شرح الوہبانیہ میں ہے کفن وحنوط بیچنے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اسی طرح دلال کی گواہی کا بھی حکم ہے، قدری آفندی نے اپنی واقعات میں اس پر اعتماد کیا، مصنف نے بزازیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اجارہ معینہ میں اسے ذکر کیاہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دلالوں، اشٹام فروشوں اور ان وکلاء جولوگوں کے دروازوں پر چکرلگاتے ہیں وغیرہ کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، فتاوٰی مؤید زادہ میں ایسے لوگوں کایہی حکم بیان ہواہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب القبول وعدمہٖ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵)
دلال کاکام یہ ہے کہ مشتری سے بڑھوائے یا بائع سے گھٹوائے جوڑ توڑ لگا کر جھوٹ سچ ملاکر نرم گرم کراکر سودا کرادے اور اپنے ٹکے سیدھے کرے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس ذلیل لفظ سے تعبیر کرنا صریح توہین ہے، اور حضور اقدس کی توہین کفر، اس سے بہتر لفظ خیال کیونکر آتا جب دل میں عظمت ہی نہیں۔
(۲) مجلس میلاد مبارک ذکر شریف سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اللہ عزوجل کا ذکر، اور ذکر الہٰی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاللہ حضور کا ہتک حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے، ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گی،جیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔مگر اس سے خود نمازی بُری نہ ہوجائے گی، تشریف آوری حضور کے اختیارہے اور قیام تعظیمی ذکر قدوم شریف کے لئے ہے اور اللہ عزوجل فرماتاہے:
ومن یعظم شعائر اﷲ فانہا من تقوی القلوب ۱؎۔
اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲)
(۳) اوپر کے جوابوں سے اس کا حکم ظاہر ہوگیا فقط، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۸: از مولمیں ملک برہما مرسلہ ابراہیم ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان شخص جو ایک اسلامیہ مدرسہ میں جس میں قرآن شریف اور اردو اور ضروری دینیات کی تعلیم دی جاتی ہے، مدرس اعلٰی ہے اس نے اپنے ماتحت مدرسین وطلبہ وغیرہ کی اطلاع کی غرض سے اس عبارت کے جواب میں جو دوسرے مدرس نے اپنے درجہ کی بورڈ پرلکھی تھی کہ: ''ہر کہ پندونصیحت گوئی نخست برآں کارکن'' (جو توکسی کو نصیحت کرے اس پر پہلے خود عمل کرے۔ ت) یہ عبارت لکھائی ا س بورڈ پر کہ''کافر افسر کے حکم کی تعمیل کرنے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہے'' دوسرے روز ایک شخص نے مدرس اعلٰی سے دریافت کیا کہ یہ (عبارت بالا) کس نے لکھی ہے اور یہ کس کامذہب ہے جواب دیامیں نے لکھائی گومیرے قلم کی نہیں ہے آپ لکھ کر علماء سے دریافت کرلیں اور متولی صاحب وغیرہ سے کہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیایہ عبارت صحیح ہے قطع نظر اندیشہ وخوف، شریعت میں کافر افسر کی حکم برداری کی تاکید آئی ہے، اگر شریعت مطہرہ سے ایساحکم نہیں ہے تو جو شخص اس مذکورہ عبارت کو مذہبی حکم تاکیدی کہتاہو اور سوال کرنے پر جواب دے کہ دریافت کرو متولی صاحب وغیرہ سے کہو اس کے لئے کیاحکم ہے، اور تاوقتیکہ وہ اپنے اس عقیدہ فاسدہ سے باز نہ آئے اورتوبہ نہ کرے اس پر سبقت سلام اورا س سے اختلاط بہترہے یا اجتناب؟ مکرر التماس یہ ہے کہ استفتاء مدرس اعلٰی کو دکھایا گیا تو فرمایا کہ اس کے ساتھ یہ اور بڑھا دو کہ اگر کافر افسر کاحکم خلاف شرع محمدی نہ ہو، لہذا اب اس صورت میں یہ سوال ہے کہ اس عبارت کے زائد کرنے سے بھی کچھ حکم بدل جاوے گا یانہیں؟ ان دونوں صورتوں میں ہر صورت کا کیا جواب ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(اے اللہ! ہمیں حق وصواب کی رہنمائی عطا فرما۔ت)
مسلمانوں کے دینی مذہبی کام میں کسی کا افسر بننا دوطرح ہیں:
اول قہری کہ کوئی شخص مذہبی دست اندازی کرکے بالجبر افسر بن بیٹھے، جیسے فساق وظلماء امراء امامت نماز کیاکرتے تھے،
دوم ارادی کہ مسلمانوں کی جماعت خود اسے اپنے مذہبی کام میں پیشوا بنائے۔
اول نہ زیربحث ہے نہ یہاں اس کلام ومکالمہ کا مفاد نہ محل اضطرار پر احکام اختیار،
لاجرم دوم مراد اور وہی مفہوم ومستفاد یعنی باختیار خود کسی ہندو یا رافضی یا وہابی یا قادیانی کو مدرسہ دینیہ اسلامیہ پر افسر مقرر کیا گیا ہو اس کی نسبت مدرس کہتاہے کہ اس کاحکم ماننے کی ہمارے مذہب میں تاکید ہے، ہمارے مذہب سے اس نے اپنا کوئی خاص اختراعی مذہب دین اسلام سے جدا مراد لیا ہو تو:
ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم وساءت مصیرا ۱؎o
اور جو مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
کامصداق ہے اوراگر دین اسلام مرادلیا تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء کیا اور:
