مسئلہ ۲۳۹و ۲۴۱: محمد عبدالحمید ساکن رولوشدہ مدی پارہ ضلع پترہ ڈاکخانہ سیف اللہ کندی ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)بعضے ذاکرین اپنے مرشد کو خدا کہتے ہیں بایں نیت کہ مرشد اگر رہنمائی نہ کرے تو معرفت الہٰی کیسے حاصل ہوگی اور اکثر مرشد کے قدم پرسجدہ کرتے ہیں یہ فعل ان کے رواہیں یانہیں؟
(۲) بعضے نادان علماء کوحقارت کے ساتھ گالی دیاکرتے ہیں اور شریعت مطہرہ کی بھی اہانت کرتے ہیں تو اس پر شرعا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر گالی دیوے توکیاحکم ہے؟
(۳) ایک شخص جو کسی قدر علم رکھتاہے مسجد کے بارے میں لوگوں کو کہتاہے کہ تم لوگ مسئلہ کولے کر یہاں کا جھگڑا فساد کرتے ہو مسجد ہی توتمھارے لئے فساد گاہ ہے وہاں جاکر جوکرنا ہے کرو، اور وہ توبہ کے بارے میں کہتاہے کہ فقط توبہ ہی سے گناہ معاف ہوجاتاہے، یہ ہرگز نہیں ہوتا، اوروہ شخص مسئلہ کا جواب بلاتحقیق دیا کرتاہے اور مکروہ کے بارے میں کہتاہے کہ یہ تو مکروہ ہی ہے حرام تو نہیں مکروہ سے کیا ہوگا اورکوئی چیز مکروہ تحریمی ہو تو کہتاہے کہ لاؤ مکروہ تحریمی کھالوں گا، ایسے شخص پر شرعا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا (بیان کرو اجر پائیے۔ت)
الجواب
(۱) مرشد کو خدا کہنے والا کافرہے اور اگر مرشد اسے پسند کرے تو وہ بھی کافر، مرشد برحق کی قدمبوسی سنت ہے اور سجدہ ممنوع۔
(۲) شریعت کی توہین کرنے والا کافرہے۔
قال اﷲ تعالٰی، قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لاتعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تو کہہ دے کیا تم اللہ سے اور اس کے کلام اور اس کے رسول سے ٹھٹھاکرتے ہو، بہانے مت بناؤ، تحقیق تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۶۶۔ ۶۵)
یونہی عالم دین سنی صحیح العقیدہ داعی الی اللہ کی توہین کفر ہے،
مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالعلماء والاشراف کفر ۱؎۔
علماء اور سادات کی توہین کفرہے۔
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
اسی میں ہے :
من قال للعالم عویلم فقد کفر ۲؎
جو کسی عالم کو حقارت سے ''مولویا'' کہے وہ کافر ہے۔
(۲؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
مگر یہ اوپر بتادیا گیا اور واجب اللحاظ ہے کہ عالم دین وہی ہے جو سنی صحیح العقیدہ ہو، بدمذہبوں کے علماء علمائے دین نہیں۔ یوں تو ہندوؤں میں پنڈت اور نصارٰی میں پادری ہوتے ہیں اور ابلیس کتنا بڑا عالم تھا جسے معلم الملکوت کہا جاتاہے قال اﷲ تعالٰی
اضلہ اﷲ علی علم ۳؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴۵/ ۲۳)
ایسوں کی توہین کفرنہیں بلکہ تاحدِ مقدور فرض ہے، حدیث شریف میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس ۴؎۔
کیا تم فاجر کے ذکر سے گبھراتے ہو جب لوگ اسے جانتے ہوں فاجرکے فجور کا ذکر کرو تا کہ لوگ اس سے محفوظ رہیں۔ (ت)
(۴؎ سنن الکبرٰی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۰)
(تاریخ بغداد ترجمہ ۴۵ ۳۷، ۳۷۵۱ دارالکتاب العربی بیروت ۷/ ۲۶۲ و ۲۶۸)
(۳) بے تحقیق مسئلہ کا جواب دینا حرام ہے، اور مکروہ تحریمی مرتبہ واجب میں ہے اس کاہلکا جاننا گمراہی وضلالت ہے، اور مسائل شرعیہ ومسجد کی توہین مذکور کفرہے، اور یہ بھی اس کا شریعت پر افتراء ہے کہ توبہ سے گناہ معاف نہیں ہوتے، حدیث میں فرمایا:
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۵؎۔
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتاہے گویا گناہ کیا ہی نہ تھا۔
(۵؎ سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳)
حق سبحنہ فرماتا ہے:
ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوا عن السیئات ۶؎
۔ واﷲ اعلم۔
اللہ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر کرتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۶؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۵۴)
مسئلہ ۲۴۲: از پوپاری جنتازن مارقوار محمد حبیب اللہ ۲۰ رجب ۱۳۳۴ھ
دین محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دن نقلی ہے یااصلی؟ اور اصلی ہے تو نقلی کہنے والے کو کیا سمجھنا چاہئے؟
الجواب
ان الدین عنداﷲ الاسلام ۱؎
(بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ ت) اللہ کے یہاں یہی دین دین ہے اس کے سوا کوئی دین مقبول نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۹)
ومن یتبغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھوفی الاخرۃ من الخاسرین ۲؎۔
اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۸۵)
