Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
132 - 150

مسئلہ ۲۵۶ و ۲۵۷: مرسلہ حاجی قاسم میاں صاحب ازگونڈل علاقہ کاٹھیاوار     ۱۷ جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں ائمہ دین وعلمائے معتمدین اہل سنت ایدھم اللہ تعالٰی ونصرھم اللہ، کاٹھیاوار مسلم ایجوکیشنل کانفرنس (جس کا جلسہ بمقام جونا گڈھ کاٹھیا وار بتاریخ ۲ و ۳ اکتوبر ۱۹۱۶ء کو ہوا) کے ان اراکین کے حق میں ہادی بن کر اپنی تقریروں میں ذیل کے اقوال بیان کئے اور ان اراکین کاحکم بھی بیان فرمائیں جنھوں نے ان کے اقوال گجراتی زبان میں بعینہٖ نقل کئے اور چھاپ کر مسلمانوں میں تقسیم کئے اور کرتے ہیں؟

(۱)گجراتی زبان میں دینی کتابوں کا انتظام کیا جائے، مسلمان بچوں کے لئے خاص گجراتی مدارس قائم کئے جائیں جن میں ''مسلمان دھرم کی دنت کتھاؤں کاذکر ہو'' اور جن میں مسلمان بیرتروں کی تعریفیں کی ہوں، ایسی کتابیں رائج کی جائیں '(نیز) ''مسلمان لوگ جس دھرم کی دنت کتھا'' اور جن حضرات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ان کا حقارت سے جس مروجہ کتب میں ذکر کیا گیا ہو اول درجہ کتب کو دیگر اقوام سے ملے ہوئے مدارس سے باطل کرنا(روداد تقریر صدر صفحہ ۲۹۰)

(۲) ہم ہمارے ملکی برادروں کے جذبات کو ان کے ''دیوتا کی باتوں کو'' ان کے پیشواؤں کو عزت دیتے ہیں اور وہ بھی ایسی ہی عزت ہماری طرف رکھیں ایسی بھی امید رکھتے ہیں (روداد تقریر صدر ص۳۳) مگر گزارش آنکہ لفظ ''دنت کتھا'' کے معنی گجراتی زبان میں زبان کی بات  وہ بات جس کی کوئی سند نہ ہوتی ہو، ہوتے ہیں۔
الجواب

ایسے اقوال کے قائم ہادی نہیں ہوسکتے بلکہ مضل ہیں یعنی گمراہ کرنے والے اور گمراہی  پھیلانے والے

اور مسلمانوں کو گمراہی کی طرف بلانے والے، او ر جو ایسے اقوال کو شائع کرتے ہیں وہ مسلمانوں میں اشاعت فاحشہ کے محب اور ان قائلوں کی طرح غضب جبار و عذاب قہار کے مستوجب ہیں بزرگان اسلام کے مناقب کو دنت کتھا یعنی بے اصل افسانہ کہنا ہی گمراہی کےلئے کافی تھا مگر کفار کے مذہبی جذبات اور ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں کو عزت دینا صریح کلمہ کفر ہے،
قال اﷲ تعالٰی
وﷲ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لایعلمون ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا عزت توخاص اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم                            ۶۳/ ۸)
ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں اور مذہبی جذبات کا اعزاز درکنار جو ان کے کسی فعل کی تحسین ہی کرے باتفاق ائمہ کافر ہے، غمزالعیون والبصائر میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر ۲؎۔
جس نے کسی کافر کے عمل کو اچھا گمان کیا وہ باتفاق مشائخ کافرہے۔ (ت)

ان لوگوں پر فرض ہیے کہ ایسی باتوں سے توبہ کریں، تجدید اسلام کریں، تجدید نکاح کریں، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر        باب السیروالردۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۲۹۵)

