مسئلہ ۲۶۱: ازملوک پور مرسلہ مولوی شفاعت اللہ صاحب طالب علم مدرسہ اہل سنت ۹ شوال ۱۳۳۵ھ
زید ایک مسجد کا امام ہے اور بکر بوجہ باہم شکر رنجی زید کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھا، بنائے شکررنجی اول یہ ہے کہ زید داڑھی کترواتاہے، دوم کہ زید بکر سے منافقانہ رسم رکھتاتھا کیونکہ ایک مرتبہ چند اہل محلہ وغیرہم نے زید اور بکر کے درمیان اس شکر رنجی کو دفع کرکے صلح کرادی تھی، اور قرآن پاک درمیان میں دیا تھا، مگر قرآن پاک دینے پر بھی زید کا بغض نہ گیا، اور وہ وقتا فوقتا اپنے منافقانہ برتاؤ سے اپنا بغض ظاہر کرتارہا، مگر اس مصالحت کے بعد زید نے چند دنوں کے لئے داڑھی چھوڑ دی جس پر بکر زید کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، چند روز کے بعد زید نے بکر پر ایک الزام لگایا جس کو اہل محلہ نے بعد تحقیق جھوٹا پایا، اس پر بکرنے زید سے دریافت کیا کہ میرے اور تمھارے درمیان کلام پاک دیاگیا تھا پھر تم نے مجھ سے کیوں بغض رکھا اور کیوں میرے اوپر تہمت لگائی، اس پر زید نے صریحا جواب دیا کہ ایک قرآن شریف کیا اگر دو قرآن شریف درمیان ہوجائیں گے تب بھی تیری جانب سے میرا بغض نہ جائے گا، ایسی صورت میں زید کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟
الجواب
محبت وبغض قلبی حالت اختیار بشر میں نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھذا قسمی فیما املک فلاتؤاخذ نی فیما لااملک ۲؎۔
آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کافرمان مبارک ہے، یہ اس میں میرا حصہ ہے جس کا میں مالک ہوں پس اس میں مواخذہ نہ فرما جس کامیں مالک نہیں ہوں۔ (ت)
(۲؎ اتحاف السادۃ المتقین واما اصحاب علیہ السلام فابوبکر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۲۹)
زید کے اس قول کو اس پر محمول کرنا چاہئے کہ جب بھی میرا بغض نہ جائے گا کہا ہے نہ کہ جب بھی تیرا بغض نہ چھوڑوں گا، ہاں اگر بغض بلاوجہ شرعی ہے اور اس پر کارروائی کرتاہے جیسے جھوٹی تہمتیں لگانا اور اس امر میں مشہور ہے تو فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: عبدالغنی رنگ ساز بریلی محلہ عقب کوتوالی ۲۷ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر کے ساتھ مرید کو کیسا عقیدہ رکھنا چاہئے، آیا یہ کہنا چاہئے کہ میرابخشنے والا وہی ہے، یا یہ کہ اس کے وسیلہ سے بخشا جاوے گا جیسا کہ ایک شخص (زید) ہے وہ یہ کہتاہے کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہے، اور عمرو یہ کہتاہے کہ پیر بخشنے والانہیں بلکہ ان کے وسیلہ سے ان کے مرید بخشے جائیں گے، اور بغیر وسیلہ پیرکے دربارخدا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک رسائی نہیں، اور اس امر میں زید ہمیشہ عمرو سے اختلاف رکھتاہے اب فیصلہ فرمادیں کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر؟ اور جو حق پر نہیں ہیے اس کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجرپاؤ۔ ت)
الجواب
عمرو حق پر ہے اور زید کے وہ الفاظ کہ بخشنے والا اور دینے والا پیر ہی ہے اپنے ظاہر پربہت شنیع ہیں اوراگر اس کا ظاہر ہی اعتقاد قائل ہو تو صریح کفر بہرحال زید کو توبہ چاہئے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: لکھیم پور ضلع کھیری محلہ نئی بستی مرسلہ محمد غفران الحق صاحب ۶ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا بسبیل تذکرہ، کیا اس کو خبر تھی تمھارے دل کی، یعنی کیا خدا جانتا تھاتمھارے دل کی بات کو۔تو اس کے کہنے سے اس نے خدا کی صفت علم سے انکار کیا یانہیں؟ اور اس کلمہ کے کہنے پر وہ عورت خارج از ایمان ہوئی یانہیں؟ اور ایمان سے خارج ہونے کی وجہ سے اس مرد کے نکاح میں رہی یامنکر بصفت علم باری تعالٰی ہونے کی وجہ سے ایمان جاتارہا، اور ایمان جانے کی وجہ سے اپنے خاوند کے جو کہ مسلمان ہے نکاح سے باہر ہوئی یانہیں؟ اب وہ عورت تو بہ کرکے بغیر عدت کے ایام گزارے اور بغیر دوسرے مرد سے نکاح کئے اپنے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے ؟ اور پہلا مہر خاوند کودینا ہوگا یا ساقط ہوگیا؟