تو یہی دین اصلی ہے اور یہ نقلی بھی ہے بایں معنی کہ اس کے احکام شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقول ہیں، فلاسفہ وغیرہم کی طرح عقلی ڈھکوسلے نہیں، اس معنی پر اگر نقلی کہا تو صحیح کہا، اور اگر نقلی بمقابلہ اصلی کہا یعنی معاذاللہ واقعی دین نہیں بلکہ کسی کی نقل اتاری گئی تو ایسا کہنے والا کافر، یہ بات اس وقت کے باہم محاورات سے واضح ہوگی، اور اگرواضح نہ ہو تو معنی صحیح بنتے ہوئے خواہی نخواہی معنی باطل پرحمل نہ کریں گے اور تکفیر جائز نہ ہوگی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴: مسئولہ محمد احمد طالب علم مدرسہ اہل سنت یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱) رب العزت جل جلالہ وتعالٰی شانہ کی نسبت میاں اور صاحب کہنا یعنی اللہ میاں اور اللہ صاحب جائزہے یانہیں؟ اگر جائز ہو جب تو لعدم المانع دلیل کی ضرورت نہیں، اور اگر ناجائز ہو تو دلیل درکارہے، اس صورت میں جو اسے پسندکرے بلکہ فخرکرے کہ یہ الفاظ میرے مختصات میں سے ہیں، اس شخص کے واسطے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟
(۲) سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں صاحب یعنی محمد صاحب کہنا کیساہے؟
الجواب
حضرت رب العزت عزجلالہ پر لفظ صاحب کا اطلاق جائز، بلکہ حدیث میں وارد ہے:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی المال والاھل ۱؎۔
اے اللہ! توہی سفر میں صاحب ہے، مال اور اہل کا تو ہی محافظ ہے۔ (ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب مایقول الرجل اذا سافر آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵۰ ۔ ۳۴۹)
(سنن الکبرٰی کتاب الحج باب مایقول الرجل اذا رکب دارصادر بیروت ۵/ ۲۵۲)
اورمیاں کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وہ تین معنی رکھتاہے ان میں دو رب العزت کے لئے محال ہیں، میاں آقا اور شوہر اور مرد عورت میں، زنا کا دلال لہذا اطلاق ممنوع اور اس پر افتخارجہل۔
(۲) حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد:
والنجم اذا ھوٰی ماضل صاحبکم وماغوٰی ۲؎۔
اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۲۔ ۱)
مگر نام اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ صاحب کا ملانا آریوں اور پادریوں کا شعارہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحب، مرزاصاحب، پادری صاحب، پنڈت صاحب، لہذا اس سے احتراز چاہئے، ہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقاہیں مالک ہیں مولٰی ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: مستفسرہ حافظ بنوعلی ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب ملک متوسط ناگپور ۴ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص درود شریف اس طور پر پڑھے صلی اﷲ تعالٰی علٰی خیرخلقہ ونورعرشہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین، ایک صاحب اس میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نور عرشہٖ پڑھنا حرام ہے۔ فقط۔
الجواب
جو اسے ناجائز بتاتا ہے شریعت پر افتراء کرتاہے:
قال اﷲ تعالٰی ولاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو، بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶)
بلاشبہہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور عرش اللہ ہیں عرش انھیں کے نور سے بنااور انھیں کے نور سے منور ہے ۱؎۔
کما فی حدیث رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیساکہ حدیث میں ہے اسے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۶: مسئولہ حبیب اللہ بنگالی ۱۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہاء اللہ ایک فرقہ نکلا کہ مجموعہ قرآن مجید کو منسوخ کہتاہے اور یہ بھی کہتاہے کہ جیسے توریت اور انجیل اور زبور منسوخ ہوگئی ویساہی قرآن شریف بھی منسوخ ہے، اگر منسوخ نہ ہوتا اس کاحکم بموافق قرآن شریف کے جاری کیوں نہیں کیاجاتا ہے، جیسا کہ زنا کرتاہے اورچوری کرتاہے اور شراب پیتاہے حد کیوں نہیں لگایا جاتاہے، بہاء اللہ کے فرقہ سے ایک آدمی کا مظہر اللہ کرکے لقب ہے وہ کہتاہے خداوند کریم نے لوح محفوظ سے میرے اوپر کتاب الاقدس نزول فرمایا ہے اس وقت اس کا حکم جاری ہے اور احادیث کو خبری کاغذ بتاتاہے اورنہیں مانتاہے، اورائمہ اربعہ کو جھوٹ کہتاہے یہ فرقہ مومن ہے یانہیں؟اور:
یدبرالامرمن السماء الی الارض ثم یعرض الیہ فی یوم کان مقدارہ کالف سنۃ مما تعدون ۲؎۔
کام کی تدبیری فرماتاہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمھاری گنتی میں۔ (ت)
آیہ بالا کی شان نزول کیاہے اورناسخ ہے یا منسوخ ؟ فقط۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۲/ ۵)
الجواب
جس فرقہ کے یہ اقوال ہوں وہ کافر مرتد ملعون ہے ایسا کہ جو اسے مسلمان جانے بلکہ جو اس کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے مرتدہے،
بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار میں ہے:
من شک فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۳؎۔
جو ان کے عذاب وکفر میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
آیہ کریمہ حمد الہٰی میں ہے: شان نزول وہاں ذکر ہوتاہے جو کسی حادثہ خاصہ میں اترے خبر منسوخ نہیں ہو سکتی واللہ تعالٰی اعلم۔