا ہے جسے وہ چاہے اور اﷲ فضل عظیم کا مالک ہے۔(ت)
اس امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت نہ کچھ ضرور نہ اس کے دستور، نہ اس کا ترک گناہ ومحذور، بلکہ اس کا معیار وہی ہے جواوپر مذکور، اس کے فیصلے کو بہار واڑیسہ کے جملہ علماء پر نظر تفصیلی صحیح شرعی نے جو فیصلہ کیا ہو آپ ہی منظور،
واﷲ علیم بذات الصدورo۳؎الاالی اﷲ تصیر الامورo۴؎
(۳؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۵۴)(۴؎ القرآن الکریم ۴۲/ ۵۳)
اور اﷲ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے اور سنو تمام امور اﷲ کی بارگاہ میں لوٹتے ہیں۔(ت)
دوسرا امیر قہری، اس کے ذمہ وہ کام ہیں جو بغیر تسلط و غلبہ و قہر کے انجام نہیں پاتے مثلًا قصاص وحدود وتعزیرات واخذ عشور واخذ خراج یہ ضرور نصب و انتخاب مسلمین پر ہے اور اسی کے ہاتھ پر بیعت کا دستور اور بلاوجہ شرعی اس سے انکار محظور، یہ اگر عام ممالک اسلامیہ پر مقرر کیا جائے تو خلیفہ و امیر المومنین ہے اوراس کے لئے سات شرطیں لازم کہ ایک بھی کم ہو تو خلیفہ نہیں متغلب ہے، اسلام، حریت، ذکورت، عقل، بلوغ، قدرت، قرشیت ۔
علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ امام ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
لیکن ہمارے نزدیک شروط مختلف طرح کی ہیں بعض ان میں سے لازم ہیں جن کے بغیر امارت کی انعقاد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمان ہونا، مذکر ہونا، آزاد ہونا عقل والا ہونا، دلیر ہونا اور قرشی ہونا ہے(ت)
(۱؎ تعلیقات مسایرۃ علامہ قاسم بن قطلو بغامع المسامرۃ شروط الامام المکتبۃ التجاریۃ مصر ص۳۱۹ و ۳۲۰)
اور اگر کسی قطر یا شہر یا موضع خاص پر تو وہاں کا صوبہ یا والی ہے، اس کےلئے بھی عقل وبلوغ و قدرت یقینا شرط اور قرشیت کی کچھ حاجت نہیں اور تعمیمِ احکام کےلئے اسلام وحریت وذکورت بھی ضرور ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ عدم سلطان کے وقت مسلمانوں پر ایسا والی مسلم تلاش کرنا واجب ہے
(جیسا کہ مبسوط، جامع الفصولین اور معراج الدرایہ وغیرہ میں ہے۔ت) مگر ہر واجب بقدر قدرت ہوتا ہے اور ہر فرض بشرط استطاعت۔
قال اﷲ تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الا وسعھا۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۸۶)
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے : اﷲ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔(ت)
یہاں مسلمان ایسا والی مقرر کرنے پر ہر گزقادر نہیں اور اس پر واضح دلیل یہ ہیے کہ سوبرس سے آج تک ہندوستان میں ہزارہا مشائخ وعلماوصلحاوکبراء گزرے کبھی اس طرف متوجہ نہ ہوئے کیا وہ مسئلہ نہ جانتے تھے یاقصدافاسق و تارکِ واجب رہے، حاشا ہرگز نہیں، بلکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ وجوب ہم پر نہیں۔
شرح مقاصد میں ہے:
فان قیل لو وجب نصب الامام لزم اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علٰی ترک الواجب لانتفاء الامام المتصف بما یجب من الصفات سیما بعد انقضاء الدولۃ العباسیۃ، قلنا انما یلزم الضلالۃ لوترکوہ عن قدرۃ واختیار لاعجز واضطرار۱؎۔
اگر یہ اعتراض اٹھایا جائے کہ اگر امام کا مقرر کرنا واجب ہے تو لازم آئے گا کہ امت نے اکثر زمانوں میں واجب کا ترک کیا کیونکہ ایسا کوئی امام ہی نہیں ملا جو مذکورہ صفات کاحامل ہو خصوصاً حکومت عباسیہ کے گزرنے کے بعد، ہم جواباً کہتے ہیں امت کا گنہگار ہونا تب لازم آئے گا اگر انہوں نے قدرت واختیار ہونے کے باوجود اسے ترک کیا ہو اور اگر عجز واضطرار کی وجہ سے ہوتو پھر گناہ نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ شرح المقاصد الفصل الرابع المبحث الاول فی نصب الامام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۷۵)