Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
146 - 150
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ـ
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق۔ ۲؎
بیشک اللہ تعالٰی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کے اجساد مبارکہ کا زمین پرکھانا حرام فرمادیاہے اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ    آخر کتاب الجنائز        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۱۱۹)
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم و یتصرفوا فی ملکوت السمٰوٰت و الارض ۳؎۔
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کےلئے مزاراات سے باہر جانے اور آسمانوں اور زمین میں تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ الحاوی للفتاوٰی    رسالہ تنویر الحلک        دارالفکر بیروت        ۲/ ۲۶۳)
 (۳) نماز نہ پڑھنا سخت کبیرہ ہے مگر اس کے جہنمی ہونے پر یقین نہیں ہوسکتا کہ کفر کے سواسب گناہ زیر مشیت الہٰی ہیں۔

(۴)اور میلاد مبارک پڑھوانے پر اگر جہنمی کہے تو خود مستحق جہنم ہے۔
مسئلہ ۳۱۸ تا ۳۱۹: از سنھبل محلہ چمن سرائے متصل مزار جناب میرن شاہ صاحب مرسلہ احمد خاں ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) جو شخص یہ کہے کہ جناب سرورکائنات فخر موجودات میں نقصان تھا تو اتنا تھا کہ حضور خدا نہ تھے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یانہیں؟

(۲) جو مسلمان یہ کہے کہ حضرت کاخیال نماز میں آجائے تونماز نہ ہوگی اور گدھے خچر کا خیال آئے تو نماز ہوجائے گی، ایسا کہنے والا مسلمان ہے یانہیں؟اوریہ کہنا حقارت نبی ہے یانہیں؟ اور حقارت نبی کفر ہے یانہیں؟

 خدا تعالٰی کو براکہنے والا مسلمان ہے یانہیں؟ بعض کہتے ہیں کہ حضور اقدس نے (ستر دلیل کفر ہوں اور ایک مسلمان ہونے کی) تو اس کو مسلمان فرمایاہے اور آج کل ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی کھینچ کر کافر بنایاجاتاہے اس کی کیا وجہ ہے؟
الجواب

(۱) اس نے اچھے لفظوں میں ادانہ کیا مگر جو بات کہی حق ہے بیشک سوا الوہیت ومستلزمات الوُہیت کے سب فضائل وکمالات حضور کے لئے ثابت ہیں، اما م محمد بوصیری بردہ شریف میں فرماتے ہیں: ع
دع ماادعتہ النصاری فی نبیہم    واحکم بماشئت مدحافیہ واحتکم ۱؎
جو کچھ نصارٰی نے اپنے نبی علیہ السلام کے بارے میں کہا تم وہ نہ کہو، اس کے علاوہ ہر مرتبہ ومقام آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے بیان کرسکتے ہو۔ ت)
 (۱؎ قصیدہ بردہ شریف     الفصل الثالث    تاج کمپنی لاہور    ص۱۰)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ع
مخواں اورخدا ازبہر حفظ شرع وپاس دیں    دگرہر وصف کش می خواہی اندر مدحش املاکن ۲؎
 (شریعت ودین کا پاس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خدا نہ کہو اس کے علاوہ ہروصف کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مدح کر اور لکھ سکتے ہو ۔ ت)
(۲؎ دیوان عبدالحق المحدث الدہلوی)
 (۲) یہ ملعون بات ضرو کلمہ توہین ہے اور اس کے خبیث قائل پر بلاشبہ کفر لازم، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یاکسی نبی یا فرشتہ کی توہین یا حضرت عزت جل جلالہ کو معاذاللہ بُرا کہنا بلاشبہ کفرہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایساکہیں نہیں فرمایا، یہ حضور پر محض افتراء ہے،نہ ہرگز علماء محتاطین کسی مسلمان کوکھینچ کر کافر بنائیں، یہ ان پر افتراء ہے، اوراس کی تفصیل رسالہ تمہید الایمان میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰: از بہرائچ محلہ قاضی پورہ مسجد کالے خان مرسلہ نواب علی صاحب موذن مسجد ۲۰ جمادری الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ ایک مدعی صوفیت نے ایک بزرگ کے عرس کی تقریب میں ہر طبقہ کے لوگوں کو بلایا یہاں تک کہ ہنود بھی بلائے گئے، اور باوجود اطلاع عقائد باطلہ ایک لکچرار کو جلسہ میں تقریر کے واسطے کھڑا کیا اس شخص نے اس بڑے مجمع کے سامنے توحید پر ستی کے پردہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ کے مقربوں کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں اور ان مقدس اور قدسی صفات حضرات کے صبروتحمل کونہایت شرمناک کمزوری اور نامردی سے تعبیر کیا، مثلا یہ کہ سرورعالم وعالمیاں کو جب جنگ احد میں مجروح کیا گیا تو وہ کچھ بھی نہ کرسکے، حضرت علی شیر خدا ابن ملجم سے اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے وغیرہ وغیرہ، اور ایک حکیم حافظ عربی داں شخص ان بیانات کی تصدیق وتائید کی، جن لوگوں نے اس گستاخانہ مقرر کو بد عقیدہ کہا تھا ان کو تہدید کی اوراس مدعی تصوف کی شان میں چند اشعار پڑھے گئے، جب ایک شخص نے چاہاکہ ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کا جواب دےاور ان معزز اور مقتدر حضرات کے مناقب بیان کرے تو اس مصدق ومؤید وبانی جلسہ میں سرگوشی ہوئی اور منتظموں نے حصہ تقسیم کیا کہ لوگوں کے مجمع کودرہم برہم کردیا اور خود اس بیان زہر آلود پر نہ تقریر کرنے والے کو روکانہ کسی طرح اظہا رناخوشی کیا بلکہ ان لوگوں کو جو تردید پر آمادہ تھے ہر امکانی طریقہ سے باز رکھنا چاہا تو اس بانی محفل ومؤید ومقرر سے عام مسلمانوں کو کس قسم کابرتاؤ کرنا چاہئے اور ان کی دین داری کے متعلق کیاخیال رکھنا چاہئے؟
الجواب

