مسئلہ ۲۱۹: مرسلہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب از مارہرہ شریف بروز یک شنبہ ۵ جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
مولانا المعظم والمکرم دام مجدھم، پس از آداب سلام نیاز معروض ایک عورت کے منہ سے یہ کلام نکلا ''اللہ میاں کو خبر نہیں فرشتے آئے روح نکالنے کو'' وہ کہتی ہے میں نے اس سے مراد یہ لیا تھا کہ اللہ میاں نے حکم اور کی قبض روح کا دیا تھا یہ اور کی روح قبض کرنے کو غلطی سے آگئے، یہ مراد نہیں لیا تھا کہ معاذاللہ اللہ میاں جاہل ہیں، اس کی نسبت شرعی حکم کیاہے؟ آیا یہ کلمہ اس مراد پر کیساہے؟ بہرحال جو حکم ہو اس سے فورا مطلع فرمایاجاؤں، جلد ضرورت ہے اس وجہ سے جوابی کا رڈ روانہ ہے۔ والسلام
الجواب
حضرت گرامی دامت برکاتہم بعدادائے تسلیم معروض یہ لفظ بہرحال کلمہ کفر ہے بلکہ صریح کفر ہے، اس کے صاف معنی نفی علم ہیں اور اس کا کفر خالص ہونا ظاہر، اور تاویل کہ اس نے بیان کی وہ ان لفظوں سے علاقہ نہیں رکھتی وہ بھی یونہی بنے گی کہ جس کی روح قبض کرنے آئے اس کاحکم تو تھا یہ اپنی غلطی سے دوسرے کے پاس گئے جس کی اسے خبر نہیں، تو اب دوہرا کفر ہوگیا۔ ایک نفی علم مولٰی عزوجل دوسرا ملائک کی طرف براہ غلط خلاف حکم کرنے کی نسبت، اور اگر بالفرض اس سے قطع نظر بھی ہو تو اس دوم کا تو وہ خود اپنی تاویل میں اقرار کرتی ہے یہ کیا کفر نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ویفعلون مایؤمرون ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا اور وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو،
(۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۵۰)
قال تعالٰی لایسبقونہ بالقول وھم یعلمون ۱؎۔
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا، بات میں ا سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں۔ (ت)
فرض ہے کہ تائب ہوکر اسلام لائے، اگر شوہر رکھتی ہے تجدید نکاح کرے۔و اللہ تعالٰی اعلم
۔(۱؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۲۷)
مسئلہ ۲۲۰: ۲۵ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلے کے بارے میں، زاہد کی لڑکی نے زاہد کے پاس چند روپیہ امانۃً رکھا، چند روز کے بعد وقت ضرورت طلب کیا، زاہد نے انکار کیا تم کو روپیہ نہیں دوں گا، بےچاری مجبورہوکر مولوی صاحب کے پاس سفارش کو گئی، مولوی صاحب سے سفارش کیا، مولوی صاحب نے آکر زاہد کو فرمایا لڑکی کا روپیہ ادا کردو، زاہد نے کہا آپ کی بات نہیں سنوں گا خداکہے جب بھی نہیں سنوں گا، اس شخص پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
زاہد نئے سرے سے اسلام لائے توبہ کرے، کلمہ طیبہ پڑھے، بعد تجدید اسلام تجدید نکاح کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱: از بنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹھوری محل تھانہ سکرور مولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ ۲۱ صفر ۱۳۳۴ھ
یہ کہ یزید کی نسبت لفظ یزید پلید کالکھنا یا کہنا ازروئے شرع شریف جائز ہے یا نہیں؟ یزید کی نسبت رحمۃ اللہ علیہ کہنا درست ہے یانہیں؟ فقط
الجواب
یزیدبیشک پلید تھا، اسے پلید کہنا اور لکھناجائزہے، اور اسے رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نہ کہے گامگر ناصبی کہ اہل بیت رسالت کا دشمن ہے، والعیا ذ باللہ تعالٰی
مسئلہ۲۲۲: از برٹش گائنا ڈمرا راپترس ہال ونچ ایسٹ بنک مسئولہ عبدالغفور ۲۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اور جس نے کہا کہ تم لوگ سب یزید ہو اور وہ لوگ مسلمان ہیں تو اس کلمہ پر کیاحکم ہے؟ فقط
الجواب
اگر بلاوجہ شرعی کہا سخت گنہ گار ہوا،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳: مسئولہ نبن خان ملازم اعلٰیحضرت قبلہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص امور شرعی کی بابت یہ الفاظ کہے کہ شرع کیا چیز ہے۔ آج کل شرع پر کون عمل کرتاہے، یہ شرع بھی ایک بحث نکال رکھی ہے وہ شخص عندالشرع کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب
اگر اس نے واقعی طورپریہ الفاظ کہے تو کافر ہوگیا اور اگر لوگوں پر طعن کے طورپر کہا یعنی آج کل لوگوں نے شرع کو ایسا سمجھ رکھا ہے تو سخت گنہ گا ر ہوا کہ عام کہا اور لفظ بھی معنی کفر کو موہم ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴: از کراچی بندرگاڑی کھاتہ آرام باغ حجرہ اسلامیہ مولوی احمد صدیق نقشبندی ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
زید نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کے شروع میں عربی عبارت میں اس طرح لکھا ہے: بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الھٰنا محمد وھو معبود جل شانہ وعزبرہانہ ورسولنا محمد و ھو محمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ ان الفاظ کی کوئی تاویل ہوسکتی ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو ایسے لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اس سے میل جول رکھنا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور ایسے اعتقاد والے سے نکاح وغیرہ پڑھوانا شرعا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔ جواب مع عبارات تحریر فرمائیں۔
الجواب
ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا تو واجب ہے کہ احتمال اسلام پر کلام محمول کیا جائے جب تک اس کا خلاف ثابت نہ ہو، پہلے جملہ میں محمد بفتح میم کیوں پڑھا جائے مُحَمِّد بکسر میم کہا جائے یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم محمد ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باربار بکثرت حمدوثنا کئے گئے، اور ان کار ب عزوجل ان کا محمد ہے بار بار بکثرت ان کی مدح وتعریف فرمانے والا، اب یہ معنی صحیح ہوگئے اور لفظ بالکل کفر سے نکل گیا اور اگر بفتح میم ہی پڑھیں اور معنی لغوی مراد ہیں یعنی ہمارا رب بکثرت حمد کیا گیاہے جب بھی عنداللہ کفر نہ ہوگا مگر اب صرف نیت کا فرق ہوگا بہرحال ناجائز ہونے میں شبہہ نہیں۔
ردالمحتارمیں ہے:
مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۱؎۔
محض معنی محال کا وہم بھی منع کے لئے کافی ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظر فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳)
مصنف کو توبہ چاہئے اور اسے متنبہ کیا جائے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں مگریہ کہ کوئی حالت خاصہ داعی ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۵:مسئولہ معین الدین احمد میمن سنگھی بنگال پوسٹ نیکلا ساکن جیگاتلہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص نے غضبناک ہوکر علماء کی توہین اور حقارت کرے اورکہے کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیا ہے حالانکہ ا س جلسہ وگفتگو میں بہت سارے عوام الناس اور ایک مولوی صاحب بھی موجود تھے تو مولوی صاحب نے شخص مذکور سے دریافت کیا کہ تم نے خرابی کی نسبت تمام علماء کی طرف کی ہے یہ تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو شخص مذکور نے جواب دیا کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیا، پھر مولوی صاحب نے دریافت کیا کہ یہ بات تم ایمان کے ساتھ کہتے ہو تو اس شخص مسطور نے جواب دیا کہ میں ایمان کے ساتھ کہتاہوں اور یہی شخص کہتاہے کہ اس عالم نے مسئلہ ہذا کو جاری کیا، اس لئے کچھ نہیں کہا یہ عالم میری خواہر کا خاوند ہے اگر دوسرا کوئی عالم مسئلہ جاری کرتا تو سلامت جانے نہ دیتا اور کوئی ایسا ہی لفظ تشنیع کا کہے تو ایسی باتوں سے نکاح جاتا رہتاہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرمادیں عنداللہ ماجور ہوں گے۔
