Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
137 - 150
مسئلہ ۲۸۰ تا ۲۸۵: از خیرآباد محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۲۴رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہر، ہندہ جاہل بیوقوف اور بدمزاج ہے، زید اپنی معمولی ضرورت بھر پڑھا لکھا ہے اور اپنے مذہب کا پابندہے۔ ہندہ کی بیوقوفی سے زید کچھ ناخوش ہوا اس پر ہندہ تند مزاج ہوگئی، حالت تکرار میں غصہ سے زید نے ہندہ سے یہ کہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی کچھ سود مند نہ ہوا اور پھر فضیحت اپنی اورتمھاری لوگوں میں کی، اس کی بھی تم نے پرواہ نہ کی، اب درجہ اذیت کا باقی ہے جو میں تم کو دے سکتاہوں اور یہ شریعت کی تعلیم ہے گو اذیت دینے کو طبیعت نہیں چاہتی اور اس کے بعد اگر راہ پر نہ آؤگی پھر مجبوراً مجھ کو اخیر درجہ کا جوحکم ہے اس کی تعمیل کرنا ہوگی، اگر تم کو میرے ساتھ رہنا منظور نہیں ہے تو تم آزادی حاصل کرسکتی ہو اور میں تم کو آزاد کرسکتاہوں اس کے بعد جومیرا جی چاہے گامیں کروں گا، اور جو تمھارا جی چاہے تم کرنا، اوریہ کوئی ایسی بات نہیں کیونکہ شریعت کا یہ صاف حکم ہے کہ جب کسی طرح نباہ کی شکل نہ ہو تو آزادی ہوناچاہئے، اس پر ہندہ نے غصہ میں یہ کہا کہ ''چولہے میں جائے ایسی شریعت'' یا ''مری پڑے ایسی شریعت پر''

(۱) اس فقرہ کے جاری کرنے سے عورت کس جرم یا گناہ کی مرتکب ہوئی او راس کا دفعیہ کیاہے؟

(۲) ایسے الفاظ کہنے سے عورت پر ارتداد کاحکم تونہیں ہوتاہے؟

(۳) اگر ارتداد کاحکم عائد ہوتاہے تو نکاح ہندہ اور زید میں کوئی نقصان ہے یانہیں؟

(۴) اگراس فعل سے نکاح میں کچھ نقصان ہوا اور شوہر نے جماع کیا تو یہ فعل کیاہوا؟

(۵) اگرایسی صورت میں جماع کیا اورحمل قرار پاگیا تو اولاد کیا کہلاوے گی؟ حلالی یاحرامی؟

(۶) اور اگر کوئی حکم الفاظ بالا کی وجہ سے عورت کے خلاف ہے اور اس کا نکاح میں کچھ نقصان نہیں تو اس کا دفعیہ کیاہے؟
الجواب

ہندہ مرتدہ کافرہ ہوگئی، شوہر پرحرام ہوگئی، جب تک توبہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہے، اس جماع سے جو اولاد ہوگی ولدالحرام ہوگی اگرچہ ولدالزنانہ کہیں، ہندہ پر فرض ہے کہ اس ملعون ناپاک لفظ سے توبہ کرے اور از سر نو مسلمان ہو، اس کے بعد زیددوگواہوں کے سامنے اس سے دوباہ نکاح کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۶: از شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمدیامین صاحب ۶شوال ۱۳۳۷ھ

کافر کو کافرکہنا چاہئے یانہیں؟ زید کہتاہے کہ نہیں کہنا چاہئے اس لئے کہ شاید مرتے وقت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لائے، زید اگر باز نہ آئے تو اس سے سلام علیک جائز ہے یاناجائز؟
الجواب

کافر کو ضرور کافرکہا جائے گا، زید کاخیال غلط ہے جہالت پر مبنی ہے اسے سمجھا یا جائے اگر نہ مانے تو قابل ترک ہے پھر اس سے سلام علیک نہ کی جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷:    از موضع موہن پور ڈاکخانہ دیورنیاں ضلع بریلی مرسلہ نورمحمد نورباف ۱۳ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت منکوحہ کو اسی روز اس کے خاوند نے طلاق دی اور اسی روز قاضی صاحب نے اس کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ پڑھادیا قاضی مذکور سے کہا گیاکہ یہ نکاح ناجائز ہے کیونکہ اس میں عدت کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کچھ ضرورت نہیں ہے، ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے کتنے نکاح ایسے پڑھائے ہوں گے، انھوں نے کہاکہ سیکڑوں نکاح ہم نے ایسے ہی پڑھائے ہیں، حالانکہ وہ عورت بالغ تھی اور اپنے شوہر کے یہاں آتی جاتی اور رہتی تھی اس حالت میں  وہ نکاح جائز ہوا یانہیں؟ اور نکاح پڑھانے والے پر شریعت کاحکم کیا ہے؟ اس شخص کانکاح پڑھانا جائزہے یانہیں؟ او ران قاضی صاحب کابھی نکاح رہا یانہیں؟
الجواب

