Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
126 - 150
مسئلہ ۲۱۳ ، ۲۱۷: ازاسٹیشن بھوجی پورہ آر۔ کے۔آر مسئولہ محمد صدیق دکاندار سگریٹ وبساط خانہ ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص امامت کرتاہے اور پڑھالکھا بھی ہے، لڑکوں کو پڑھاتابھی ہے کچھ مسئلہ مسائل بھی جانتاہے اپنے آپ کو اہل سنت وجماعت کہتاہے بریلی میں جو جلسہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۰ ء کو خلافت اسلامیہ کے نام سے ہوا جس میں شوکت ومحمد علی و مولانا ابولکلام آزاد ومسٹر گاندھی وغیرہ نے تقریریں کیں اس جلسہ میں وہ شریک ہوا، اس جلسہ کی وہ بہت تعریف کرتاہے اور کہتاہے کہ:

(۱) اس جلسہ میں بہت اچھا بیان ہوا اس جلسہ میں علماء تھے اس میں مکہ شریف مدینہ شریف اور عر ب شریف سے ترکوں کی خلافت چلے جانے اور چھن جانے کے حالات بیان ہوئے اور یہ بھی بیان ہوا کہ ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن پاک سے ثابت ہے اور ان کے بیانات کا جلسہ کے لوگوں پر بہت اثر ہوا اکثر روتے تھے ساری خلقت ہزاروں آدمیوں کاجماؤ تھا، ہندو بھی شریک تھے اور مسلمانوں کا ساتھ دے رہے تھے، سب ایکہ کے ساتھ کارروائی ہورہی تھی، اوریہ بھی کہتا تھاکہ

(۲) انگریزوں سے دوستی اور ان کی نوکری اور ان کے اسکولوں میں پڑھنے کی اور اسلامی مدرسے کھولنے کی منادی ہوگئی، یہ بھی کہتاہے کہ

(۳) بریلی کے اعلٰیحضرت نے فتوٰی دیا ہے کہ ترکوں کی خلافت صحیح نہیں ہے اور یہ بھی کہتاہے کہ اعلٰیحضرت نے فتوٰی دیا ہے کہ

(۴) جو کوئی جلوس وجلسہ خلافت میں جائے گا اس کی بیوی نکاح سے باہر ہوجائے گی وہ کافر ہوجائے گا، جب دیوبند کی بابت سوال کیا گیا تو کہتاہے کہ

(۵) میں نہ اس کا مریدہوں اورنہ برا کہتاہوں دیوبند کے مدرسہ کی تعریف کرتاہے، بہشتی زیور وغیرہ کتابیں اس کے پاس موجودہیں تو اب علماء سے سوال یہ ہے کہ شخص جو کہ خلافت ترکی صحیح مانتاہے اور شریف صاحب کو بوجہ ترکوں سے جدا ہونے کے برا سمجھتا ہے او رجس کی باتیں اور خیالات اوپر بیان ہوئے کیسا ہے، اس جملہ مذکورہ بالامیں شریک ہونا کیساہے اور اس شخص کے کون کون سے خیالات وعقیدے برے ہیں، خداوخدا کے رسول کے نزدیک ایسے خیالات رکھنے والے کا کیا حکم ہے ؟ مفصل تحریر فرمائیں تاکہ جو خیالات اس کے برے ہوں ان سے اہل سنت وجماعت بچنے کی کوشش کریں، جواب مہری و دستخطی ہونا چاہئے۔
الجواب