بینوا توجروا
الجواب
سائل نے ان زن وشو کا اول سے مکالمہ نہ لکھا جس سے اس قول زن کے معنی متعین ہوتے اس میں وہ پہلو بھی نکلتاہے جس سے سلب علم نہ ہو مثلا مر دنے دعوٰی کیا کہ فلاں وقت میرے دل میں یہ بات تھی عورت نے اس پر مرد سے یہ کہا کہ اللہ تعالٰی کو اپنے دل میں اس وقت یہ بات ہونے کا گواہ کرے لہذا یہ الفاظ کہے یعنی کیا تمھارے دل میں یہ ارادہ ہونا علم الہٰی میں تھا، اس صورت میں لزوم محظور نہیں،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
وجعلواﷲ شرکاء قل سموھم ام تنبئونہ بمالایعلم فی الارض ۱؎۔
اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کانام تو لو یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں۔
(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۳/ ۳۳)
نیز ممکن ہے کہ استفہام تقریری ہویعنی اس سے اقرار لینا چاہا کہ اللہ تعالٰی علیم بذات الصدور ہے، جب وہ اقرار کرتا تو آگے اس پر تفریع کرتی مثلا یہ کہ جب وہ دلوں کی خبر رکھتا ہے کیوں فاسد ارادہ دل میں لاتے ہو تو ایسے مجمل سوال پر کوئی حکم نہیں دے سکتا، ہاں اگر ثابت ومتحقق ہو کہ عورت نے وہ الفاظ معاذاللہ نفی علم کے لئے کہے توبے شک کلمہ کفر تھے، اس روایت کی بناء پر جس پر اب فتوٰی ہے نکاح سے نہ نکلی، اگر وہ توبہ اور تجدیداسلام کرے تو نظر بظاہر الروایۃ دوگواہوں کے سامنے تجدید نکاح کرلیں اس سے زیادہ کی حاجت نہیں اور پہلا مہر کسی حال میں ساقط نہ ہوا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۴: مرسلہ سید ایوب علی ساکن بریلی محلہ کسگران ۱۳ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بلانکاحی عورت اپنے گھر میں رکھتاہے چند مسلمان نے زید سے ہر چند کہا کہ تو اپنا نکاح کرلے، زید نے جھوٹ کہا کہ میرانکاح ہوچکا ہے میں اب نہیں کروں گا، اور کسی کو اس کے نکاح کی خبر نہیں ہے،مسلمانوں نے کہا کہ تو مسلمان نہیں ہے جو شرعی حکم نہیں مانتا ہے زید نے جواب دیا کہ ہاں میں مسلمان نہیں ہوں لہذا سب مسلمانوں نے زید کو اپنی محفل سے اٹھادیا بعد چندے زید کہتاہے کہ آپ میرا نکاح کردو، لہذا سوال ہے کہ ازروئے شرع شریف زید کے واسطے کیاحکم ہے؟ والسلام
الجواب
وہ سب لوگ گنہ گار ہوئے جنھوں نے اسے کہا کہ تو مسلمان نہیں اور جب وہ ایک عورت کو بی بی کی
طرح گھر میں رکھتااور کہتا تھا کہ میرانکاح ہوچکاہے تو اسے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہ تھی، نہ ان لوگوں کو نکاح نہ معلوم ہونے سے نکاح نہ ہونا لازم تھا ان لوگوں نے اپنی نادانی سے برخلاف شرع اسے اتنا تنگ کیا کہ آخر شیطان نے اس سے کہلوادیا کہ ہاں وہ شخص مسلمان نہیں ہے ،اس کہنے سے اس کا ایمان جاتارہا اور نکاح اگر کیا بھی تھا باطل ہو گیا اب وہ پھر مسلمان ہوکر اس کے بعد عورت کی رضامندی سے اس سے نکاح کرے اور یہ سب لوگ بھی توبہ کریں جنھوں نے ناحق تنگ کرکے یہاں تک نوبت پہنچائی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵ و ۲۶۶: از شہر محلہ ذخیرہ مسجد نیاریان مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب طالبعلم درجہ اول مدرسہ اہل سنت وجماعت ۱۱محرم ۱۳۳۶ھ