(۳؎ القرآن الکرایم                            ۹۳/ ۷)
مسئلہ ۲۵۸: ازاکبر آباد چھوٹی گلی حکیموں کی معرفت ڈاکٹر محمد نفیس صاحب مرسلہ مولانا مولوی دیدار علی صاحب الوری ۴ شعبان ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اثنائے وعظ میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت ان کلمات کا اطلاق کیا نعوذ باللہ آپ یتیم، غریب، بیچارے تھے اور جب چند اشخاص نے جاکر سمجھایا کہ غالبا آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں گے، مناسب ہے کہ آپ اظہار انکار فرمادیں تو کہنے لگا کہ میں نے تو یہی کہا ہے، اللہ جل شانہ تو قرآن عظیم میں وو جدک ضالا ۳؎ فرمارہا ہے، بعدہ جب ایک نووارد مولوی صاحب نے ان سے دریافت کیا توان الفاظ کے کہنے سے انکار کیا اور کہا کہ میں نے تویہ کہا تھا کہ آپ سوچ بچار کر بات فرمایا کرتے تھے اس کولوگوں نے غریب بیچارہ کر کے کہہ دیامولوی صاحب نے فرمایا غالبا ایساہی ہوگا مگر آپ یہ تو لکھ دیں کہ یہ الفاظ موجب توہین شان رسالت اور موجب کفرہیں اور اسی طرح ووجدک ضالا ۱؎ ایسے موقع پر کہتاہے کہ بیشک تو اس لکھنے سے منکر ہوگیا اور لیت ولعل میں ٹال دیا۔ آیا بلا توبہ اس کا وعظ سننا ملنا جُلنا سلام علیک کرنا، اس کے معاونین سے نکاح پڑھوانا اور اس کے معاونین کے پیچھے نماز عید پڑھنا اور ان سے ملنا جلنا جائزہے یانہیں؟
بینوا توجروا جزاکم اللہ
(بیان کرو اجرپاؤ اللہ تعالٰی تمھیں جزا عطافرمائے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم      ۹۳/ ۷)
الجواب

حضور اقدس قاسم النعم، مالک الارض ورقاب الامم،معطی منعم، قثم، قیم، ولی، والی، علی، عالی، کاشف الکرب، رافع الرتب، معین کافی، حفیظ وافی، شفیع شافی، عفو عافی، غفور جمیل، عزیز جلیل، وہاب کریم، غنی عظیم، خلیفہ مطلق حضرت رب، مالک الناس ودیان العرب، ولی الفضل جلی الافضال، رفیع المثل، ممتنع الامثال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وآلہ وصحبہ وشرف اعظم کے شان ارفع واعلی میں الفاظ مذکورہ کا اطلاق ناجائز وحرام ہے، 

