(ہر جنس اپنی جنس کی طرف میلان کرتی ہے، میرادل لے جانے کے لئے تو نے انسان کی صورت اختیار کی ہے۔ ت)
رہا یہ قصہ کہ صوفیائے کرام مثلا حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ نے جویہ فرمایاکہ:
لوائی ارفع من لواء محمد ۱؎ (رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی وسلم)
میرا جھنڈا حضوراکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کے جھنڈے سے بلند ہوگا۔ (ت)
اسے اس کا یعنی زید کا نالائق حرکت کہنا صوفیاء صافی اور عارف بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان میں سخت گستاخی اور سفلہ پن ہے۔ نہ اس سے مساوات کی بوآتی ہے، اور نہ فضیلت ہی استغفراللہ پائی جاتی ہے بلکہ ان ظاہر بینوں کےلئے جوحضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بشر سمجھے ہوئے ہیں ایک تازیانہ ہے، ان کایہ کلام ع
گفتہ اوگفتہ اللہ بود
(ان کا کہنا اللہ تعالٰی کاکہنا ہے۔ ت)
کے مصداق ہے ورنہ : ع
چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک
(خاک کی عالم پاک کے ساتھ کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ ت)
پس حضور انور اور دیگر بزرگوں علیہم التحیۃ والثناء کے کسی قول وفعل پر انھیں اپنے مثل بشر سمجھنا ضلالت وبددینی ہے کیونکہ: ع
ہرمرتبہ از وجود حکمے دارد گرحفظ مراتب نہ کنی زندیق ست
(ہر مرتبہ وجود کے اعتبار سے الگ حکم رکھتاہے اگر مراتب کے فرق کو سامنے نہیں رکھوگے تو گمراہ وزندیق ہوجاؤ گے۔ ت)
اسی بناء پر شیخ محقق فرماتے ہیں:
بالجملہ تکلم کردن درحال شریف سید الکائنات علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل التحیات بقیاس بلکہ بدریافت معرفت خود از دائرہ جنس ادب بیرون ست وحکم تکلم درمتشابہات دارد۔ انتہی کلام عمرو۔
سید کائنات علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل التحیات کے حال مبارک میں عقل کے ساتھ بلکہ اپنی دریافت کی بنیاد
پر گفتگو کرنا جنس ادب سے باہر ہے اور متشابہات میں گفتگو کے حکم میں ہے عمرو کاکلام ختم ہوا۔ (ت)
مستفتی عرض کرتاہے کہ جلد سے جلد اس کا جواب عنایت فرمایا جائے، اگر بواپسی ڈاک ہو تو عین احسان و کرم ہے، اللہ تعالٰی حضور کو جزائے خیردے۔فقط
الجواب
مستفتی کوتعجیل اور فقیربتیس روزسے علیل، اور مسئلہ ظاہر وبین غیر محتاج دلیل، لہذا صرف ان اجمالی کلمات پر اقتصار ہوتاہے، عمروکا قول مسلمانوں کا قول ہے اور زید نے وہی کہا جو کافر کہاکرتے تھے:
قالوا ماانتم الابشر مثلنا ۲؎۔
کافر بولے تم تونہیں مگرہم جیسے آدمی۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۱۵)
بلکہ زید مدعی اسلام کا قول ان کافروں کے قول سے بعید تر ہے وہ جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اپنا سابشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ:
ماانتم الابشر مثلنا وما انزل الرحمٰن من شیئ ان انتم الاتکذبون ۳؎۔
تم تو نہیں مگرہماری مثل بشر، اور رحمان نے کچھ نہیں اتارا تم نرا جھوٹ کہتے ہو۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۱۵)
واقعی جب ان خبثاء کے نزدیک وحی نبوت باطل تھی تو انھیں اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتالیکن ان سے زیادہ دل کے اندھے وہ کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انھیں اپناہی سا بشرجانیں، زید کو
قل انما انا بشرمثلکم ۴؎
سوجھا اور ''یوحٰی الی'' نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہرکرتاہے، زید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھے، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بشریت جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت سے اعلٰی ہے وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا ان سے انس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا، ولہذا ارشادفرماتاہے:
اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مردہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انھیں اسی شبہہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں۔
(۴؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۱۰) (۱؎القرآن الکریم ۶/ ۹)
ظاہر ہواکہ انبیاء علیہم السلام کی ظاہری صورت دیکھ کر انھیں اوروں کی مثل سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا ظاہر بینوں کورباطنوں کا دھوکا ہے یہ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں ع
ہمسری بااولیاء برداشتہ انبیاء راہمچوں خود پنداشتند
(اولیاء کی برابری اخیتارکرنا اپنے آپ کو انبیاء جیسا تصور کرنا ہے۔ ت)
ان کا کھاناپینا سونا یہ افعال بشری اس لئے نہیں کہ وہ ان کے محتاج ہیں حاشا،
لست کاحدکم انی ابیت عندربی یطمعنی ویسقینی ۲؎۔
میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتاہوں وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (ت)
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل از مسند ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۴۴)