(۱) عرض این ست کہ شخصے وعظ گفت، گفت کہ شہید رابرنبی پنج فضیلت زیادہ دارد حدیث بیان کردہ راست ست یانہ؟ برامام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ بسیار تجاوز بیان کرد کہ درمصنف ابی الشکور تکذیب وے کردی یعنی سربر چوگان وبرلاش مبارک اسپ راندن ومستورات رابے پردہ بردن وغیرہ راست ست یانہ؟ وگفتہ ابوالشکور درمصنف خو دکہ یزید دوازدہ سردار خود راکشت کہ من شما امرنکر دم بودم بقتل وے۔
(۱) عرض یہ ہے کہ ایک آدمی نے وعظ میں کہا شہید کو نبی پر پانچ درجے زیادہ فضیلت ہے، یہ بات درست ہے یانہیں؟ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق زیادتی کرتے ہوئے کہا کہ ابوالشکور کے مصنف میں ان کی تکذیب کی گئی ہے یعنی ان کے سر اور لاشے پر گھوڑے دوڑائے گئے، خواتین کو بے پردہ کیا گیا یہ سب درست ہے یاغلط؟ ابوالشکور نے اپنے مصنف میں یہ بھی بیان کیا کہ یزید نے اپنے بارہ سردار یہ کہتے ہوئے قتل کروادئے کہ میں نے تمھیں قتل حسین کا حکم نہیں دیا تھا۔
(۲) دیگر گفت کہ شہادت ناقصہ امام حسن رادادہ شد وشہادت کا ملہ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ دادہ شد ورسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شہید نشدہ وگفت دربیان ایں حدیث کہ برحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شہید فضیلت دارد معاذاللہ بواسطہ جناب راست ست یانہ؟
(۲) دوسرے یہ کہا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہادت ناقص اورامام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہادت کاملہ دی گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم شہید نہیں اور اس نے اس حدیث کے بیان میں کہا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر شہید کو فضیلت ہے (معاذاللہ) امام حسین کے واسطہ سے آپ بتائیں یہ درست ہے یانہیں؟
الجواب
(۱) غیرنبی رابرنبی تفضیل کفراست اگر فضل جزئی مراد داردنیزبے ادب وبدزبان وبدخواہ مسلمانان وبرہم زن دین وایمان ست وتجاوز ازحدظلم ست وبغض اوکفر وسائرش حرام، قال تعالٰی
ومن یتعد حدود اﷲ فقد ظلم نفسہ ۱؎
(۱) غیر نبی کونبی پر فضیلت دینا کفرہے اگر جزئی فضیلت مراد ہو تو یہ بے ادبی، بد زبانی اور مسلمانوں کی بدخواہی اور دین وایمان کو جلانا ہے اور حد سے تجاوز کرنا ظلم ہے ان کا بغض وغیرہ کفر وحرام ہے، اللہ تعالٰی کافرمان ہے جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا،
(۱؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۱)
وہمچوں مظالم ملعونہ غیر ثابتہ وثابتہ از پہلوئے اہانت اہل بیت کرام راتہی نیست، فضائل ومناقب آنہا نشرباید نہ آنچنا نکہ درشمار زبونان وخستگان وبیچارگاں باشمد ع
کردم از عقل سوالے کہ بگوایمان چیست
عقل درگوش ولم گفت کہ ایمان اداب است
وما رابایزید وافعال واقوال ظالمانہ ومنافقانہ آں پلید کارے نیست، اعاذنا اﷲ تعالٰی منہ وامثالہ۔
اسی طرح غیر ثابت مظالم ملعونہ اور ثابتہ مذکورہ اہلبیت کرام کی اہانت سے خالی نہیں، اہلبیت کے فضائل ومناقب کا بیان ہونا چاہئے نہ یہ کہ ان کو بیچارگاں اور بے سہارا اور خستہ حال ثابت کیا جائے،
میں نے عقل سے پوچھا بتاؤ ایمان کیاہے
تو عقل نے میرے دل کے کان میں کہا ایمان سراپا ادب ہے
اورہمیں یزید پلید اور اس کے ظالمانہ افعال واقوال سے کوئی سروکار نہیں اللہ تعالٰی ہمیں اس سے اور اس کی امثال سے پناہ عطافرمائے۔