الجواب
علمائے دین کی توہین کفرہے۔
مجمع الانہر میں ہے:
من قال لعالم عویلم علی وجہ الاستخفاف فقد کفر ۱؎۔
جس نے بے ادبی کرتے ہوئے عالم کو عویلم کہااس نے کفر کیا۔ (ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر الفصل الرابع فی الاستخفاف بالعلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)
اس شخص پر تجدید اسلام لازم ہے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔ واللہ تعالٰی ااعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۹: از لکھنؤ احاطہ فقیر محمد خاں متصل دکان ظہور بخش ہیزم فروش مسئولہ حضرت محمد میاں صاحب ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(۱) ایک مسلم جو نماز خلاف معمول بہت جلدی سے پڑھ لیتا تھا اس کو زجراً ایک اور مسلم نے کہا کیا تو نے نماز کو کھیل سمجھ رکھا ہے، اس پر ایک دوسرے نے کہا اورکیا بظاہر اس نے بھی زجرا کہا اس کے لئے کیاحکم ہے؟
(۲) بعض لوگ لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم پورا نہیں پڑھتے بلکہ عندالحاجت جب پڑھتے ہیں صرف لاحول یا لاحول ولاقوۃ الاباﷲ پر بے وجہ اقتصار کرتے ہیں اگرچہ سخت قبیح وشنیع ہے مگر اس میں کفر تو کسی طرح کا بھی نہیں یا کیا اس پورے جملہ کا علم صر ف جز ومدخول نفی مقرر کرنا کہنا کیساہے؟
(۳) نصارٰی وغیرہ کی کچہریوں اور ان حکام آج کل کے زمانہ والوں کو عدالت یا عادل کہنا اگر چہ سخت ہے اور فقہاء نے حکم کفر تک فرمایا اس سے احتراز ضرور ہے مگر بات دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ حکم کفر مسئلہ مفتٰی بہا ہے کہ ا یسا استعمال کرنے والے کافر ہوجائیں اور اگر ہے تو کیا قطعی کفر ان پر عائد ہے اورقطعی بھی ایسا کہ جو دوسرا کافر نہ سمجھے اس کے بھی ایمان میں خلل آئے۔
(۴) کاتب جو اُجرت پر کتابت کرے اور ا س کتابت میں امر مخالف دین ہو اور اُجرت پر چھاپنے شائع کرنے والے اسے شائع کریں یا کوئی شخص بے اُجرت محض مروت سے ایسا کرے تو اس کا کیاحکم ہے؟ یا کوئی شخص صفائی خط کے لئے کوئی قطعہ وغیرہ لکھے اور اس میں ایسے کلمات بھی نقل کرجائے یا ان سب صورتوں میں زبان سے پڑھے تو کیاحکم ہے؟
الجواب
(۱) ''اورکیا'' کہنے والے پر الزام نہیں جب کہ اسے بھی اس سارق نماز پر زجر مقصود ہو۔
(۲) عندالحاجۃ صرف لاحول ولاقوۃ یا لاحول پر اقتصار قبیح ہے کفر سے کوئی علاقہ نہیں کہ اپنے حول وقوت کی نفی کےلئے ہے علی ہذا صرف لاحول کہنا حرج نہیں رکھتا۔
(۳) عدالت بطور علم رائج ہے معنی وضعی مقصود نہیں ہوتے لہذا تکفیر ناممکن، البتہ عادل کہنا ضرور کلمہ کفرہے مگر یہ محض بروجہ خوشامد ہوتا ہے لہذا تجدید اسلام ونکاح کافی، ہاں خلاف ماانزل کو اعتقاداً عدل جانے تو قطعا وہی کفر ہے کہ
من شک فی کفرہ فقد کفر ۱؎
(جس نے اس کے کفر میں شک کیا وہ بھی کافرہے۔ ت)
(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
(۴) القلم احد اللسانین
(قلم بھی ایک زبان ہے۔ ت) جو زبان سے کہے پراحکام ہیں، وہی قلم پر، اور ایسی اجرت حرام، اس کی اشاعت حرام، اورایسی مروت فی النار، اعتقاداً نہ ہو تو کفر نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