خزانۃ الاکمل مقدسی وردالمحتار اواخرشتٰی میں ہے:
یجب ذکرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم باسماء معظمۃ فلایجوز ان یقال انہ فقیر غریب مسکین ۲؎۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تذکرہ باعظمت اسماء کے ساتھ کرنا لازم وفرض ہے، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر، غریب اور مسکین کہنا جائز نہیں۔ (ت)
 (۲؎ردالمحتار     مسائل شتی            داراحیاءالتراث العربی بیروت    ۵/ ۴۸۱    )
زرقانی علی المواہب میں ہے: قال تعالٰی
ووجدک عائلافاغنی نص علی انہ اغناہ بعد ذٰلک فزالہ عنہ ذٰلک الوصف فلایجوز وصفہ بہ بعد ۳؎۔
اللہ تعالٰی کافرمان مبارک ''اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو محتاج پایا تو غنی کردیا'' واضح طورپر شاہد ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو غنی کردیا ہے جس سے محتاجی والاوصف زائل ہوچکا ہے، لہذا اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کایہ وصف بیان کرنا ہرگز جائز نہیں۔ (ت)
 (۳؎شرح الزرقانی علی المواہب    )
اسی میں ہے:
الیتیم من الیتم موت الاب قبل بلوغ الولد اومن الانفراد کدرۃ یتیمۃ کما قیل فی قولہ تعالٰی الم یجدک یتیما ای واحد ا فی قریش عدیم النظیر انتہی ومذہب مالک لایجوز علیہ ھذا الاسم ۱؎۔
لفظ یتیم، یتم سے ہے یعنی بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے باپ کا فوت ہونا، یا اس کا معنی منفرد اور یکتا ہونا ہے جیسے کہا جاتاہے دریتیم (یکتا موتی) جیساکہ اللہ تعالی کے اس ارشاد گرامی ''کیااس نے تجھے یتیم نہیں پایا'' کے تحت مفسرین نے کہا ہے یعنی قریش میں آپ کی مثال نہیں ملتی یکتا ہیں انتہی، امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کافتوٰی ومذہب یہ ہے کہ اس نام (یتیم) کا اطلاق آپ پر جائز نہیں۔ (ت)
 (۱؎شرح الزرقانی علی المواہب    )
نسیم الریاض جلد رابع ص ۴۵۰ میں ہے:
الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لایوصفون بالفقرولایجوز ان یقال لنبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر وقولہم عنہ الفقر فخری لااصل لہ کما تقدم ۲؎۔
تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو فقرکے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتا، ہمارے نبی وآقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر کہنا جائز نہیں، باقی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں جو منقول ہے ''الفقر فخری'' (فقر میرافخر ہے) اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ گزرا۔ (ت)
 (۲؎ نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض    الوجہ الخامس ان لایقصد    دارالفکر بیروت    ۴/ ۴۰۵)
اسی کے صفحہ ۳۷۸ میں ہے:
قال الزرکشی کالسبکی لایجوز ان یقال لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر اومسکین وھو اغنی الناس باﷲ تعالٰی لاسیما بعد قولہ تعالٰی ووجدک عائلافاغنی وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ارادبہ المسکنۃ القلبیۃ بالخشوع والفقر فخری باطل لااصل لہ کما قال الحافظ ابن حجر العسقلانی ۱؎۔
امام زرکشی نے امام سبکی کی طرح فرمایا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر یا مسکین کہنا ہرگز جائز نہیں، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے تمام لوگوں سے بڑھ کر غنی بنایا ہے خصوصا اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بعد تو اس کی گنجائش ہی نہیں''پایا اس نے آپ کومحتاج تو غنی کردیا'' باقی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دعا ''اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ'' سے قلبی خشوع ومسکنت مراد ہے۔ اور یہ قول ''فقر میرافخرہے'' باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں جیساکہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا۔ (ت)
 (۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء        باب فی بیان ماھو الخ        دارالفکر بیروت    ۴/ ۳۳۶)
شفاء شریف امام اجل قاضی عیاض صدرباب اول قسم رابع میں ہے:
افتی فقہاء الاندلس بقتل ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی وصلبہ بما شہد علیہ من استخفافہ بحق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و تسمیتہ ایاہ اثناء مناظرتہ بالیتیم وختن حیدر وزعمہ ان زھدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لم یکن قصدا ولو قدر علی الطیبات اکلھا الی اشباہ لھذا ۲؎۔
فقہاء اندلس نے ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی کے قتل اور پھانسی لٹکانے کا فتوٰی دیا اس کے خلاف یہ شہادت ملی کہ اس نے دوران مناظرہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقام کی بے ادبی کرتے ہوئے آپ کو یتیم اورحیدر کا سسر کہا، اور اس کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا زھداختیاری نہ تھا اگر آپ طیبات پرقادر ہوتے تو ضرور انھیں استعمال میں لاتے، اس کی مثل گستاخی کے دیگر اقوال ۔ (ت)
 (۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی    الباب الاول فی بیان ماھو الخ    مطبع شرکت صحافیہ ترکی    ۲/ ۲۱۰)
شرح علی قاری میں ہے:
یکفی امرواحد منہا فی تکفیرہ وقتلہ ۳؎۔
اس کی تکفیر اور قتل کے لئے ان مذکورہ اشیاء میں ا یک ہی کافی ہے۔ (ت)
 (۳؎ شرح الشفاء ملاعلی قاری        الباب الاول فی بیان ماھو الخ    الحاج محرم آفندی    ۲/ ۳۹۸)
نیز شفا شریف میں ہے:
افتی ابوالحسن القابسی فیمن قال فی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجمال یتیم ابی طالب، بالقتل لظھور  استھانتہ ف بذٰلک ۱؎۔
امام ابوالحسن قابسی نے اس کے قتل کا فتوٰی دیا جوآپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ابوطالب کا یتیم اونٹوں والا کہے کیونکہ یہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں توہین ہے۔ (ت)
ف: خط کشیدہ عبارت کتاب الشفاء مطبوعہ شرکت صحافیہ میں نہیں ہے۔ نذیر احمد
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی     الباب الاول فی بیان ماہوفی قول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم        مطبع شرکت صحافیہ ترکی    ۲/ ۲۰۹)
شرح علی قاری میں ہے:
لعل الجمع بین الوصفین مطابق للواقع فی السوال والافکل واحد منہما یکفی فی تکفیر صاحب المقال ۲؎۔
دو چیزوں (اونٹوں والا، ابوطالب کا یتیم) کو شاید سوال میں جمع ذکرکرنے کی وجہ سے اکٹھا کردیا گیا ہے ورنہ ان دونوں میں سے ایک کابھی قائل کافر ہے۔ (ت)
 (۲؎ شرح الشفاء ملاعلی قاری         الباب الاول فی بیان ماہوفی قول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم        مطبع الحاج محرم آفندی    ۲/ ۳۹۶)
نیز شفا شریف میں بیعت معری: ع
کنت موسی وافتہ بنت شعیب    غیر ان لیس فیکما من فقیر ۳؎
 (آپ موسٰی کی طرح ہیں جن کے پاس حضرت شعیب کی صاحبزادی آئی تھیں مگر بات صرف اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی فقیر نہیں۔ ت) پر ارشاد فرمایا:
اخر البیت شدید وداخل فی باب الازراء، والتحقیر بالنبی علیہ الصلٰوۃ والسلام وتفضیل حال غیرہ علیہ ۲؎۔
دوسرے شعر کا مصرعہ ثانی نہایت نامناسب اور گستاخی کے باب میں داخل ہے کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں تحقیر وتوہین ہے اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر دوسرے کو فضیلت دی گئی ہے۔ (ت)
(۳؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی    فصل الوجہ الخامس الخ                مطبع شرکت صحافیۃ ترکی    ۲/ ۲۲۹)

(۴؎الشفاء بتعریف حقوق المصطفی    فصل الوجہ الخامس الخ                مطبع شرکت صحافیۃ ترکی    ۲/ ۲۲۹ )
شرح علی قاری میں ہے:
ای عجز شدید فی القبح عند تدبرہ لان مضمونہ التعییر لموسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام بفقرہ ۵؎۔
یعنی اس شعر کے آخری مصرعہ میں اگر تدبر کیا جائے تو اس میں قباحت شدید ہے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فقیر کہہ کر عار دلائی گئی ہے جو کہ قباحت کا باعث ہے۔ (ت)
 (۵؎ شرح الشفاء ملا علی قاری                            الحاج محرم آفندی    ۲/ ۴۴۲)
نیز شفا شریف میں اور اشعار بیباکان بدزبان جو اس سے ہلکے ہیں ذکر کرکے فرمایاـ:
ھذہ کلھا وان لم تتضمن سباولااضافۃ الی الملٰئکہ والانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام نقصا ولست اعنی عجزی بیتی المعری ولاقصد قائلہا ازراء وغضا فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزر حرمۃ المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
یہ تمام اشعار اگر چہ گستاخی اور فرشتوں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نقص پر مشتمل نہیں نہ ہی معری کے پورے کلام کودرست سمجھتاہوں اور نہ ہی ان کے قائل نے بے ادبی اور طعن کا قصد کیا، تاہم ان اشعار میں نبوت کا وقار اور رسالت کی عظت اورمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اعزاز نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی    فصل الوجہ الخامس الخ    مطبع شرکت صحافیہ ترکی    ۲/ ۲۳۰)
شرح علی قاری میں ہے:
 (لست اعنی) بھذہ النفی (عجز ی بیتی المعری) فانہ کفر واضح والحادلائح ۲؎۔
میں نہیں ہوں (اس نقص اور گستاخی کی) نفی میں معری کے شعروں کو درست قرار دینے والا کیونکہ یہ واضح کفر اور کھلا الحادہے۔ (ت)
(۲؎ شرح الشفاء ملا علی قاری         فصل الوجہ الخامس الخ  الحاج محرم آفندی    ۲/ ۴۴۵)
امام ابن حجر مکی شرح ہمزیہ مبارکہ میں زیر قول ماتن امام محمد بوصیری قدس سرہ ع
وسع العالمین علما وحلما        فہو بحرلم تعیہ الاعیاء

