Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
128 - 150
مسئلہ ۲۳۰: مسئولہ مرزا محمد عثمان بیگ ازموضع شہباز پور ڈاکخانہ محمود پور ضلع بریلی ۴ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان شخص نے اپنی زبان سے قصدا کہا کہ میں خدا ورسول کو نہیں جانتا ہوں کہ کون ہیں اور نہ مسجد کوجانتاہوں کہ کیا چیز ہے، او روہ شخص عمر کا بھی بالغ ہے، پس اس شخص کو کیا کہنا چاہئے؟ اوراس کانکاح قائم رہا یا نہیں؟ اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب

سائل نے پوری بات نہ لکھی کہ کیا گفتگو تھی جس پر اس نے یہ کہا، اگر یہ کلمات بطور تحقیر کہے ہیں تو یقینا کافر ومرتد ہے، عورت اس نکاح سے نکل گئی اوراس کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام، اور اگر اپنی حالت پر افسوس اور اپنے جہل کے بیان کے لئے کہا کہ میں ایسا جاہل کہ نہ خدا کی پہچان نہ رسول کی معرفت نہ مسجد ہی کی کوئی قدرشناسی مجھے ہوتی ہے تو اس پر الزام نہیں سوا اس کے کہ طرز ادا اچھی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۱: رحمت علی خادم درگاہ شاہ دانہ بتوسط مولوی نظام الدین یکے از طلباء مدرسہ اہلسنت بریلی محلہ سوداگران ۸ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بہت سے اشخاص نعت شریف پڑھتے ہوئے شاہ دانہ علیہ الرحمۃ کے مزار کی طرف آتے تھے اور ان کے ہمراہ چادر تھی کہ چند اشخاص نے کہا کہ بیٹی چودوں نے چوپٹی سی مقرر کرلی ہے جو لئے پھرتے ہیں پس جن اشخاص نے یہ کلمہ کہا ہے ان پر شرع شریف میں کیاحکم ہے اوران کو توبہ کرنا کس طرح پر چاہئے؟ فقط
الجواب

جس جس نے یہ ناپاک کلمہ کہا سب سخت گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ان سب پرفرض ہے کہ علانیہ توبہ کریں جس طرح علانیہ یہ کہا ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگیں ورنہ حق العبد میں گرفتار رہیں گے، شریعت مطہرہ میں سلطنت اسلام کے یہاں ایسے کہنے والوں پر اسی اسی کوڑوں کی سزا کاحکم ہے، پھر ہمیشہ کوان کی گواہی مردود، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پرگنہ سیوان ضلع بدایون بھوانی پورخیرو، ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ 

اس معمہ میں مسلمان ایک دوسرے کو کافر کہے تو شریعت اس کو کیا کہتی ہے؟
الجواب

سوال صاف کرنا چاہئے معمہ میں کہنے کا کیا معنی، بات پوری لکھی جائے تو جواب دیا جائے،کیا کہا اور کسے کہا اور کس بنا پر کہا۔ فقط
مسئلہ ۲۳۳: مرسلہ میرسید امجد علی سنی حنفی ساکن علاقہ گورکھالی وارد حال ضلع بہرائچ محلہ بڑی ہاٹ مکان مولوی ابومحمد صاحب ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک مسلمان سنی حنفی مسمی گلزار خاں نے ایک عورت قوم مہتر سے تعلق ناجائز پیدا کرلیا عرصہ تک اس عورت کے مکان پر رہ کر اکل وشرب اس کے ساتھ کرتا رہا، کچھ عرصہ بعد بوجہ تائید غیبی یا شرم دنیاوی عورت سے  اس نے قطع تعلق کرکے پانے افعال سابقہ سے ایک مجمع عام میں تائب ہوگیا، تائب ہونے کے بعد مسلمانان قُرب وجوار نے مسمی گلزار کے ساتھ برابربلااکراہ مواکلت ومشاربت جاری کردی، متعدد لوگ ایسے ہیں جو گلزار اور اس کے ساتھ شریک مسلمانوں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں اور جہلا کو اپنا ہم خیال کرتے اور بیان کرتے کہ گلزار خاں کسی طرح مسلمان نہیں رہ سکتا اور توبہ کوئی چیزنہیں۔
الجواب

