Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
147 - 150
الجواب

یہ بات کیا سوال طلب ہے، رویش ببیں حالش مپرس (اس کا چہرہ ہی دیکھ حال مت پوچھ۔ ت) ظاہر ہے کہ ایسی ناپاک کتاب کسی رافضی غالی نجس القلب خبیث اللسان کی ہے، اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ، اس کالکھنا پڑھنا پڑھوانا سب اشد قطعی حرام، اس میں تمام اہلسنت بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین وکلمات کفریہ ہیں اس بارے میں قانونی چارہ جوئی اگر مفید ہو ممنوع نہیں مگر زمانہ وہ ہے کہ اس سے لاکھ لاکھ درجے بدتر کتابیں شائع ہورہی ہیں جن میں وہ قطعی کفرہیں کہ:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
جیسے حفظ الایمان وبراہین قاطعہ اور سب سے خبیث تر ''فلسفہ اجتماع'' جس میں سیدنا عیسٰی کلمۃ اللہ

علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مجہول النسب بچہ لکھا ہے رسولوں کو ماننا محض لغو بتایا ہے، رسول کی تعظیم باطل کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کولکھا کہ انھوں نے اپنے مقلدوں کی آزادی پامال کردی اپنے اوپر اعتراض سے ان کی دہن دوزی کی، اپنی سطوت برقرار رکھنے کے لئے اپنی اور اپنے اہل بیت کی تعظیم کی آیتیں قرآن میں بڑھادیں، قرآن اپنے دعوٰی توحید میں سچا نہیں، نبی کی تعظیم بت پرستی ہے وغیرہ وغیرہ اشد ملعون کفر، پھر وہ قوم کے لیڈر بنتے ہیں اس کے مصنف کے اسلام پر شہادت دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ہم نے ہرطرح تحقیق کرلیا اس میں کوئی بات کفر کی نہیں، اور بعض دوسرے دفتر اس کی اشاعت کررہے ہیں
فالی اﷲ المشتکی وانا اﷲ وانا الیہ راجعون ظھر الفساد فی البروالبحر بما کسبت ایدی الناس وربنا الرحمن المستعان علی ماتصفون ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۲۲: از خیر پور ٹالی اسٹیشن ٹامی والے ریاست بہاولپور برخانقاہ مبارک مرسلہ عبدالرحیم نائب معلم مدرسہ عربیہ خیرپور شرقیہ ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور خالد دونوں بھائی حقیقی ہیں، مسمی زید بقضائے الہٰی فوت ہوگیا ہے اور اس کا برادر خالد موجود ہے اور زید مرحوم کی دو بیویاں اور دو بیٹیاں موجود ہیں، زید مرحوم کے داماد نے مسمی خالد کو کہا بموجب شریعت مبارکہ حصہ تقسیم ہونا چاہئے کیونکہ ہم تم اہل اسلام پابند شریعت کے ہیں شرع محمدی پر فیصلہ ہونا چاہئے خالد جو متروکہ زید پر قابض وجابر ہے صاف کہہ دیا کہ ہم کو شریعت نامنظور ہے بلکہ رواج منظور، اب فرمائیے کہ عندالشریعت خالد کا کیاحکم ہے نکاح رہا یا فسخ ہوگیا؟
الجواب

اگر یہ بیان واقعی ہے تو خالد پر حکم کفر ہے اوریہ کہ اس کا نکاح فسخ ہوگیا اس پر توبہ فرض ہے، نئے سرے سے اسلام لائے، اس کے بعد اگر عورت راضی ہو اس سے دوبارہ نکاح کرے، 

عالمگیری میں ہے:
اذا قال الرجل لغیرہ حکم الشرع ھذہ الحادثۃ کذا فقال ذٰلک الغیر من برسم کارمی کنم نہ بشرع یکفر عند بعض المشائخ ۱؎ اھ
جب کسی نے دوسرے سے کہا اس معاملہ میں شریعت کاحکم یہ ہے وہ دوسرا جوابا کہتاہے میں تو رسم کے مطابق

