Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
135 - 150
مسئلہ ۲۷۰ تا ۲۷۲: از کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمد یوسف صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳ھ

(۱) کوئی شخص فقہ کا انکار کرے کہ میرا فقہ پر ایمان نہیں ہے تو کیا وہ مسلمان ہے یا کافر؟

(۲) اگر وعظ میں کوئی کہے کہ بعد خدا کے درجہ عالم کاہے فقط، تو اس کاکیا حکم ہے؟

(۳) اگرکوئی یوں کہے، کہ آدم علیہ السلام نے کپڑا بُنا ہے اور داؤد علیہ السلام نے آہن گروں کاکام کیا ہے اور فلاں پیغمبر نے حجام کاکام کیا، تو اس میں کیا بے عزتی نبیوں کی ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) فقہ کا انکار قرآن مجید کاانکار ہے،
قال اﷲ تعالٰی
فلولانفرمن کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ۲؎ ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تو کیوں نہ ہو اکہ ان کے گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                   ۹/ ۱۲۲)
اور قرآن مجید کاانکار کفرہے۔
 (۲) اگر اس نے عالم سے مراد یہی عرفی علماء لئے جنھیں مولوی کہتے ہیں تویہ کلمہ کفر ہوگا کہ اس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر علماء کی تفضیل لازم آتی ہے، اور اگر مطلق عالم مراد لیا کہ انبیاءعلیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی شامل ہے تمام عالم سے اعلی واعلم تو وہی ہیں، تو ضرور حق ہے اور جب بات محتمل ہے تو قائل پرکوئی حکم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے قرائن کلام سے متعین نہ ہوتاہو۔

(۳) حجام کاکام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرف نسبت کرنا تو اس شخص کا افتراء ہے، آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کوکپڑا بننا سکھایا گیا، داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے لوہانرم کیا گیا وہ اس سے زرہیں بناتے، یہ بیان اگراس نے محل توہین میں کیا تو کافر مرتد ہے اور اگر کسی محل صحیح میں نیت صحیح سے کیا تو حرج نہیں، اوراگرنہ کوئی نیت فاسدہ تھی نہ صحیحہ ویسے ہی بے معنی حکایات کے طورپر بیان کیا تو بے ادب ہے اور قابل تعزیر ۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ    مرسلہ حاجی سعد الدین صاحب ۳۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

تفضل حسین نے ایک جلسہ عام میں منبرپر بیٹھ کر یہ کہا کہ آج میں ایک ایسی بات بیان کرتاہوں جو آج تک حاضرین جلسہ نے نہ سنی ہو کیونکہ کسی عالم اور کسی فقیر نے آج تک بیان نہیں کیا وہ بات یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بی بی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے دولت خانے پر تشریف لائے آپ کی سوئی گرگئی تھی وہاں اندھیراتھا ا س کو وہ تلاش کررہی تھیں تاریکی کی وجہ سے نہ ملتی تھی حضورنے تبسم فرمایا دندان اقدس کی روشنی سے وہ سوئی مل گئی، حضو رنے خیال فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تک کسی کےایسے نہ ہوئے اس تکبر کی وجہ سے حضور کا دندان اقدس جنگ اُحد میں، شہید ہوگیا۔

(۲) حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے اس وجہ سے پاؤں شریف پر ورم آگیا، کسی صاحب نے یہ عرض کیا کہ حضور پتھر آگ میں گرم کرکے سینکیں، حضور نے جس وقت پتھر آگ میں ڈالا اس نے اللہ تعالٰی سے فریاد کی حکم ہوا کہ ہم اس کا بدلہ تجھ کو دیں گے ان الفاظ سے توہین ہوئی یانہیں۔ اور ہوتی ہے توکس حدتک، یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں  یاغلط؟ اس کے بیان کرنے والے کے لئے کیاحکم ہے اور سامعین پر اس کاگناہ ہے یانہیں؟ اگر ہے تو وہ کس طرح اس گناہ سے بری ہوں؟
الجواب

پہلی روایت کہ تبسم فرمانے سے سوئی مل گئی، یہاں تک ٹھیک ہے، اس کے بعد جو اس بیان کرنے والے نے بڑھایا ہے وہ صریح کذب وافتراء ہے، اوراس کے ساتھ جو اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت معاذاللہ تکبر کا لفظ کہا وہ صریح کفر ہے وہ ایمان سے نکل گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی، جیسے مجمع میں اس نے وہ ناپاک ملعون لفظ کہا اسے حکم ہے کہ ویسے ہی مجمع میں توبہ کریں اور اسلام لائے اگر نئے سرے سے مسلمان نہ ہو تو مسلمانوں کو اس سے سلام و کلام حرام، اس کے پاس بیٹھناحرام، اس کی شادی غمی میں شریک ہونا حرام بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جاناحرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے غسل وکفن دینا حرام، اس کے جنازہ کی نمازحرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، مرنے کے بعد اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام، بلکہ اس کے کفر پر مطلع ہوکر جوکوئی اس کے ساتھ مسلمانوں کا ساکوئی معاملہ کرے گا اور اسے مسلمان جانے گا بلکہ اس کے کفرمیں شک کرے گا وہ خود کافر ہوجائے گا،
شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ وذخیرۃ العقبٰی و مجمع الانہر ودرمختار میں ہے:
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۱؎۔
جس نے اس کے عذاب وکفر میں شک کیا وہ بھی کافرہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        باب المرتد            مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۵۶)
 (۲) اور وہ جو دوسری روایت پتھر کی اس نے بیان کی وہ بھی محض جھوٹ اور اس کاافتراء ہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ روایت اس پرجہنم کے پتھر برسائے گی وہ لوگ جو ایسے کو بیان کرنے کے لئے بٹھاتے ہیں او راس کا بیان سنتے ہیں سب سخت گنہ گار ہیں اور اگر اس پہلی روایت کو سن کر پسند کیا تو وہ پسند کرنے والے سب اس کی مثل کافرہوگئے اور ان کی عورتیں نکاح سے نکل گئیں، ان پر توبہ فرض ہے، اور ہدایت اللہ کے ہاتھ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: ا زکٹک بخشی بازار مرسلہ داور علی خان سہاوری     ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

ایک اشتہار بجنسہٖ روانہ خدمت کرتاہوں اس میں نمبر ۶ میں جولکھا ہے اس سے مسلمانان کٹک بہت الجھن میں پڑگئے ہیں کیونکہ جس کتاب کے حوالے سے لکھا ہے وہ غیر مقلدین کی کتاب کاحوالہ ہے اس واسطے مکلف ہوں کہ اس کا جواب دیجئے تاکہ مسلمانان کٹک کی بے چینی دورہو۔
الجواب

ظاہراً مسلمانوں کی پریشانی کا باعث یہ ہے کہ اس قول کو صاحب اشتہار کی طرف سے سمجھے حالانکہ اس میں وہابیہ کا قول نقل کیاہے، یہ قول وہابیہ کے پیشوا اسمعیل دہلوی کا ہے کہ اس نے تقویۃ الایمان میں لکھا اور شیطنت پر سخت شیطنت یہ کی کہ اس کلمہ کفرکو خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طر ف نسبت کیا کہ حضور فرماتے ہیں ''میں بھی تمھارے طرح ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والاہوں''۲؎ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کا کلمہ اور پھر اسے خود حضور کی طرف منسوب کرنا دوہرا استحقاق عذاب نارہے۔
 (۲؎ تقویۃالایمان     الفصل الخامس فی ردالاشراک    مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور     ص۴۲)
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق ۱؎۔
بیشک اللہ تعالٰی نے حرام کردیا ہے انبیاء کابدن کھانا زمین پر، اللہ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں۔
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۱۱۹)
دوسری صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۴؎۔
انبیاء اپنے مزارات طیبہ میں زندہ ہیں نمازیں پڑھتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ مجمع الزوائد        باب ذکر الانبیاء علیہم السلام            دارالکتاب بیروت        ۸/ ۲۱۱)

(المطالب العالیہ     حدیث ۳۴۵۲            توزیع عباس احمد البازمکۃ المکرمہ    ۳/ ۲۶۹)
Flag Counter