جو شخص پڑھالکھا ہوکر مدرسہ دیوبند کی تعریف کرے اور دیوبند یوں کی نسبت کہے کہ میں ان کو برا نہیں کہتا۔ اس قدر اس کے مسلمان نہ ہونے کو بس ہے، علمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے، کہ یہ لوگ کفار مرتدہیں، اور فرمایا:
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۱؎
جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر،
 (۱؎ درمختار     باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
تعظیم مشرک کے جلوس میں شریک ہونا ضرور حرام ہے، اس کی یہاں سے ممانعت پیش کی گئی اوریہ افتراء ہے کہ مطلقا شریک ہونے والے کانکاح باطل بتایا گیا مگر اس افتراء کا عجب کیا ہے جبکہ وہ خود اس مفتری جلسہ کو پسند کرتاہے اور اس کے افتراء کا خود ناقل ہے کہ ''ہندوؤں کی دوستی کرنا قرآن سے ثابت ہے'' حالانکہ قرآن عٖظیم جابجا اس کے خلاف پر ناطق ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور اسے امامت سے علیحدہ کرنا فرض ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
جواب مسئلہ: مسئولہ حضرت مولانا سید سلیمان اشرف علی صاحب بہاری پروفیسر دینیات علی گڑھ کالج ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ

(۱) معاملہ (۲) مدارات (۳) برواقساط (۴) معاشرت (۵) مداہنت (۶) رکون (۷) وداد (۸) اتحاد (۹) انقیاد (۱۰) تبتل

ان مدارج عشرہ میں ہر دوسرا پہلے سے زائدہیں اور ہر پہلے میں دوسرے کی شرط کا انتفاء ملحوظ ہے، پہلا بشرط لا شیئ کے مرتبہ اوردوسرا بشرط شیئ کے مرتبہ میں۔

موالات کی دوقسمیں ہیں: حقیقی وصوری۔ حقیقی کی پانچ قسمیں رکون سے آخر تک یہ مطلقا ہمشہ حرام ہیں ہر کافر سے، اور ہمیشہ حرام رہیں گی، اور صوری کی چار قسمیں مدارات سے مداہنت تک۔

ان میں برو اقساط معاہدین سے جائز حربی غیر معاہد سے حرام، یا بعض کے نزدیک ایک وقت میں حربی غیر محاربین سے حلال رکھا گیا تھا پھر حرام فرمادیا اورا ب ابداً حرام ہے، اور چوتھی قسم مداہنت کسی وقت بھی حلال نہ تھی، غایۃ ضعف اضمحلال کے وقت ارشاد ہوا تھا:ـ
ودوالوتد ھن فیدھنون ۱؎
 (وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں۔ ت) مگرحالت اکراہ میں اس کی رخصت ہوگی
الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ۲؎
(سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اوراس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ ت) اورمعاشرت بضرورت وبمجبوری جائزورنہ حرام، اور جواز مدارات کے لئے ضرورت مجبوری درکارنہیں مصلحت ہی کافی ہے، یہ اقسام موالات میں ان سب سے خارج معاملہ ہے کہ ہر کافر سے ہر وقت جائزہے مگر مرتدین سے، وللہ تعالی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم                    ۶۸/ ۹)

(۲؎ القرآن الکریم                    ۱۶/ ۱۰۶)
مسئلہ ۲۱۸: وہ اب یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کوٹہ میں مولانا کا فتوٰی دیکھ آیا اس کی رو سے مجھ پر ان اقوال کی وجہ سے معاذاللہ کفر عائد نہیں ہوتا وہ کہتے ہیں میں نے یہ اقوال صرف آریہ کا بھید لینے کوکہے تھے
الحرب خدعۃ ۳؎
 (جنگ دھوکا ہے۔ ت)
 (۲؎ صحیح بخاری         باب الحرب خدعۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۲۵)
اور یہ ایک ایسے مضمون کے ساتھ ملحق تھے جس میں آریوں اورا ن کے مذہب پر حملہ تھا جس کی وجہ سے معلوم ہوسکتاتھا کہ یہ میں نے رضامندی سے نہیں کہے ان وجہوں کی بنا پر آیا ان سے کفر ثابت ہوگایانہیں؟ اوربہر تقدیر نکاح کے بارہ میں کیاحکم ہے اگر تجدید نہ کی جائے تو بھی نکاح سابق کسی صورت میں بحال ہے یانہیں؟ میں امید کرتاہوں کہ ان مسائل کے جواب اور اس فتوٰی کی نقل سے جوکوٹہ روانہ کیا جناب مجھ کو مطلع کریں گے، زیادہ آداب، محمد میاں قادری برکاتی عفی عنہ از لکھنؤ 