(۲) سخن اول بے ادبی وسخن آخر کفر، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) پہلی بات بے ادبی اور دوسری کفرہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۷: خدا ہرجگہ حاضر کہنا کیساہے؟
الجواب
اللہ عزوجل جگہ سے پاک ہے، یہ لفظ بہت برے معنی کا احتمال رکھتاہے اس سے احتراز لازم ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸: از ریاست بہاولپور مقام فریدآباد ڈاک خانہ غوث پور مرسلہ مولوی نوراحمد صاحب فریدی ۱۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ھوالحق بشرط ملاحظہ عالیہ جناب حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مدظلہم العالی مجدد مائۃ حاضرہ، یاحضرت اقدس دام فیوضاتکم العالیہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، صد آداب نیاز مندانہ بجالاکر عارض ہوں کہ اس جگہ دربارہ مسئلہ وحدۃ الوجود سماع علماء میں سخت اختلاف ہے، زید کہتاہے مسئلہ وحدۃ الوجوہ حق ہے اور صحیح ہے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام واولیائے عظام علیہم الرضوان کا مشرب ہے اور سماع لاھلہ شرعاً درست ہے، ہر دو مسائل کا ثبوت کتب اسلامیہ سے موجود ہے، بکر اس کے برخلاف ہے اور فتوٰی دیتاہے کہ مشرب وحدۃ الوجود والے تمام کافرہیں اور سماع بلاتخصیص مطلق حرام ہے اور اس کامرتکب معاذاللہ ملعون وکافر ہے، اور ہر دو مسائل کا ثبوت کسی کتاب اسلامی میں نہیں، فلہذا بکمال ادب معروض کہ بحوالہ کتب معتبرہ فتوائے خود سے امت محمدی علیہ الصلوٰہ والسلام کو بواپسی جواب سرفرازی بخشیں کہ ان میں سے کون حق پر ہے اور کون کاذب تاکہ تشویش اورخطرہ ایمانی بین المسلمین نہ آئے، والاجرعلی اﷲ (اجر اللہ کے پاس ہے۔ ت)
الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، یہاں تین چیزیں ہیں، توحید، وحدت، اتحاد۔ توحید مدار ایمان ہے اور اس میں شک کفرہے، اور وحدت وجودحق ہے، قرآن عظیم واحادیث وارشادات اکابر دین سے ثابت، اور اس کے قائلوں کو کافرکہنا خود شنیع خبیث کلمہ کفرہے، رہا اتحاد وہ بیشک زندقہ والحاد اور اس کا قائل ضرور کافر، اتحاد یہ کہ یہ بھی خدا وہ بھی خدا سب خدا ع
گرفرق مراتب نکنی زندیق ست
(اگر تو فرق مراتب نہ کرے تو زندیق ہے۔ ت)
حاش للہ الہ الہٰ ہے اور عبد عبد، ہر گز نہ عبدالہ ہوسکتاہے نہ الہ عبد، اور وحدت وجود یہ کہ وہ صرف موجود واحد، باقی سب ظلال وعکوس ہیں،
قرآن کریم میں ہے:
کل شیئ ھالک الاوجہہ ۱؎۔
ہر چیز فانی ہے سوائے اس کی ذات کے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۸۸)
صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابن ماجہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، حضور اکرم فرماتے ہیں:
الصدق کلمۃ الشاعر کلمۃ لبید الاکل شیئ ماخلااﷲ باطل ۱؎۔
سب میں سچی زیادہ بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے کہ سن لو اللہ عزوجل کے سواہر چیز اپنی ذات میں محض بے حقیقت ہے۔
(۱؎ الجامع الصحیح للبخاری کتاب الادب باب مایجوز من الشعر والرجز قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۸)
کتب کثیرہ مفصلہ، اصابہ نیز مسند میں ہے سواد بن قارب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشہد ان اﷲ لارب غیرہ وانک مامون علی کل غائب ۲؎
(میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی رب نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمیع غیوب پر امین ہیں) حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب دارالفکر بیروت ۳/ ۶۰۹)
اقول یہاں فرقے تین ہیں:
اول خشک اہل ظاہر کہ حق وحقیقت سے بے نصیب محض ہیں یہ وجود کو اللہ ومخلوق میں مشترک سمجھے ہیں۔
