Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
149 - 150
اسی طرح سوہ تغابن میں بالجملہ ایمان باللہ میں سب ضروریات کتابوں، رسولوں، فرشتوں،قیامت وغیرہا پر ایمان لانا داخل ہے، تو آیت کریمہ کاحاصل یہ ہے کہ یہود نصرانی، صابی کوئی بھی ہو جو تمام ضروریات دین پر اسلام لائے، (قرآن عظیم کو کلام اللہ، محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سچار سول اللہ اور خاتم النبیین مانے کہ سب ضروریات دین اس میں آگئے، جب تک وہ کوئی قول یا فعل منافی تصدیق نہ کرے) اور نیک کام کرے (یعنی شریعت مطہرہ محمدیہ کے مطابق کیونکہ ان کو خاتم النبیین مان چکا تو جو کام ان کی شریعت کے خلاف ہے منسوخ یامردود ہے) اس پر کچھ خوف وغم نہیں، خلاصہ یہ کہ نعمت کچھ انھیں اشخاص مسلمین کےلئے خاص نہیں بلکہ کوئی بھی ہو کسی بھی مذہب وملت کا ہو جو اسلامی عقیدے مانے اور شریعت محمدی پر چلے اس پر کچھ خوف وغم نہیں تو آیہ کریمہ اس آیت کی نظیر ہے کہ:
فان اٰمنوا بمثل ماامنتم بہ فقد اھتدوا ۱؎۔
اے مسلمانو! اگریہود ونصارٰی بھی ان تمام باتوں پر ایمان لے آئیں جن پر تمھاراایمان ہے تو وہ بھی راہ پاجائیں،
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۱۳۷)
یہ مطلب اس آیت کاہے، منکر سوچے کہ اب اس کا باطل شبہ کدھر گیا، مسلمان دیکھیں کہ جوآیت اس کار دہے اسی کو اپنی سندبنایا، یہ اگر تعصب نہیں توابلیس لعین کا کیسا سخت دھوکاہے، والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔

آیت ۲: ایک سخت چالاکی بلکہ کلام اللہ میں تحریف کے قبیل سے ہے اس آیت کو دکھانا اور اس سے متصل اوپر کی آیت کا چھپانا جو مطلب صاف فرمارہی ہے وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
قل یاھل الکتب لستم علی شیئ حتی تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم ط ولیزیدن کثیرا منہم ماانزل الیک من ربک طغیانا وکفرا فلاتأس علی القوم الکافرین ۲؎۔
اے محبوب! ان یہودونصارٰی سے فرمادو کہ اے کتاب والو! تم نرے باطل پر ہو جب تک توریت و انجیل اور جوکچھ تمھارے رب سے تمھاری طرف اتر ا تھا اسے قائم نہ کرو، اور اے محبوب! بیشک ان میں بہتوں کو اس قرآن سے سرکشی اور کفر بڑھے گا تو تم ان کافروں کاغم نہ کھاؤ،
 (۲؎ القرآن الکریم            ۵/ ۶۸)
قرآن عظیم فرماتاہے کہ یہود ونصارٰی جب تک توریت وانجیل کو قائم نہ کریں نرے باطل پر ہیں اورقرآن سے سرکشی کرکے کافر جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نہ مانے اس کا قرآن عظیم سے سرکشی کرنا تو ظاہر وواضح، اور اس نے توریت وانجیل بھی قائم نہ کی کہ ان میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بشارتیں تھیں،

 اللہ تعالٰی فرماتاہے:
الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورٰۃ والانجیل ۱؎۔
میں اپنی رحمت ان کے لئے لکھوں گا، جو پیروی کریں گے رسول نبی امی کی جسے اپنے پاس لکھا ہوا پائیں گے توریت وانجیل کی۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۷/ ۱۵۷)
محمد رسول اﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم (الی قولہ تعالٰی) ذٰلک مثلہم فی التورٰۃ ومثلہم فی الانجیل۲؎۔
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس،میں نرم دل (الی قولہ تعالٰی) ان کایہ وصف توریت میں ہے اور ان کی ثناء ہے انجیل میں۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم               ۴۸/ ۲۹)
اور عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول ذکر فرماتاہے:
مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ۳؎۔
میں بشارت دیتاآیاہوں ان رسول کی جن کانام پاک احمدہے۔
 (۳؎القرآن الکریم            ۶۱/ ۶)
تو جس نے احمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کونہ مانا اس نے توریت وانجیل قائم نہ کی بلکہ پھینک دی، اور قرآن عظیم سے سرکش ہوا، اور اللہ تعالٰی فرماتاہے کہ وہ کافر ہے پھر ایمان میں کیونکر شامل ہوسکتاہے، انصاف والے کے لئے خود وہی آیت کہ منکر نے پڑھی اوربرابر کی آیت کہ اس نے چھوڑ دی، کفایت کرتی ہیں صدہا میں سے تبر کا دوچار اورسن لیجئے۔

