فسبحان مقلب القلوب والابصار۔کذٰلک یطبع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار۱؎۔
اے اﷲ تعالٰی تو پاک ہے تو دلوں اور آنکھوں کو پھیرنے والا ہے۔ اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۰/۳۵)
اذا کان الغراب دلیل قوم
سیھدیھم طریق الھالکینا
(جب قوم کا رہنما کوّا ہوگا تو ان کو ہلاکت ہی دکھائے گا۔ت)
کیا نہیں ڈرتے کہ
ہرکہ آزاد از اسلام بود
در سقر بندیِ آلام بود
(جو اسلام سے آزاد ہوگا وہ مصیبتوں کی جہنم میں جکڑا جائیگا۔ت)
آج کل کفر وارتداد و زندقہ والحاد کا گرم بازار ہے ہر چہار طرف سے اﷲ و رسول و قرآن پر گالیوں تکذیبوں کی بوچھاڑ ہے، کفر بکنے والوں سے گلہ نہیں، عجب عام مدعیان اسلام سے کہ ان کے نزدیک اﷲ ورسول وقرآن سے زیادہ ہلکی عزت کسی کی نہیں، ان کے ماں باپ کو گالی دینا تو بڑی بات کوئی انہیں تُو تو کہہ دیکھے اوراﷲ ورسول وقرآن پر گالیاں سنتے ہیں، چھپے شائع ہوتے دیکھتے ہیں اور تیوری پر بل نہیں آتا بلکہ گالیاں دینے والوں سے میل جول یارانے دوستانے بدستور رہتے ہیں، ان کے اعزاز واکرام القاب آداب ویسے ہی منظور رہتے ہیں، صاف دلکشادہ حبین گویا کسی نے کچھ کہا ہی نہیں، نہیں نہیں بلکہ الٹی ان کی حمایت، انہیں براکہنے والے سے بغض وعداوت، ان کا حکم الٰہی ظاہر کرنے والا بے تہذیب بدلگام ہے، تنگ کن دائرہ اسلام ہے، عبدالماجد سے بدتر کافر آج کل شائد ہی کوئی ہو جس نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مجہول النسب بچہ کہا اور قرآن کو اپنے دعوٰی توحید میں کاذب وناتمام ٹھہرایا اور یہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی تعظیم کی آیتیں تصنیف کرلیں اور رنگ وروغن بڑھانے کو اپنے اہل بیت وازواج کی تعظیمیں بھی اضافہ کردیں وغیرہ وغیرہ ملعونات کثیرہ، جب ان باتوں پر اس کی تکفیر ہوئی،چار طرف سے کواگہار دوڑ پڑی ناپاک اخباروں میں دفتر کے دفتر اس کی برأت میں سیاہ ہونے لگے، ایک کافر ہوا تھا اس کے پیچھے ہزاروں کے اسلام تباہ ہونے لگے، مگر جواب ایک حرف کا نہیں بلکہ ڈھٹائی بے شرمی بے حیائی سے مکرنا، صاف دن میں ٹھیک دوپہر کو آفتاب کا انکار کرنا، وہ بیچارہ تو کوئی چیز نہ تھا لافی العیر ولافی النفیر(نہ اونٹوں میں نہ چڑیوں میں یعنی کسی گنتی میں نہ تھا۔ت) جب اس کی حمایت میں وہ کچھ جوش تو مسٹر ابوالکلام تو لیڈر کبیر، ان کا کفر ضرور ٹھیٹ اسلام بنے گا ان کے مقابل اﷲ ورسول وقرآن کی کون سنے گا، کھلے گمراہان لیام کوجانے دو، بدایوں، شاہجہان پور، لکھنؤ وغیرہ میں بڑے بڑے سنیت کا دھرم بھرنے والے بستے ہیں، دیکھئے تکذیب کلام اﷲ وتوہین رسول اﷲ وانکار شریعۃ اﷲ دیکھ کر ان میں کتنے اور کستے ہیں، مسٹر آزاد سے توبہ وقبول اسلام شائع کراتے ہیں اور نہ مانیں تو ان سے بائیکاٹ مقاطعہ مناتے ہیں، حاشانہ وہ توبہ واسلام شائع کریں نہ یہ ہرگزان کی موالات، تعظیم سے پھریں، تکذیب کی تو قرآن کی کی ان کی تو نہ کی، گالی دی تو رسول اﷲ کو انہیں تو نہ دی۔ اے تصور جویان خود گم ، ابھی حب ﷲ وبغض ﷲ کے مزے سے واقف ہی نہیں تم۔
قولوااسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم۱؎۔
کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۴)
اور جن بندگانِ خدا کو ان کا حصہ ملا ہے ان پر چرچتے ہوان کے سایہ سے کہ ان کا سایہ نہیں سایہ مصطفی ہے، مستنفرہ ہوکر بچتے ہو، یہاں سے ان کے بائیکاٹ اور ترک موالات کی حقیقت کھلتی ہے، مسلمان کا ایمان شاہد ہے کہ ترک بھائیوں کا سارا ملک چھین لیں یا کعبہ معظمہ کو معاذ اﷲ ایک ایک اینٹ کردیں ، ہرگز اﷲ ورسول وقرآن کی تکذیب وتوہین کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر ان کا وہ جوش وہ نان کو آپریشن (NON CO-OPERATION)کا خروش اﷲ کے لئے ہوتا تو وہاں ایک حصہ تھا ان سے ہزار حصے ہوتا، مگر یہاں ہزاروں حصہ بھی درکنار، وہی محبت وہی پیار، وہی تعظیم وہی تکریم، وہی وداد وہی اتحاد، وہی لیڈری وہی سروری، تو ﷲانصاف کیا آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوا کہ ہر گز انہیں دین سے غرض نہیں، نہ دین کےلئے ان کی کوششیں ہوئیں بلکہ سب جوش وخروش بہرنا ؤنوش سوراج بس باقی ہوس،
