(دوسراخط بنام تھانوی):ـ
جناب تھانوی صاحب ! اسلام علیکم، کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آنا اپنے گھروں کوارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ مثل شب جمعہ وغیرہ میں اپنے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے،
جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے:
دربعضے روایات آوردہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق مے کنند ازوے یانہ ۲؎۔
بعض روایات میں منقول ہیں کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھرآتی ہے، اور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہ۔ (ت)
اور نیز اکثر کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت فقہ وحدیث وتفاسیر مثلا دقائق الاخبار، دررالحسان، دستور القضاۃ، فتاوٰی نسفیہ، اشباہ والنظائر، روضۃ الریاحین، خزانۃ الروایات، عوارف المعارف، تذکرۃا لموتٰی، فتاوٰی عزیزی وتفسیر عزیزی میں ارواح کاآنا مسطور، لیکن جناب کی زشتی زیور کے حصہ چھ میں ''ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں میں نہ آنا'' اس شدومد کے ساتھ مذکور کہ ''اگرایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا'' تو سوال یہ ہے کہ یہ لکھنا جناب کا کس صورت پر محمول کیا جاوے، آیا سب کتابیں مذکور الصدر جن سے ارواح کا آنا ثابت ہے، ایسی ویسی کتب میں اور گرنہیں تو ان کتابوں کو ایسی ویسی سمجھنے والے کے حق میں شرع شریف میں کیاحکم ہے؟ عنداللہ غور فرماکر جواب حق سے مع مہر اور دستخط کے دریغ نہ کرئیے گا۔ ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
(دوسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
وعلیکم السلام، چونکہ انداز عبارت سے مقصود اعتراض معلوم ہوتاہے اور جس پر اعتراض کرنا مقصود ہو اس سے استفسار کرنا نامناسب ہے اس لئے جواب نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود استفتاء سے دوسرا ہوتاہے یعنی طلب حکم العمل، اور ان دونوں غرضوں سے منافات معلوم۔
(تیسراخط بنام تھانوی)
جناب، السلام علیکم، افسوس مسئلہ حل طلب جناب کو دوبارہ لکھا لیکن جواب جواب باوجود یکہ فقیر کو نہ اعتراض مرغوب، نہ کوئی مناظرہ محبوب، بلکہ اظہار حق مطلوب، کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن کے اسمائے طیبہ پچھلے خطوں میں بالتصریح مذکور، جب یہ ایسی ویسی نہیں تو ان کوایسی ویسی سمجھنے والے کی نسبت جو حکم شرع ہو اس کے لکھنے میں آپ کوکیاتامل ہے، ہاں البتہ آپ کے اس لفظ ایسی ویسی کے لکھنے میں شامل ضرور ہوتی ہیں، شاید جس کی وجہ سے اظہار حق میں کچھ دریغ ہے، اگر بہ تقاضائے بشریت جناب سے کوئی سہو وخطا اس کلمہ ایسی ویسی کے لکھنے میں مضمر ہے تو آگاہیت پر ان کلمات کی واپسی میں کیاعذرہے اور اگر خاص کوئی تاویل ہے تواس سے عنداللہ مع دستخط ومہر کے بواپسی ڈاک صاف طور سے عوام کو مطلع فرمادیجئے گا بلحاظ اس کے تاکہ ظن قائم کریں اگر آپ نے صاف صاف جواب جواب بھی نہ دیا تو پھر مجبورا یہی متصورہوگا کہ آپ کو کتب معلومہ سے انحراف ہے، اس پر پھر جو حکم شرعی ہوگا علمائے اہل سنت وجماعت سے استفتالے کر بذریعہ اشتہار مشتہر کردیا جائے گا، ۹ فروری ۱۹۱۹ء
(تیسرے خط کا جواب از طرف تھانوی):
السلام علیکم، مجھ کو جو کچھ عرض کرنا تھا کرچکا، فقط۔
جناب من! تینوں خط مع جواب ان کے پیش خدمت بعد ملاحظہ مخفی نہ رہے گا مولوی صاحب نے اصل جواب کے دینے میں کس قدر ایچ پیچ لگائے ہیں، اور جو مقصود سوال تھا ان کے جوابات میں وہ قطعی مفقود، اب سوال یہ ہے کہ اس عبارت زشتی زیور سے کہ جس میں جو لکھا ہے ''ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا اعتقاد مت رکھنا''
اس سے اور نیز خطوط مذکورہ کے جوابات سے یہ امر ثابت ہے یانہیں کہ مولوی صاحب کوجملہ احادیث و روایات، کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت جن میں ا رواح کاآنا ثابت ایسی ویسی اور جو شخص ان سب احادیث روایات کوایسی ویسی کہے اس کی نسبت شرع شریف میں کیاحکم ہے؟
الجواب
تھانوی نے حفظ الایمان میں حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صریح توہین کی اور شدید گالیاں دیں جس پر علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق اس پرحکم کفر دیا اور صاف فرمادیا کہ:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کے کافر ہونے میں شک بھی کرے وہ بھی کافرہے۔
(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
اس کے بعد اس کی ایسی ویسی باتوں پر کیا التفات اور کتب دینیہ کی توہین کی کیا شکایت،
ماعلی مثلہ بعد الخطاء
(خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۲۵: از او، آر، ریلوے ٹیلیگراف ٹریننگ اسکول مرسلہ سید اعجاز احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
میرے تاجدار آقا، حضور کے سایہ رحمت میں حق سبحانہ وتعالٰی اس کمینہ کو امان عطا فرمائے، ایک صاحب کہتے ہیں کہ ماحصل یہ کہ اعمال صالحہ کرنے سے کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا اگرچہ کسی نبی یا خود حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے، اس پر یہ آیت پیش کرتاہے پارہ
"لایحب اللہ" سورہ مائدہ ع۱۰:
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والصابئون والنصارٰی من اٰمن باﷲ والیوم الاخر وعمل صالحا فلاخوف علیہم ولاھم یحزنون ۲؎۔
اس میں کچھ شک نہیں جوکوئی مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور صابی اور نصارٰی ان میں سے جوکوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاوے اورنیک عمل بھی کرے تو قیامت کے دن ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف طاری ہوگا اورنہ وہ آزردہ خاطر رہیں گے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵/ ۶۹)
گویا کہ نصارٰی یہودی وغیرہ اگراللہ وروز آخرت پر ایمان لاویں اورنیک عمل کریں اگرچہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان نہ لاویں تب بھی جنت کے مستحق ہیں، میں نے اس شخص کو
اٰمنوا باﷲ ورسولہ
(اللہ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ ت) اور نیز بعد کی آیت پڑھ کر سمجھایا کہ اول ایمان عقیدہ ہے بعد کو اعمال صالحہ، اگر عقائد ٹھیک نہیں، اللہ تعالٰی کے محبوبوں کی عظمت دل میں نہیں لاکھ اعمال صالحہ کرے جنت کا مستحق نہیں، اس کے جواب میں وہ آیت پیش کرتاہے حضور سے گزارش ہے کہ فورا اس کا رد اور اس آیت کے واضح معنی نیز بغیر مسلمان ہوئے لاکھ اعمال صالحہ کرے کسی طرح جنت کا مستحق نہیں اگرچہ کسی نبی پر ایمان نہ لائے ا س کو اعمال صالحہ اس کے کام آویں گے یعنی وہ جنت کا مستحق ہے، ورنہ کلام سے ثبوت مانگتاہے،
الجواب
اللہ عزوجل اپنے غضب سے بچائے اور شیطان لعین کے دھوکوں سے پناہ دے، قرآن عظیم اول تااخر انبیاء پر عموما اور حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والثناء پر خصوصا ایمان لانے کاحکم دے رہاہے، ان کی تکذیب کرنے والوں پر لعنت وعذاب اتاررہاہے، اور یہ کہ دین صرف دین اسلام ہے اور یہ کہ کافر کاکوئی عمل صالح نہیں سب باطل وناکام ہے جسے دن کو آفتاب نظرنہ آئے وہ اپنی آنکھوں کو روئے، ہم صدہا آیات کریمہ سے بعض کی تلاوت سے شرف لیں گے نہ اس لئے کہ جو دیدہ ودانستہ اندھا بناہو اس کی آنکھیں کھلیں اس کی تو قیامت کے دن بھی پٹ ہی ہوں گی۔
ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھہم عمیا وبکما وصما ۱؎o
اورہم انھیں قیامت کے دین ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے۔ (ت)
بلکہ اس لئے کہ کوئی جاہل ساجاہل مسلمان کسی ملعون کے دھوکے میں نہ آجائے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۹۷)
آیت ۱: سب سے پہلے جو اس کج فہم نے اپنے ثبوت میں پیش کی یہی اس زعم پر لعنت برسارہی ہے، اس میں اللہ پر ایمان لانا توشرط نجات فرمایاہے، اس قدر تو وہ شخص بھی جانتاہے مگر اللہ پرایمان ہوتا تو اللہ پر ایمان کے معنی جانتا، اللہ پر ایمان یہ نہیں کہ لفظ اللہ مان لیا بلکہ ایمان تصدیق کانام ہے، جو اللہ عزوجل کے ہر ہر کلام کی تصدیق قطعی سچے دل سے کرتاہو وہ اللہ عزوجل پر ایمان رکھتاہے اور جو اس کے کسی کلام میں شبہ بھی لائے اسے ہرگز اللہ پر ایمان نہیں کہ اس کی سب باتوں کی تصدیق نہیں کرتا، اب کلام اللہ کو دیکھئے روشن تصریحوں سے انبیائے کرام وحضور سید الانام علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ورسالت کا بیان ہے، ازاں جملہ
محمد رسول اللہ ۱؎
محمد اللہ کے رسول ہیں،
ٰیسۤ o انک لمن المرسلین ۲؎
اے سردار مجھے حکمت والے قرآن کی قسم بیشک تم رسولوں سے ہو،
واﷲ یعلم انک لرسولہ ۳؎
اللہ خوب جانتاہے کہ تم اس کے رسول ہو۔یوہیں نوح وابراہیم وموسٰی وعیسٰی وہارون ویعقوب وادریس والیاس ولوط ویونس و اسمعیل واسحق وداؤد وسلیمان وزکریا ویحیٰی وہود وشعیب و صالح وغیرہم انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء کی نسبت، تو جو ان میں کسی کی نبوت میں شک کرے اللہ تعالٰی کی تصدیق نہیں کرتا تو ہر گز ہر گز اللہ ہی پر ایمان نہیں رکھتا کسی طرح اس آیت کے حکم میں نہیں آسکتا،
(۱؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۲۹)(۲؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۳۔۲۔۱) (۳؎ القرآن الکریم ۶۳/ ۱)
اصل یہ ہے کہ ایمان باللہ میں جملہ ضروریات دین پر ایمان داخل ہے کہ ان میں سے کسی بات کی تکذیب رب کی تکذیب ہے اور رب کی تکذیب رب کے ساتھ کفرہے، پھر رب پر ایمان کہا، یوم آخر بھی انہیں میں داخل ہے جسے مہتم بالشان ہونے کے سبب جدا ذکر فرمایا،
جس طرح آیہ کریمہ :
والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاخرۃ ھم یوقنون ۴؎ o
اور وہ کہ اہمان لائیں ا س پر جو اے محبوب تمھاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں (ت)
(۴؎القرآن الکریم ۲/ ۴)
میں اسے تین بار ذکر فرمایا کہ وہ جو قرآن عظیم پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے کتابوں پر بھی اور آخرت کایقین رکھتے ہیں، آخرت پر ایمان قرآن عظیم پر ایمان میں آگیا، پھر اگلی کتابوں پر ایمان میں آیا کہ سب میں اس کاذکر ہے، تیسری بار اسے پھر جدا ذکر فرمایا یوہیں یہاں ولہذا جابجا صرف ایمان باللہ وعمل صالح پر ایسے وعدے فرمائے یوم آخرت کا ذکر نہ فرمایا مثلا سورہ طلاق میں:
ومن یؤمن باﷲ ویعمل صالحا یدخلہ جنت تجری من تحتھاالانہٰرخلدین فیہا ابدا قد احسن اﷲ لہ رزقا ۵؎ o
جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اللہ انھیں جنتوں میں لے جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ان میں رہیں، بیشک اللہ نے ان کے لئے اچھا رزق لکھاہے۔ (ت)