(نوٹ: سوال کا ابتدائی حصہ دستیاب نہ ہوا)
الجواب

حضرت گرامی دامت برکاتہم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، فقیر ادھر مبتلائے حوادث رہا، شب بستم ذی الحجہ لیلۃ الثلثاء بعد مغرب میرے حقیقی بھانجے مولوی حافظ واجد علی خاں مرحوم نے دو مہینے کی علالت میں انتقال کیا، ان کے تیسرے دن بست ودوم ذی الحجہ یوم الخمیس وقت ظہر میرے حقیقی بھتیجے نوجوان صالح مولوی فاروق رضاخاں مرحوم نے سترہ برس کی عمر میں بعارضہ وبائی صرف دوروزعلیل رہ کر مفارقت کی اب شب بست وپنجم محرم الحرام لیلۃ الثلثاء بعد مغرب میرے احب احباب واعزاصحاب جوان صالح صاحب ورع، متقی، محب سنت واہل سنت عدوبدعت واہل بدعت سنی مستقل قائم مصداق
لایخافون لومۃ لائم ۱؎
(وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵/ ۵۴)
دلاور حسین مرحوم مغفور ساکن جواہر پورے بعمر ۳۷ سال بعارضہ وبائی صرف دس پہر علیل رہ کر داغ فراق دیا۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون، انا ﷲ وانا الیہ راجعون ﷲ مااخذ ومااعطی وکل شیئ عندہ باجل مسمی اللہم اغفرلنا ولہم وارحمنا وارحمہم ولاتحرمنا اجورھم ولاتفتنا بعدھم و ارحم المسلمین والمسلمات جمیعا یاارحم الراحمین، اٰمین بجاہ من ارسلتہ رحمۃ وبعثتہ نعمۃ صل وسلم وبارک علیک مع الاھل والصحب والامۃ عدد کل خلق و کلمۃ اٰمین، والحمد ﷲ رب العالمین۔
ہم اللہ کے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (تین دفعہ) اللہ تعالٰی جوچاہے لے لے اور جو چاہے عطا فرمائے ہر شے کا اس کے ہاں وقت مقرر ہے، اے اللہ! ہمیں معاف فرمادے اور ان مرحومین کو، ہم پر رحم فرماا ور ان پر بھی، ان کے اجر سے ہمیں محروم نہ فرما، ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال اے ارحم الراحمین! تمام مسلمان عورتوں اور مردوں پر رحم فرما اور اسے قبول فرما بوسیلہ اس ذات کے جسے تونے رحمت بناکر بھیجا ہے اور ان کی بعثت کو عظیم نعمت بنایا، آپ کی ذات پر صلوٰۃ وسلام اور برکات کانزول فرما، آپ کے اہل، صحابہ اور امت پر تمام مخلوق کی اور کلمہ آمین کی مقدار تمام حمد اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا پرورد گار ہے۔ (ت)

فتوٰی کہ فقیر نے کوٹہ بھیجا تھا ا س کی نقل حاضر ہے اس کے کون سے حرف میں ان کے لئے حکم کفر سے نجات ہے اس میں دو شقیں کیں: اول یہ کہ کلمات دل سے کہے اس پر یہ لکھا کہ ''جب توا س کا کفر صریح ظاہر واضح ہے جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہیں ہوسکتا'' اس کا مفہوم مخالف صرف اس قدر کہ اگر دل سے نہ کہے تو کفرایسا واضح نہیں جس میں کسی جاہل کو بھی تامل نہ ہوسکے نہ یہ کہ دل سے نہ کہے تو کفر ہی نہیں کفر ضرور ہے اگرچہ اس درجہ شدت ظہور پر نہیں کہ کو ئی جاہل بھی تامل نہ کر سکے بلکہ اس سے ظاہر یہ ہے کہ دل سے نہ کہے جب بھی اس کے کفر میں کوئی جاہل تامل کرسکے کسی اہل علم کو تامل نہیں ہوسکتا اور جاہلوں میں سب کو نہیں کسی کو، اور وہ بھی یقینا نہیں امکاناً یعنی دل سے نہ کہے کی حالت میں احتمال ہے کہ شاید کوئی جاہل اس کے کفر میں تامل کرے اور دل سے کہے تو اتنا احتمال بھی نہیں۔