سوال میں جو وہ لفظ ہیں یعنی شرمناک کمزوری اور نامردی اگر بعینہٖ یہ الفاظ اس مقرر نے کہے یا اور الفاظ ملعونہ جوان کے ہم معنی ہوں تو اس کے کا فرمرتد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ایسے کہ من شک فی کفرہ فقد کفر ۱؎ جو اس کے کافرہونے میں شک کرے خود کافرہے،
(۱؎ درمختار    باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
ا ور اس تقدیر پر جتنے اس کےمؤید تھے سب مرتد ہیں اورجنھوں نے اس کی حمایت وطرفداری کے لئے اس کے رد سے روکا وہ سب بھی اسلام سے نکل گئے، اس تقدیرپر مسلمانوں کو ان کے ساتھ وہی برتاؤ لازم ہے جو مرتدین کے ساتھ ان سے میل جول حرام،سلام کلام حرام، موت وحیات میں کوئی معاملہ اسلامی ان سے برتنا حرام، اور گر رد سے روکنااور مجمع متنشر کردینا اس کی طرفداری اورحمایت کے لئے نہ ہو، نہ اس کے کلام ملعون کو کفر نہ جاننے کے باعث تو دوصورتیں ہیں: ایک یہ کہ یہ انسداد نیچریانہ تہذیب خبیث کے باعث ہے تو مداہنت وشیطنت ہے اور اس کے مرتکب عذاب شدید کے مستوجب، اور اگریہ بھی نہیں بلکہ رد میں اندیشہ فتنہ تھا رد کرنے والے کو اس سے بچانے کے لئے یہ بندش کی تو بحال صحت اندیشہ اور غلبہ مفسدہ ان روکنے والوں پر الزام نہیں۔
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۱؎۔
اعمال کامدار نیات پر ہے اور ہر آدمی کا حکم اس کی نیت کے مطابق ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        باب کیف کان بدء الوحی        قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۲)
اور اگر وہ الفاظ ملعونہ کلام مقرر میں نہ بعینہا تھے نہ ایسے الفاظ جوان معنی کو مودی ہوں، بلکہ سائل نے اس کا مقصود ایسا سمجھ کر اسے ان الفاظ سے تعبیر کیا تو اگر دلائل وقرائن وسیاق وسباق سے ثابت ہو کہ اس کایہی مقصود تھا تو اس پروہی حکم کفر و ارتداد ہے اور طرفداروں کے لئے بھی وہی احکام عود کرینگے جبکہ انھوں نے بھی یہی مقصود سمجھایا، یہ مقصود ایسا واضح تھا جس کے سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ تھا، اور اگر دلائل وقرائن سے بھی مقصود ثابت نہ ہو تاہم اس میں شک نہیں کہ طرز ادب کے خلاف ہے، اس طور پر بیان دو ہی قوموں کا شیوہ ہے یا تو ملحدان بے دین یا وہابیان خوگرتوہین، اور دونوں مردودوگمراہ ہیں باقی سیاق وسباق کلام وغیرہ متعلقات کی سائل نے تفصیل نہ کی کہ کوئی شق متعین کی جاتی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱: از کوچین ضلع ملیبار محلہ مٹانچیری مکان سیٹھ سلیمان قاسم میمن مرسلہ حاجی طاہر محمدمولانا ۲۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکو حاضر وناظر سمجھنا کیساہے اور وہ کون ہے؟
الجواب

