مسئلہ ۲۷۶ و ۲۷۷: از رادھن پور گجرات قریب احمدآباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۱۷جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک مولوی صاحب وعظ میں اس طرح کہتے تھے: ''اللہ تعالٰی اپنے بندوں کواپنے کلام پاک میں یوں ارشاد فرماتے ہیں'' اور کبھی اس طرح کہتے تھے: ''ارشاد فرماتاہے'' کہیں تواللہ فرماتے ہیں اور کہیں اللہ فرماتا ہے، ایسے کلام کے کہنے سے انسان پر کفر شرک تو لازم نہیں آتا یا آتاہے، گناہ گارہوتاہےیا نہیں ، اور کتابوں کے مصنف نے ''اللہ فرماتے ہیں'' کیوں نہیں لکھا؟ اور ''فرماتا ہے'' لکھا، کیا وجہ؟
(۲) ابھی چندروز کی بات ہے کہ ایک شہر سے فتوے آئے ہیں اس میں کئی مہریں ہیں اس میں لکھا ہے کہ ''بہشتی زیور'' سے انکار کرنے والا کافر ہے، اس کی عورت بھی نکاح سے خارج ہوگئی، اقرار وانکار کرنے والے مسلمان ہی ہیں، مسلمانوں کوکافر کہنا جائز ہےـ؟ جنھوں نے مسلمانوں کو کافر کہا اسے کیا چاہئے؟
الجواب
(۱) اللہ عزوجل کو ضمائر مفردسے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد احد فرد و تر ہے اور تعظیماً ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں، اس کی نظیرقرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں توصدہا جگہ ہے: (مثلا)
انانحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون ۔
بیشک ہم نے اتاراہے یہ قرآن اور بیشک ہم خوداس کے نگہبان ہیں۔ (ت)
اورضمائر خطاب میں صرف ایک جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا: رب ارجعون لعلی اعمل صٰلحا (اے میرے رب مجھے واپس پھیردیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔ ت) اس میں علماء نے تاویل فرمادی کہ یہ "ارجع" کی جمع باعتبار تکرارہے یعنی "ارجع ارجع ارجع" ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسی، اور اردو میں بکثرت بلانکیر رائج ہیں۔ ع
آسماں بارامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند
(آسمان امانت کا بوجھ نہ اٹھاسکا، قرعہ فال مجھ دیوانے کے نام نکلا۔ ت)
ع سعد یا روز اول جنگ بہ ترکاں دادند
(اے سعدی! روز اول سے جنگ ترکوں کو دے دی گئی ہے۔ ت)
؎ زرویت ماہ تابان آفریدند زقدت سربستان آفریدند
(تیرے چہرہ اقدس سے روشن چاند پیدا ہوتے ہیں تیرے قدانور سے باغ کے سرو اگتے ہیں۔ ت)
ایسی جگہ لوگ کارکنان قضاء وقدر کو مرجع بتاتے ہیں، بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے، مگر اس میں کفروشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا، نہ گناہ ہی کہاجائے گابلکہ خلاف اولی۔
(۲) مسلمان کو کافر ٹھہرانا کفرہے مگر اس کی کیاشکایت کہ بہشتی زیور کا مصنف اور اس کے ماننے والے وہی ہیں جن کوعلمائے حرمین شریفین فرماچکے کہ جو ان کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸: از کھنوڑہ ضلع ہوشیار پور مرسلہ امجد علی خاں صاحب معرفت مولوی شفیع احمد صاحب بیلپوری متعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۲ جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی شخص آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نورکو بدلیل حدیث
انا من نور اﷲ ۱؎
(میں اللہ کے نور سے ہوں ۔ت) نور الہٰی کا جزو مانے اس کا کیا حکم ہے؟
(۱؎ تذکرۃ الموضوعات باب فضل الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۸۶)
الجواب
یہ لفظ معنی فاسد کا موہم، اور موہم سے بچنا واجب،