انا ﷲ وانا الیہ رجعون۔
مسلمان کہلانے والو!ﷲ اپنا ایمان سنبھالو، واحد قہار کے قہر سے ڈرو، حب ﷲ وبغض ﷲ کے سامان درست کرو، نیچری دیکھ کیسا ہی معظم یا پیارا ہو دور کرو، دور بھاگو، خداکے دشمن کو دشمن مانو، اس سے تعلق کو آگ جانو، ورنہ عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے قلوب مسخ ہوگئے، تمہارے ایمان نسخ ہوگئے ،
من یضلل اﷲ فمالہ من ھادٍoوَمَنْ یَّھْدِ اﷲ فمالہ من مضل ۱؎
توجلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو اور میں اپنے کام اﷲکو سونپتا ہوں، بیشک اﷲ بندوں کو دیکھتا ہے۔ اور جسے اﷲ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والانہیں، اور جسے اﷲ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۴۴)(۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۳۶ و ۳۷)
میں جانتا ہوں کہ حق کڑوالگے گا مگر کوئی مسلمان تو ایسا نکلے گا کہ رب کے حضور گردن جھکا کر سچے دل سے دیکھے، حق وباطل کومیزانِ ایمان میں پرکھے، اور اگر سب پر وہی عناد ومکابرہ کا داغ ، تو
(ہماری ذمہ داری بات پہنچانا تھا اے اﷲ! تیری بارگاہ میں درخواست ہے اور تو ہی مددفرمانے والا ہے، تیراکام ہی بات کا موثر فرمانا ہے، اور لوٹنا تیری طرف ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کو بجالانے کی قوت اﷲ بلند وعظیم کے بغیرنہیں ہوسکتی۔ت)
(۴) عالم موصوف بیشک حق پر ہے اور ان لوگوں کی من گھڑت ترک موالات کہ نصارٰی سے مجرد معاملات جائزہ بھی حرام بلکہ کفر،اور ہنود سے وداد واتحاد، دلی محبت واخلاص جائز بلکہ فرض قطعی اﷲ ورسول پر افترا ہے، اس کا کچھ بیان ہوچکا اور زیادہ تفصیل کے لئے فقیر کا رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ ہے
واﷲ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم۲؎
(اور اﷲ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۴۶)
عالم موصوف پر تنخواہ داری گورنمنٹ کا افتراء کیا جائے شکایت ہے جب ان کے بڑے بڑے لیڈر وہ کچھ جتنے بہتان اللہ ورسول وقرآن عظیم پر باندھ رہے ہیں ابھی قرآن کریم کی آیات سے روشن ہوچکا کہ یہ لوگ آپ ہی ترکِ موالات کے منکر اور تکذیب قرآن عظیم پر مصر ہیں، پھر وہ اپنا عیب عالم پر نہ لگائیں تو کیا کھا کر جئیں، باقی رہا کفر وارتداد کا فتوٰی اور اس کے مفتی ومصدقین ومستفتی اور اس کے ماننے والوں اور اس کے سبب عالمِ دین کی توہین کرنے والوں پر شرعی احکام ، سب بعینھا وہی ہیں کہ جواب سوال اول میں گزرے اور یہ کہ عالم موصوف پر ان لوگوں کے حکم کفر وارتداد وہی اپنا عیب دوسرے کو لگانا اور فرعون ملعون کی سنت مذکورہ ہے
کذٰلک قال الذین من قبلھم تشابھت قلوبھم ۳؎
(ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات، اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۸)
(۵) جماعت اہل سنت میں(کہ محاورہ قرآن وحدیث میں وہی مومنین ہیں،
کما بینہ الامام صدر الشریعۃ فی التوضیح والملاعلی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ
(جیسا کہ اسے امام صدر الشریعہ نے توضیح میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰہ میں بیان کیا ہے۔ت) تفرقہ ڈالنا حرام ہے، رب عزوجل نے منافقین کی بنائی مسجد پر جو سخت غضب فرمایا، اور اپنے محبوب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو حکم دیا کہ
