Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
19 - 150
علمائے لکھنؤ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ مولوی عبدالحی صاحب کے فتاوٰی میں ہے:

''گائے ذبح کرنا طریقہ قدیمہ ہے زمانِ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وجملہ سلف صالحین سے تمام بلاد وامصار میں، اور اس پر اجماع واتفاق ہے تمام اہل اسلام کا، ایسے امرشرعی ماثور قدیم سے اگر ہنود بنظرِ تعصب مذہبی منع کریں تو مسلمانوں کو اس سے باز رہنا نہیں درست ہے بلکہ ہر گاہ ہنود ایک امر شرعی قدیم کے ابطال میں کوشش کریں اہل اسلام پر واجب ہے کہ اس کے ابقاء واجرا میں سعی کریں، اور اگر ہنود کے کہنے سے اس فعل کو چھوڑیں گے تو گنہ گار ہوں گے، ہنود منع کریں تو اسکے ابقا میں سعی واجب و لازم ہے۴؎(ملخصًا)
14_1.jpg
 (۴؎ مجموعہ فتاوٰی عبدالحی     کتاب الاضحیۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۲/ ۲۸۳)
انہیں کے دوسرے فتوے میں ہے: ''گائے ذبح کرنے کا جواز قرآن و حدیث سے ثابت ہے، ہندو بہ نظر اپنے مذہب کے روکےتومسلمانوں کو باز آنا نہیں درست ہے اور ہندو کی ممانعت کو جو مبنی ہے ان کے اعتقاد باطل پر تسلیم کرلینا نہیں جائز ہے، جو اس کی عظمت کا خیال کرے اس کے اسلام میں فتور ہے، پس ہنود کی ممانعت تسلیم کرنا موجب ان کے اعتقاد باطل کی تقویت وترویج کا ہوگا اور یہ کسی طرح شرعاً جائز نہیں، مسلمانوں کو ضرور رہے کہ گاؤ کشی ترک نہ کریں۱؎''(ملخصًا)
14_2_1.jpg
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی عبدالحی     کتاب الاضیحۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۲/ ۸۶۔۲۸۵)
مولوی عبدالباری صاحب کے والد ماجد مولانا عبدالوہاب صاحب کے فتوٰی میں ہے:

''ان بلاد میں مسلمانوں کو گاؤ کشی باقی رکھنے میں کوشش لازم ہے۲؎''
14_2_2.jpg
 (۲؎ فتاوی محمد عبدالوہاب     بحوالہ مجموعہ فتاوٰی      مطبع یوسفی لکھنؤ   ۲/ ۲۸۳)
انھیں کے دوسرے فتوی میں ہے :''قربانی گائے کی شعارِ اسلام ہے اس کا موقوف کرنا بسبب ممانعت ہنود موجب معصیت ہے بلکہ قائم رکھنے قربانی گائے میں مسلمانوں کو سعی لازم ہے۳؎''
14_2_3.jpg
 (۳؎ فتاوی محمد عبدالوہاب     بحوالہ مجموعہ فتاوٰی      مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۲۸۶)
خود مولوی عبدالباری صاحب کے رسالہ قربانی میں ص۲۰میں ہے:

''رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں گائے کی قربانی واجب ہوجاتی ہے''۴؎
 (۴؎ رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی                 ص۲۰)
اسی کے صفحہ ۲۱میں ہے: ''جب سے ہندؤوں کو اس کا خیال ہوا کہ گائے کی قربانی روکی جائے اس وقت سے مسلمانوں کو بھی اپنا حق قائم رکھنے اور اپنے مذہبی حکم جاری رکھنے کا خیال پیداہوگیا، حکم شریعت بھی ایسا ہی ہے کہ جب قربانی رو کی جائے تو لازم ہے کہ ہم اس کو کریں۵؎''
 (۵؎ رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی              ص۲۱)
صفحہ۶ میں ہے: ''میں جانتا ہوں روکنے سے اس کا انجام دینا ضروری ہوجاتا ہے۶؎''

صفحہ۳:''مذہبی شعار کو کسی دباؤ یا مروت سے نہیں چھوڑسکتے۔''۷؎
 (۶؎ رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی               ص۶)

(۷؎ رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی      ص۳)
صفحہ۱۶: ''ہندؤوں کے روکنے یا ان کی محض خوشامد سے ترک قربانی گاؤ کو ممنوع سمجھتا ہوں۱؎''
 (۱؎ رسالہ قربانی     عبدالباری فرنگی محلی     ص۱۶)
صفحہ ۱۹: شعارِ دین میں سے جس کو روکا جائے اس کے برقرار رکھنے کی پابندی مسلمانوں پر عائد ہوجاتی ہے''۔۲؎
 (۲؎ رسالہ قربانی     عبدالباری فرنگی محلی   ص۱۹)
بقیہ اقوال کی تشریح رسالہ الطارئ الدارئ میں ہے، تو جو لوگ خوشنودی مشرکین کے لئے اس شعارِ اسلام کو مٹانے چاہتے اور مسلمانوں کو اس کے چھوڑنے پر زور دیتے ہیں، سخت فاسق، مفسد، آمر بالحرام، بدخواہ اسلام، مسلمانوں کے رہزن ہیں، مشرکین کے گرگے، شیطان کے بھائی، ابلیس کے کارندے، حق کے دشمن ہیں، منافقوں کے وارث ہیں، جن کو حق سبحانہ فرماتا ہے:
المنٰفقون والمنٰفٰقت بعضھم من بعض یامرون بالمنکروینھون عن المعروف ویقبضون ایدیھم نسوااﷲفنسیھم ان المنٰفقین ھم الفٰسقونoوعداﷲ المنٰفقین والمنٰفقٰت والکفار نار جھنم خلدین فیھا ھی حسبھم ولعنھم اﷲ ولھم عذاب مقیمo۳؎
منافق مرد عورت آپس میں ایک ہیں برائی(مثلًا شعارِ اسلام بندکرنے) کاحکم دیتے ہیں اور بھلائی (شعارِ اسلام جاری رکھنے) سے روکتے ہیں، اور (نیک کام خصوصاً شعائر اسلام سے) ہاتھ کھینچتے ہیں وہ اﷲ کو بھول گئے تو اس نے انہیں چھوڑدیا، بیشک منافق ہی پکے فاسق ہیں، اﷲ نے منافق مردوں عورتوں اور ان کافروں سے(جن کی طرف یہ منافق جھکتے اور ان کی خوشنودی چاہتے ہیں) جہنم کی آگ کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ سب ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے عذاب کو بہت ہے اور اﷲ نے ان سب پر لعنت کی اور ان کے لئے دائم عذاب ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۹/ ۶۶ و ۶۷)
ان کے دام میں پھنس کر گائے کی قربانی چھوڑنے والا اﷲ عزوجل کا مخالف اور ابلیس لعین کافر مانبردار ہے، تارکِ واجب ومرتکب حرام، مستحقِ نارو غضب جبار ہے۔
والعیاذ باﷲ العزیز الغفار وصلی اﷲ تعالٰی علی الحبیب المختار واٰلہ الاطہار وصحبہ الابرار واولیائہ الاخیار وامتہ اجمعین الی یوم القرار وبارک وسلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اﷲ عزیز وغفار کی پناہ،اوراس کے حبیب مختار پر صلوٰۃ وسلام، آپ کی آلِ اطہار، اصحاب ابرار، اولیا اخیار اور امت پر بھی قیامت تک، اور برکت وسلامتی ہو۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم(ت)
Flag Counter