مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴: از رائے پور ممالک متوسط گول بازار مرسلہ مرزامحمد اسمعٰیل بیگ ۲۹ صفر ۱۳۳۸ھ
مندرجہ ذیل مکالمہ اس غرض سے علمائے دین کی خدمت اقدس میں ارسال ہے کہ ازراہ کرم جلد تر اس کا جواب دیں کہ قول اصح کس کاہے،ا ور اس کے دلائل کیاہیں؟ اللہ تعالٰی آپ حضرات کوا ہل سنت وجماعت کا مقتدٰی بنائے رکھے آمین ثم آمین، بینوا توجروا۔
(۱) زید کا قول یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمارے مثل ایک بشر تھے کیونکہ قرآن عظیم میں ارشاد ہے کہ
قل انما انا بشرمثلکم ۱؎
(تم فرماؤ کہ ظاہر صورت بشری میں تومیں تم جیساہوں۔ ت) اور خصائص بشریت بھی حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھے، کیا کھانا پینا جماع کرنا بیٹا ہونا باپ ہونا کفوہونا سونا وغیرہ امور خواص بشریت سے نہیں ہیں جو حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں بلاشبہ موجود تھے، ہاں اگر کوئی بشریت کی بناء پر حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مساوات کا دعوٰی کرنے لگے تو یہ نالائق حرکت ہے لیکن اس کاکون قائل ہوسکتا ہے سوائے صوفیائے مغلوبین کے کہ وہ بعض مقام پر پہنچ کر غلبہ سُکر کی وجہ سے اپنی رفعت کا دم بھرنے لگتے ہیں جیسا کہ عارف بسطامی سے منقول ہے کہ:
لوائی ارفع من لواءِ محمد ۲؎ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)
میراجھنڈا حضرت محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کے جھنڈے سے بلندہوگا۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۱۰)
(تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ ذکر بایز یدبسطامی مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ص۱۱۲)
(۲) عمروکہتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بشریت ہمارے مثل نہ تھی بلکہ اقوال بزرگان وپیشوایان امت سے ثابت ہے کہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راسہ صورت است: یکے بشری، قولہ تعالٰی
انما انا بشرمثلکم ۳؎
(فرمان خداوندی ہے: میں تم جیسا بشرہوں۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۱۰)
دوم ملکی، چنانچہ فرمودہ است :
انی لست کاحد کم انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی ۴؎۔
میں تمھاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتا ہوں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ (ت)
(۴؎ مسند امام احمد حنبل ازمسند ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۵۳۔ ۲۴۴)
سوم حقی، کماقال (جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ت):
اور کھانا پینا سونا جاگنا جو خصائص بشریت حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس بنا ء پر اپنے مثل سمجھنا جیساکہ کفار اورمشرکین کہاکرتے تھے۔
مَالِ ھٰذاالرسول یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق ۲؎۔
اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتاہے اور بازاروں میں چلتاہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۷)
سراسر بے ادبی وگستاخی ہے، جیسا مولانا روم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ع
گفت اینک مابشرایشان بشر ماوایشان بستہ خوابیم وخور
ایں نداشتند ایشاں از عمی ہست فرقے درمیاں بے انتہا ۳؎
(انھوں نے کہا ہم بھی بشریہ بھی بشر ہم سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ بھی سوتے ہیں کھاتے ہیں یہ اندھاہونے کی بناپر نہیں جانتے کہ ان کے اورحضور کے درمیان بے انتہا فرق ہے۔ ت)
یہ تو کفار ومشرکین کاقول تھا اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس
انما انا بشر مثلکم ۴؎
(میں تمھاری مثل بشرہوں۔ ت) کے کہنے پر مامور تھے جس کی دلالت لفظ قُل کرتاہے ورنہ جب
ایکم مثلی ۵؎
(تم میں سے کون ہے میری مثل۔ ت) ارشاد ہوا ہے اسے زید کس معنٰی پرتاویل کرے گا، لہذا اپنے مثل بشر حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سمجھنا سوء ادب ہے اور اس سے احتراز لازم،
(۴؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۱۰)
(۵؎ صحیح البخاری باب کم التعزیر والادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۱۲)
کیونکہ:
؎ کار پاکاں راقیاس از خود مگیر گرچہ باشد درنو شتن شیر وشِیر ۶؎
(پاک لوگوں کے افعال کواپنے اوپرقیاس مت کرو اگرچہ لکھنے میں شیر اور شیر (دودھ) ایک جیسے ہوں۔ ت)