لاتقم فیہ ابدا۱؎
کبھی اس میں کھڑے نہ ہونا،او راس کے بنانے والوں کوفرمایا:
اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارفا نھا ربہ فی نارجھنم۲؎۔
اس نے اس کی بنیاد رکھی گراؤ گڑھے کے کنارے پر تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۸)(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۹)
اور حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کرام کوبھیج کر اس کو ڈھوادیا جلوادیا۔ پھر حکم دیا کہ اس جگہ کو گھورا بنایا جائے جس میں نجاستیں اور کوڑا ڈالاجائے۔ رب عزوجل نے اس کی چار علتیں ارشاد فرمائیں،تیسری علت یہی
تفریقابین المؤمنین۳؎
(مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔ت) ہے کہ انہوں نے اس کے سبب جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہاتھا۔معالم شریف میں ہے:
لانھم کانواجمیعا یصلون فی مسجد قبافبنوا مسجد الضرار لیصلی فیہ بعضھم فیؤدی ذٰلک الی الاختلاف وافتراق الکلمۃ۔۴؎
یعنی ساری جماعت مسجدقبا شریف میں ہوتی تھی، خبثاء نے وہ نقصان رسانی کی مسجد اس لئے بنائی کہ کچھ مسلمان اس میں پڑھیں،جس کا نتیجہ یہ ہو کہ پھوٹ پڑے اور تفرقہ ہوجائے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۶)
(۴؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًاضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷)
بلکہ ان خبیثوں نے جو عذر تفریق ظاہر کیا تھا یہ تفریق جبلپور اس سے ہزاروں درجے بدتر ہے،۔ انہوں نے کہا تھا:
ہم نے مسجد بنائی ہے بیمار اور کامی اور بارش کی رات اور جاڑے کی شب کے لئے۔
اور ان کا عذر تفریق یہ ہو اکہ عالم دین معاذاﷲ کافر وبدمذہب وناقابلِ امامت ہے، جھوٹے وہ بھی تھے اور جھوٹے یہ بھی، مگر ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(راستے کا تفاوت دیکھ کہاں تک ہے۔ت)
(۵؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن آیۃ والذی اتخذوامسجدًا اضرارًا کے تحت مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۴۷)
مسلمانوں کو مسجدالٰہی میں جانے سے منع کرنے اور اس کی ویرانی میں کوشاں ہونے کا حکم تو یہ ہے جو قرآن عظیم میں فرمایا:
ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکرفیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ماکان لھم ان یدخلوھا الاخائفین لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم۱ ؎۔
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الٰہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو نہیں پہنچتا تھا کہ ان میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑاعذاب۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴)
مگر یہاں ان کا عذریہ ہوگا کہ ہمیں مسجدویران کرنا اور اس میں نماز سے روکنا مقصود نہ تھا بلکہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی امام کے پیچھے مسلمانوں کی نماز خراب نہ ہو، یہ بھلائی چاہنے کا عذر بھی ان منافقوں مسجد ضرار بنانے والوں نے پیش کیا تھا اور خالی زبانی نہیں بلکہ قسم کے ساتھ مؤکد کرکے،
قال اﷲ تعالٰی ولیحلفن ان اردنا الاالحسنٰی۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا ضرور ضرور اﷲ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نے توتفریق جماعت سے بھلائی ہی چاہی۔
اس پر جواب فرمایا:
واﷲ یشھدانھم لکٰذبون۳؎
(اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بیشک یہ جھوٹے ہیں)
(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۷)(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۰۷ )