مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلاکفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۳؎۔
کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما ''یااستاد'' کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸)
(۲) قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر رضا بالاجماع کفرہے،
منح الروض الازہر میں ہے:
من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعاوبکفر غیرہ اختلف المشائخ ۴؎۔
جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)
(۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹)
اور کفر پر رضا جیسی سوبرس کے لئے ویسے ہی ایک لمحہ کے لئے، پونچھ ڈالنے سے کفر جو واقع ہولیا مٹ نہ جائیگا جب تک از سر نو اسلام نہ لائے، جیسے جومہادیو کے آگے دن بھر سجدہ میں پڑ رہے وہ بھی کافر اور جو سجدہ کرکے سراٹھائے وہ بھی کافر، والعیاذ باللہ تعالٰی۔
(۳) وہ کافر تھے یہ اکفر ہوئے، دونوں فریق اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے، ان پر ویسے ہی مجمع کثیر میں علی الاعلان توبہ کرنا از سرنو مسلمان ہونا فرض ہے،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسروالعلانیۃ بالعلانیۃ ۱؎ رواہ الامام احمد فی الزھد والطبرانی فی الکبیر بسندحسن عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے، اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ احمد بن حنبل فی الزھد حدیث ۱۰۱۸۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۲۰۹)
مسئلہ ۳۰۳ تا ۳۰۵: ا زچھاؤنی میرٹھ صدر بازار مدرسہ امداد الاسلام معرفت مولوی عبدالمومن صاحب مدرس مسئولہ حافظ شیر محمد خاں امام مسجد وطالب علم مدرسہ ۲۰ جماد ی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
(۱) اگر قوم ہنود کا کوئی جلسہ ہو اور اس میں بہت سے مسلمان برضا ورغبت شامل ہوں اور ہندو مثل اپنے مسلمانوں کی پیشانیوں پر بھی چندن لگائیں اور مسلمان بخوشی لگوائیں اور تااختتام جلسہ اس کواپنی پیشانیوں پرباقی رکھیں تو مسلمانوں کا اپنی پیشانیوں پرقشقہ یعنی چندن لگوانا ان کے اسلام یانکاح کے متعلق کیا حکم رکھتاہے؟
(۲) اسی جلسہ کے ہندو لیڈر کی مسلمانوں کوجے پکارنا جائز ہے یاناجائز؟ اور اس کا کیاحکم ہے؟
(۳) اور اگر بعض مسلمانوں کے بلا ان کے رضاورغبت کے چندن لگادیا گیا ہو اور انھوں نے اس کو فورا پونچھ دیا ہو تو ان کے متعلق کیاحکم ہے؟
الجواب
(۱) بخوشی لگانے دینا اور خود لگانا ایک ہی حکم ہے، شراب یاپیشاب خود پئے یادوسرا پلائے اور یہ منہ
کھول دے دونوں ایک ہی ہیں قشقہ زنار کی طرح شعار کفربلکہ اس سے بدتر شعار بت پرستی ہے۔ زنار بعض ملکوں کے یہود ونصارٰی میں بھی ہے اور قشقہ خاص علامت وشعارمذہب مشرکین وعبدۃ الاصنام، وہ لوگ اسلام سے خارج ہوگئے،اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے،
اشباہ والنظائر میں ہے:
عبادۃ الصنم والاعتبار بما فی قلبہ وکذا لوتزنربزنار الیہود والنصارٰی دخل کنیستہم اولم یدخل ۱؎۔
بت کی عبادت کفرہے جو دل میں تھا اس کا اعتبار نہیں، اسی طرح حکم ہے اگر یہود ونصارٰی کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو یانہ ہو (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
واللفظ لھذافی الخلاصۃ من تزنربزنار الیہود والنصارٰی وان لم یدخل کنیستہم کفرومن شد علی وسطہ حبلاوقال ھذا زنار کفر وفی الظہیریۃ وحرم الزوج وفی المحیط لان ھذا تصریح بما ھو کفر وفی الظہیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی رأسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویا کفر ۲؎۔
خلاصہ میں الفاظ یہ ہیں اگر کسی نے یہود ونصارٰی کی طرح زنار باندھا تو کفرہے اگرچہ ان کے گرجا میں داخل نہ ہو اور جس نے کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ زنارہے وہ کافر ہوجائے گا، ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوجائے گی، محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃ کفرہے، ظہیریہ میں ہے: جس نے مجوسی کی ٹوپی پہنی اس پر اعتراض کیا گیا تو کہا دل درست ہوناچاہئے، تو یہ کفر ہے۔ (ت)
(۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
یہ پہلی کتاب کے الفاظ ہیں جس نے نوروز کے دن کسی مجوسی کو انڈہ بھی تحفہ میں دیاتویہ کفرہے۔ (ت)
(خلاصۃ الفتاوٰی الجنس السادس فی تشبیہ الکفار مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ پاکستان ۴/ ۳۸۷)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
ای لانہ اعانہ علی کفرہ واغوائہ اوتشبہ بہم فی اھدائہ ۴؎۔
کیونکہ یہ کفر واغوا پر مددہے یاان کے ساتھ ہدایا میں مشابہت ہے۔ (ت)
(۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶)
شفا شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
کذا (ای یکفر) من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لایصدر الامن کافر وان کان صاحبہ مصر حا بالاسلام مع فعلہ کالمشی الی الکنائس مع اھلہا بزیھم من الزنانیر وغیرھا ۱؎۔
اسی طرح وہ بھی کافرہے جس نے ایسا عمل کیا جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ صرف کافروں سے صادر ہوسکتاہے اگرچہ وہ شخص اس فعل کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتاپھرے مثلا اہل زنانیر کے ساتھ زنار پہن کر ان کے گرجوں میں جانا (ت)
(۱؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ فصل فی آخرالخطاء مکتبہ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۸)
(۲) حرام حرام سخت حرام، جے بولنا ہنود کا شعارہے اور ہندو لیڈر کی جے پکارنا بحکم فقہائے کرام خود کفرہے، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش ۲؎۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ والبیہقی فی شعب الایمان عن انس بن مالک وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الہٰی ہل جاتاہے (اسے امام ابن ابی الدنیا نے ''ذم الغیبۃ'' میں ابویعلی نے اپنی مسند میں، بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰)
فاسق کا یہ حال ہے نہ کہ مشرک، فتاوٰی امام ظہیرالدین واشباہ علامہ محقق بحرومتن شیخ الاسلام غزی تمرتاشی وشرح مدقق علائی دمشقی ومجمع الانہر علامہ شیخی زادہ رومی وغیرہا میں ہے:
کافر کی تعظیم وتوقیر کفرہے، اگر کسی نے ذمی کو بطور توقیر سلام کیا تو یہ کفرہے، اگر کسی نے مجوسی کو تعظیما ''یااستاد'' کہا تویہ بھی کفر ہے۔ (ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر باب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸)
(۳) قشقہ کاکفران پر عائد نہیں مگر ایسی جگہ کیوں گئے کہ یہ نوبت پہنچی ایسے جلسے کی شرکت ہی حرام تھی۔
ہاں ایک دقیقہ اور ہے اور بلارضا ورغبت ہوناا ور ، اوراس فعل شنیع کی انتہا درجے تک کراہت وناگواری اور، اگر اس کی رغبت نہ تھی اور جس نے لگایااس کے ساتھ اس نے وہی برتاؤکیا جو بلاوجہ منہ پر جوتا مارنے والے کے ساتھ کرتا، جب تو جانے کہ واقعی اس نے اس کفر کو مکروہ وناگوار رکھا اور اگر ہنس کر چُپ رہا اور پونچھ ڈالا یا بقدر ضرورت اس پر نہ بگڑا توجانئے کہ کراہت بھی نہیں گو رغبت نہ ہو، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعم۔