مسئلہ ۳۰۶: ا زمیرٹھ صدر بازار مچھلی محلہ پیتم درزی کی مسجد مرسلہ حکیم عبدالرحمن صاحب ۲۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شہر میرٹھ کے اندر مہاتما گاندھی تشریف لائے۔ مجمع کثیر تھا، اہل ہنود کے بچوں نے کھیل تماشے کے طوپر اکثر مسلمانوں کے چندن لگایا اس کی بابت قاری محمد صالح پیش امام جامع مسجد صدر نے فتوٰی دیا کہ جن مسلمانوں کے چندن لگایا ہے وہ اپنی عورتوں کے پاس نہ جائیں جب تک تجدید ایمان اور دوبارہ نکاح نہ کرلیں۔ بینوا توجروا
الجواب
مسلمانو! اللہ واحد قہار سے ڈرو، اسلام کوکھیل تماشہ نہ بناؤ، ہنود کے بچے ان کے بالجبر لگالیتے، یہ ضرور ان کی خوشی سے ہوا یا کم از کم اسے قبول کیا، بہرحال تجدید ایمان فرض ہے اور بعد تجدید ایمان بے تجدید نکاح عورتوں کوہاتھ نہیں لگاسکتے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۷: از موضع رجہت ضلع گیا مرسلہ سید محمد حبیب صاحب ۲۲ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
ہولی دیوالی ہندؤوں کا پر ب ہے یانہیں؟ اگرہے تو یہ کس بناپر جاری ہواہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟ مسلمان اگر اس کوکریں تو کیا ان پر کفر عائد ہوگا؟
الجواب
ہولی دیوالی ہندؤوں کے شیطانی تہوار ہیں، جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دو عیدیں تھیں، نوروز کہ تحویل حمل ہے اور مہرگان کہ تحویل میزان، وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندؤوں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لہذا ان کے وقتوں میں یہ ترمیم کہ میکھ سنکھ رانت کی پور نماشی میں ہولی اور تلاسنکھ رانت کی اماؤس میں دیوالی یہ سب رسوم کفار ہیں،
مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفر،
غمز العیون میں ہے:
اتفق مشایخنا ان من رأی امرالکفارحسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عنداکل الطعام حسن من المجموسی اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ اگر کسی نے کفارکے کسی معاملہ کو اچھا کہا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ ا نھوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا جو یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوسی کے ہاں گفتگوں نہ کرنا بہت اچھا عمل ہے یا ان کے ہاں حالت حیض ہمسبتری نہ کرنا اچھا عمل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ غمزالعیون کتاب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
مسئلہ ۳۰۸: از موضع امریاضلع بریلی ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفی رحمہم اللہ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ ایک بارات موضع پچومی سے موضع امریا میں آئی، بعدنکاح لڑکی کے باپ اور لڑکے کے چچا مسمی حسین بخش سے کسی بات پر نزاع لفظی واقع ہوئی جس کی وجہ سے تمام برادری کے خلاف حسین بخش اوران کے برادروں نے کھانا نہیں کھایا، دوسرے روز رخصت کے وقت رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سامان جہیز وغیرہ دے کرکہا کہ یہ موجود ہے اس کو لے جاؤ اور لڑکی اس وقت رخصت کروں گا جس وقت حسین بخش وپوے کھانا کھائیں گے، جب سب برادری نے حسین بخش وپوے کومجبور کیا تو ہر دوشخص کھانا کھانے پر رضامند ہوگئے، پھر برادری والوں نے ان دونوں شخصوں سے کہا جب تم کھانے کھانے پر رضامند ہو تو تم کولاز م ہے کہ باہم مل کر ایک دوسرے کا قصورمعاف کردوا س رائے کو سن کر رحیم بخش لڑکی کے باپ نے سب برادری کی طرف مخاطب ہوکر کہاکہ میں اپنے قصور پر نادم ہوں اور خدا ورسول کے واسطے ان سے معافی چاہتاہوں یہ بات سن کر حیدر بخش نہایت غیظ وغضب میں یہ کہتاہوا چلا گیا کہ ہم خدا ورسول کو نہیں جانتے ہیں اور نہ ہم ملیں، ایسے الفاظ کہنے والے کی نسبت شرعا کیا حکم ہے؟
الجواب
اگرواقع میں اس نے یہ لفظ کہے ہیں کہ وہ خدا ورسول کونہیں جانتا تو کہنے والا اسلام سے گیا اور ا س کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جب تک وہ توبہ کرکے از سرنو مسلمان نہ ہو اس کی موت وحیات کسی بات میں شریک نہ ہوں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹ تا ۳۱۰: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں کہ:
(۱) از روئے فرمان اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یزید بخشا جائے گایانہیں؟
(۲) حضرت منصور شمس تبریز وسرمد نے ایسا لفظ کہا جس سے خدائی ثابت ہوتی ہے تو دار پر آئے اور کھال کھینچی گئی لیکن وہ ولی اللہ گنے جاتے ہیں، اور فرعون، ہامان، شداد اور نمرود نے دعوٰی خدائی کیا تو کافر فی النار ہوئے اس کی کیا وجہ ہے؟
الجواب
(۱) یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہلسنت کے تین قول ہیں، امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہر گز بخشش نہ ہوگی، اورامام غزالی وغیرہ مسلمان، تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہوگی، اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ نہ ہم مسلمان کہیں گے نہ کافر۔ لہذا ہم بھی سکوت کریں گے۔
(۲) ان کافروں نے خودکہا ملعون ہوئے اور انھوں نے خود نہ کہا اس نے کہا جسے کہنا شایان ہے آواز ان میں سے مسموع ہوئی جیسے موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے درخت سے سنا: انی انا اﷲ رب العٰلمین ۱؎ میں ہی ہوں اللہ سارے جہاں کا، کیا درخت نے کہا تھا، حاشا بلکہ اللہ نے، یونہی یہ حضرات اس وقت شجرہ موسٰی ہوتے ہیں،
(۱؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۳۰)
مسئہ ۳۱۱: از ملک برہما مسجد اکھیم پوسٹ، مرسلہ مولوی عبدالعزیز خاں قادری ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
ایک عالم کو ایک شخص نے گالی دی اس کی بیوی کو طلاق ثلاثہ ہوں گے یا بعد توبہ رجعت کرسکتاہے؟
الجواب
کسی خاص عالم کوکسی دنیوی وجہ سے گالی دینے سے عورت نکاح سے نہیں نکلتی۔ ہاں مطلقا علماء کو یاخاص کسی عالم کو بوجہ علم دین بر اکہنے سے آدمی کافرہوجاتاہے، عورت فورا نکاح سے نکل جاتی ہے مگر یہ فسخ نکاح ہوتا اسے طلاق نہیں، نہ ایک نہ تین، اسلام لانے کے بعد اگر عورت راضی ہو تو اس سے نکاح کرسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: از بمبئی نشان پاڑہ کواس روڈ طاہر ٹوپن بلڈنگ تیسرا مالاپوسٹ نمبر ۹ مرسلہ سید اسداللہ حسین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جو خود کو عالم ظاہرکرتاہے اپنے وعظ میں بیان کرتاہے کہ زین المجالس جس میں کرامات قطب الاقطاب غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ مرقوم ہیں سراسر غلط اوراس کا مؤلف مردودہے، کتاب مذکور کا پڑھنا سنناحرام ہےجناب غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اقوال مثل "قدمی ھٰذہ" الخ وغیرہ کے غلط ہیں یارسول اللہ اور یا غوث کہناحرام ہے، قصائد خوانی میلاد شریف ناجائز ہے، اولیاء اللہ وغیرہم پر فاتحہ خوانی مثل گیارھویں شریف وغیرہ کے ناجائز ہے، ان اقوال کی تائید وتصدیق قرآن شریف کی قسم سے کرتاہے، بس اس صورت میں شخص مذکور کس فرقہ کاآدمی ہے اس کا عقیدہ مطابق اہل سنت وجماعت ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو ہم سنیوں کو اس کی مجلس وعظ میں شریک ہونا کیسا اور اس کے اقوال پر یقین لاکر جو منکر کرامات اولیاء ہوجائے ا س کاکیا حکم ہے؟
الجواب
ایسے اقوال کا قائل نہیں ہوتا مگر وہابی مسلمانوں کو اس کے وعظ میں جاناجائزنہیں، صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۱؎۔
ان سے بچو اور انھیں دوررکھو، وہ تمھیں گمراہ نہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم النہی عن الروایۃ والضعفاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰)
کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے، اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۳: ازمنڈوہ ضلع فتح پور ہسوہ ڈاکخانہ خاص مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۲۵ ربیع الآؒخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بلاعذر شرعی علی الاعلان روزہ رمضان المبارک کے ترک کرے اور اگر کسی نے نماز پڑھنے کے لئے کہاکہ اٹھو نما زپڑھو، تو جواب دیا کہ کون اٹھک بیٹھک کرے، اجی جتنے نمازی حاجی وحافظ ہیں سب بے ایمان ہیں، یا کسی نے روزہ رکھنے کوکہا توجواب دیا کہ کون بھوکا مرے جس کے گھر میں کھانا نہ ہو وہ روزہ رکھے، ہم سے توبھوکا نہیں مراجاتا، تمھیں روزہ رکھ کے بہشت میں چلے جانا اور ماہ رمضان المبارک میں سرراہ دروازہ پر بیٹھ کر آب نوشی وحقہ نوشی خود کرتا اور کراتا ہے اگر کوئی منع کرتاہے کہ روزہ داروں کے سامنے مت کھاؤ پیو، تو جواب دیتاہے کہ خداسے چوری نہیں ہے تو بند ے سے کون سی چوری ہے، سویہ سب باتیں زید کی کیسی ہیں؟ زید ان باتوں سے مسلمان ہے یا نہیں؟ اور وہ لوگ کیسے ہیں جو زید کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور زید کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں۔ اس بیہودہ بکنے اور تمسخر کرنے سے زید کانکاح اس کی عورت سے باطل ہوا یا قائم رہا؟ اگر باطل ہوا تو اولاد اس کی کیسی ہے؟ زید اور اس کے ساتھی کبھی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں ان کی نماز جمعہ وعیدین ہوتی ہے یانہیں؟
الجواب
صورت مستفسرہ میں زید پر حکم کفرہے اور وہ لوگ جو اس کی ان باتوں سے خوش ہوتے ہیں ان پر بھی یہی حکم ہے، ان کے جمعہ وعیدین باطل ہیں، ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں، مسلمانوں کو ان سے میل جول حرام ہے،
نہ ان کے پاس بیٹھنا جائز۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلاتقعد بعدالذکر ی مع القوم الظلمین ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
مسئلہ ۳۱۴ تا ۳۱۷ـ: از کوہ کسولی ضلع انبالہ کوٹھی بارک ماسٹر صاحب مرسلہ جان محمد خانساماں ۳ جماد ی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ان مسائل میں:قصبہ کسولی کے اندر ایک مسجد ہے اس میں مسلمانان کی طرف سے ایک پیش امام مقرر ہیں انھوں نے اپنے وعظ کے اندر بیان کیا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ایلچی تھے، اور حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس نام سے یاد کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
(۱)کیا نعوذ باللہ ایلچی کے نام سے حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو یاد کرنے سے منقصت پائی جاتی ہے تو ایسے قائل کے واسطے کیاحکم ہے؟ اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باحیات توہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے اور نہ روضہ پاک سے باہر تشریف لاسکتے ہیں قیامت تک۔
(۲) کیا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نماز نہیں پڑھتے اور کیا روضہ پاک سے باہر تشریف نہیں لاسکتے؟ اور ایک مقام پر میلاد سرورکائنات علیہ التسلیم والتحیہ تھا وہاں ولادت کا ذکر میلاد خواں نے نہیں کیا، جلدی سےسلام پڑھ دیا اور پیش امام صاحب وعظ فرمانے بیٹھ گئے، اثنائے وعظ میں بیان کیا کہ جو شخص نما ز نہیں پڑھتا اور میلاد شریف پڑھواتاہے وہ جہنمی ہے۔
(۳)کیا تارک الصلوٰۃ کافرہے؟
(۴) کیا میلاد شریف پڑھوانے والا جہنمی ہے؟
الجواب
(۱) حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول اعظم ونائب اکبر خلیفہ اعظم ہیں، ایلچی وہ ہوتاہے جس کو پیام یا خط پہنچانے کے سواکوئی سرداری اورحکومت نہیں، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اکرم میں اس لفظ کا استعمال کرنا بیشک تنقیص وتوہین ہے اور اس کاوہی حکم ہے جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کا۔
(۲) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام حیات حقیقی دنیاوی روحانی جسمانی سے زندہ ہیں، اپنے مزارات طیبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں، روزی دئے جاتے ہیں، جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں، زمین وآسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۱؎۔
حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنے مزارات میں زندہ ہیں اور نماز ادافرماتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ شرح الصدور باب احوال الموتٰی فی قبورھم خلافت اکیڈمی مینگورہ سوات ص۷۸)
(مجمع الزوائد باب ذکر الانبیاء علیہم السلام دارالکتب العربی بیروت ۸/ ۲۱۱)