Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
141 - 150
ان کے یہ افعال بھی اقامت سنت وتعلیم امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں طریقہ محمودہ لوگوں کو عملی طورسے دکھائیں جیسے ان کا سہوونسیان حدیث میں ہے:
انی لاانسی ولکن انسی لیستن بی ۳؎
میں بھولتا نہیں بھلایاجاتاہوں تاکہ حالت سہو میں امت کو طریقہ سنت معلوم ہو۔
 (۳؎ مؤطاامام مالک    باب العمل فی سہو        میر محمد کتب خانہ کراچی    ص۸۴)
امام  اجل محمد عبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایأتی الاحول البشریۃ لاجل نفسہ المکرمۃ بل ذٰلک منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی طریق التانیس البشریۃ لاجل الاقتداء بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاتری الی قول عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ انی لاتزوج النساء ومالی علیہن حاجۃ وقدقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حبب الی من دنیاکم الطیب والنساء وجعلت قرۃ عینی فی الصلٰوۃ فانظر الی حکمۃ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حبب ولم یقل احببت وقال من دنیاکم فاضافہا الیہم دونہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فدل علی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان حبہ خاصا بمولاہ عزوجل یدل علیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وجعلت قرۃ عینی فی الصلٰوۃ فکان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشری الظاہر ملکی الباطن فکان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایأتی الی شیئ من احوال البشریۃ الاتانیسا لامتہ تشریعا لھا لاانہ محتاج الی شیئ من ذٰلک کما تقدم وللجہل بھذہ الاوصاف الجلیلۃ والخصال الحمیدۃ قال الجاہل المسکین مال ھذا الرسول یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق ۱؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم احوال بشری کھانا پینا سونا جماع اپنے نفس کریم کے لئے نہ فرماتے تھے بلکہ بشرکو انس دلانے کےلئے کہ ان افعال میں حضور کی اقتداکریں، کیا نہیں دیکھتا کہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں عورتوں سے نکاح کرتاہوں اور مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمھاری دنیا میں سے خوشبو، عورتوں کی محبت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں رکھی گئی ہے، یہ نہ فرمایا کہ میں نے انھیں دوست رکھا، اور فرمایا: تمھاری دنیا میں سے تو اسے اوروں کی طرف اضافت فرمایا نہ کہ اپنے نفس کریم کی طرف، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت اپنے مولٰی عزوجل کے ساتھ خاص ہے جس پر یہ ارشاد کریم دلالت کرتاہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی، توحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہر صورت بشری اور باطن ملکی ہے، تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہ افعال بشری محض اپنی امت کو انس دلانے اور ان کے لئے شریعت قائم فرمانے کے واسطے کرتے تھے نہ یہ کہ حضور کو ان میں سے کسی شے کی کچھ حاجت ہو، جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا انھیں اوصاف جلیلہ وفضائل حمیدہ سے جہل کے باعث بیچارے جاہل یعنی کافر نے کہا اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔
 (۱؎ المدخل        فصل فی آدابہ فی الاجتماع باہلہ    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۱۹۳)
عمرونے سچ کہا کہ یہ قول حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے جس کی حکمت تعلیم تواضع وتانیس امت و سد غلو نصرانیت ہے، اول دوم ظاہر، اور سوم یہ کی مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی امت نے ان فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹاکہا پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتاہے، یہاں اس غلو کے سدباب کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو میں تم جیسا بشرہوں خدایا خداکابیٹا نہیں۔

ہاں "یوحی الی" رسول ہوں، دفع افراط نصرانیت کے لئے پہلا کلمہ تھا اور دفع تفریط ابلیسیت کے لئے دوسرا کلمہ اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشادہوا:
قل سبحن ربی ھل کنت الا بشرا رسولا ۱؎۔
تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں خدا نہیں میں توا نسان رسول ہوں۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۱۸/ ۹۳)
انھیں دونوں کے دفع کوکلمہ شہادت میں دونوں لفظ کریم جمع فرمائے گئے:ـ
اشھد ان محمداعبدہ ورسولہ۔
میں اعلان کرتاہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (ت)

بندے ہیں خدانہیں، رسول ہیں خدا سے جدانہیں، شیطنت اس کی کہ دوسراکلمہ امتیاز اعلی چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اقتصار کرے، اسی ضلالت کااثر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دعوٰی مساوات کو صرف نالائق حرکت کہا، نالائق حرکت تو یہ بھی ہے کہ کوئی بلاوجہ زید کو طپانچہ ماردے یعنی اس زید کوجس نے کفر وضلال نہ بکے ہوں، پھر کہاں یہ اور کہاں وہ دعوٰی مساوات کہ کفر خالص ہے، اوراس کا اولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہم کی طرف معاذاللہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ارفعیت کاادعا نسبت کرنا محض افتراء اور کج فہمی ہے حاشا کوئی ولی کیسے ہی مرتبہ عظیمہ پر ہو سرکار کے دائرہ غلامی سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا، اکابر انبیاء تودعوٰی مساوات کرنہیں کرسکتے، شیخ الانبیاء خلیل کبریا علیہ الصلوٰۃ والثناء نے شب معراج حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا خطبہ فضائل سن کر تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلوٰہ والتسلیم سے فرمایا:
بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎
ان وجوہ سے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تم سب سے افضل ہوئے۔
 (۲؎ حدیث قدسی)
ولی کس منہ سے دعوی ارفعیت کرے گا، او رجوکرے گا حاشا ولی نہ ہوگا شیطان ہوگا، حضرت سیدنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال ونظائر رضی اللہ تعالٰی عنہم وقت ورودتجلی خاص شجرہ موسی ہوتے ہیں سیدنا موسٰی کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو درخت میں سے سنائی دیا:
یموسٰی انی انا اﷲ رب العالمین ۳؎
اے موسٰی! بیشک میں اللہ ہوں رب سارے جہاں کا، کیا یہ ہر پیڑ نے کہا تھا حاشا ﷲ بلکہ واحد قہار نے جس نے درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی کیا رب العزت ایک درخت پرتجلی فرماسکتاہے اوراپنے محبوب بایزید پر نہیں؟ نہیں نہیں وہ ضرور تجلی ربانی تھی کلام بایزید کی زبان سے سناجاتاتھا، جیسے درخت سے سناگیا اور متکلم اللہ عزوجل تھا اسی نے وہاں فرمایا:
یموسٰی انی انا اﷲ رب العالمین ۱؎
(اے موسٰی! میں اللہ ہوں رب سارے جہاں کا۔ ت) اسی نے یہاں بھی فرمایا:
سبحانی مااعظم شانی ۲؎
(میں پاک ہوں اور میری شان بلند ہے۔ ت)اور ثابت ہو تویہ بھی کہ لوائی ارفع من لواء محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎ (میرا جھنڈا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلند ہے۔ ت) بیشک لواء الہٰی لواء محمد ی سے ارفع واعلٰی ہے،
 (۳؎ القرآن الکریم            ۲۷/ ۳۰)

 (۱؎القرآن الکریم            ۲۸/ ۳۰)

(۲؎ تذکرۃ الاولیاء    باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی        مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور    ص۱۱۲)

(۳؎تذکرۃ الاولیاء    باب ۱۴ ذکر بایزید بسطامی        مطبع اسلامیہ اسٹیم پریس لاہور    ص۸۹، ۱۱۲)
حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں اس مقام کی خوب تفصیل فرمائی ہے اور تسلط جن سے اس کی توضیح کی ہے کہ انسان پر ایک جن مسلط ہوکر اس کی زبان سے کلام کرے اور رب عزوجل اس پر قادر نہیں کہ اپنے بندے پر تجلی فرماکر کلام فرمائے جو اس کی زبان سے سننے میں آئے بلاشبہہ اللہ قادرہے او رمعترض کا اعتراض باطل، اس کا فیصلہ خود حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں ہوچکا ظاہر  بینوں بے خبروں نے ان سے شکایت کی کہ آپ سبحانی مااعظم شانی کہا کرتے ہیں، فرمایا: حاشا میں نہیں کہتا کہا آپ ضرور کہتے ہیں ہم سب سنتے ہیں فرمایا: جو ایسا کہے واجب القتل ہے میں بخوشی تمھیں اجازت دیتاہوں جب مجھے ایساکہتے سنو بے دریغ خنجر ماردو، وہ سب خنجر لے کر منتظر وقت رہے یہاں تک کہ حضرت پر تجلی وارد ہوئی اوروہی سننے میں آیا سبحانی مااعظم شامی مجھے سب عیبوں سے پاکی ہے میری شان کیا ہی بڑی ہے، وہ لوگ چار طرف سے خنجر لے کر دوڑے اور حضرت پر وار کئے جس نے جس جگہ خنجر ماراتھا خود اس کے اسی جگہ لگااور حضرت پر خط بھی نہ آیا، جب افاقہ ہوا دیکھا لوگ زخمی پڑے ہیں، فرمایا: میں نہ کہتاتھا کہ میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرمانا بجا، واللہ اعلم
مسئلہ ۲۹۵ تا ۲۹۷: از شہر بھڑوچ لال بازار چنارواڑ مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) ایک مولوی احمد سعید نام کا دہلی مدرسہ امینیہ کا جو دیوبند کی شاخ سے ہے ابھی دس روز ہوئے محرم شریف کے، بھڑوچ وعظ کو آئے تھے، انھوں نے یہ کہا وعظ میں، کہ جنت کی خرید وفروخت میں ایک دلال کی ضرورت ہے جیسے یہاں کوئی چیز خریدوفروخت کرنے میں دلال کی معرفت خرید وفروخت کرتے ہیں تو وہاں کے لئے بھی دلال پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں، مجھے اس کے سوادوسرا لفظ زیادہ اچھا اس موقع پرنہیں معلوم ہوتا، دلال یہی لفظ عمدہ ہے، اب دلال کسے کہتے ہیں، اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عزت وتعریف ہوئی یا توہین، اس کے سوا اور کوئی لفظ زیادہ تعریف کے لائق ہے یانہیں۔ ایسے لفظ کہنے سے ایمان کا کچھ نقصان ہے یانہیں؟

(۲) مولود شریف حضرت کی پڑھنے میں بڑی ہتک ہوتی ہے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور حضرت کی ارواح کا آنا اور تعظیم کو اٹھنا یہ بھی بُرا ہے، تو یہ مولود کا پڑھنا اب براہے یا اچھا ہے؟ 

(۳) احمد سعید مدرسہ امینیہ دہلی امام سنہری مسجد کے، ان کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے یانہیں؟ اوپر کے سوالوں سے کیسا معلوم ہوتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالک جنت ہیں، معطی جنت ہیں، جسے چاہے عطافرمائیں، امام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالٰی ملکہ الارض کلھا وانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقطع ارض الجنۃ ماشاء منہا لمن شاء فارض الدنیا اولی ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالک کردیاہے، حضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر ۔
 (۱؎ المواہب اللدنیہ    المقصد الرابع الفصل الثانی        المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۶۲۶)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ    المقصد الرابع الفصل الثانی   دارالمعرفۃ بیروت    ۵/ ۲۴۲)
دلالی ایک ذلیل پیشہ ہے ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے، فتح القدیر میں دلال کو خاکروب و حجام کے ساتھ شمار کیا ہے عبارت یہ ہے:
اماشہادۃ اہل الصناعات الدنئیۃ کالکساح والزبال والحائک والحجام والاصح انھا تقبل لانہا قدتولاھاقوم صالحون فمالم یعلم القادح لایبنی علی الصناعۃ ومثلہ النخاسون و الدلالون ۱؎۔
گھٹیا کاروبار کرنے والوں کی شہادت مثلا جاروب کش، ماشکی، جولاہا، حجام کی، تواصح یہی ہے کہ قبول کی جائے گی کیونکہ یہ کام بہت سے صالح اور بزرگ لوگ بھی اپناتے رہے تو جب تک واضح طور پر مانع طعن وجرح نہ ہو محض کسی کاروبار کو عدم صحت شہادت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور اسکی مثل حکم ہے جانور ہانکنے والوں اور دلالوں کا (ت)
(۱؎ فتح القدیر        باب من تقبل شہادۃ الخ        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۴۸۶)
Flag Counter