اللہ عزوجل شہید وبصیر ہے اسے حاضر وناظر نہ کہنا چاہئے یہاں تک کہ بعض علماء نے اس پر تکفیر کا خیال فرمایا اور اکابر کو اس کی نفی کی حاجت ہوئی، 

مجموعہ علامہ ابن وہبان میں ہے:
ویاحاضر ویاناظر لیس بکفر ۱؎۔
یاحاضر یاناظر کہنا کفر نہیں۔ (ت)
(۱؎ مجموعہ ابن وہبان)
جو ایسا کہتاہے خطا کرتاہے بچنا چاہئے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲:         ۲۴ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک نام کے مسلمان نے ایک کتاب ضوء نورالحق المبین عربی زبان میں لکھی اور چھپواکر اپنے ہم خیالوں میں بہ تعداد پانچ ہزار تقسیم کی اور اس کو مجالس عام میں برسرمبنر پڑھنے کاحکم دیا اور اس میں صفحہ ۳۴ پر یہ لکھاہے:
فالمسلمون الذین یشہدون بکلمۃ الاخلاص وھم کافۃ اھل الجماعۃ والسنۃ وکلمۃ الاخلاص ھی التی قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ من قالھا مخلصا دخل الجنۃ وھی لاتقبل منہم وتردعلیہم لانہم لم یقرواالابالرسول وحدہ وانکروا مرتبۃ الوصی۔
مسلمان وہ ہیں جو کلمہ اخلاص کی گواہی دیں اور وہ تمام اہل جماعت وسنت ہیں اورکلمہ اخلاص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کافرمان ہے جس نے اخلاص کے ساتھ پڑھ لیا وہ جنتی ہے اور یہ کلمہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان پر رد کردیا جائے گا کیونکہ انھوں نے صرف رسول کا اقرار کیا، مرتبہ وصی کاانکار کردیا۔ (ت)

اور صفحہ ۳۵ پر ہے:
وان امام زمانکم محل من الدین محل الرسول۔
تمھارے زمانے کے امام کامقام دین میں وہی ہے جو رسول کا مقام ہے۔ (ت)
اور صفحہ ۴۳ پر ہے:
وان وصیہ علیّ امیر المومنین نظیرہ (ای نظیرالرسول) فی تمامہ وکمالہ۔
حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) امیرالمومنین ہونے میں ان کی نظیر ہیں یعنی تمام وکمال میں رسول اللہ کی نظیرہیں۔ (ت)

اور صفہ ۴۶پرہے:
وکان من کان فی ایامہ (ایام الرسول) لااستطاعۃ لہم فی قبول کل الحکمۃ دفعۃ واحدۃ۔
گویا جوان کے ایام میں تھا (یعنی حضورکے ایام میں) کہ بیک وقت تمام حکمت کاقبول کرنا طاقت میں نہ تھا۔ (ت)

اور صفحہ ۱۶۳ پر حضرت جعفر رحمۃ اللہ تعالٰی کی نسبت لکھاہے جنھوں نے بارہ لاکھ شیعوں کو سنی بنالیا تھا:
فمن وسواس خناس وسوس فی صدور الناس، فضل واضل کثیرا من الناس یعنی جعفر النہر والی قرین ابلیس الواقع بہ عن رحمۃ اﷲ تعالٰی الابلاس۔
وہ خناس کے وساوس میں سے ہے اس نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے خودبھی گمراہ اور بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کیا یعنی جعفر النہروالی، وہ ابلیس کا سینگ ہے اس کی وجہ سے رحمت الہٰی سے مایوسی ہوئی۔ (ت)

پھر انھیں حضرت جعفر کی نسبت صفحہ ۱۶۴ پر ذٰلک الشیطن (وہ شیطان ہے۔ ت) کالفظ ہے، پس کیاحکم ہے شریعت کا ایسی کتاب کی نسبت جس میں اس قسم کے مذکورہ مضامین ہوں اور کیا فتوٰی ہے ایسی کتاب لکھنے اور چھپواکر تقسیم کرنے اور منبروں پرحکما پڑھوانے کی نسبت؟ اور کیا ارشاد ہے سنی مسلمانوں کوکہ وہ اس کتاب کی ضبطی اور مصنف کتاب کی تنبیہ کے لئے حاکم ملک سے چارہ جوئی قانونی کریں یا نہ کریں؟
Flag Counter