وہ نکاح حرام قطعی ہوا، اور اس میں قربت زنائے خالص ہے ان مردوعورت پر فرض ہے کہ فوراً فوراً جداہوجائیں، او ر عورت پر فرض ہے کہ عدت پوری کرے اس کے بعدنکاح کرسکتی ہے، قاضی جو مدت سے نکاح خوانی کررہاہے نراوحشی جنگلی نہیں ہوسکتا، جو مسئلہ عدت سے آگاہ نہ ہو اس حالت میں ا س کا کہناکہ ''عدت کی کچھ ضرورت نہیںـ'' کفرہے اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اور وہ ایمان سے خارج ہوگیا، اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور مسلمان ہو، ا س کے بعد اس کی عورت راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرے، ایسے شخص سے نکاح ہر گز نہ پڑھوایا جائے، واللہ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از شہر بریلی کہنہ محلہ گھیر جعفر صاحب مسئولہ امتیاز رسول صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مرتبہ کسی جگہ بسم اللہ شریف میں گیا اور وہاں سے جب واپس آیا تو اس کو اپنے دوست عمرو کے گھرجانے کا اتفاق ہوا، عمرو نے دریافت کیاکہ کہاں گئے تھے؟ زید نے صاف کہہ دیا کہ مجھ کو بسم اللہ شریف میں جانے کا اتفاق ہوا، دوسرے دن زیدشہر کو کپڑا وغیرہ خریدنے گیا لوٹتے ہوئے جب عمرو کےمکان پرسے گزرا تو عمرو نے بطور مذاق کے دریافت کیا کہ بسم اللہ میں گئے تھے؟ چونکہ زید تھکاہوا تھا گرمی زیادہ پڑرہی تھی کچھ ہوش وحواس بجانہ تھے غلطی سے بے ساختہ اس کی زبان سے یہ کلمہ نکل گیا کہ نعوذ باللہ ''ستر پر گئی بسم اللہ، تمھیں ہر وقت مذاق ہی رہتاہے'' بعدہ زید اتناکہہ کر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے توبہ کرلی، مگر پھر بھی وہ لوگ اس کو کافر کہنے لگے انھوں نے تمام لوگوں کو مجبور کرکے کہلوایا کہ یہ کافر ہے، حالانکہ اس نے صدق دل سے توبہ کرلی، اب اگر  اور کوئی طریقہ توبہ کرنے کاہے وہ تحریر کردیجئے اور ان لوگوں کی بابت تحریر کیجئے کہ وہ کس حالت میں ہیں جو کہ ایک مسلمان کو توبہ کرنے کے بعد بھی کافر کہیں، زید کی مراد لفظ بسم اﷲ سے نہ تھی بلکہ اس رسم سے جس میں لوگ بطور شادی وغیرہ کے جمع ہوجاتے ہیں۔
الجواب

اس میں زید نے برا کیا بہت براکیا اس پر توبہ فرض تھی، وہ اس نے کرلی، اس کے بعد لوگ اسے کافر کہتے ہیں سخت سخت اشد اشد گنہ گار ومستحق عذاب نارہوتے ہیں، ڈریں ڈریں کہ کہیں خود کفر میں نہ پڑیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ ۱؎۔ رواہ الترمذی عن معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وحسنہ ای ذنب قد تاب منہ ۱؎ کما فی روایۃ ذکر ھا فی الشرعۃ قال فی الحدیقۃ الندیۃ۔
یعنی جو کسی مسلمان بھائی کو توبہ کے بعد اس گناہ کاطعنہ دے وہ نہ مرے گا جب تک خود اس گناہ کامرتکب نہ ہو (اسے ترمذی نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اسے حسن کہا ____ یہاں وہ گناہ مرادہے جس سے توبہ کرلی گئی ہو، جیساکہ شرعۃ میں مذکورہ روایت میں ہے اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان فرمایا گیاہے۔ ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب صفۃ القیامۃ    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/ ۳٭٭)

(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ     ۶۰ انواع میں سے نوع ۱۲ الطعن والتعییر        مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲/ ۲۴۰)
والعیاذ باﷲ تعالٰی ھذا فی الذنب فکیف بالاکفار ومالہ من قرار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
العیاذ باللہ تعالٰی یہ محض گناہ کے بارے میں ہے جس نے کسی کو بغیر ثبوت کے تکفیر کردی اس کا کیا بنے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۸۹: مسئولہ مولوی حشمت اللہ صاحب سنی حنفی قادری رضوی لکھنوی    ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثرھم اللہ تعالٰی ونصرھم وابدھم وایدھم  اس مسئلہ میں کہ سنیوں کے محلہ میں ایک قادیانی آکر بسا، زید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانے، اس سے خلا ملا، میل جول حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیا، ہندہ جس کے بیٹے وغیرہم سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں اس نے کہا کہ  بڑے نمازئیے پڑھ کے ملا ہوگئے ہم عذاب ہی بھگت لیں گے، اس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے تو اب ہندہ کا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماکر اجر پائیے۔ ت)
الجواب

ہندہ نماز کی تحقیر کرنے، عذاب الہٰی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعل مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم وناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہوگئی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی جب تک نئے سرے سے مسلمان ہو کر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ تاج الدین امام مسجد ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بدمذہب کہتاہے کہ نورحضرت کا غیر مخلوق ہے۔
الجواب

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نوریقینامخلوق الہٰی ہے، مصنف عبدالرزاق میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یاجابر ان اﷲ خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ ۱؎ (الحدیث)
اے جابر! بیشک اللہ تعالٰی نے تمام جہانوں سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔
 (۱؎ المواہب اللدنیہ     بحوالہ عبدالرزاق اول المخلوقات    المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۷۱)
جوحضور کے نور کو غیرمخلوق کہے منکر قرآن عظیم ہے،
قال اﷲ تعالٰی
خالق کل شیئ فاعبدوہ ۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی کافرمان مبارک ہے: وہ ہرشیئ کا خالق ہے تواسی کی عبادت کرو، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                        ۶/ ۱۰۳)
مسئلہ ۲۹۱: از گونا سنٹرل انڈیا ریاست گوالیار مرسلہ محمد صدیق سیکرٹری انجمن اسلامیہ ۱۷ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ٹوٹکے کراتاہے بکرا بطور صدقہ مریض کے سرہانے بندھاتاہے اور مریض کو سوار کراتاہے (اگروہ کمسن ہو) پھر اس بکرے کو دفن کراتاہے اور وہ اس کو ضروری خیال کرتاہے اور اس پر عامل ہواورپتلا بنواوے اورمرغا گڑواوے اور سیندور وغیرہ لگواوے جو طریقہ سحر سے ہے، آیا زید مبتلائے شرک ہے یانہیں؟ اوراس پر توبہ اور تجدید نکاح لازم ہے یانہیں؟ اور ایسے شخص کو اہل اسلام کو امام اپنا بنانا چاہئے یانہیں؟ اور اگر مسلمانوں سے کہا جاوے کہ ایسے شخص پر زجر کرنا چاہئے اس کو کم از کم امامت سے معزول کردو اس پر چند ان پڑھ مسلمان یہ کہیں کہ ہم تو زید پرایمان لائے ہیں؟ تویہ کیساہے؟ اگرزید کے مراسم نیلام کنندہ شراب سے ہوں جو پارسی ہے اورآمدنی شراب سے وہ روپیے دیتاہو اور زید اسے بلاکراہت نہایت خوشی سے خرچ میں لاتا ہو اور اس نیلام کارشراب کے یہاں سے کھانا آتاہو جو آمدنی شراب سے ہے اور زید بخوشی اسے کھاتاہو تو زید کو امامت سے معزول کردینا، مسلمانوں کے لئے امرمستحسن ہے یانہیں؟ اورجو ان پڑھ لوگ اس کے امام رہنے پر اصرارکریں ان کی بابت کیاحکم ہے؟
الجواب

بکرا دفن کرنا اور مرغا گاڑنا اور اسے صدقہ سمجھنا اورخصوصا ضروری جاننا اور پتلا بنوانا یہ سب افعال شیاطین وساحران ملعونین ہیں ان کے ساتھ اگرکوئی قول یا فعل یا اعتقاد کفری ہو تو ضرور کفرہے ورنہ کبیرہ اور سخت کبیرہ اور فاعل فاسق اور عذاب نار کامستحق اور امامت کا محض نالائق، اسے معزول کرنا واجب اور اس کے پیچھے نماز ممنوع وگناہ اور اس کاپھیرنا لازم، اورجو اس کی حمایت کرتے ہیں مورد عذاب ومستحق عقاب ہوتے ہیں، خصوصا وہ کہنے والے کہ ہم تو زید پر ایمان لائے ہیں انھیں تجدید اسلام ونکاح چاہئے اور زید کو بھی جبکہ قولاً یا فعلاً کوئی کفر صریح اس سے ثابت نہ ہو ورنہ خودہی اس کانکاح باطل اور اسلام زائل، والعیاذ باللہ، کافرسے دوستانہ رکھنا مسلمانوں کو شایان نہیں،

قال اﷲ تعالٰی
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو میرے اوراپنے دشمنوں کودوست نہ بناؤ تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمھارے پا س آیاہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم                ۶۰/۱)
شراب کی آمدنی کہ کافر کے پاس ہے اس کا وہ حکم نہیں جو مسلم کے پاس ہونے کا ہے، کافر کہ بخوشی اپنے مال سے مسلمان کو دیتاہے مسلمان کو اس کے لینے میں حرج نہیں اور آمدنی سے خریدے ہوئے کھانے میں تو اور توسیع ہے کہ مسلمان کے یہاں بھی جب تک عقد ونقد دونوں حرام زر پر جمع نہ ہوں اس کی خباثت شیئ مشتری کی طرف سرایت نہیں کرتی
کما ھومذہب الامام الکرخی المفتی بہ
 (جیساکہ امام کرخی کامذہب اور مفتی بہ  قول ہے۔ ت)
Flag Counter