دوم اہل حق وحقیقت کہ بمعنی مذکور قائل وحدت وجود ہیں۔
سوم اہل زندقہ وضلالت کہ الہٰ ومخلوق میں فرق کے منکر اور ہر شخص وشے کی الوہیت کے مقر ہیں ان کے خیال واقوال اس تقریبی مثال سے روشن ہوں گے، ایک بادشاہ اعلٰی جاہ آئینہ خانہ میں جلوہ فرماہے جس میں تمام مختلف اقسام واوصاف کے آئینے نصب ہیں، آئینوں کا تجربہ کرنے والا جانتاہے کہ ان میں ایک ہی شیئ کا عکس کس قدر مختلف طوروں پر متجلی ہوتاہے، بعض میں صورت صاف نظر آتی ہے بعض میں دھندلی، کسی میں سیدھی کسی میں الٹی، ایک میں بڑی ایک میں چھوٹی، بعض میں پتلی بعض میں چوڑی، کسی میں خوشنماکسی میں بھونڈی، یہ اختلاف ان کی قابلیت کاہوتاہے ورنہ وہ صورت جس کا اس میں عکس ہے خود واحد ہے، ان میں جو حالتیں پیدا ہوئیں متجلی ان سے منزہ ہے، ان کے الٹے، بھونڈے، دھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔
وﷲ المثل الاعلی ۳؎
(اور اللہ کی شان سب سے بلند ہے۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۶۰)
اب اس آئینہ خانے کو دیکھنے والے تین قسم ہوئے:
اول نا سمجھ بچے، انھوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجودہیں کہ یہ بھی توہمیں ایسے ہی نظر آتاہے جیسے وہ، ہاں یہ ضرورہے کہ یہ اس کے تابع ہیں جب وہ اٹھتاہے یہ سب کھڑے ہوجاتے ہیں، وہ چلتاہے یہ سب چلنے لگتے ہیں، وہ بیٹھتاہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں تو عین یہ بھی اور وہ بھی، مگر وہ حاکم ہے یہ محکوم، اور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہی بادشاہ ہے، یہ سب اسی کے عکس ہیں اگر اس سے حجاب ہوجائے تو یہ سب صفحہ ہستی سے معدوم محض ہوجائیں گے، ہوکیا جائیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے کوئی حصہ ان میں نہیں حقیقۃً بادشاہ ہی موجو دہے باقی سب پر تو کی نمود ہے،
دوم اہل نظر وعقل کامل، وہ اس حقیقت کو پہنچے اورا عتقاد بنائے کہ بیشک وجود ایک بادشاہ کے لئے ہے موجود ایک ہی ہے یہ سب ظل وعکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجودنہیں رکھتے اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتاہے حاشا عدم محض کے سوا کچھ نہیں،ا ور جب یہ اپنی ذات میں معدوم وفانی ہیں اور بادشاہ موجود، یہ اس نمودمیں اسی کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی یہ ناقص ہیں وہ تام، یہ ایک ذرہ کے بھی مالک نہیں،اور وہ سلطنت کا مالک یہ کوئی کمال نہیں رکھتے، حیاۃ، علم، سمع، بصر، قدرت، ارادہ، کلام، سب سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامع، تو یہ اس کا عین کیونکر ہوسکتے ہیں، لاجرم یہ نہیں کہ یہ سب وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمود، یہی حق وحقیقت ہے اور یہی وحدۃ الوجود۔
سوم عقل کے اندھے سمجھ کے اوندھے ان ناسمجھ بچوں سے بھی گزرگئے، انھوں نے دیکھا کہ جو صورت بادشاہ کی ہے وہی ان کی جو حرکت وہ کرتاہے یہ سب بھی، تاج جیسا کہ اس کے سر پر ہے بعینہٖ ان کے سروں پر بھی، انھوں نے عقل ودانش کو پیٹھ دے کر بکنا شروع کیا، کہ یہ سب بادشاہ ہیں اور اپنی سفاہت سے وہ تمام عیوب ونقائص نقصان قوابل کے باعث ان میں تھی خود بادشاہ کو ان کا مورد کردیا، جب یہ وہی ہیں تو ناقص عاجزمحتاج، الٹے، بھونڈے، بدنما، دھندلے کا جو عین ہے قطعا انھیں ذمائم سے متصف ہے تعالٰی اﷲ عما یقول الظالمون علواکبیرا (ظالم جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالٰی اس سے بہت بلند وبالاہے۔ ت) انسان عکس ڈالنے میں آئینے کا محتاج ہے اور وجود حقیقی احتیاج سے پاک وہاں جسے آئینہ کہئے وہ خود بھی ایک ظل پھر آئینے میں انسان کی صرف سطح مقابل کا عکس پڑتاہے جس میں انسان کے صفات مثل کلام وسمع وبصر و علم وارادہ وحیات سے اصلا نام کو بھی کچھ نہیں آتا لیکن وجود حقیقی عزجلالہ کے تجلی نے اپنے بہت ظلال پر نفس ہستی کے سوا ان صفات کا بھی پرتوڈالا یہ وجود اور بھی ان بچوں کی نافہمی اور ان اندھوں کی گمراہی کی باعث ہوئیں اور جن کو ہدایت حق ہوئی وہ سمجھ لئے کہ ع
