Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
131 - 150
مسئلہ ۲۵۲: مسئولہ سید اولاد علی صاحب مرادآبادی     ۷محرم الحرام ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
انہ بکل شیئ علیم ۵؎
(بیشک وہ سب کچھ جانتاہے۔ ت)
اور
اینماتولوا فثم وجہ اﷲ ۶؎
(تم جدھر منہ کرواُدھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ) ہے۔ ت)
 (۵؎ القرآن الکریم                            ۴۲/ ۱۲) (۶؎ القرآن الکریم                            ۲/ ۱۱۵)
اور
نحن اقرب الیہ من حبل الورید ۱؎
(اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں۔ ت) سے احاطہ اور قرب ذاتی مراد ہے یا صفاتی زیدکہتاہے کہ جمہور علماء کے نزدیک ان آیات کامطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی کا علم اور قدرت ہر شے کو محیط ہے نہ ذات، عمروکہتاہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی کی ذات ہر شے کو محیط اور شہ رگ  سے زیادہ قریب ہے کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو اور خدا ہر جگہ حاضر وناضر ہے اور اگر ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لیا جائے گا تو گویا صفات خدا ذات باری سے بڑھ گئیں اور ذات باری محدود اور صفات سے چھوٹی ہوگی، اور جو شخص ان آیات سے احاطہ اور قرب صفاتی مراد لے وہ مشرک ہے اگر دنیا بھر کے عالم ایسا کہیں تو بھی ایک کی نہ مانوں گا اور سب کو مشرک کہوں گا اور اپنی دلیل میں شاہ امداد اللہ صاحب اور مولانا روم صاحب اور امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کے اقوال پیش کرتاہے، ان دونوں میں کس کا قول صحیح ہے؟ اور اگر زید حق پر ہے توعمروکے واسطے شریعت مطہرہ میں کیاحکم ہے وہ اپنے اس قول سے کسی گناہ کا مرتکب ہے یانہیں؟ بینوا مع الدلائل من الکتاب توجروا من اﷲ الوھاب (کتب سے دلائل کے ساتھ بیان کیجئے اور اللہ وہاب سے اجرپائیے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵۰/ ۱۶)
الجواب

رب انی اعوذبک من ھمزات الشیطین و اعوذبک رب ان یحضرون ۲؎۔
اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم            ۲۳/ ۹۸ ۔ ۹۷)
آیات متشابہات میں اہل سنت حفظہم اللہ تعالٰی کے دو مسلک ہیں:

اقول تفویض کہ ہم ان کے معنی کچھ نہیں جانتے اللہ ورسول جانتے ہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو معنی مراد الہٰی ہیں ہم اس پر ایمان لائے،
اٰمنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الااولوالالباب ۳؎۔
ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم            ۳/ ۷)
یہی مسلک سلف ہے اوریہی صحیح ومعتمد، اس تقدیر پر تو نہ احاطہ ذاتی کہا جائے نہ صفاتی کہا جائے، معنی سے کچھ بحث ہی نہ کی جائے، حضرت ام المو منین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے
الرحمن علی العرش استوی ۱؎
 (رحمان نے عرش پر استواء فرمایا۔ت) کے معنی دریافت کئے گئے فرمایا:
الاستواء معلوم والکیف مجھول والایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ ۲؎۔
استواء معلوم ہے اور کیف مجہول ور اس پر ایمان فرض اور اس کی تفتیش بدعت۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲۰/ ۵)

(۲؎ لباب التاویل (تفسیر الخازن)        ۷/ ۵۴ثم استوٰی علی العرش کے تحت    مصطفی البابی مصر        ۲/ ۲۳۸)

(درمنثور                 بحوالہ مردویہ عن ام سلمہ رضی اللہ عنہا ۷/ ۵۴     منشورات مکتبہ آیۃ اللہ المعظمی قم ایران    ۳/ ۹۱)