مستقل دنیاک ان ینسب     الامساک منہا الیہ والاعطاء ۳؎
 (آپ علم وحلم میں تمام جہانوں سے برترہیں، وہ ایساسمندر ہے جسے کوئی عیب لگانے والا عیب نہیں لگاسکتا، آپ دنیا کو حقیر وذلیل جانتے ہیں برابر ہے آپ کو غیرمستحق سے دنیا کو روکنا اور مستحق کو عطاکرنا۔ ت)
 (۳؎ متن الہمز یہ شرح الفتوحات الاحمدیۃ            المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر    ص ۴۶)
فرماتے ہیں:
فی السیف المسلول للتقی السبکی عن الشفاء واقرہ ان فقہاء الاندلس افتوا باراقۃ دم من وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالفقر فی اثناء مناظرتہ بالیتیم ثم زعم ان زھدہ لم یکن قصد او لوقدر علی الطیبات اکلھا و ذکر البدر الزر کشی من بعض الفقہاء المتاخرین انہ کان یقول لم یکن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر من المال ولاحالہ حال الفقر بل کان اغنی الناس باﷲ تعالٰی قد کفی امردنیا فی نفسہ وعیالہ وکان یقول فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ان المراد استکانۃ القلب لاالسکنۃ ھی ان لایجد مایقع لوقعاس کفایتہ وکان یشدد التکبر علی من یعتقد خلاف ذٰلک اھ واماخبر الفقر فخری وبہ افتخر فموضوع وقد صح انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعاذ من فتنۃ الفقر کما استعاذ من فتنۃ الغنی ۱؎۔
امام تقی سبکی نے ''السیف المسلول'' میں ''الشفاء'' سے نقل کرکے اسے ثابت رکھاہے کہ فقہاء اندلس نے اس شخص کے قتل کا فتوٰی جاری فرمایا جس نے دوران مناظرہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیرو یتیم کہا اور یہ عقیدہ رکھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا زہداختیاری نہ تھا اگر آپ اشیاء طیبہ پر قادر ہوتے توانھیں استعمال میں لاتے، امام بدرزرکشی نے بعض متاخرین فقہاء سے نقل کیا کہ فرمایا کرتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات گرامی مال کے اعتبار سے فقیر نہیں اور نہ آپ کاحال، حال فقرہے بلکہ اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے غنی بنایا ہے آپ اپنی ذات اور عیال میں دنیا کے کسی معاملہ میں ہر گز محتاج نہیں اور یہ بھی فرماتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جو ارشاد گرامی ہے ''اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ'' سے دل کی عاجزی مرادہے نہ کہ وہ غریبی ومحتاجی جو فقرکا مترادف ہے یعنی وہ محتاج جو قوت لایموت نہ رکھتا ہو، اور جو اس کے خلاف ذہن وعقیدہ رکھتاہو اس پر سخت ناراض ہوتے۔ رہا معاملہ حدیث ''فقر میرا فخر ہے اوراس  پر میں فخرکرتاہوں'' کا، تویہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے صحیح طورپر ثابت ہے کہ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالداری کے فتنہ سے پناہ مانگتے۔ (ت)
 (۱؎ شرح الہمزیہ للامام ابن حجر مکی دستیاب نہیں یہ عبارت مختصرا الفتوحات الاحمدیہ ص ۴۷ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ مصر پرملاحظہ ہو۔)
ان الفاظ کے ناجائز اورحرام ہونے پر یہ عبارات متظافرہ ہیں اور فتوائے فقہائے اندلس وامام ابوالحسن قابسی وتقریرات امام قاضی عیاض وامام تقی الملۃ والدین سبکی وتوضیحات علی قاری میں ان پر حکم کفر ہے۔

