| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
مسئلہ ۲۹۲: ازکانپور محلہ فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ قبلہ کونین وکعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ التماس ایں کہ کتاب ارشاد رحمانی تصنیف مولوی محمد علی سابق ناظم ندوہ جن کے بابت ان کے ایک پیر بھائی نے مجھ سے کہاکہ وہ اب سابق افعال وکوشش متعلق ندوہ سے تائب ہوگئے ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ حالات مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ میں لکھا کہ بخاری شریف کے سبق میں حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذکر پر احمد میاں نے کہا کہ کرشن کے سولہ ہزار گوپیاں تھیں، اسی پر مولانا مرحوم نے فرمایا کہ یہ لوگ مسلمان تھے اور مصنف نے ان کے بعد لکھاہے کہ مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ کسی مردے کے کفر پر تاوقتیکہ ثبوت شرعی نہ ہوحکم نہ لگانا چاہئے، اور اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ
لکل قوم ھاد ۲؎
(ہر قوم کے لئے ہادی ہے۔ ت) اس تقدیر پر ہوسکتاہے کہ رام چندر اور کرشن ولی یا نبی ہوں لہذا فدوی مکلف خدمت فیض درجت ہے کہ حضرت مرزا مظہر جانجاناں صاحب رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے کسی مکتوب وغیرہ میں یہ لکھا ہے اور حضور نے ملاحظہ فرمایاہے، قول مذکور رام چندروکرشن مرزاصاحب نے کسی شخص کے خواب کی تعبیر میں فرمایاہے، یہ بھی اس کتاب میں مرقوم ہے فقط،
(۲؎ القرآن الکریم ۱۳/ ۷)
ا لجواب مولوی محمدعلی صاحب نہ خیالات سابقہ سے تائب ہوئے نہ اس حکایت کی کچھ اصل جو مولانا فضل الرحمن کی طرف منسوب ہوئی، نہ یہ بات جناب مرزا صاحب نے کسی خواب کی تعبیر میں کہی بلکہ کسی خط کے جواب میں ایک مکتوب لکھاہے، اس میں ہندؤون کے دین کو محض بربنائے ظن وتخمین دین سماوی گمان کرنے کی ضرورکوشش فرمائی ہے بلکہ معارف ومکاشفات وعلوم عقلی ونقلی میں ان کا ید طولٰی مانا ہے، بلکہ ان کی بت پرستی کو شرک سے منزہ اور صوفیہ کرام کے تصوربرزخ کے مثل ماناہے اور
بحکم لکل امۃ رسول ۱؎
(ہر امت کے لئے رسول ہے۔ت) ہندوستان میں بھی بعثت انبیاء ہونا اور ان کے بزرگوں کا مرتبہ کمال وتکمیل رکھنا لکھاہے، مگررام یا کرشن کانام نہیں بایں ہمہ فرمایاہےـ:
درشان آنہا سکوت اولٰی ست نہ مارا جزم بکفرو ہلاک اتباع آنہا لازم ست ونہ یقین بہ نجات آنہا برماواجب ومادہ حسن ظن متحقق ست ۲؎۔
ان کے بارے میں سکوت اولٰی ہے ہم پران کے کفراور ان کے اتباع کاہلاک ہونا ماننا لازم نہیں اور نہ ان کی نجات پریقین لازم ہے البتہ حسن ظن متحقق ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۴۷) (۲؎ مکتوبات مرزا مظہر از کلمات طیبات مکتوب ۱۴ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷)
یہ اس تمام مکتوب کا خلاصہ ہے، ان فقرات کا حال قبل اظہار خود آشکار، اگریہ مکتوب مرزا صاحب کا ہے اور اگر ان کا بے دلیل فرمانا سندمیں پیش کیا جاسکتاہے توان سے بدرجہااقدم واعلم حضرت زبدۃ العارفین سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی سبع سنابل شریف میں کہ بارگاہ رسالت میں پیش اور سرکار کو مقبول ہوچکی، ص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں:
مخدوم شٰخ ابوالفتح جون پوری رادرماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام از دہ جااستدعا آمدکہ بعد از نماز پیشیں حاضر شوند ہردہ استدعاقبول کردند حاضر اں پر سیدند اے مخدوم ہر دہ استدعا قبول فرمودید ہر جابعد از نماز پیشیں حاضر باید شد چگونہ میسر خواہد آمد، فرمود کشن کہ کافر بود چند صدجا حاضر می شد اگر ابوالفتح دہ جا حاضر شود چہ عجب ۱؎۔
مخدوم شیخ ابوالفتح جون پوری کو ماہ ربیع الاول میں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےمیلاد مبارک میں دس مقامات سے دعوت شرکت دی گئی کہ نماز ظہر کے بعد تشریف لائیں، آپ نے تمام کی استدعا قبول کرلی، حاضرین نے آپ سے پوچھا اے مخدوم ما! آپ نے ہرجگہ نماز ظہر کے بعد دعوت قبول فرمالی ہے تو ہرجگہ بعد از نماز ظہر جانا کیسے ہوگا؟ فرمایا: کشن جو کافر تھا وہ کئی سو جگہ حاضر ہوسکتاہے اگر ابوالفتح دس جگہ حاضرہوگا تو کیاعجب! (ت)
(۱؎ سبع سنابل حکایت مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۷۰)
بات یہ ہے کہ نبوت ورسالت میں اوہام وتخمین کو دخل حاصل نہیں
اﷲاعلم حیث یجعل رسٰلتہ ۲؎
(اللہ بہتر جانتاہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھناہے۔ ت) اللہ ورسول نے جن کو تفصیلا نبی بتایا ہم ان پرتفصیلا ایمان لائے، اور باقی تمام انبیاء اللہ پر اجمالا
لکل امۃ رسول ۳؎
(ہر امت کےلئے رسول ہے۔ ت) اسے مستلزم نہیں کہ ہر رسول کو ہم جانیں یا نہ جانیں توخواہی نخواہی اندھے کی لاٹھی سے ٹٹولیں کہ شاید یہ ہوشاید یہ ہو،کاہے کے لئے ٹٹولنااور کاہے کے لئے شاید،
امنا باﷲ ورسلہ
(ہم اللہ تعالٰی اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ ت) ہزاروں امتوں کا ہمیں نام ومقام تک معلوم نہیں
وقرونا بین ذٰلک کثیرا ۴؎
(اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں ہیں۔ ت) قرآن عظیم یاحدیث کریم میں رام وکرشن کا ذکر تک نہیں۔ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنودہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ واقع میں کچھ اشخاص تھے بھی یا محض انیاب اغوال ورجال بوستان خیال کی طرح اوہام تراشیدہ ہیں ،تواتر ہنود اگر حجت نہیں تو ان کا وجود ہی ناثابت اور اگرحجت ہے تو اسی تواتر سے ان کا فسق وفجور ولہو ولعب ثابت، پھر کیا معنی کہ وجود کے لئے تواتر ہنود مقبول اور احوال کےلئے مردود مانا جائے اور انھیں کامل ومکمل بلکہ ظنا معاذاللہ انبیاء و رسل جانا مانا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۲۴) (۳؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۴۷) (۴؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۳۸)