Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
130 - 150
مسئلہ ۲۴۷ تا ۲۴۸: محمد ظہیرالدین صاحب ثمن برج وزیر آباد پنجاب    ۳ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عالم غیر مقلد عقائد وعملیات، جوکہ اس دارفانی سے عالم جاودانی کو رحلت کرجائے، اور اس کی نماز جنازہ ایک غیر مقلد پڑھائے، اور اس غیر مقلد کے پیچھے ایک عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد متوفی کے عمل کو اچھا اور غیر مقلد کے اقتداء کو جائز سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی _______ حالانکہ وہ عالم حنفی المذہب قبل ازیں لوگوں کو عقائد غیرملقدین سے منع کرتارہا ہو پس اس حالت میں جب کہ عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد کی نماز جنازہ غیر مقلد امام کے پیچھے جائز تصور کرکے اداکی ہو تو اس پر ازروئے شرع محمدی کیا تعزیر ہوتی ہے اور کیا بلاتوبہ واستغفار ایسے عالم حنفی کی اقتداء جائزہے؟ عالم غیر مقلدین متوفی وامام غیر مقلد ائمہ ار بعہ مجتہدین کے مسائل استنباط واجتہاد یہ کو خلاف حدیث سمجھتااور اکثران کے برعکس فتوے دیتا اور عمل کرتاہو مثلا:

(۱) نمازتراویح بیس رکعات سے کم ہر گز کسی امام کے نزدیک نہیں وہ آٹھ رکعت کاحکم دیتااور عمل کرتا۔

(۲) مسئلہ طلاق ثلاثہ جوکہ فی کلمۃ واحدۃ اور جلسہ واحدۃ کے کہی گئی ہو اس طلاق ثلاثۃ کوحکم رجعی طلاق کادے کر بدون نکاح شوہر ثانی اس کے ساتھ نکاح کرادیتاہو اور طلاق بالخلع کی عدت ایک حیض آنے کے بعد نکاح کرادیتا ہو اور تقلید شخصی سے بالکل انکار کرتاہو، علاوہ ازیں آمین بالجہر کہنا امام کے پیچھے الحمدکا پڑھنا ہاتھ سینہ پر باندھنا سورہ فاتحہ میں ض کی جگہ ظ پڑھنا وغیرہ وغیرہ جائز سمجھتاہو۔
الجواب

سائل نے جو فہرست گنائی وہ غیر مقلد کے بعض فرعی مسائل باطلہ واعمال فاسدہ کی ہے ان کے عقائد اورہیں جن میں بکثرت کفریات ہیں ان میں سے بعض کی تفصیل رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ میں ہے، جس میں ستروجہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہاء کرام لزوم کفر ثابت کیا ہے کسی جاہل صحبت نایافتہ کی نسبت احتمال ہوسکتاہے کہ وہ ان کے عقائد ملعونہ سے آگاہ نہیں ظاہر ی صورت مسلمان دیکھ کر اقتداکرلی اور نماز جنازہ پڑھ لی مگر جسے عالم ہونے کا دعوٰی ہو اور ان کے عقائد پر مطلع ہولوگوں کو ان سے منع کرتاہو اور خود انھیں اچھا جان کر ان کے جنازہ کی نماز پڑھے اور ان کی اقتدا کرے تو ضرور اس کے عقیدے میں فساد اور اس کے ایمان میں خلل آیا اور وہ بھی متہم شمارکیا جائے گا۔
قال اﷲ تعالٰی
 ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورتم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۵/ ۵۱)
اب اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور اس پر توبہ و تجدید اسلام لازم ہے اور اگر عورت رکھتاہے تو بعد توبہ وتجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔
واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم ۲؎۔ ومن یتول فان اﷲ ھوالغنی الحمید ۳؎۔ ومن کفر فان اﷲ غنی عن العالمین ۴؎۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اوراللہ تعالٰی جسے چاہتاہے ہدایت سے نوازتاہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہا، اورجومنکر ہو تو اللہ تعالٰی تمام جہانوں سے مستغنی ہے، ہم اللہ تعالٰی سے عفو اور عافیت مانگتے ہیں کہ بلندوعظیم اللہ تعالٰی کی قوت اور توفیق کے بغیر نہ بُرائی سے بچاجا سکتاہے اور نہ ہی نیکی کو بجالایا جاسکتا ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم            ۲/ ۲۱۳)(۳؎ القرآن الکریم            ۳۱/ ۱۲)(۴؎ القرآن الکریم            ۳/ ۹۷)
مسئلہ ۲۴۹ و۲۵۹: از ملک کاٹھیا وار مقام اڑتیاں آمین احمد    ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ

(۱) ہندو یا نصارٰی اس کو کافربولناکیساہے؟

(۲) ایک ہندو کو پھانسی کاحکم ہوا وہ اسی وقت مسلمان ہونا چاہتاہے یہ مسلمان ہوگایانہیں؟
الجواب

(۱) گالی کے طورپر کافر کہنا اور بات ہے اور شرع کی اصطلاح یہ ہے کہ جو مسلمان نہیں اسے کافر کہاجاتاہے بایں معنی جوکوئی اسلام میں نہ ہو شرع کے نزدیک کافرہے۔

(۲) پھانسی ہوجانے سے ایک آن پہلے جو اسلام لائے مسلمان ہوجائے گا اور اس کی تجہیز وتکفین اور اس کے جنازہ کی نماز مسلمانوں پر فرض ہوگی۔
مسئلہ ۲۵۱: امام بخش زیدی از جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان    ۳محرم الحرام ۱۳۳۵ھ

وحدۃ الوجود حق ہے یانہ؟
الجواب

توحید ایمان ہے لاالہ الااﷲ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ت) اور وحدت حق
کل شیئ ھالک الاوجہہ ۱؎
(اس کی ذات کے سوا ہر کوئی ہلاک ہونے والاہے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                ۲۸/ ۸۸)
سواد بن قارب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی:
فاشھد ان اﷲ لارب غیرہ،
وانک مامون علی کل غائبٖ ۲؎
 (میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک اللہ تعالٰی کے سوا کوئی رب نہیں اور بیشک (یارسول اللہ!) آپ ہر غیب پر امین ہیں۔ ت)
 (۲؎ المستدرک للحاکم    کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ اسلام سواد بن قارب    دارالفکربیروت    ۳/ ۶۰۹)

(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری    باب اسلام عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ        ادارۃ الطباعۃ المنیریہ یروت    ۱۷/ ۸)

(مختصر سیرۃ الرسول    از عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب نجدی        المکتبۃ السلفیہ لاہور    ص ۶۹)
اور اتحاد باطل اور اس کا ماننا الحاد:
ان کل من فی السمٰوٰت والارض الااتی الرحمٰن عبدا ۳؎ o
آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہوکر حاضر ہوں گے۔
 (۳؎ القرآن الکریم       ۱۹/ ۹۳)
وجود واحد ہے اور موجود احد، باقی سب ظل وعکوس،
ھو الاول والاخر والظاھر والباطن وھو بکل شیئ علیم ۴؎۔
 واﷲ تعالٰی اعلم۔
وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن، اور وہی سب کچھ جانتاہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۴؎ القرآن الکریم   ۵۷/ ۳)
Flag Counter