ردالمحتار میں ہے:
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۱؎۔
محض محال معنی کاوہم بھی ممانت کےلئے کافی ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳)
نورکا اطلاق نفس ذات پر بھی ہے،
اﷲ نور السمٰوٰت والارض ۲؎۔
اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۳۵)
بلکہ حقیقۃً نوروہی ہے،
فان النور ھو الظاھر بنفسہ والمظھر لغیرہ کما قال الامام حجۃ الاسلام الغزالی۔
کیونکہ نور بنفسہٖ ظاہر اور غیر کو ظاہر کرنے والا ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام غزالی نے کہا۔ (ت)
اورحقیقت لغویہ وعرفیہ میں روشنی کوکہتے ہیں وہ ایک عرض اور مخلوق ہے
قالہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم
(یہ بات امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں کہی ہے۔ ت) معنی اول پر جزئیت محال اور اس کا ماننا کفر، اورمعنی دوم پر جزئیت واقع، اور اس کا ماننا صحیح، لہٰذا ایسے لفظ کے یوں اطلاق سے احتراز چاہئے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: از کوہ الموڑہ بانس گلی مرسلہ کریم بخش عرف بہوا ۱۹ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
ہولی کے موقع پر پر سربازار مخصوص مسلمانوں کی دکانوں کے روبرو ٹھہرٹھہر کے ہنود نے ایسے شرمناک الفاظ میں حملہ کیا، ایک گیت گایا جس میں مذمت کلام پاک اور توہین خد اورسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تھی، وہ الفاظ یہ ہیں، گیت، مسلمانوں کی لڑکیاں پڑھنے بیٹھیں قرآن، اللہ مارے۔۔۔۔۔۔(عہ۱) رسول مارے۔۔۔۔۔(عہ۲) ان الفاظ کو مسلمانان الموڑہ سن کر بذریعہ کچہری چارہ جوئی نہ کریں ہنود کے معافی چاہنے پر معافی دینے کو آمادہ ہوجائیں تو شرع کا کیاحکم ہے؟ آیا مسلمان مواخذہ دار ہوں گے یانہیں؟ عہ ۱ ، ۲: یہاں فحش الفاظ تھے
الجواب
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین ۳؎
(سنو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۸)
وہ بے عزت لوگ شاید مسلمان ہی نہ ہوں گے، جنھوں نے اللہ واحد قہار اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایسے ناپاک ملعون الفاظ سنے اور کچھ پروانہ کی، ملعون گانے والے کافروں اور خبیث سننے والوں کی ضرور ملی بھگت ہوگی، وہ خوب جانتے ہوں گے کہ یہ باطن میں کافر اور ان کے دینی بھائی اورانھیں کی طرح ہولی کی آگ میں دینی حمیت اور انسانی غیرت دونوں پھونکے بیٹھے ہیں، جب تو ان کے سامنے بے دغدغہ اللہ ورسول کو برسربازار گالیاں دیں اور ان کے ساتھ بے غیرتوں کی بیٹیوں کو کیا کیا بکھانیں،
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین ۱؎
(سنو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ ت)
(۱؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۸)
یہ بے عزت اگر واقع میں مسلمان نہیں ہیں تو انھیں جہنم میں جانے دیں، وہاں اور جو مسلمان ہیں ان پر لازم ہے کہ جائز چارہ جوئی انتہا کو پہنچائیں، ورنہ اعداءاللہ کو اور شہ ہوگی اور اللہ ورسول کو اورزیادہ گالیاں دی جائیں گی اور اس کا وبال ان سب خاموش رہنے والوں پر پڑے گا،
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین ۲؎
اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقط چند بے غیرتوں کے نہیں ان کے معافی دینے سے معافی ہوجائے، اس میں ہرمسلمان مدعی ہے، امام قاضی عیاض شفا شریف میں امام اجل، (نوٹ : جواب نامکمل دستیاب ہوا)