| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
جبکہ وہ وجہ جو یہ ظاہر کرتے ہیں قطعًا کذب و باطل ہے، محض معاندانہ اس کا جھوٹا حیلہ گھڑکر مسلمانوں کو مسجد سے روکنا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا چاہا تو وہ نہ ہوا مگر مسجد الٰہی کو یادالٰہی سے روکنا، مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اورا نہیں مسجد سے روکنے میں کافروں سے مدد لینا اور انہیں اغوائے مسلمین کے لئے راستوں پر مقرر کرنا نظر بحقیقت توٹھیک مناسبت پر واقع ہوا، کافروں سے زیادہ اس کا اہل کون تھا، ایسے کام لینے والوں کے ایسے کام کو ایسے ہی کام کرنے والے مناسب تھے
الخبیثٰت للخبیثین والخبیثون للخبیثت۴؎
( گندیاں گندوں کےلئے اور گندے گندیوں کے لئے۔ت) مگر ان کے زعم پر یہ کافروں سے استمداد اسی قسم میں واقع ہوا جوان کے ادعا میں دینی کام تھا اور دینی کام میں کافروں سے استعانت حرام،
(۴؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۲۶)
قال اﷲ عزوجل لایتخذ المؤمنون الکٰفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذٰلک فلیس من اﷲ فی شیئ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مسلمان مسلمانوں کے سواکافروں کو مددگار نہ بنائیں اور جو ایساکرے اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۳۲۸)
تفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الٰہیہ میں اسی آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے:
نھواعن الاستعانۃ بھم فی الامور الدینیۃ ۲؎
اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو ا س سے منع فرمایا کہ کافروں سے کسی دینی کام میں مدد لیں، یونہی ایسی نماز قائم کرنے کےلئے جس کی بنا پر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور سنی عالم کی اقتداء سے روک کر غالبًا کسی "منہم" کے پیچھے پڑھوانے پر ہو، زمین کفار ہی مناسب تھی کہ قضیہ زمین پر سرزمین ورنہ فقہائے کرام نے تو کافر کی زمین میں نما ز پڑھنے سے اتنا روکا ہے کہ مسلمان کی زمین میں بے اس کے اذن کے پڑھے اور کافر کی زمین سے بچے، اور اگر مسلمان کی زمین میں کھیتی ہے کہ اس میں نہیں پڑھ سکتا توراستے میں پڑھے اور کافر کی زمین میں نہ پڑھے، اگرچہ راستے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کراہت کافر کی زمین میں پڑھنے کی کراہت سے ہلکی ہے۔
(۲؎ ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳ الفتوحات الالٰہیہ آیت لایتخذالمومنون الکٰفرین کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷)
حاوی قدسی میں ہے:
ان اضطربین ارض مسلم وکافر یصلی فی ارض المسلم اذلم تکن مزروعۃ اولکافر یصلی فی الطریق۳؎۔
اگر مسلمان اور کافر کی زمین کے درمیان اضطراب آگیا تو مسلمان کی زمین میں نماز ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ کاشت نہ ہو، اگر وہ کاشت ہے یا کافر ہی کی زمین ہے تو راستے میں نماز ادا کرلی جائے۔(ت)
(۳؎ الحاوی القدسی )
ہاں ظاہراً یہاں اس کافر مالک زمین کا اذن ہوگا، اب ایمانی نگاہ سے یہ فرق دیکھنا چاہئے کہ کہاں تو کافر کی بے خبری میں اس کی زمین میں وہ نمازپڑھنی جس سے رضائے الٰہی مقصود ہو اور کہاں مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے اور بندگانِ الٰہی کو مسجد الٰہی سے روکنے کےلئے کافر کی دلی خوشی کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے پوری کرنے کو اس کی زمین میں نماز قائم کرنی کافر کی وہ کراہت بدتر تھی جو اس کی زمین میں نماز پڑھنے سے ہوتی یا کافر کی یہ خوشی بدرجہا بدتر ہے جو اس کی کراہت قلب پر غالب آگئی اور جس کے سبب خود اس نے اپنی زمین خوش خوش نماز کیلئے دی، اول کا مقصود رضائے الٰہی ہے اور کافر کو اس سے غیظ و نفرت، اور دوم کا مقصود مسلمانوں میں تفرقہ ہے کہ نامرضی خداہے اور کافر کو اس سے سرور فرحت، فاعتبروایاولی الابصار۴؎(اے اہل ابصار! عبرت حاصل کرو۔ت)
(۴؎القرآن الکریم ۵۹ /۲)
بلاشبہہ ایسا کرنے والے مسجد ضرار والے منافقوں کے وارث اور مسلمانوں کے بدخواہ اور ایذائے مسلمین کیلئے مشرکین کے آلے اور ان کے مسخرے یعنی انکے ہاتھوں میں ضرراسلام کے لئے مسخر ہیں والعیاذ باﷲتعالٰی۔ (۶ و ۷)گائے کی قربانی بیشک شعارِ اسلام ہے،
قال اﷲ تعالٰی والبدن جعلناھالکم من شعائر اﷲ۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۶)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ہم نے اونٹ اور گائے کی قربانی کو تمہارے لئے دین الٰہی کی نشانیوں سے کیا۔ خود مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کو اس کا اقرار ہے۔ رسالہ قربانی صفحہ ۲۱پرلکھتے ہیں:
''والبدن جعلنھا لکم من شعائر اﷲ
سے گائے کی قربانی ثابت ہوتی ہے۲؎'' خصوصًا اس معدنِ مشرکین ہندوستان میں کہ یہاں اسکے ابقا واجر ابلا شبہہ اعظم مہمات اسلام سے ہے، مکتوبات جناب شیخ مجدد صاحب میں ہے:
ذبح بقرہ درہندوستان از اعظم شعائر اسلام است۳؎۔
ہندوستان میں گائے کا ذبح کرنا اسلام کے سب سے بڑے شعائر میں سے ہے ۔(ت) یہاں اس کا باقی رکھنا یقینا واجب شرعی ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ''انفس الفکر فی قربان البقر'' میں ہے،
(۲؎ رسالہ قربانی عبدالباری فرنگی محلی ص۲۱ ) (۳؎ مکتوبات امام ربانی مکتوب ہشادویکم نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۶)