یہ متعدد لوگ محض خطا وظم پرہیں، مسلمان بھائی کی توبہ قبول کرنی واجب ہے، اللہ عزوجل خود اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے، قرآن عظیم میں ہے:
ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیئٰت ۱؎۔
اللہ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہوں سے درگزر فرماتاہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۴۲/ ۲۵)
اور فرماتاہے:
الم یعلم ان اﷲ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ۲؎۔
کیا انھیں خبر نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم                            ۹/ ۱۰۴)
حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتاہ اخوۃ متنصلا فلیقبل ذٰلک منہ محقا کان او مبطلا فان لم یفعل لم یرد علی الحوض ۳؎۔ رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس کے پاس اس کامسلمان بھائی معذرت کرتا ہو اآئے اس پر لازم ہے کہ اس کاعذر قبول کرے چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر اگر عذر قبول نہ کرے گا تو روز قیامت حوض کوثر پر میرے حضور حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔ (اسے حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۳؎ المستدرک للحاکم       کتاب البروالصلۃ          دارالفکر بیروت            ۴/ ۱۵۴)
ان لوگوں کا کہناکہ توبہ کوئی چیز نہیں اگر اس سے خاص گلزار کی یہ توبہ مقصو د ہے یعنی اس نے دل سے توبہ نہیں کی تو مسلمان پر بدگمانی ہے اور وہ سخت حرام ہے، اللہ عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۴؎۔
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بیشک کچھ گمان گناہ ہیں۔
 (۴؎ القرآن الکریم                            ۴۹/ ۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۵؎۔ رواہ الائمۃ مالک والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
گمان سے دور رہو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔ (اسے امام مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۵؎ صحیح البخاری        کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یاایہاالذین آمنوا اجتنبوا     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۹۶)
اور اگر یہ مراد ہو کہ سرے سے توبہ کوئی چیز نہیں تو معاذاللہ صریح کفر ہے نیزگلزار اور اس کے شریک مسلمانوں کو اسلام سے خارج سمجھنا کافرانہ خیال ہے اور یہ کہنا کہ گلزار خاں کسی طرح مسلمان نہیں ہوسکتا اللہ عزوجل وشرع مطہر پرافتراء ہے ان لوگوں پرفرض ہے کہ توبہ کریں اور گلزار اور اس کے ساتھی مسلمانوں سے معافی چاہیں پھر ان کو چاہئے کہ تجدید اسلام کے بعد اپنی عورتوں سے تجدید نکاح کریں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴تا ۲۳۸: محمد قاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دھاموں کی، محمد اقبال مدرس مدرسہ ترہاڑہ ونورمحمد امام مسجد دروبکی 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس طائفہ کے حق میں جن کے اعتقادات، اقوال، افعال حسب ذیل ہوں:

(۱) مصلی کو نماز اور صائم کو روزہ رکھنے سے منع کریں بلکہ رمضان المبارک میں علانیہ بھنگ وچرس کا استعمال کریں اور بطور مسخری قبل از وقت افطار نداکریں کہ صائمین افطارکریں۔

(۲) مشرکین کی طرح مردعورتوں کی سی صورت اور وضح بنائیں

(۳) اٹھتے بیٹھتے اپنے مرشدوں کو باسماء امام مہدی، رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، اللہ تعالٰی موسوم کریں۔

(۴) علمائے دین کی توہین بایں کلمات کریں کہ ہم ان کی مقعد مارتے ہیں، نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تمام اصحاب بلکہ خود پیغمبر خاتم نبوت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر فضیلت دیں

(۵) جو پیغمبرواولیاء وصال کرچکے ہوں ان کی روحانی زندگی سے انکارکریں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ جب تک خدا ورسول کو اپنی آنکھوںسے نہ دیکھیں گے ان کی ہستی کے ہر گز قائل نہ ہوں گے، ایسوں سے اہل اسلام کو کیا برتاؤ کرنا چاہئے؟
الجواب

جتنی باتیں سوال میں ان لوگوں کی ذکر کیں وہ ان کے فسق وفجور وشیطنت واستحقاق جہنم کے لئے تو بہت کافی ہیں مگر ان میں چار باتیں صریح کفر وارتداد ہیں، اول اپنے پیروں کو خدا ورسول کہنا، دوسرے شریعت مطہرہ کی نسبت وہ ملعون کلمہ، تیسرے وہ یہودیوں کی بات
لن نؤمن لک حتی نری اﷲ جہرۃ ۱؎
اللہ ورسول کو جب تک آنکھ سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۲/ ۵۵)
چوتھے امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ کو انبیائے کرام خصوصا سید الانبیاء علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام سے افضل ماننا مولا علی کو کسی ایک نبی سے افضل بتانا ہی کفرہے نہ کہ سب انبیاء نہ کہ سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے، شک نہیں کہ یہ لوگ کفار ومرتدین ہیں، مسلمانوں کو ان سےمیل جول حرام، سلام وکلام حرام، ان کی موت میں شرکت حرام، بیمار پڑیں ان کی عیادت حرام، مرجائیں تو انھیں غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا حرام، مسلمانوں کے مقابرمیں دفن کرناحرام، جب تک توبہ کرکے مسلمان نہ ہوں گے واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter