Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
150 - 150
آیت ۹: وقدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلنہ ھباء منثورا ۴؎۔
اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا۔ (ت)
 (۴؎القرآن الکریم          ۲۵/ ۲۳)
اور فرماتاہے:
اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا ۵؎۔
ان سے فرمایاجائے گا کہ تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے (ت)
 (۵؎ القرآن الکریم                ۴۶/ ۲۰)
مالہ فی الاخرۃ من خلاق ۶؎۔
جس نے یہ سودالیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (ت)
(۶؎ القرآن الکریم                ۲/ ۱۰۲)
اور فرماتاہے:
لایقدرون علی شیئ مما کسبوا ط واﷲ لایھدی القوم الکفرین ۱؎o
اپنی کمائی سے کسی چیزپر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۲/ ۲۶۴)
اور فرتاہے:
ان اﷲ حرمہما علی الکافرین ۲؎۔
بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پرحرام کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                ۷/ ۵۰)
اور فرماتاہے:
قل من حرم زینۃ اﷲ التی اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق ط قل ھی للذین اٰمنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ ط ۳؎۔
تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کےلئے نکالی اور پاک رزق، تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لئے ہے دنیا میں اور قیامت میں توخاص انہیں کی ہے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم                ۷/ ۳۲)
اور فرماتاہے:
مثل الذین کفروا بربہم اعمالہم کرماد ن اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف لایقدرون مما کسبوا علی شیئ ط ذٰلک ھوا لضلال البعید ۴؎
اپنے رب سے منکروں کا حال ایساہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم                ۱۴/ ۱۸)
ان ساتوں آیتوں کا حاصل ارشاد یہ ہے کہ کافر اگر کوئی بظاہر نیک کام مثل تصدق وغیرہ کرے بھی تو اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتاہے، آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں وہاں انھیں کچھ ہاتھ نہ آئے گا، جنت کا کھانا پینا کافروں کے لئے حرام ہے، پاکیزہ رزق اور زینت کے سامان آخرت میں خاص مسلمانوں کے لئے ہیں، کافروں کے اعمال کو اللہ تعالٰی برباد کرکے ایسا کردیتاہے کہ جیسے روزن میں سے دھوپ آئے تو اس کے اندر ریزے سے اڑتے ہیں اور ہاتھ میں لو تو کچھ نہیں، کافروں کے اعمال کی یہ مثال ہے کہ شدید آندھی کے دن میں کہیں کچھ راکھ پڑی جسے آندھی کے جھونکے ۔ اڑالے گئے کہ اب وہ ذرے بھی نہیں دکھائی دیتے کچھ ہاتھ آنا تو بڑی بات ہے،
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ
ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ۱؎۔
وصلی اﷲ تعالٰی علی خیر خلقہ وسید رسلہ واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا ہی سوال کرتے ہیں، اے ہمارے پروردگار! نہ ٹیڑھا فرماہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت سے نوازا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بلاشبہ تو ہی عطافرمانے والاہے، اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا نزول ہو تمام مخلوق سے افضل تمام رسولوں کے سربراہ اور ان کے آل واصحاب سبھی پر، واللہ

 تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم                ۳/ ۸)
مسئلہ ۳۲۶ تا ۳۳۱:    ۷ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) اکثر دیہات میں جو قربانیاں ہوتی ہیں تو ان قربانیوں کے سربہشتی کودیتے ہیں، اور کسی گاؤں  میں یہ رسم ہے کہ حجام کو دیتے ہیں، ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ علمائے دین نے کہیں حکم اس بات کا نہیں دیا اور نہ علماء کی زبان سے سنا گیا کہ قربانی کا سربہشتی کو یا حجام کو دیا جائے، تو وہ لوگ قربانی کنندہ کہنے لگے کہ اگر یہ حق بہشتی کانہ ہو تا تو ہمارے باپ دادا کیوں دیتے، کیاان کے زمانے میں عالم نہ تھے، ہم باپ دادا کی رسم نہ چھوڑیں گے چاہے ہمارے قربانی مقبول ہو یا نہ ہو، اس کو خدا ہی جانتاہے۔

(۲) یہ کہ بہشتی کہتاہے کہ یہ حق ہمارانبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آتاہے اور عالم خودا ب تک دیتے چلے آرہے ہیں، اگر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نہ دیتے تو علماء کیوں قربانی کے سرپائے دیتے، بلکہ کہتاہے کہ جو ہمارے حق کو میٹے وہ عالم نہیں ہے، معاذاللہ اب علمائے دین فرماویں کہ یہ حق بہشتی وغیرہ کا ہے یانہیں۔ یاعلمائے دین اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بہتان باندھا گیاہے؟

(۳) یہ کہ جولوگ قربانی کرتے ہیں یاکرچکے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ چاہے ہماری قربانی مقبول ہو یانہ ہو ہم اپنے باپ دادا کار سم نہیں چھوڑیں گے چاہے عالم کچھ بھی کہیں، تو ان کا یہ کہنا کیساہے ؟ اور

ان لوگوں کی قربانیاں کیسی ہیں؟

(۴) یہ کہ قربانی کا گوشت لامذہب یعنی بھنگی وغیرہ کو دینا جائزہے یانہیں؟

(۵) قربانی کی الانت قربانی کے گوشت میں شامل کی جاوے یاکیا؟

(۶) قربانی کا دل گردہ کلیجہ اہل قربانی کو پکواکر اس پر فاتحہ دے کر کھا جاتے ہیں یہ درست ہے نہیں؟ یا ان دل گردہ کلیجی کو بھی گوشت قربانی میں شامل کیا جاوے یا کیا؟ بینوا توجروا۔
الجواب

(۱) قربانی کرنے والے کو اختیار ہے کہ سریاجو چیز بہشتی، حجام یا جس کسی مسلمان کو چاہے دے کسی کےلئے کسی چیز کی ممانعت نہیں، ہاں  بالتخصیص کسی کا کسی چیز میں کوئی حق شرع شریف میں وارد نہیں ہوا،

(۲) اس بہشتی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کیا، اس پر توبہ فرض ہے، ورنہ سخت جہنم کا سزاوار ہے، علمائے کرام جائز کام سے منع نہیں فرماتے جب کہ بہشتی کو بھی سردینا جائز تھا علماء نے سکوت فرمایا، اس سے یہ ثابت نہیں کہ شرع شریف میں ان کا کوئی حق مخصوص ہے،

(۳) یہ اقوال ان کے مذموم وسخت ہیں، ان کی قربانیاں قابل قبول نہیں، انھوں نے قبول الہٰی کو ہلکا جانا اور عالموں کے ارشاد سے بے پروائی کی، از سرنوکلمہ پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدیدکریں، 

(۴) بھنگی وغیرہ کسی کافر کو قربانی یا اور کوئی صدقہ دینا جائز نہیں ہر گز نہ دے۔

(۵) اوجھڑی آنتیں جن کاکھانا مکروہ ہے چاہے یہ چیز اپنے لئے نکال لے یا ان کو بھی تقسیم میں داخل کرلے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: از قصبہ کودرکوٹ ضلع اٹاوہ     مسئولہ محی الدین احمد صاحب ۲۴ شوال ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مقام پر مسجد کے قریب اہل ہنود نے ایک نئی مورت قائم کی، مسلمانوں نے ان کے خلاف مورت اٹھوانے کا دعوٰی دائر کیا، ا س پر ایک مسلمان نے اہل ہنود سے ساز باز کرکے جھوٹی شہادت دی کہ یہ مورت قدیم ہے، اس بناء پر مسلمانوں نے شخص مذکور الصدر سے تعلقات منقطع کرلئے، معلوم کرنااس امر کاہے کہ ازروئے شریعت اس شخص سے خطا کس حد تک پہنچی ہے اور اس جھوٹی شہادت سے اس کی زوجہ تو نکاح سے باہرنہیں ہوئی؟ اب اگر اس شخص کو اسلام و برادری میں شامل کیاجائے تو اس کے واسطے کیا طریقہ اسلامی عمل میں لایا جاوے اور جب تک حسب احکام شرعی اس کو شامل کیا جائے اس دوران میں اور کوئی دوسرامسلمان اس سے تعلقات پیداکرے تو اس کے واسطے کیا حکم شرعی ہے
الجواب

جبکہ اس نے ترویج پرستش بت میں سعی کی اس پر لزوم کفرہوا، اس کی عورت نکاح سے نکل گئی، اس پرفرض ہے کہ علانیہ مسلمانوں کے سامنے توبہ کرے اورنئے سرے سے کلمہ پڑھے، مسلمان ہو اس کے بعدا پنی عورت سے نکاح جدید کی ضرورت ہے، توبہ و تجدید اسلام سے پہلے جو لوگ اس حال سے واقف ہو کر اس سے میل جول رکھیں مستحق سزاو عذاب ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب شریف ہیں اور ان کے برتاؤ برخلاف حکم خداورسول کے برتاؤ میں آتاہے کہ داڑھی منڈواتے ہیں، اور لوگ اگر ان سے کچھ کہتے ہیں کہ آپ کو داڑھی منڈوانا غیر مناسب ہے، تو لوگوں کو جواب فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اور میری طبیعت کاحکم ہے، ایساشخص حلال کوحرام جانے اور حرام کو حلال جانے ان صاحب کے لئے شرع کا کیاحکم ہے؟ اس کاجواب باصواب مع حدیث وفقہ کے مرقوم فرمادیں اللہ آپ کو اجر عظیم عطافرماوے گا۔
الجواب

داڑھی منڈوانا حرام ہے اور اس پریہ جواب کہ میری طبیعت کا اختیار ہے گناہ پر اصرار اور سخت سزا کا سزاوارہے، مگر اسے حرام کوحلال جاننا نہیں سمجھا جاتاہے اس کہنے میں کہ میری طبیعت کا اختیار ہے اورمیری طبیعت کواختیارہے بہت فرق ہے، دوم بھی تحلیل حرام میں صریح نہیں نہ کہ اول، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴: از فتح گنج غربی مرسلہ حبیب شاہ دہنے شاہ    ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ گنج غربی میں آج واقع بروز سہ شنبہ کو ایک پنچایت اسلامی قائم کی گئی اور اس میں یہ بات پیش کی گئی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اس سے علیک سلیک اور میل اسلامی طریقہ پر ترک کردیا جائے اور حقہ پانی اسلامی طریقہ پر بندکردیا جائے، جب یہ مجمع ہوااور مسلمان سب جمع ہوگئے تو پیش امام کہ جو نماز جمعہ وعیدین وپنجوقتہ کا ہے اس کو بلایا گیا تو اس کا اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اس سے کچھ تعلق نہیں آج تو میں مماوس کو جو ہندؤوں کا تہوار ہے

وہاں پر مندر میں جاتاہوں اور سنکھ دھوکر رکھ لیاہے اسلامی پنچایت سے کیا مطلب، تو جو شخص ایسے الفاظ کہے اور اس گروہ اسلام میں کہ جہاں پر سوائے نماز کی پابندی کے اور کوئی انتظام کی ضرورت نہ تھی اس کے پیچھے نما زپڑھنا شرعا جائز ہے یاناجائز؟ اور شرع شریف کاایسے شخص پر کیاحکم ہے؟ جمعہ عنقریب ہے جمعہ سے پیشتر یا جمعہ تک جواب مل جاناچاہئے۔
الجواب

اس شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اس پر کفرلازم ہے، اس کی عورت نکاح سے نکل گئی جب تک نئے سرے سے مسلمان نہ ہو، اس سے سلام کلام بھی حرام ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیامعنی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۵ تا ۳۳۹: از شہرلکھنؤ محلہ گڈھیا کمال جمال مسئولہ عابدحسین عباسی    ۱۴محرم ۱۳۳۹ھ

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کی خوشی کرنے کی خاطر اور اتفاق پیداکرنے کی خاطر سے گائے کی قربانی یا روزمرہ کے لئے گائے کا ذبیحہ بندکرنا کیساہے، ہندوستان کی حالت ملاحظہ فرماتے ہوئے حکم شریعت سے مطلع فرمائے۔

(۲)قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترک کردینا شرعا جائز ہے یا نہ؟

(۳)فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ اس کے متعلق فتوٰی دے چکے ہیں اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں؟

(۴)اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرناچاہئے یانہ؟ اور اس کے محرک اور مرتکب عنداللہ ماجور و گنہ گار ہوں گے یانہ؟

(۵)گائے، بھیڑ، بکری یا اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونا اس کے کیامعنی ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

ہندوستان میں گائے کی قربانی جاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنودکے لئے اس کا بند کرناحرام، مولوی عبدالباری کے باپ مولانا عبدالوہاب مرحوم اور استاد مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کے فتوے اس بارے میں ہوچکے ہیں اور ہمارے رسالہ انفس الفکر میں کافی ووافی بیان ہے، اورہنودسے اتحاد حرام منجر بکفر ہے جس کے نتائج طشت از بام ہیں، اس اتحاد کے منانے والے خود اپنے اقرار سے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردیتے ہیں،
"خسر الدنیا والدین ذٰلک ھو الخسران المبین والعیاذباﷲ رب العالمین"
 (وہ دنیاو دین دونوں میں خسارے میں ہے اور یہی واضح گھاٹا ہے اور پناہ اللہ رب العالمین کی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

نوٹ:  جلد چہاردہم ختم ہوئی، عنوان کتاب السیر جاری ہے پندرھویں جلد بھی ان شاء اﷲ سیر پر مشتمل ہوگی۔
Flag Counter