(مدارک التنزیل (تفسیر نسفی)         ۲۰/ ۵ سورہ طٰہ،        دارالکتب العربی بیروت        ۳/ ۴۸)
یہی جواب سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیا، یہی مسلک ہمارے امام اعظم اور سائر ائمہ سلف کاہے، ہاں ہم ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالٰی جسم وجہت ومکان سے پاک ومنزہ ہے، کسی مکان میں نہیں ہوسکتا، کسی جگہ نہیں ہوسکتا، کسی طرف نہیں ہوسکتا، اور طرف سب اس کے بنائے ہوئے ہیں، اور حادث ہیں، اور قدیم ازلی، ازل میں کسی جگہ کسی طرف نہ تھا کہ جگہ اور طرف تھے ہی نہیں تو اب کسی جگہ اور طرف میں نہیں، جیسا جب تھا ویساہی اب ہے، جگہ اور طرف کو بناکر بدل نہ گیا،جگہ اور طرف بدلیں گے اور وہ بدلنے سے پاک ہے۔

دوم تاویل کہ ایسی آیات کوحسب محاورہ معنی جائز پر حمل کریں جس سے نہ چین لینے والی طبیعتوں کو تسکین ہو اور ایمان سلامت رہے یہ مسلک خلف کا ہے اور اس طورپر احاطہ صفاتی مرادلیں گے، علم وقدرت الہٰی ہرشے کو محیط ہونے کے بھی یہ معنی نہیں کہ اس کے علم وقدرت ہر جگہ متمکن ہیں کہ جگہ یا طرف میں ہونا جسم وجسمانیت کی شان ہے اور وہ اور اس کے صفات ان سے متعالی بلکہ احاطہ علم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے واجب یا ممکن یا ممتنع معدوم یا موجودحادث یا قدیم اسے معلوم ہے، احاطہ قدرت کے معنی یہ ہیں  کہ ہر ممکن پر اسے قدرت ہے، اس سے صفات کا ذات سے بڑھ جانا نہ کہے گا مگر مجنون، عمرو کاوہ کہنا کہ کوئی مکان کوئی گوشہ ایسانہیں جہاں ذات خدا موجود نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ اس کی ذات کے لئے جگہ ثابت کرناہے، فتاوٰی تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وفتاوٰی عالمگیری وجامع الفصولین وغیرہ میں اس پرحکم کفر فرمایا اوراحاطہ صفاتی ماننے والے کو اس کا مشرک کہنا ہزاروں ائمہ خلف پر حکم شرک لگانا ہے اور اس کا کہنا کہ ''اگر تمام دنیا کے عالم ایسا کہیں تو میں سب کو مشرک کہوں گا'' صریح کفر پر آمادگی ہے کہ تمام جہاں کے عالموں کو مشرک نہ کہے گا مگر کافر اورکفرپر آمادگی کفرہے، عمرو پر توبہ فرض ہے اپنے عقیدہ باطلہ سے تائب ہو اور کلمہ اسلام پڑھے اور عورت رکھتاہو تو بعد اسلام اس سے پھر نکاح کرے اگر وہ راضی ہو ہم چند سہل سہل باتیں لکھتے ہیں اگر اللہ تعالٰی کو اسے ہدایت کرنا ہے تو انھیں سے وہ سمجھ لے گا کہ اس نے کیسی ناپاک بات کہی اوراپنے معبود کو کیسے کیسے گھناؤ نے داغ لگائے اور نظر انصاف سے نہ دیکھے اور تعصب وعنادبرتے تو اللہ راہ نہیں دیتاہے ظالموں کو، ذرا آنکھیں بند کرکے گردن جھکا کر رب عزوجل کی عظمت پر ایمان لاکر غور کرے کہ اس نے کیسی ذلیل چیز کا نام خدارکھا ہے الحمد للہ معیت وقرب واحاطہ الہٰیہ پر مسلمان کا ایمان ہے مگر نہ ان معنی پر جو ان الفاظ سے لغوی وعرفی طورپر سمجھ آتے ہیں بلکہ ان پر جو مراد الہٰی ہیں اور ہمارے عقول سے وراء ہیں معاذاللہ اگریہی ظاہری معنی لئے جائیں جس پریہ کہاجائے کہ وہ بذاتہ ہرمکان ہر گوشہ میں موجود ہے تو اس سے زائد ذلیل ترکوئی عیب لگانا نہ ہوگا۔

(۱) جب کہ اس کے نزدیک اس کا وہمی معبود بالذات ہر مکان ہرگوشہ میں موجود اورہرشے کو بالذات محیط ہے تو پاخانہ میں بھی ہوگا، اس کی نجاست کو لپٹاہوا بھی ہوگا، اس نجاست کے ساتھ اس کے بدترین مقام سے نکلا بھی۔

(۲) جوشے دوسری شے کو بالذات محیط ہو وہ یوہیں ہوگا کہ محیط کے اندر جوف ہو جو اس دوسری چیز کو گھیرے ہوئے ہے جیسے آسمان زمین کو محیط ہے تو ا س کامعبود جوف دار کہگل ہوا اور اللہ واحد قہار صمدہے جوف سے پاک ہے۔

(۳) سب اشیاء کو محیط ہونا بایں معنی ہے کہ اس کا معبود وہمی تمام عالم کے باہر باہر ہے اور عالم اس کے اندر ہے جیسے فلک الافلاک کے اندر باقی کرّے جب تو شہ رگ سے زیادہ قریب کیسے ہوا بلکہ لاکھوں منزل دور ہوا اور اگریوں ہے کہ ہر ذرہ ذرہ کو بذاتہ بلاواسطہ محیط ہے تو بلاشبہ وہ شے کہ مشرق کے کسی ذرہ کومحیط ہو قطعا اس کی غیر ہو گی  جو مغرب کے ذرہ کو محیط ہے تو ذروں کی گنتی پر خدا یا خدا کے ٹکڑے ہوئے اور وہ احدصمد اس سے متعالی ہے۔

(۴) جب کہ وہ ہر شے کو بالذات محیط ہے تو زمین کوبھی محیط ہوگااور یہ جوتم چلتے ہو اور جوتیاں پہن کر پاؤں رکھتے ہو وہ تمھارے معبود پر ہوئیں تم جو پاخانہ پیشاب پھرتے ہو وہ تمھارے معبودپر گرا کیسا گھناؤنامعبود اور کیسے ناپاک عابد،
ضعف الطالب والمطلوب ۱؎
(کتنا کمزور چاہنے والا اور جو چاہا گیا۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲۲/ ۷)
 (۵) مثلا کسی زید نے کسی عمرو کو جوتا مارا تو عمرو کو بھی اس کا معبود محیط ہے، اس جوتے پڑتے وقت وہیں قائم رہے گا یا ہٹ جائے گا اگر ہٹ گیا تو ہرشے کو محیط نہ رہا اگر قائم رہا تو اسی پر پڑا،

(۶) جس وقت زید نے جوتا اٹھایا اورا بھی عمرو کے بدن تک نہ پہنچا تو جوتے اور عمرو کے بدن میں جو فاصلہ ہے وہ بھی ایک شے اور وہ ایک جگہ ہے، وہ وہمی معبود بذات خود یہاں بھی موجود ہوگا یہاں سے وہاں تک جگہ اس سے بھری ہوئی ہے اب جوتا آگے بڑھا کہ بدن عمرو سے قریب ہو اس بڑھنے میں وہ وہمی معبود کہ یہاں سے وہاں تک بھرا ہوا تھا، پانی یا ہوا کی طرح چرے گا کہ جوتا اس میں ہوتا ہوا گزر جائے گا جب توطرفہ معبود جسے جوتے نے پھاڑدیا ا ور اگر نہ چرے گا بلکہ سمٹے گا جیسے پھولی ہوئی روٹی سمٹتی ہے تومعبود کیا ہوا ربڑہوا، اور اگر نہ چرے گا نہ سمٹے گا تو ضرور ہے کہ جوتا دیکھ کر جگہ چھوڑ دے گا ہر جگہ موجود کہاں رہا؟

(۷) جب کہ ہر وہ شے کہ بذاتہ محیط ہے تو محیط جیساشے کے اوپر ہوتاہے ویسا ہی اس کے نیچے پاؤں کے تلے وہ جو توں کے نیچے وہ پھر ایسے ذلیل کو رب اعلی کیسے کہا جاسکتاہے!
تعالٰی اﷲ عما یقول الظالمون علوالکبیرا، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العطیم وصلی اﷲ العلی الاعلی علی الکریم المولی والہ وصحبہ وبارک وسلم ابدا امین، واستغفراﷲ العظیم والحمد ﷲ رب العالمین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جو کچھ ظالموں نے کہا اللہ تعالٰی اس سے کہیں بلند و بزرگ ہے نیکی بجالانا اور برائی سے پھرنا اللہ بلند وبزرگ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور بلند و اعلٰی اللہ تعالٰی کی خصوصی رحمتیں ہوں کریم مولٰی پر اور اس کی آل اور اصحاب پر بھی، ہم اللہ تعالٰی سے معافی کے طلب گارہیں، تمام حمد اللہ رب العالمین کےلئے ہے، اللہ سبحانہ وتعالٰی ہی بہتر جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۳: مرسلہ مجیب الدین ساکن امسچور پوسٹ ٹوپیری بازی ضلع ڈھاکہ ۶ صفر ۱۳۳۵ھ

جومذہب اور فقہ کانہیں ماننے والاکتابی ہے یا خارجی؟
الجواب

جومسلمان کہلاکر فقہ کو اصلا نہ مانے نہ کتابی ہے نہ خارجی بلکہ مرتد ہے اسلام سے خارج اور اگر کوئی تاویل کرتاہے تو کم از کم بددین گمراہ۔

قال اﷲ تعالٰی
فلولانفرمن کل فرقۃ طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: توکیوں نہ ہو کہ ان کےہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                ۹/ ۱۲۲)
وفی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من یرد اﷲ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ۲؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے، اللہ تعالٰی جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتاہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری        کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۶)

(صحیح مسلم        کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۱۴۳)

(المعجم الکبیر         حدیث ۹۱۱                المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۹/ ۳۸۹)
مسئلہ ۲۵۴: مرسلہ محمد الیاس صاحب واعظ خراسانی شہر جونا گڑھ ملک کاٹھیاوار ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس شخص کے بارہ میں جس کا عقیدہ یہ ہوکہ اللہ تبارک وتعالٰی نے فرشتوں سے مشورہ کیا اگر چہ اس کی ضرورت نہیں مگر تعلیماً کہ ہم تم بھی مشورہ سے کام لیں، کیا ایسے شخص سے بامید نجات ابدی بیعت ہونا مفید ہے یا جو مرید ہوچکے ہیں کچھ فائدہ نہ اُٹھائیں گے، بینوا توجروا (بیان کرو اجرپاؤ۔ ت)
الجواب

اتنی بات ایسی نہیں جس کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت ناجائز ہوجائے خصوصا کہ اس نے تصریح کردی کہ اسے حاجت مشورہ کی نہیں بندو ں کے ارشاد کے لئے ایساکیا توجو اس سے وہم جاتا وہ بھی اس نے دفع کردیا، خود حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
استشار نی ربی فی امتی ثلثا ۳؎
مجھ سے میرے رب نے میری امت کے بارہ میں تین بار مشورہ چاہا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث حذیفہ بن الیمان            دارالفکربیروت    ۵/ ۳۹۳)

(الخصائص الکبرٰی    باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بان امۃ الخ  مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۲/ ۲۰۶)
مسئلہ ۲۵۵: مرسلہ سخاوت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہدپور ریاست اندور ملک مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ

کوئی شخص سنت وجماعت میں سے نماز سے انکار کرے اور اس سے کہا جائے کہ نماز سےانکار کرنا کفرہے اس کے جواب میں وہ کہے کہ میں کافرہی سہی، ایسے شخص کی نسبت کیاحکم ہے؟ فقط
الجواب

نماز سے انکار یہ بھی ہے کہ وہ کہے میں نہیں پڑھتایانہیں پڑھوں گا، اس قدر سے کافر نہ ہوگا جب تک نماز کی فرضیت سے انکار یا اس کااستخفاف نہ کرے، اگرشخص مذکور کا انکار اس حد کا نہ تھا تو جس نے اس کے انکار پر حکم کفر لگایا خاطی ہوا، اور اسی کی زیادتی اس شخص کو ایسے کلمہ مردودہ کی طرف لے گئی، بہرحال اپنے آپ کو یہ کہنا کہ کافر ہی سہی اس کا ظاہر معاذاللہ قبول کفر ہے، اور قبول کفر یقینا کفرہے، مگراس معنی کابھی احتمال ہے کہ نزدیک کافر ہی سہی لہذا حکم تکفیر نہ کیا جائے گا البتہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter