Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
16 - 150
حاش ﷲ کسی قسم کفار سے محبت کرنے کا اسلام نے حکم نہ دیا، باپ بیٹے کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو صریح حرام فرمادیا اور دلی محبت واخلاص و اتحاد کرنے کو تو جابجا صاف صاف ارشاد واعلام فرمادیا کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہیں، انہیں اﷲ وقیامت پر ایمان نہیں، انہیں اﷲ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں، بالجملہ وہ کسی طرح مسلمان نہیں، ہاں کافروں میں فرق ہوگا تو یہ کہ جس کا کفر اشد اس سے معاملات کا حرام وکفر ہونا اشد وزائد کہ علتِ حرمت کفر ہے علت جتنی زیادہ حکم سخت تر۔ یہ ان کذابوں، مفتریوں پر اور الٹا پڑے گا کہ کفر میں یہود ونصارٰی سے مجوس بدتر ہیں، ہنود سے وہابیہ وسائر مرتدین عنود بدتر ہیں ولہذا ان کے احکام اسی ترتیب پر سخت تر ہیں،
کمالایخفی علی من لہ اعلام باحکام الفقہین
ولکن الظالمین باٰیت اﷲ یجحدون۶؎oوسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبونo۷؎
جیسا کہ  یہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو احکامِ فقہاء سے آگاہ ہے لیکن ظالم آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں۔ اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائینگے۔(ت)
 (۶؎ القرآن الکریم   ۶/ ۳۳)(۷؎ القرآن الکریم    ۲۶/ ۲۲۷)
 (۳) ضرور وہ لوگ مکذب ومحرف قرآن ہیں اور خود بحکم قرآن کافر ونامسلمان، جس کا بیان بقدروافی ہوچکا، تکذیب قرآن عظیم ان کی نئی نہیں ان کے اعظم لیڈر ان ابوالکلام آزاد نے ''الہلال'' میں سیدنا عیسٰی علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نبی صاحبِ شریعت کا صاف انکار کیا اور منہ بھر کر قرآن عظیم کوجھٹلا دیا ''الہلال''۲۴ستمبر۱۹۱۳ء میں کہا:

''مسیح ناصری کاتذکرہ بیکار ہے، وہ شریعت موسوی کا ایک مصلح تھا جو خود کوئی صاحبِ شریعت نہ تھا، اس کی مثال مجدد کی سی تھی ،وہ کوئی شریعت نہ لایا ،اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا، اس نے خود تصریح کردی کہ میں تو توریت کو مٹانے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں''۔۱؎(یوحنا۱۳:۵)
 (۱؎ الہلال ابوالکلام آزاد     ۲۴ستمبر ۱۹۱۳ء )
مسلمانو! اول تو روح اﷲ کلمۃ اﷲ رسول اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کہنا کہ اس کا تذکرہ بیکار ہے۔ 

دوم بار بار مؤکد فقروں سے جمانا کہ وہ نبی صاحبِ شریعت نہ تھے۔

سوم نصارٰی کی انجیل محرف سے سند لانا، اور وہ بھی محض بربنائے جہالت وضلالت۔کیا صاحب شریعت انبیاء اﷲ کے اگلے کلاموں کو مٹانے آتے ہیں، حاشا بلکہ پورا ہی فرمانے کو، نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی خیر یہاں کہنا یہ ہے کہ ان فقروں میں آزاد صاحب نے پیٹ بھر کر قرآن عظیم کی تکذیب کی، قرآن کریم قطعاً ارشاد فرماتا ہے کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام صاحبِ شریعت تھے، 

اولًا اس نے پہلے تو راہ مقدس کا ذکر فرمایا:
وعندھم التوراۃ فیھا حکم اﷲ۔۲؎
ان کے پاس توراۃ ہے اس میں اﷲ کے حکم ہیں۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۵/ ۴۳)
اور فرمایا:
ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولٰئک ھم الکٰفرونo۳؎
 (۳؎ القرآن الکریم      ۵/ ۴۴)
جو اﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی کافر ہیں۔

پھر مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو انجیل دینا بیان کرکے فرمایا:
ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اﷲ ومن لم یحکم بماانزل اﷲفاولٰئک ھم الفٰسقونo۴؎
انجیل والے اﷲکے اتارے پر حکم کریں اور جواﷲ کے اتارے پر حکم نہ کریں وہی فاسق ہیں۔
 (۴؎ القرآن الکریم       ۵/ ۴۷)
ثانیاً اور صاف فرمادیا کہ دونوں کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر قرآن مجیداترنے کا ذکر کرکے فرمایا:
لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا ولوشاء اﷲ لجعلکم امۃ واحدۃ۱؎۔
اے توراۃ وانجیل و قرآن والو! ہم نے تم میں ہر ایک کے لئے ایک شریعت وراہ رکھی اوراﷲ چاہتا تو تم سب کو گروہِ واحد کردیتا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵/ ۴۸)
ثالثاً کج فہم بلیدوں یا ہٹ دھرم عنیدوں کی اس سے بھی تسکین نہ ہوتو قرآن عظیم جھوٹوں کو راہ نہیں دیتا، اس نے نہایت روشن لفظوں میں بعض احکامِ توراہِ مقدس کا احکامِ انجیل مبارک سے منسوخ ہونا بتادیا، اپنے نبی مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول ذکر فرماتا ہے:
ومصدّقالمابین یدی من التوراۃ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم۲؎۔
میں تمہارے پاس آیا ہوں سچا بتاتا اپنے آگے اتری کتاب تورات کو اور اس سے کہ میں تمہارے واسطے بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر توراۃ نے حرام فرمائی تھیں۔
 (۲؎ القرآن الکریم       ۳/ ۵۰)
اب بھی کسی مسلمان کو مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبِ شریعت ہونے میں شک ہوسکتا ہے یا منکر بجہنم اس میں شک کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے، انجیل میں کئی جگہ ان احکام کی تفصیل بھی ہے کہ پہلے تم سے یہ فرمایا گیا تھا اور اب میں یہ کہتا ہوں، آزاد صاحب خاص اپنا اطمینان چاہیں تو اپنی معتمدہ بائبل ہی کو دیکھ لیں آزاد صاحب تو ابوالکلام ہیں، مواقع سخن سے خوب آگاہ ہیں یہ تین آیات کریمہ تھیں "ولیحکم اھل الانجیل، لکل جعلنا منکم، ولاحل لکم" بلیغ الدہر نے جب ان کی تکذیب کی اور منہ پھاڑ کر کہہ دیاکہ مسیح صاحبِ شریعت نہ تھا تو اسے بھی تین فقروں سے مؤکد کیا:''اس کی مثال مجدد کی سی تھی، وہ کوئی شریعت نہ لایا، اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا'' تاکہ ہر آیت کے مقابلے کو ایک فقرہ تیار رہے، آیاتِ قرآن پروار کرنے کویہ ان کی ذوالفقار رہے۔ بالجملہ ایک تکذیب وہ تھی کہ اسلام نے کچھ کافروں سے محبت کا حکم دیا، دوسری تکذیب وہ کہ مسلمین و کافرین سب سے محبت اسلام کی اصل الاصول ہے، اور چار تکذیبیں ان چار فقروں سے، یہاں تک چھ تکذیبیں ہوئیں، ان چار پر کوئی گمان کرسکتا ہے کہ آزاد صاحب اب ترکِ موالات میں ہیں، نصارٰی سے بائیکاٹ اس زور سے کیا کہ ان کے نبی کو بھی بائیکاٹ کردیا، اگر مسلمان پر معترضا نہ کہیں کہ یہ تو سب انبیاء اور خود حضور سیدنا الانبیاء علیہم وعلیہ افضل الصلوٰۃ والثناء کا بائیکاٹ ہوگیا کہ ایک نبی سے مقاطعہ تمام انبیاء سے مقاطعہ اور خود رب عزوجل سے مقاطعہ ہے، اب آپ کے ماننے کو اﷲ کا کوئی  نبی نہیں مل سکتا، پھر بھی وہ اس کی کیا پروا کرتے جب تک کمیٹی کے نبی بالقوۃ خواہ بالفعل گاندھی صاحب مذکر مبعوث من اﷲ سلامت ہیں، یک درگیر محکم گیر، لیکن اسی الہلال کی جلد تین کی چار اور تکذیبیں اس بائیکاٹ کے بالکل خلاف ہیں، صفحہ۳۳۸ پر مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت کہا:

''یہودیوں نے ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھاتاکہ وہ صلیب (عہ) پرلٹائے جائیں اور جو لکھا ہے پورا ہو ۱؎''

عہ: صلیب پر لٹانا بھی عجیب شاید صلیب زمین پر بچھی ہوئی مسہری سمجھی ۱۲
 (۱؎ الہلال ابوالکلام آزاد   ۳/ ۳۳۸    )
یہ قرآن عظیم کی ساتویں تکذیب کی، وہ فرماتا ہے :
وما صلبوہ ۲؎
انہوں نے مسیح کو سولی نہ دی۔
'۳؎(۲؎القرآن الکریم        ۴/ ۱۵۷)
نیز اسی صفحہ پر کہا:''مسیح نے اپنی عظیم قربانی کی۔'
 (۳؎ الہلال آزاد      ۳/ ۳۳۸ )
اور صفحہ۳۳۹پر دو لفظ اور لکھے:''مظلومانہ قربانی''اور ''خون شہادت''۔۴؂
 (۴؎الہلال            ۳/ ۳۳۹)
یہ تینوں لفظ بھی قرآن عظیم کی تکذیب بتاتے ہیں، وہ فرماتا ہے:
وماقتلوہ ۵؎
انہوں نے مسیح کو قتل نہ کیا۔ یہاں تک پوری دس تکذیبیں ہوئی تلک عشرۃ کاملۃ۶؎۔یہ پچھلی چار عین مذہب نصارٰی ہیں، کیا قرآن عظیم کو جھٹلانے کے لئے نصارٰی سے بائیکاٹ کے بدلے میل ہوجانا ہے یعنی ملۃ واحدۃ،ہر شخص کے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل کا ادنی جلوہ، پہلو میں دل اور دل میں اسلام کا کچھ بھی حصہ ہوعلانیہ دیکھ رہا ہے کہ آزاد صاحب کے ان اقوال میں تین کفر ہیں:
 (۱) کلام اﷲ کی تکذیب،

(۲) رسول اﷲ کی توہین،

(۳) شریعۃ اﷲ کا انکار۔

اور پھر وہ قوم کے لیڈر ہیں، دین کے رفارمر ہیں ، سب لیڈروں کے سر ہیں،
(۵؎ القرآن الکریم             ۴۵/۱۵۷)(۶؎القرآن الکریم            ۲/۱۹۶)
Flag Counter