| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر) |
ظاہر ہے کہ زید بے قید جس کے حال سے سوال ہے اگر قسم اول میں ہے تو ضرور اس پرحکم کفرہے، سائل نے اس کا پورا کلام نقل نہ کیا جس کے سیاق وسباق سے حال کھلتاہے اور اگر اس قسم سے بچ بھی جائے تو قسم سوم سے ہونا یقینی کہ وہ مدعی علم بنتا وعظ کہتاہے پھر مسلمانوں کے ہدایت کرنے پر بھی باز نہ آیا مصرر ہا، یہ سب اس کے تین الفاظ سابقہ پرہے، رہا لفظ ''بیچارہ'' وہ ان سب سے سخت تر، بیچارہ وہ کہ کس بلا میں گرفتار اور بیکس، بے بس، بے یار ہوجو اس سے خلاص کا کوئی حیلہ نہ پائے۔ یہ ضرور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے رب عزوجل پر افتراء اور قرآن عظیم کی تکذیب اورکفار ملاعنہ کی تصدیق ہے جنھوں نے بکا تھا،
ان محمداودعہ ربہ ۱؎
محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا، جس پر سورہ والضحٰی شریف نازل ہوئی۔
والضحی o والیل اذا سجیo ماودعک ربک وما قلیo وللاخرۃ خیرلک من الاولیo ۲؎
اے پیارے تمھارے روئے درخشاں کی قسم تمھاری زلف مشکیں کی قسم، نہ تمھیں تمھارے رب نے چھوڑا نہ بیزار ہوا، جوآن آگے آتی ہے تمھارے لئے گزشتہ آن سے بہترہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،
(۱؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ والضحٰی امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۱۷۰) (۲؎ القرآن الکریم ۹۳/ ۱ تا ۴)
کیامعاذاللہ ان کو اس ناپاک لفظ سے تعبیرکیا جائے گا جن کا رب فرماتاہے:
الاتنصروہ فقد نصرہ اﷲ ۳؎۔
اگرتم کوئی ان کی مددنہ کرو تو اللہ واحد قہار ان کا مدد گار۔
(۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۴۰)
کیا معاذاللہ ان کوکہا جائے گا جن کے لئے ان کا مولٰی عزوجل فرماتاہے:
فان اﷲ ھو مولٰہ وجبریل وصالح المؤمنین بعد ذٰلک ظھیر ۴؎۔
بیشک اللہ تعالٰی ان کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد فرشتوں کی فوجیں ان کی مدد کوحاضر ہیں۔
(۴؎القرآن الکریم ۶۶/ ۴)
کیا معاذاللہ ان کو کہا جائے گاجو اس ظاہری تنہائی اور ایک جہاں برسر عداوت وپرخاش ہونے کی حالت میں اپنے یار غار سے فرماتے تھے: لاتحزن ان اﷲ معنا ۵؎ غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
(۵؎ القرآن الکریم ۹/ ۴۰)
تویہ ملعون کلمہ ان پہلو سے بھی ملعون وخبیث ترہے، زید بے قید خود بھی جانتاتھا کہ یہ سب سے بدترہے، ولہذا ایک بارکہ بناوٹ پرآیا اسی کو سوچ بچار بنایا اور اس سے بھی ہزار درجہ ملعون تر اس کا وہ ناپاک نجس گندا خبیث قول ہے کہ میں نے تویہی کہا ہے، اللہ تعالٰی یوں فرمارہاہے، اس سے کُھل گیا کہ وہ ضرور بددین گمراہ فاسد العقیدہ مختل الایمان بلکہ ظاہراً بالقصد مرتکب توہین حضور سیدالانس و الجان ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ اس کاو عظ سنناحرام اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس سےملنا جلنا حرام، اسے سلام علیک کہنا حرام، اپنی تقریب میں اسے بلانا حرام، اپنا کوئی دینی کام اگر چہ صرف نکاح خوانی ہو اسے سپرد کرنا حرام،
قال اﷲ تعالٰی
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور جوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
اس حالت میں شروضلالت پر جو اس کے معاون ہیں سب اسی کی مثل ہیں اور ان سب کے یہی احکام ۔ قال اﷲ تعالٰی
ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورتم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
طھراللہ الارض من خبثہم وخبث امثالہم
(اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کے خبث سے زمین کو پاک کردے۔ ت)
ولاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیم، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹ تا ۲۶۰: از کاکوروی درگاہ تکیہ شریف کاظمیہ مرسلہ سید سبط احمد صاحب خادم درگاہ ۲۳ رمضان ۱۳۳۵ھ (۱) اگر کوئی مسلمان قبل شروع رمضان المبارک یہ لفظ استعمال کرے کہ ہندو ہوتے تو بہتر یہ تیس روزے تو نہ رکھنا پڑتے۔ (۲) دوسرا شخص ایسے لفظ بصراحت یہ بیان کرے کہ اللہ پاک نے تیس روزے بنائے ہیں پوری قید ہے۔ بھوک پیاس لے کرآتے ہیں، بڑا ظلم ہے، رمضان کے روزے بڑے ظالم ہیں، لیکن جو ظلم کرتاہے تھوڑے دن رہتاہے۔
الجواب یہ دونوں شخص یقینا کافر ومرتد ہیں اگر عورت رکھتے ہوں تو ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں، عورتوں کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہیں نکاح کرلیں، یہ کافر اگر توبہ نہ کریں از سر نو اسلام نہ لائیں، تومسلمانوں کو ان سے میل جول حرام، سلام کلام حرام، بیمارپڑیں تو انھیں پوچھنے جانا حرام، مرجائیں تو ان کے جنازے میں شرکت حرام، انھیں غسل دینا حرام، ان پر جنازہ پڑھنا حرام، ان کا جنازہ کندھے پر رکھناحرام، جنازے کے ساتھ جانا حرام، مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام، ان کے اقارب اگر حکم شریعت مانیں تو ان کی موت پر ان کی لاشیں دفع عفونت کے لئے بھنگی چماروں سے ٹھیلے پر ڈالواکر مسلمانوں اور کافروں سب کی مقابر سے جدا کسی گڑھے میں کتے کی طرح پھینکواکر اوپر سے پاٹ دیں،
وذٰلک جزاء الظلمین ۱؎
(اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۲۹)