آیت ۳: آیہ کریمہ
الذین یتبعون الرسول النبی الامی ۴؎
میں حضور کے اوصاف کریمہ ذکرکے فرماتاہے:
فالذین اٰمنوا بہ عزروہ ونصروہ واتبعوا النورالذی انزل معہ اولئک ھم المفلحون ۱؎۔
توجو اس نبی اُمی پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم و مدد کی اور اس نور کے پیروہوئے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
 (۴؎ القرآن الکریم                ۷/ ۱۵۷) (۱؎ القرآن الکریم                ۷/ ۱۵۷)
ثابت ہوا کہ جب تک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور ان کی تعظیم نہ کرے ہر گز فلاح نہ پائے گا اگرچہ اپنے زعم میں کیسے ہی نیک عمل رکھتاہو۔
آیت ۴: اس کے متصل فرماتاہے:
قل یایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا ن الذی لہ ملک السموت والارض ط لاالہ الاھو یحی ویمیت فامنوا باﷲ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باﷲ وکلمتہ و اتبعوہ لعلکم تھتدون ۲؎۔
اے محبوب! تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تمام آدمیوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ کہ زمین وآسمان میں اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبودنہیں وہی جلائے اورمارے، توایمان لاؤاللہ اور اس کے رسول نبی امی پر کہ اللہ اور اس کے کلاموں پر ایمان لاتاہے اور اس کی پیروی کرو کہ تمھیں ہدایت ہو،
 (۲؎ القرآن الکریم                ۷/ ۱۵۸)
معلوم ہواکہ ہدایت تونبی امی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ماننے پرموقوف ہے جو ان کونہ مانے اسے ہدایت نہیں، اور جب ہدایت نہیں ایمان کہاں، تو من اٰمن باﷲ والیوم الاخر ۳؎ (جو کوئی سچے دل سے اللہ اور قیامت پر ایمان لائے۔ ت) میں کیونکر آسکتاہے۔
 (۳؎القرآن الکریم                ۵/ ۶۹)
آیت ۵:
ان الذین یکفرون باﷲ ورسولہ ویریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسلہ و یقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض و یریدون ان یتخذوا بین ذٰلک سبیلااولئک ھم الکفرون حقا واعتدنا للکفرین عذابا مھینا o والذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورھم وکان اﷲ غفورا رحیما ۱؎ o
بیشک جو انکار کرتے ہیں اور اللہ اوراس کے رسولوں کااور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈال دیں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پرایمان لائیں گے اور کسی کے منکر ہوں گے، اور چاہتے ہیں کہ سب پر ایمان اور سب سے کفر کے بیچ میں کوئی راستہ نکالیں وہی پورے پکے کافر ہیں، اورہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیارکررکھاہے اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اوران میں کسی کے انکار اور باقی پر ایمان سے ان میں جدائی نہ ڈالی عنقریب اللہ ان کو ان کے ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم            ۴/ ۱۵۰ تا ۱۵۲)
اس آیہ کریمہ نے صاف فرمادیا کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں جدائی ڈالنے والا پکا کافرہے، اور یہ کہ جو ان سب کو مانے اور ایک ہی کا منکر ہو وہ اللہ اور سب رسولوں کامنکر اور ویساہی پکا کھلا کافرہے، یہ نہیں کہ جوسب کو مانیں وہ مسلمان اور جو سب سے منکر وہ کافر، اور یہ جو بعض کومانتے ہیں اور بعض کے منکر ہیں کچھ اور ہوں، نہیں نہیں یہ بھی کل کے منکر کی طرح پورے کافرہیں بیچ میں کوئی راہ نکل ہی نہیں سکتی۔
آیت ۶:
ان الدین عنداﷲ الاسلام ومااختلف الذین اوتواالکتب الامن بعد ماجاءھم العلم بغیا بینہم ومن یکفر باٰیت اﷲ فان اﷲ سریع الحساب o فان حاجوک فقل اسلمت وجھی ﷲ ومن اتبعن وقل للذین اوتواالکتب والامیین ء اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا وان تولوا فانما علیک البلاغ واﷲ بصیر بالعباد ۲؎ o
بیشک اللہ کے نزدیک دین یہی اسلام ہے یہود و نصارٰی نے دانستہ براہ سرکشی اس کا خلاف کیا اور جو اللہ کی آیتوں سے کافر ہوا بے غم نہ ہواللہ جلد حساب لینے والاہے، اگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ میں اورمیرے پیرو توسب اللہ کے لئے اسلام لائے اور یہود ونصارٰی ومشرکین سب سے کہو کیا تم مسلمان ہوتے ہو، اگر اسلام لائیں تو راہ پاجائیں اور منہ پھیردیں تو تم پر صرف پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہاہے۔
 (۲؎القرآن الکریم            ۳/ ۲۰۔ ۱۹)
آیت ۷:
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخاسرین ۳؎۔
جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے وہ ہر گز قبول نہ فرمایاجائے گا، اور اسے آخرت میں خسارہ رہے گا
(۳؎ القرآن الکریم            ۳/ ۸۵)
آیت ۸:
الذین اٰتینہم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم وان فریقا منہم لیکتمون الحق وھم یعلمون ۱؎۔
یہود ونصارٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایسا پہچانتے تھے جیسا اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں اور ان میں ایک گروہ دانستہ حق کو چھپاتاہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۲/ ۱۴۶)
اور ساتویں پارہ میں اس کے بعد یوں فرمایا:
الذین خسروا انفسہم فہم لایؤمنون ۲؎۔
وہ جنھوں نے اپنی جان خسارہ میں ڈالی وہ ان پہچانے ہوئے نبی پر ایمان نہیں لاتے۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۶/ ۱۲)
اورپہلے پارے میں صاف ترارشاد ہوا:
وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اﷲ علی الکفرین ۳؎ o
اس سے پہلے اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے جب وہ جانا پہچانا تشریف لایا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت کافروں پر۔
 (۳؎القرآن الکریم                ۲/ ۸۹)
Flag Counter