بربنائے مذکور عالم دین کی شان میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے والوں کو یہی بس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسوں کو کھلا منافق بتایا، ارشاد فرماتے ہیں:
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر کھلا منافق، ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور عالم دین اور بادشاہ اسلام عادل(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ الباہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جسے ترمذی نے دوسرے متن کے ساتھ حسن کہا، ابولشیخ نے کتاب التوبیخ میں اسے حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ''بین النفاق'' کااضافہ ہے۔ت)
جو کسی عالم دین کو تحقیر کے طور پر ''مولویا'' کہے کافر ہوجائے۔
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
والعیاذباﷲ تعالٰی، یہ سوال اول کا جواب مجمل ہے اور یہیں سے تین سوال آئندہ کے جواب واضح ہوگئے وباﷲالتوفیق۔
(۲) موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے، اوپر واضح ہوچکا کہ رب عزوجل نے عام کفار کی نسبت یہ احکام فرمائے تو بزورِ زبان ان میں سے کسی کافر کااستثناماننااﷲ عزوجل پر افترائے بعید اور قرآن کریم کی تحریف شدید ہے بلکہ عالم الغیب عزجلالہ نے یہ حکم یہود ونصارٰی سے خاص ماننے والوں کے منہ میں اپنے قہر عظیم کا پتھر دے دیا، ایک آیت میں صراحۃً کتابیوں کے ساتھ باقی کفار کو جدا ذکر فرمایا کہ کتابی سب کو تعمیم حکم مفسر منور ہوجائے جاہلان ضلیل کی تاویل ذلیل راہ نہ پائے ۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
یایھاالذین اٰمنوالاتتخذواالذین اتخذوادینکم ھزوا ولعبا من الذین اوتوالکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقواﷲ ان کنتم مؤمنین۳؎۔
اے ایمان والو! وہ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی(یہودونصارٰی)اور باقی سب کافران میں کسی سے اتحاد ووداد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
(۳؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۷)
اب تو کسی مفتری کے اس بکنے کی گنجائش نہ رہی کہ یہ حکم صرف یہود ونصارٰی کے لئے ہے،نیز آیہ کریمہ میں کھلا اشارہ فرماتا ہے کہ کسی قسم کے کافروں سے اتحاد منانے والا ایمان نہیں رکھتا اور اوپر آیت میں صریح تصریح گزر چکی کہ انہیں اﷲ ورسول قرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں سے اتحاد نہ کرتے،
نیز صاف فرمایا:
لاتجد قومایؤمنون باﷲ والیوم الاٰخر یوادون من حاداﷲ ورسولہ ولو کانوااٰبائھم اوابنائھم اواخوانھم اوعشیرتھم۱؎۔
نہ پاؤ گے انہیں جو اﷲ وقیامت پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان سے دوستی کریں جنہوں نے اﷲ ورسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲۲)
سبحان اﷲ مگر مشرکین یا وہابیہ نے اﷲ ورسول کی مخالفت نہ کی، صرف یہود ونصارٰی نے کی ہے، قرآن کریم جا بجا شاہد ہے کہ مطلقاً موالات حرام ہونے کی علت کفر ومخالفت وعداوتِ اﷲ ورسول ہے جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، یہ معنی انہیں آیات سے کہ یہاں تلاوت ہوئیں، روشن اور نہایت صریح تر الفاظ سے اس کا علت ہونا اس آیہ کریمہ میں بیان فرمادیا کہ:
یایھاالذین لاتتخذوااٰباء کم واخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان ومن یتولھم منکم فاولٰئک ھم الظالمونo۲؎
اے ایمان والو!اپنے باپ بھائیوں سے بھی محبت نہ کرو اگر وہ ایمان پر کفر کو اختیار کریں اور تم میں جوان سے محبت کرے گا وہی پکا ظالم ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۲۳)
اﷲ اکبر یہ ہے وہ اسلام جس پر ان کے بڑے لیڈر ابوالکلام آزاد کا مسئلہ خلافت وجزیرہ عرب میں یہ اہتمام کہ وہ بعض اقسام کفار سے محبت کرنے کاحکم دیتا ہے اور یہ کہ عالمگیر محبت اس کی دعوت حق کا اصل الاصول ہے
انا ﷲ واناالیہ راجعون،
کیا اﷲعزوجل نے نہ فرمایا:
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحونoمتاع قلیل ولھم عذاب الیم۳؎o
بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا میں تھوڑا سابرت لیں پھر ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶ و ۱۱۷)
کیا نہ فرمایا:
قل ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحونoمتاع فی الدنیا ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرونo۱؎
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۷۰ )
اے محبوب تم فرمادو کہ بیشک وہ جو اﷲ پر افتراکرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیاکچھ برت لیں پھر انہیں ہماری طرف پلٹنا ہے پھر ہم ان کو وہ سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔
کیانہ فرمایا:
ویلکم لاتفترواعلی اﷲ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتری۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۰/ ۶۱)
تمہاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب میں بھون ڈالے گا اور بیشک نامراد رہا مفتری۔
کیانہ فرمایا
: انمایفتری الکذب الذین لایؤمنون۳؎۔
بیشک ایسے افترا وہی باندھتے ہیں جو کافر ہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۰۵)
یہ ہے کہ قرآن عظیم کا فتوی جس نے کفر کا حکم جمادیا،
وخسرھنالک المبطلون۴؎
وقیل
بعد ا للقوم الظالمینo
(۴؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۷۸) (۵؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۴۴ )
اور باطل والوں کا وہاں خسارہ ہے او رفرمایاگیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(ت)