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون o متاع قلیل ولہم عذاب الیم ۲؎۔
بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلانہ ہوگا تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب۔ (ت)
کا استحقاق ہے،
(۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶ و ۱۱۷)
شریعت مطہرہ نے اسلامی کام پر بااختیار خود ایسوں کو افسر مقرر کرنا ہی کب جائز رکھا ہے نہ کہ ان کے احکام کی تصویب اور ان کے ماننے کی تاکید،
ان ھوالاضلال بعید
(یہ واضح گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ت) اللہ عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین امنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لایالونکم خبالاودواماعنتم قد بدت البغضاء من افواھہم وما تخفی صدورھم اکبر قدبینا لکم الاٰیات ان کنتم تعقلون o ھٰا نتم اولاء تحبونہم ولایحبونکم وتؤمنون بالکتاب کلہ واذا لقوکم قالو ا اٰمنا واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اﷲ علیم بذات الصدور ۱؎۔
اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمھارے نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گے وہ جی سے چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑو، بیرا ن کے مونہوں سے ظاہر ہوچکا ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبا ہے اور بھی بڑا ہے ہم نے تمھارے سامنے نشانیاں کھول دیں اگر تم میں عقل ہے ارے یہ جو تم ہو تم تو ان سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم پوری کتاب پر ایمان لائے ہو تم سے ملیں توکہیں ہم مسلمان ہیں اور اکیلے ہوں تو تم پر جلن سے اپنی انگلیاں چبائیں، اے محبوب! تم ان سے فرمادو کہ اپنی جلن میں مرجاؤ، بیشک اللہ دلوں کی جانتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۹ ۔ ۱۱۸)
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیہم من ھوارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۲؎۔ رواہ الحاکم صححہ والطبرانی والعقیلی وابن عدی والخطیب عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جس نے کسی جماعت پر ایک شخص کو مقرر کیا اور ان میں وہ موجود ہے جو اللہ کو اس سے زیادہ پسند ہے تو ضرور اس نے اللہ ورسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی، (اسے حاکم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح کہا، طبرانی، عقیلی، ابن عدی اور خطیب نے بھی اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ۔ (ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴/ ۹۲)
غایۃ البیان، علامہ اتقانی وجامع الرموز وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۳؎۔
دینی کاموں میں کافر سے مددنہ لینی چاہئے۔
(۳؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸)
یہ اس پر فرمایا کہ مسلمان اپنی قربانی کاجانور کسی یہودی سے ذبح کرائے نہ کہ دین وتعلیم دین کی افسری بالاختیار اسے دی جائے، اللہ تعالٰی فرماچکا کہ تمھاری خیرخواہی درکنار کبھی اپنی چلتی نقصان رسانی میں کمی نہ کریں گے، حال کے بکثرت واقعات شاہد ہیں ہم وطن ہندو آج کل کتنا اتحاد واتفاق بگھاررہے ہیں اور مسلمانوں کی خاص رسم مذہبی قربانی گاؤ پر کیا ہی فتنے اٹھاتے فساد مچاتے ہیں قابو چلے پر کیا کچھ مسلمان لوٹے گئے، ذبح کئے گئے، جلائے گئے، اوروہابیہ وغیرہم مذکورین تو ہنود ویہود سے بھی بدرجہا بدترہیں کہ مسلمان بن کر اسلام کے گلے پر خنجر ہیں، کما بیناہ فی غیر مارسالۃ (جیسا کہ متعدد رسائل میں ہم نے اسے بیان کیا۔ ت) اگر وہاں دینی مدرسہ کا کسی ہندو یارافضی وہابی وغیرہ کو افسربنارکھاہے، اس کی خوشامد میں مدرس نے یہ فقرہ لکھا جب تو اس کاحال یہ تھااور اگر کوئی افسر ایسا نہیں محض بلاوجہ مسلمانوں کے مذہبی مدرسہ پر غیر کی افسری فرض کرکے یہ حکم لکھا اور اعلان کے لئے بورڈ پر لگایا تو اس کے اور بھی مرض قلبی پر دال ہے اور بعد کو یہ تقیید کہ اس کاحکم خلاف شرع نہ ہو، کیا مفید یہ شرط کیا مسلمان میں نہیں، کیسا ہی جلیل القدر مسلمان افسر ہو اگرچہ خود اپناباپ یا استاد یا پیراس کاحکم وہی مانا جائے گا جو خلاف شرع نہ ہو
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی ۱؎
(اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کی جائے گی۔ ت) یہ بیانات کہ ہم نے اوپر لکھے ان سے اور مدرس کے اندرونی بیرونی حالات سے اس کی مذہبی کیفیت کااندازہ کیا جائے اگر واقع میں ہنود یا وہابیہ وغیرہم کی طرف دینی امورمیں اس کا میلان ہے تو اس سے اجتناب لازم اور اختلاط ممنوع، اوراگر ایسا نہیں بلکہ ایک بے معنی حماقت تھی کہ نادرا اس سے صادرہوئی تو تفہیم کردی جائے اگر اصرار نہ کرے اس سے ابتدا بسلام میں حرج نہیں جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۳)