Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
14 - 150
ترکی ٹوپیاں جلاناصرف تضییع مال ہوتاکہ حرام ہے اور گاندھی ٹوپی پہننا مشرک کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ہوتا کہ اس سے سخت تر،اشد حرام ہے، مگر وہ لوگ ترکی ٹوپیوں کو شعارِ اسلام جان کر پہنتے تھے اب انہیں جلادیا اور ان کے بدلے گاندھی ٹوپی لینا مشعر ہوا کہ انہوں نے نشانِ اسلام سے عدول اور کافر کا چیلا بننا قبول کیا:
بئس للظّٰلمین بدلا۲؎
 (ظالموں کوکیا ہی برابدلہ ملا۔ت)
 (۲؎ القرآن الکریم              ۱۸/ ۵۰)
بالجملہ ایسے اقوال وافعال کفر وضلال پر عالم موصوف کا انکار عین حق وصواب وسبب ثواب ورضائے رب الارباب تھا اور جوان کے شرعی احکام اہل اسلام پر ظاہر فرمانا اور ان کو ''ذیاب فی ثیاب'' کے شر سے بچاکر راہِ حق کی طرف بلانا، سنی عالم کا جلیل فرض مذہبی وکارمنصبی و بجاآوری حکمِ خداونبی تھا اور ہے، جل وعلٰی وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ اس کی طرف نفس خلافت کا انکار نسبت کرنا بہتان ہی نہیں چیزے دیگراست۔اس کی تہہ میں اور اشد خباثت ہے، مسلمان تو مسلمان نفس خلافت کا منکر جملہ مدعیان کلمہ گو میں کون ہے جس سے سائل سوال کرتا اور مجیب جواب دیتا اہل سنت حضرات خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو خلیفہ جانتے ہیں، غیر مقلد ودیوبندی بھی اس میں نزاع نہیں کرتے، روافض حضرت مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ کو خلیفہ جانتے ہیں، مرزائی اپنے مرزا تک اترتے ہیں، بلکہ خلافت سے مرادمسئلہ دائرہ ہے، اسی سے سوال اسی کاتذکرہ ہے تو اسے یوں مطلق لفظ نفس خلافت سے تعبیر تلبیس ابلیس ہے اور دل میں جو مراد ہے اس کاحال خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم اور مستفتی اس کے لیڈر معظم کے فتوے سے ظاہر ہوگیا کہ عالم موصوف نے وہی فرمایا جو متواتر حدیثوں میں مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے، جس پر اجماع صحابہ امجاد ہے جو جمیع اہلسنت وجماعت کا اعتقاد ہے ،اہلسنت سےخروج ،قرآن کا انکار ،کفر،ارتداد ان کے یہ چار احکام ملعونہ کاش اسی عالم دین پر محدود رہتے تو اس فتوٰی کے مفتی اور اس کے مصدقین بحکم ظواہر احادیث صحیحہ ونصوص کتب معتمدہ فقہیہ ایک ہی بلائے کفر سہتے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایماامرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ۳؎ رواہ مسلم والترمذی ونحوہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما۔
جو شخص کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں سے ایک پر یہ بلاضرور پڑے، جسے کہا اگر وہ کافر تھا خیر ورنہ یہ تکفیر اسی قائل پر پلٹ آئے گی یہ کافر ہوجائے گا۔(اسے مسلم، ترمذی اور اسی کی مثل بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ صحیح مسلم کتاب الایمان  باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم اوکافر قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۵۷

صحیح بخاری     کتاب الادب     باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل        قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۹۰۱)
درمختار میں ہے:
عزر الشاتم بیاکافر وھل یکفران اعتقد المسلم کافر انعم والالابہ یفتی۱؎۔
کسی مسلمان کو ''اے کافر'' کہنے والے شخص پر تعزیر نافذ کی جائے گی، کیا اگرکوئی شخص مسلمان کو کافر سمجھتا ہے تو کافر ہوگا؟ہاں وہ کافر ہے، اور اگر کافر نہیں سمجھتا تو پھر کافر نہیں۔ اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب التعزیر     مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۳۲۷)
شرح وہانیہ، ذخیرہ،نہر الفائق وردالمحتارمیں ہے:
لانہ لما اعتقدالمسلم کافرافقد اعتقد دین الاسلام کفرا۔۲؎
کیونکہ جب مسلمان کو کافرمانا تو ا س نے دین اسلام کو کفر جانا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب التعزیر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۱۸۳)
اس کی تفصیل جلیل وتحقیق جمیل ہماری کتابوں الکوکبۃ الشہابیۃ اور النہی الاکید وغیرہما میں ہے مگر یہاں تو خود خلافت کمیٹی کے لیڈروں مفتیوں کے فتوے نے روشن کردیا کہ یہ تکفیر صرف اس سنی عالم کی نہیں بلکہ تمام ائمہ اہل سنت اور جملہ صحابہ کرام اور خودارشاد اقدس حضور سید الانام علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہے، اب کون مسلمان ہے کہ اس تکفیری فتوے اور اس کی ناپاک تصدیق کو کلماتِ کفر نہ کہے گا۔ فقہاء کرام ائمہ وصحابہ درکنار خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کلام پاک پر کفر کاحکم لگانے والوں کوکافر نہ کہیں گے تو اور کسے کافر کہیں گے، اب ان سے پوچھئے کہ یہ کتنے کروڑ کفر اخبث واشد ہوئے خصوصًا وہ کفر اخیر سب سے خبیث تر سب سے لعین،
وذٰلک جزاء الظالمین۳؎o
 ( اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت)
 (۳؎ القرآن الکریم                     ۵۹/ ۱۷    )
سنی عالم کواس کی پروا نہ کرنی چاہئے، ہر قوم کی ایک اصطلاح ہوتی ہے، ان لوگوں کی اصطلاح جدید میں ملت ملتِ گاندھی ہے اور سنت سنتِ گاندھی، اس کی روش سے جداچلنے والوں کو اہل سنت وجماعت سے خارج اور اس کی ملتِ مخترعہ کے مخالفوں کو کافر مرتد کہتے ہیں، جس طرح فرعون ملعون نے معاذ اﷲ حضرت کلیم اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کی تھی کہ
فَعَلْتَ فِعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الکَافِرِیْنَ۴؎o
 (تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم ناشکر تھے۔ت)
 (۴؎ القرآن الکریم                     ۲۶/ ۱۹)
اور مشرکین مکہ ملاعنہ نے خود حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر معاذ اﷲ ابتداع کی تہمت رکھی تھی
ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاٰخرۃ ان ھذاالااختلاقo۱؎
 (یہ تو ہم نے سب سے پچھلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گھڑت ہے۔ت) بلکہ یہ حضرات تو فرعون و مشرکین سے بھی بڑھ کر کوئی نرالی انوکھی اصطلاح رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے دشمنوں خدا کے محبوبوں کو کہا یہ خود اپنوں کو بلکہ اپنی ہی زبانوں سے اپنی ہی جانوں کو کہتے ہیں، آخر نہ دیکھا کہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری وعبدالماجد صاحب بدایونی نے فتوٰی شاہجہان پور میں کس شدومد سے نفس خلافت کی جڑکاٹ دی اور فتوٰی جبلپور نے ان دونوں لیڈروں مفتیوں عالموں پر کافر مرتد کی چھانٹ دی بلکہ خودمولوی ریاست علی خاں وعبدالماجد نے اسی فتوٰی شاہجہانپور کے آخر میں اپنے ہی اوپر فاسق ومفسد کی بانٹ دی ، پھر فتوی جبلفور میں علمائے دین کو کہنے کی کیا شکایت آخر نہ دیکھا کہ حق بہ حق دار ر سید رجعت علیہ ان کا کفرانہیں پر پلٹا
وویل للکٰفرین من عذاب شدید۲؎
 (اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم                    ۳۸/ ۷)(۲؎القرآن الکریم                     ۱۴/ ۲)
مستفتی اگر واقع میں اس گروہ سے نہ ہوتا ایک بات صاف دل سے معلوم کرنا چاہتا اور جب یہ ناپاک کفر دیکھتا اسے ردی میں پھینک دیتا تو اس پر الزام نہ آتا مگر وہ تو اول سے اسی خباثت پر اعتقاد لاتے اور اغوائے عوام کو اس کی تائید ہی کے لئے فتوے گھڑواتے ولہذا اسی گروہ ناحق پژدہ کے پاس لے جاتے اور پھر اسے مانتے اس سے احتجاج کرکے اس کی نجاست پھیلاتے ہیں تو وہ اور اس کے ماننے والے سب کفر کے ماننے والے ہیں ان کا وبال ان پر سے کم نہ ہوگا
لاینقص من اوزارھم شیئ۳؎
 (ان کے بوجھ میں کمی نہ ہوگی۔ت) اگرچہ ان کے مفتی ومصدقین پر اپنے وبال کے علاوہ ان سب کا بھی پڑے گا،
علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ۴؎۔
اس کا بوجھ اس پر ہوگا اور جو قیامت تک اس پر عمل پیرا ہوگا اس کا بوجھ بھی اس پر آئے گا۔(ت)
ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم۵؎۔
اور بیشک ضرور وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ(ت)
 (۳؎ صحیح مسلم     کتاب العلم     باب من سن سنۃ حسنۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۴۱)

(۴؎صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ     باب الحنث علی الصدقۃ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۳۲۷)

(۵؎ القرآن الکریم                    ۲۹/ ۱۳)
Flag Counter