Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
13 - 150
متن عقائد میں مسئلہ مصرحہ ہے، نیز فتاوٰی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
من اعتقدالحرام حلالااو علی القلب یکفر ھذااذاکان حرامابعینہ و الحرمۃ قامت بدلیل مقطوع بہ امااذاکانت باخبار الاحاد لایکفر۳؎(ملخصا)۔
جس نے کسی حرام کو حلال یا حلال کوحرام مان لیا تو وہ کافر ہوجائے گا، یہ اس صورت میں ہے کہ وہ حرام لذاتہ ہو اور اس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو، اگر ثبوت خبرواحد سے ہوتو کافر نہیں ہوگا۔(ملخصًا)(ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی     الفصل الثانی فی الفاظ الکفر الخ    مکتبہ حبیبہ کوئٹہ         ۴/ ۳۸۳)
بزازیہ وشرح وہبانیہ ودرمختارمیں ہے:
یکفر اذاتصدق بالحرام القطعی۴؎۔
حرام قطعی کے تصدق سے کافر ہوجائے گا۔(ت)
 (۴؎ درمختار         کتاب الزکوٰۃ     باب زکوٰۃ الغنم     مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۱۳۴)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ ان شرط الکفر علی القول الاول شیئاٰن قطعیۃ الدلیل وکونہ حرامالعینہ، وعلی الثانی یشترط الشرط الاول فقط، وعلمت ترجیحہ، ومافی البزازیۃ مبنی علیہ۵؎۔
حاصل یہ ہے کہ قول اول پر کفر کے لئے دوشرائط ہوں گی اول دلیل کا قطعی ہونا، ثانی اس کاحرام لذاتہ ہونا، اور دوسرے قول پر پہلی شرط ہے اور آپ اس کی ترجیح سے آگاہ ہیں، اور بزازیہ کا مداراسی پر ہے۔(ت)
 (۵؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ   باب زکوٰۃ الغنم            داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۷)
حالات دائرہ میں دونوں شرطیں موجود ہیں تو یہ باجماعِ ائمہ حنفیہ کفر ہیں۔ کفار ومشرکین کی ایسی تعظیمیں کفر ہیں، ان کی جے پکارنا، ان کے مرنے یا جیل جانے پر ہڑتال اور اس پر وہ اصرار، اور جو مسلمان نہ مانے اس پر وہ ظلم وہ اضطراب، کمال تعظیم کفار اور باعث دخول نار وغضبِ جبار، وحسب تصریحاتِ ائمہ موجب کفر واکفار، 

فتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفرلان تبجیل الکافرکفر۔۱؎
اگر کسی نے ذمی کو احتراماً سلام کہہ دیا تو یہ کفر ہے کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہوتی ہے۔(ت)
 (۱؎درمختار    کتاب الحظر والاباحۃ     فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵۱)
فتاوی امام ظہیرالدین ومختصر علامہ زین مصری وشرح تنویر مدقق علائی میں ہے:
لوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر۲؎۔
اگر کسی نے مجوسی کو تعظیماً ''یااستاد'' کہا تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الحظر والاباحۃ     فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵۱)
رب عزوجل فرماتاہے :
وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لایعلمون۳؎۔
عزّت تو خاص اﷲ ورسول ومسلمین ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
 (۳؎ القرآن الکریم        ۶۳/ ۸)
رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۴؂ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن بسر وابن عساکر وابن عدی عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابونعیم فی الحلیۃ والحسن بن سفیان فی مسندہ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین والبیہقی فی شعب الایمان عن ابراہیم بن میسرۃ مرسلا۔
جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی بیشک ا س نے دین اسلام کے ڈھادینے پر مدددی (اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن بسر، ابن عساکر اور ابن عدی نے ام المومنین سیدہ صدیقہ سے، ابونعیم نے حلیہ میں اور حسن بن سفیان نے مسند میں حضرت معاذ بن جبل سے ، سجزی نے ابانۃ میں حضرت ابن عمر سے اور ابن عدی کی طرح_____حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابراہیم بن میسرہ سے اسے مرسلًا روایت کیا ہے۔(ت)
 (۴؎ شعب الایمان     حدیث ۹۴۶۴    دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۷/ ۶۱)
بدمذہب کی توقیر پر یہ حکم ہے مشرک کی تعظیم پر کیا ہوگا، ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یصافح المشرکون اویکنو اویرحب بھم۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی مشرک سے ہاتھ ملائیں یا اسے کنیت سے ذکر کریں یا اس کے آتے وقت مرحبا کہیں۔
 (۱؎ حلیۃ الاولیاء     ترجمہ ۴۴۶اسحاق بن ابراہیم    دارالکتاب العربی بیروت    ۹/ ۲۳۶)
یہ باتیں کچھ ایسی تعظیم بھی نہیں ادنٰی درجہ تکریم میں ہیں کہ نام لے کر نہ پکارا فلاں کا باپ کہا یا آتے وقت جگہ دینے کو آئیے کہہ دیا، حدیث نے اس سے بھی منع فرمایا نہ کہ معاذ اﷲ اس کی جے پکارنی اور وہ افعال شیطانی، اور یہ عذر یا رد کہ یہ اقوال عوام کے ہیں کسی ذمہ دار کے نہیں، محض کاذب وپادر ہوا ہے، تمہیں نے عوام کا لہوام کو اس اتحاد مشرکین حرام ولعین پر ابھارا اور ان حرکات ملعونہ سے نہ روکا بلکہ اپنے مقاصد مفاسد کامؤید سمجھا تمہارے دلوں میں ایمان یا ایمان کی قدر ہوتی تو اس اتحاد حرام و کفر کے لئے جیسی زمین سروں پر اٹھالی ہے، رات دن، مشرق مغرب ٹاپتے پھرتے ہو، ہزاروں دھواں دھار ریز ولیشن پاس کرتے ہو اس کے مخالف بلکہ اس میں ساتھ نہ دینے والوں پر فتوٰی کفر لگاتے ہو، صدہا اخبارات کے کالم ان کی بدگوئی سے گندے کرتے ہو، اس سے سو حصے زائد ان کفروں، ضلالوں کی آگ بجھانے میں دکھاتے کہ یہ تمہاری ہی لگائی تھی اوراپنی داڑھی بچانے کے لئے اس کا بجھانا تم پر فرض عین تھا، مگر سب دیکھ رہے ہیں کہ ہر گزہرگز ان شیطنتوں کی روک تھام میں اس بولاہٹ والی جان توڑ کوشش کا دسواں، بیسواں،سوواں حصہ بھی نہ دکھایا پھر جھوٹے بہانے بنانے سے کیا حاصل، معہذا خود ذمہ داروں نے جو کچھ کیا وہ جاہلوں کی حرکات مذکورہ سے کہیں بدتر و خبیث تر ہے، اور کیوں نہ ہوکہ شملہ بمقدار علم، ابوالکلام آزاد صاحب  نے کمپ ناگپور میں جمعہ پڑھایا اور خطبہ میں مدح خلفائے راشدین وحضرات حسنین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی جگہ گاندھی کی حمد کی اسے مقدس ذات ستودہ صفات کہا، میاں عبدالماجد بدایونی نے ہزاروں کے مجمع میں گاندھی کو مذکر مبعوث من اﷲ کہا کہ اﷲ نے ان کو تمہارے پاس مذکر بنا کر بھیجا ہے، کہاں یہ کلمات  ملعونہ اور کہاں بے تمیز احمق جاہلوں کاجے پکارنا،
فانی تؤفکونo۲؎افلاتعقلونo۳؎کلابل ران علٰی قلوبھم ماکانوایکسبون۱؎۔
تم کہاں اوندھے جاتے ہو، تو کیا تمہیں عقل نہیں، کوئی نہیں،بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم       ۱۰/ ۳۴    )(۳؎ القرآن الکریم     ۲/ ۴۴)(۱؎ القرآن الکریم          ۸۳/ ۴)
Flag Counter