کروں گا نہ کہ شرع کے مطابق، تو بعض مشائخ کے نزدیک یہ کافر ہوجائے گا اھ
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب التاسع فی احکام المرتدین    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۷۲)
اقول وصورۃ النازلۃ اشد من ھذا بکثیر فان ھذا اخبار عن عملہ والرجل ربما یعمل بالمعصیۃ وھو لایرضا ھا فیکون عاصیا لاکافرالعدم الاستحسان والاستحلال بخلاف ماثمہ فانہ صریح فی عدم قبول الشرع وترجیح الرسم علیہ فکان کالمسألۃ قبلہا ترجیح قال لخصمہ اذھب معی الی الشرع قال بیادہ ببار تا بردم بے جبرنروم یکفر لانہ عاند الشرع اھ ۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
میں کہتاہوں صورت نازلہ مذکورہ صورت سے بہت زیادہ شدید ہے کیونکہ اس عمل کی اطلاع ہے اور آدمی بہت دفعہ معصیت کا عمل کرتاہے مگر اسے گناہ تصور کرتاہے اور دلی طورپر اس پرخوش نہیں ہوتا تو اب عاصی ٹھہرانہ کہ کافر، کیونکہ اس نے اسے حلال تصور نہیں کیا بخلاف سوالیہ صورت کے یہاں قبول شرع کاانکار ہے اور رسم کو اس پر ترجیح دے رہاہے یہ اس سے قبل والے مسئلہ جیسا ہے کسی نے مخالف سے کہا میرے ساتھ شریعت کی طرف چل، تو وہ کہنے لگا پیغام شریعت لادے تاکہ میں چلوں، بغیر جبرکے میں نہیں جاؤں گا، تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے شریعت سے عناد کو روا رکھا اھ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب التاسع فی احکام المرتدین    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۷۱)
مسئلہ ۳۲۴: از قصبہ کسیر کلاں ڈاک خانہ خاص ضلع بلند شہر مرسلہ عبدالشکور صاحب ۵رمضان ۱۳۳۷ھ

بسم الرحمن الرحمن الرحیم

طریقت شعار حقیقت آثار جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم وفضلکم، بعد ابلاغ سلام مسنون الاسلام کے گزارش ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین سوالات ذیل میں کہ بہشتی زیور کے چھٹے حصے میں لکھا ہے کہ ''مُردوں کی روحیں اوقات متبرکہ شب جمعہ وغیرہ میں اپنے گھروں کونہیں آتیں اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا دیکھو جبھی ایسا عقیدہ مت رکھنا'' باوجود احادیث صحیحہ اور اکثر روایات کتب معتبرہ اہل سنت وجماعت سے ارواح کا آنا ثابت، اس باب میں ہر چند مولوی اشرف علی تھانو ی سے ان سب کتابوں کے اسمائے طیبہ وحوالہ جات جن سے ارواح کا آنا ثابت، لکھ کر دریافت کیا کہ کیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیں، اگر ایسی ویسی نہیں تو قرآن کو ایسی ویسی کہنے والے کی نسبت شرع شریف میں کیاحکم ہے؟اس پرمولوی صاحب نے جو  جوابات جملہ خطوں کے بغیر دستخط اپنے تحریر فرمائے ہیں وہ قابل ملاحظہ حضور ہیں لہذا ہر ایک خط کی نقل مع جواب اس کے تحریر کی جاتی ہے ۔

 (عزیزی منظور مدعمرہ کا پہلا خط بنام مولوی اشرف علی تھانوی) جناب مولوی صاحب بعد السلام علیکم عرض ہے کہ جناب کی بعض تصنیفات مثل بہشتی زیور وغیرہ میں جملہ رسوم مروجہ اہل اسلام مثلا قیام میلاد شریف و اعراس بزرگان دین وتعین گیارھویں شریف وطریق نیاز ایصال ثواب میت اور دعاکے لئے بروقت فاتحہ ہاتھ اٹھانا اورمیت کا تیجا، دسواں،بیسواں، چہلم، سہ ماہی، ششماہی، برسی، سات جمعراتیں کرنا، اوربزرگوں سے استمداد چاہنا اوران کے مزاروں پر چادریں چڑھانا اورعورتوں کو قبور اولیائے کرام پر بفرض زیارت کے جانا وغیرہ وغیرہ ناجائز وبدعت لکھا ہے، اور ان ایام میں ہماری طرف ایک رسالہ موسومہ ''مفید آخرت'' حصہ اول ودوم چھپ کر شائع ہوئے ہیں بغرض ملاحظہ جناب ہمراہ تحریرہذا ارسال ہیں ان دونوں حصوں میں امور متذکرہ بالاکو بدلائل احادیث واقوال مشائخ کرام علمائے عظام وروایات فقہ جائز ومستحسن ثابت کیا گیا ہے اور نیز جناب نے ''بہشتی زیور'' کے حصہ چھ کے اس بیان میں جس میں ان رسموں کا بیان ہے جو کسی کے مرنے میں برتی جاتی ہیں، لکھا ہے: ''بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان تاریخوں اور جمعرات کے دن اور شب برأت وغیرہ کے دنوں میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اس بات کی شرع شریف میں کچھ اصل نہیں اور ان کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ جو کچھ ثواب مُردوں کو پہنچایا جاتاہے اس کو خود اس کے ٹھکانے پر پہنچ جاتاہے پھر اس کو کون ضرور ہے کہ مارا مارا پھرے، پھریہ بھی ہے کہ اگر مُردہ نیک اور بہشتی ہے تو ایسی بہار کی جگہ چھوڑ کر کیوں آنے لگا اور اگر بد اور دوزخی تو اس کوفرشتے کیوں چھوڑیں گے کہ عتاب سے چھوٹ کر سیر کرتاپھرے، غرض یہ بات بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی ہے، اگر کسی ایسی ویسی کتاب میں لکھا ہوا دیکھو تب بھی ایسا عقیدہ مت رکھنا جس کتاب کو عالم سند نہ رکھیں وہ بھروسہ کی نہیں ہے۔''

برخلاف اس کے جناب مولانا شاہ سلامت اللہ صاحب رام پوری نے اپنی کتاب ''عمدۃ الفاتحہ'' میں ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا احادیث وکتب فقہ اقوال مشائخ کرام وعلمائے عظام سے ثابت کیاہے، مشت نمونہ وہ روایات بھی یہاں لکھی جاتی ہیں، سنئے، اشعۃ اللمعات میں مولانا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:
دربعضے روایات آمدہ است کہ ارواح میت می آید خانہ خود راشب جمعہ پس نظرمی کند کہ تصدق می کنند ازوے یانہ ۱؎۔
بعض روایات میں منقول ہے کہ جمعہ کی رات میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہیں کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یانہیں۔ (ت)
 (۱؎ اشعہ اللمعات        باب زیارت القبور    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۱۷۔ ۷۱۶)
دقائق الاخبار مصنفہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ میں ہے: ''حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ جس دن ہوتا ہے دن عید کا، یاد ن جمعہ کا، یا روز عاشورہ کا، یا شب نصف شعبان، آتی ہیں روحیں مُردوں کی، اور کھڑی ہوتی ہیں اوپر اپنے گھروں کے، پس کہتی ہیں آیا ہے کوئی کہ یاد کرتاہے مجھ کو، آیا ہے کوئی کہ رحم کرے اوپر ہمارے، آیا ہے کوئی کہ یاد کرے غربت ہماری کو، اے وہ لوگو! کہ رہتے ہو تم بیچ گھروں ہمارے کے، اے لوگو! اچھے ہوئے تم ساتھ اس کے اور بدبخت ہم ساتھ اس کے ہوئے، اور اے لوگو! کھڑے ہو تم بیچ کشادہ محلوں ہمارے کے، اور ہم درمیان قبروں تنگ کے، اورآیا ہے اے لوگو! ذلیل کیا تم نے یتیموں ہمارے کو، اے لوگو! نکاح کیا تم نے ساتھ عورتوں ہماری کے، آیا ہے کہ یاد کرے کوئی بیچ غربت اور فقر ہمارے کے، اعمال نامے تمھارے کشادہ ہیں اور اعمال نامے ہمارے لپٹے گئے''۱؎
 (۱؎دقائق الاخبار )
اور قریب قریب روایت اسی مضمون کی کتاب دررالحسان میں امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نقل فرماتے ہیں:
وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذا کان یوم العید ویوم العشر ویوم الجمعۃ الاولی من شھر رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ یخرج الاموات من قبورھم ویقفون علی ابواب بیوتہم ویقولون ترحموا علینا فی اللیلۃ بصدقۃ ولوبلقمۃ من خبزفانا محتاجون الیھا فان لم یجدواشیئا یرجعون بالحسرۃ ۲؎۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے جب عید کادن، دسواں دن، ماہ رجب کاپہلا جمعہ، شب براءت (شعبان کی نصف) اور جمعہ کی رات آتی ہے تو اموات اپنی قبور سے نکل کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری طرف سے اس رات صدقہ کرو اگرچہ روٹی کا ایک لقمہ ہی دو کیونکہ ہم اس کے ضرورت مندہیں اگر وہ کچھ صدقہ نہ کریں تو بڑے افسوس سے لوٹتے ہیں (ت)
 (۲؎ دررالحسان فی البعث ونعیم الجنان للسیوطی)
دستور القضاۃ مصنفہ صدرالدین رشید تبریزی میں فتاوٰی نسفیہ سے منقول ہے:
ان ارواح المؤمنین یاتون فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتہم ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین یااھلی ویا اولادی یا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ واذکرو نا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا قد کان ھذا المال الذی فی ایدیکم فی ایدینا فیرجعون منہم باکیا حزینا ثم ینادی کل واحد منہم بصوت حزین اللہم قنطہم من الرحمۃ کما قنطونا من الدعاء والصدقۃ ۱؎۔
اہل ایمان کی ارواح ہر جمعہ کی رات اور دن کو اپنے گھروں کے صحن میں آکر غمناک آواز دیتی ہیں : اےمیرے گھروالو، اے میری اولاد، اے میرے رشتہ دارو، ہم پر صدقہ کرکے مہربانی کرو، ہمیں یاد رکھو، ہمیں بھول نہ جاؤ، ہماری غربت پر رحم کرو، یہ مال جو تمھارے ہاتھوں میں ہے یہ کبھی ہمارے پاس بھی تھا پھر وہ غمگین روتے ہوئے واپس جاتے ہیں، پھر ان میں سے ہر کوئی غمگین آواز سے کہتاہے اے اللہ! ان کو رحمت سے اسی طرح دور فرما جس طرح انھوں نے ہمیں دعا وصدقہ سے مایوس کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ دستور القضاۃ         صدر الدین رشیدتبریزی)
اشباہ والنظائر احکام جمعہ میں مسطور ہے:
وفیہ یجتمع الارواح ۲؎
یعنی جمعہ کے دن روحیں اکٹھی ہوتی ہیں،
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    باب احکام الجمعہ    ادارۃ القرآن کراچی   ۲/ ۲۳۹)
روضۃ الریاحین میں ہے:
مذھب اھل السنۃ ان ارواح الموتٰی فی بعض الاوقات من علیین وسجین یاتون الی اجساد ھم فی قبورھم عند مایرید اﷲ تعالٰی خصوصا فی لیلۃ الجمعۃ ویومہا ویجلسون ویتحدثون ۳؎۔
اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اموات کی ارواح جب اللہ تعالٰی چاہتاہے علیین اور سجین سے اپنےاجسام کی طرف آتی ہیں خصوصا جمعہ کی رات، دن میں آپس میں بیٹھ کر گفتگو کرتی ہیں(ت)
(۳؎ روضۃ الریاحین)
بخوف تطویل اس قدر ہی روایات پربس، ورنہ اور بھی کتب معتبرہ خزانۃ الروایات اور عوارف المعارف اور تذکرۃ الموتٰی مصنفہ قاضی ثناء اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے ارواح موتٰی کا اوقات متبرکہ میں اپنے گھروں کو آنا ثابت ہے، چنانچہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فتاوٰی عزیزی ترجمہ سرور عزیزی میں فرماتے ہیں:

''مُردے اوقات متبرکہ میں مثلا شب جمعہ اور شب قدر میں اپنے ان عزیزوں کے پاس گزرتے ہیں کہ وہ عزیزان اموات کو یاد کرتے ہیں قدر ضرورت''۱؎
 (۱؎ سرور عزیزی ترجمہ فتاوٰی عزیزی)
جناب آپ کی عبارت بالا دیکھنے اور ان سب روایات کے غور کرنے سے عوام الناس نہایت مبتلائے اوہام اور مشکوک ہیں، اب سوال یہ ہے کہ آپ کے اقوال قابل تسلیم یا یہ جملہ روایات منقولہ اور کتب حوالہ جات روایات منقولہ کوکیا تصور کیا جائے، آیا یہ سب کتابیں ایسی ویسی ہیں جن کی عالم سند نہیں رکھتے، تحقیق کیا ہے وہ صحیح ہے یانہیں، یایہ کہ وہی درست ہے جو جناب کی کتاب زشتی زیور وغیرہ میں لکھا ہے عنداللہ بواپسی ڈاک جواب باصواب بنظر انصاف مستفید فرمائے تاکہ خاطر جمع ہوں اللہ آپ کو اس کی جزائے خیر دے گا، جواب کے واسطے ٹکٹ مرسل ہے، ۵ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
 (پہلے خط کا جواب از طرف تھانوی):

السلام علیکم اگر تقلید پر اکتفا ہے تو جو شخص آپ کے نزدیک قابل اعتمادہو اس کا اتباع کیجئے اور اگرتحقیق کا شوق ہے تو یہ خط لے کر تشریف لے آئیے بشرطیکہ کچھ علوم دینیہ سے مناسبت بھی ہو،
Flag Counter