اقول وباللہ التوفیق، توفیق جامع وتحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہویا وصف عنوانی میں اگر قول قائل کے سیاق یاسباق یا  سوق یامساق سےطرز تنقیص ظاہر وثابت ہو یقینا کفرہے، اور اگر ایسا نہیں اور قائل جاہل ہے اور اس سے صدور نادر ہو اور وہ اس پر غیر مصر توہدایت وتنبیہ وزجر وتہدیدکریں اورحاکم شرع اس کے مناسب حال تعزیر دے کہ وہ ضرور سزاوار سزا ہے۔ اور اگر قائل مدعی علم ہے یا ایسے کلمات کا عادی یابعد تنبیہ بھی ان پر مصر تومریض القلب بددین گمراہ ومستحق عذاب شدید ہے، سلطان اسلام اسے قتل کرے گا اور زمین کو اس کی ہستی ناپاک سے پاک اورعام مسلمانوں کو اس کی صحبت ومجالست سے احترازلازم اور اسے واعظ یا امام نماز بنانا اس کا وعظ سننا اس کے پیچھے نماز ممنوع وحرام۔
وھذا ماقال الامام ابن حجر المکی ونقلہ فی النسیم مقراعلیہ عند ذکر فتیا الامام ابی الحسن القابسی المذکورۃ الظاھر ان مذھبنا لایابی ذلک لمافی عبارتہ من الدلالۃ علی الازراء فان ذکریتیم ابی طالب فقد لم یکن صریحا فی ذٰلک فیما یظھر نعم ان کان السیاق یدل علی الازراء کان کما لوجمع بین اللفظین ۱؎۔ اھ
یہ وہ ہے جو امام ابن حجر مکی نے فرمایا: صاحب نسیم الریاض نے اسے امام ابوالحسن القابسی کے فتوے مذکورہ کے ساتھ نقل کرکے اسے مؤید وثابت رکھاظاہریہی ہے کہ ہمارا مذہب اس کا انکار نہیں کرتا کیونکہ فقط یتیم ابوطالب کہنے میں ظاہراً وصراحۃً توہین نہیں ہے ہاں جب کلام کا پس منظر توہین پردال ہوگا تو یہ توہین بنے گا جیساکہ اس صورت میں بنتاہے جب دونوں (یتیم ابوطالب، اونٹ والا) کو جمع کردیا گیا ہو اھ (ت)
 (۱؎ نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض    الباب الاول        دارالفکر بیروت    ۴/ ۳۴۲)
کلمات بے ادبی کامعاذاللہ خود کہنا درکنار دوسرے کا کہا ہوا بے غرض رد وانکار لوٹانے پرشفاء شریف میں فرمایا:
اماالاباحۃ لحکایۃ قولہ لغیرھذین المقصدین فلااری لھا مدخلافی ھذا الباب فلیس التفکہ بعرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاحد بمباح و ذکرھا علی وجہ الحکایات و احادیث الناس والخوض فی قیل و قال ومالایعنی فکل ھذا ممنوع و بعضہ اشد فی المنع والعقوبۃ فما کان من الحاکی لہ علی غیر قصد اومعرفۃ بمقدار ماحکاہ اولم تکن عادتہ اولم تکن الکلام من البشاعۃ حیث ھو ولم یظھر علی حاکیہ استحسانہ و استصوابہ زجر عن ذٰلک ونھی عن العودۃ الیہ وان قوم ببعض الادب فھو مستوجب لہ وان کان  لفظہ من البشاعۃ حیث ھو کان الادب اشد وان اتُہِمَ ھذا الحاکی فیما حکاہ، انہ اختلفہ ونسبہ الی غیرہ اوکانت تلک عادۃ لہ، اوظھر استحسانہ لذٰلک فحکم ھذا حکم الساب نفسہ، یؤاخذ بقولہ ولاتنفعہ نسبتہ الی غیرہ فیبادر بقتلہ ویجعل الی الھاویۃ امہ ۱؎ (ملخصاً)
مباح ہونے کا ایک پہلو یوں بھی ہوسکتاہے کہ قائل اپنے مقولہ کوان دونوں مقاصد کے علاوہ کسی اور انداز کے ساتھ بیان کرے میرے خیال کے مطابق اس طرح اس کا تعلق ان امور میں باقی نہ رہے گا، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت سے کسی کو کھیلنا مباح نہیں ہے ایسے کلمہ کا بطورحکایت یالوگوں کی بات یا بطور بحث قیل وقال اور بے مقصد ذکر کرنا ممنوع ہے بعض طرز بیان ممانعت اور عقوبت میں زیادہ شدید ہے توحکایت کرنیوالے نے بے قصد اور بے علمی میں حکایت کی یا ا س کی ایسی عادت نہیں یا وہ بات کھلی بے ادبی نہیں بایں طور کہ وہ اس کو پسند اور درست نہیں مانتا،تو اس کو زجر کیا جائے گا، اور آئندہ ایسا کرنے سے منع کیا جائے گا اور اگر بطور ادب اس کو کچھ سزا دی جائے تو وہ اس کا مستحق ہے اور اگر وہ الفاظ کھلی بے ادبی ہو تو سزاسخت ہوگی، اور اگرحکایت کرنے والا اس سے متہم ہوکرحکایت بیان کرتے ہوئے بناوٹ سے کام لیتاہے اور غیر کی طرف منسوب کرتے ہوئے حکایت بیان کرے یا اس کی عادت ایسی ہے یا وہ بات اس کے ہاں پسندیدہ ہو تو اس کاحکم وہی ہوگا جو سبّ کرنے کاحکم ہے، یہ اسی کی بات متصور ہوگی اور غیر کی طرف منسوب کرنااس کو مواخذہ سے نہ بچاسکے گا لہذا فوراً قتل کیا جائے اور واصل جہنم کیا جائے (ملخصا) (ت)
 (۱؎ کتاب الشفاء    فصل الوجہ السادس    المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃترکی    ۲/ ۳۶ ۔ ۲۳۵)
Flag Counter