Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
143 - 150
مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب     ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاوی، اتحاد کسی مشرک قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریک ہوکر ناقوس بجائیں، پھول رام لچمھن پر چڑھائیں، جے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز؟ مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے ؟ مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔
الجواب

مسلمان کو دسہرے کی شرکت حرام ہے، بلکہ فقہاء نے اسے کفر کہا اور اس میں بہ نیت موافقت ہنود ناقوس بجانا بیشک کفر ہے اور معبود ان کفار پر پھول چڑھانا کہ ان کا طریقہ عبادت ہے اشد واخبث کفر،

 اشباہ والنظائر وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے:
عبادۃ الصنم کفرولااعتبار بما فی قلبہ وکذا لوصور عیسٰی علیہ الصلوٰۃ لیسجدلہ، وکذا اتخاذ الصنم لذٰلک وکذٰلوتزنربزنار الیھود والنصارٰی دخل کنیستہم اولم یدخل ۱؎۔
بت کی عبادت کفرہے، دل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں، اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیا،ا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہے، اسی طرح اگر کسی نے یہود ونصارٰی کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو ایانہ ہوا۔ (ت)
 (۱؎ اشباہ والنظائر    کتاب السیر     باب الردۃ        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۲۹۵)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الاعطاء باسم النیروز والمھرجان (بان یقال ھدیۃ ھذا الیوم ش) لایجوز ای الھدایا باسم ھٰذین الیومین حرام وان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر ۲؎۔
نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ (بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش) جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا، (ت)
 (۲؂درمختار شرح تنویر الابصار    باب مسائل شتی        مطبع مجتائی دہلی        ۲/ ۳۵۰)

(ردالمحتار          باب مسائل شتی     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۸۱)
بحرالرائق وعالمگیری ومجمع الانہر و جامع الفصولین میں ہے:
یکفربخروجہ الی نیروز المجوس والموافقۃ معہم فیما یفعلون فی ذٰلک الیوم وبشرائہ یوم النیروز شیئالم یکن یشتریہ قبل ذٰلک تعظیما للنیروز لاللاکل والشرب وباھدائہ ذٰلک الیوم للمشرکین ولو بیضۃ تعظیما لذلک الیوم ۳؎۔
مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہے، اسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں  خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ     مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۹۸)
جامع الفصولین ومنح الروض الازہر میں ہے:
قال ابوبکر بن طرخان من خرج الی السدۃ (قال القاری  ای مجمع اھل الکفر) کفر اذفیہ اعلان الکفر وکانہ اعان علیہ وعلی قیاس السدۃ الخروج الی النیروز والموافقۃ معہم فیما یفعلونہ فی ذٰلک الیوم کفر۱؎۔
شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا (ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے) تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہے، نیروز میں نکلنا اور اس دن کےموافق عمل کرنا کہ یہ بھی کفرہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الفصولین    فصل فی مسائل کلمات الکفر        اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۱۳)

(منح الروض الازہر     فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ        مصطفی البابی مصر    ص۱۸۶)
جے بولنا طریقہ کفار ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۲؎۔
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل    حدیث ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ   دارالفکر بیروت     ۲/۵۰)
پھر اگر معبودان کفار کی جے ہے تو کفرہے اور اگر کافروں کی ہے تو فقہائے کرام اسے بھی کفرفرماتے ہیں، فتوائے ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویر الابصار میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفرولوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلاکفر ۳؎۔
اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہے، اگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم ''اے استاذ'' کہا تو کفرہے۔ (ت)
 (۳؂الاشباہ والنظائر    کتاب السیر     باب الردۃ        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/ ۲۸۸)

(درمختار        کتاب الحظر فصل فی البیع        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۱)
بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہے، والتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر (اس کی تفصیل ہماری کتاب ''انفس الفکر فی قربان البقر'' میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے ار جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدید اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدید نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیا، جیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، اور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا
حرام الی غیر ذٰلک من الاحکام
(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۳۰۰ تا ۳۰۲: از میرٹھ لال کرتی بازار مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ ۲۰جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بتقریب اتفاق ہندو مسلمانان میرٹھ میں ایک جلوس مہاتما گاندھی جی کا نکالا گیا جس میں ہندو مسلمانان سب شریک تھے،علاوہ دیگر واقعات کے ایک واقعہ مسلمانان میرٹھ کا یہ ہوا کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے عین  جلوس میں قشقہ چندن وغیرہ مسلمانوں کے ماتھے پر لگایا ہے، چندن لگوانے اور لگوانے والے مسلمانوں سے معلوم ہواہے کہ اس چندن لگانے میں ہندوؤں کی طرف سے کوئی جبر نہ تھا چنانچہ جن مسلمانوں نے انکار کیا انھوں نے انکار کرنے والے مسلمانوں کے ماتھے پر نہیں لگایا، اب اس جلوس میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تین قسمیں تھیں جو بترتیب ذیل درج سوال ہیں، امیدکہ ہر ایک کاحکم شرع شریف علمائے کرام
''لایخافون لومۃ لائم ۱؎''
وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداللہ ماجور ہوں:
 (۱؎ القرآن الکریم                            ۵/ ۵۴)
(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریک ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔

(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے؟

(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریک رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تک لگا ئے رہے، ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے؟
الجواب

حرام حرام سخت حرام تھی بلکہ فقہائے کرام کے طورپر حکم سخت تر،

 رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ ۲؎، رواہ ابوداؤد بسند حسن و علقہ الترمذی عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس نے کسی مشرک کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا، اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقاً بیان کیا۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابوداؤد    کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرک    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۹)
دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سود مع قوم فہو منہم ۱؎ ۔ رواہ الخطیب عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا، اسے خطیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۱؎ تاریخ بغداد  حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداللہ بن عتاب الشاہد العبدی     دارالکتاب العربی بیروت    ۱۰/ ۴۱)
تیسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کثر سواد قوم فہو منہم ۲؎۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معبد فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود وابن المبارک فی الزھد عن ابی ذر من قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلٰی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارک نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)
(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ    المکتبۃ الاسلامیہ ریاض    ۴/ ۳۴۶)
Flag Counter