یک چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتوآں
ہرکجامی نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایک چراغ ہے اس کی روشنی سے ہر جابارونق ہے۔ ت)
انھوں نے ان صفات اور خود وجود کی دوقسمیں کیں: حقیقی، ذاتی، کہ متجلی کے لئے خاص ہے، اور ظلی عطائی کہ ظلال کے لئے ہے اور حاشایہ تقسیم اشتراک معنی بلکہ محض موافقت فی اللفظ، یہ ہے وہ حق حقیقت وعین معرفت وللہ الحمد۔
(اس گھرمیں ایک چراغ ہے اس کی روشنی سے ہر جابارونق ہے۔ ت)
انھوں نے ان صفات اور خود وجود کی دوقسمیں کیں: حقیقی، ذاتی، کہ متجلی کے لئے خاص ہے، اور ظلی عطائی کہ ظلال کے لئے ہے اور حاشایہ تقسیم اشتراک معنی بلکہ محض موافقت فی اللفظ، یہ ہے وہ حق حقیقت وعین معرفت وللہ الحمد۔
سب حمد اللہ تعالٰی کے لئے جس نے ہمیں اس کےلئے ہدایت دی جبکہ ہم خود راستہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ تعالٰی ہماری رہنمائی نہ فرماتا یقینا ہمارے رب کے تمام رسول حق لائے اللہ تعالٰی ان سب پر اور ان سب کے آقا ومولاپر رحمتیں اور برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔ (ت)
سماع مجردکہ جملہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو بلاشبہ اہل کو مباح بلکہ مستحب ہے اس پر انکار ستر صدیقوں پر انکار ہے اور معاذاللہ صدیقین کی تکفیر کرنے والا کفر اخبث کا سزاوارہے، اس کی تفصیل فتاوٰی فقیر خصوصا رسالہ "اجل التحبیر" میں ہے، ہاں مزامیر شرعاًناجائزہیں، حضرت سلطان الاولیاء محبوب الہٰی نظام الحق والدین رضی اللہ تعالٰی عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں:
مزامیر حرام ست ۱؎
(مزامیر حرام ہیں۔ ت) اوراہل اللہ کسی معصیت الہٰی کے اہل نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فوائدالفواد نظام الدین )
مسئلہ ۲۶۹: از کھنڈل ضلع اکیاب ملک برہما مرسلہ محمد بدیع الرحمن ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
اندریں کہ شخصے عالمے رادراثنائے سخن بدیں گونہ دشنام داد کہ چہ ذکر علم تحصیل نمودی وچہ ذکر عالم ہستی پس سب علم وعالم معا وانصاف آں باذکر وآلہ تناسل توہین علوم دین وہتک عالم متین ست یانہ، برشق اول برشاتم موصوف چساں حکم حسب شرع محمدی عائدشود بینوا بالدلیل۔
ایک شخص نے دوران گفتگو عالم دین کو اس طرح گالی دی ہے تونے ذکر علم حاصل کیاہے، تو ذَکر عالم ہے، اس نے علم اور عالم کو ذکر اور آلہ تناسل سے متصف کیا، یہ علم دین وعالم متین کی توہین ہے یانہیں؟ اگرہے تو شاتم پر شرح محمدی کا کیاحکم جاری ہتاہے، دلیل کے ساتھ بیان فرمائیں (ت)
الجواب
فقہائے کرام توہین عالم راکفرداشتہ اند، در مجمع الانہر ست : من قال للعالم عویلم علی وجہ الاستخفاف کفر ۱؎ ۔ آنجا اگر تاویل را راہی بود توہین علم دین خود کفر خالص است واللہ تعالٰی اعلم۔
فقہاء کرام نے عالم کی توہین کو کفر قرار دیاہے، مجمع الانہر میں ہے، اگر کسی نے توہین کی نیت سے عالم کو عویلم (گھٹیا عالم) کہا تویہ کفر ہے، اگریہاں تاویل کریں تو علم دین کی توہین خالصتاً کفرہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)