دوسری شق یہ کہ آریہ کودھوکادینے کے لئے استعمال کئے، دل سے ان کلمات ملعونہ کو پسند نہیں کرتا یہی وہ عذر ہے جو وہ اب بیان کرتے ہیں، ان کے بیان سے پہلے ہی فتوے میں اس کا رد موجود ہے کہ ''دھوکے کاعذر محض جھوٹ اور باطل ہے'' جب اس کے ساتھ وہ جملے ملحق تھے جن کے جواب سے آریہ عاجز ہیں تو وہ ایسے پاگل نہیں کہ اپنی موت انھیں نہ سوجھے اور کرے حملے کرنے والے کو سمجھ لیں کہ واقعی یہ دل سے وید کا عاشق اور ویدک دھرم کے لئے بے چین اور آریہ ہونے کو عزت وفخر وسرفرازی جاننے والا ہے آخر نہ دیکھا کہ انھوں نے ایک نہ سنی اور عاشق بے چین کو عزت وفخر وسرفرازی سے محروم رکھا اگر وہ ذرا بھی دھوکا کھاتے تو ایسے شخص کو جو عوام میں عالم مشہور اور دھڑلے کا واعظ اور اتنے اونچے عالی اعلٰی خاندان سے اور سور روپے ماہوار کی جائداد بھی دکھائے، شہدپر مکھیوں کی طرح گرتے لپٹتے پیان پوجتے، ڈنڈوت کرتے، کندھوں پر چڑھا کر سربازار باجا بجاتے گروکل لے جاتے اور اسی مضمون کا لکچر دلواتے مگر انھوں نے منہ بھی نہ لگایا ایمان بھی گیا اور دھوکا بھی نہ ہوا حقیقۃً ابلیس لعین نے اسے دھوکا دے کر ایمان لے لیا کافر تو اس کے دھوکے میں نہ آئے مگر یہ اس کافر ملعون ابد کے دھوکے میں آگیا، اور بفرض غلط اگر اس میں آریہ کو دھوکا ہوتا بھی تو دھوکا دینا کیا ایسا ضرور ہے جس کے سبب کھلے کفر بکے:
وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر ۱؎۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۱۸/ ۲۹)
اور فرمادو کہ حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ (ت)

کیا بلاضرورت باختیار خود کفر بکنے سے آدمی کافرنہیں ہوتا جب کہ دل سے نہ ہو، اس دل سے نہ ہونے کا عذر منافقین پیش کرچکے اور اس پر واحد قہار سے فتوائے کفر پاچکے،
ولئن سألتہم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب ط قل اباﷲ واٰیٰتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لاتعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ۲؎۔
اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے، تم فرماؤ کیا اللہ تعالٰی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔
 (۲؎القرآن الکریم        ۹/ ۶۵ و ۶۶)
یہیں سے رضامندی نہ ہونے کا بھی جواب واضح ہوگیا کہ ہزل استہزاء میں بھی رضابالحکم نہیں ہوتی ورنہ جد ہو نہ ہزل۔ ردالمحتار میں ہازل کی نسبت ہےـ:
انہ تکلم بالسبب قصد افیلزمہ حکمہ وان لم یرض بہ ۱؎۔
اس نے قصداً سبب کا تکلم کیا لہذا اس پرحکم لازم ہوگا اگرچہ وہ اس سے راضی نہ تھا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الطلاق    دراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۴۲۵)
اور بفرض غلط اگر دھوکا دینا ضرور بھی ہو تو ہر ضرورت کفر سے نہیں بچاتی، یوں توجوننگے بھوکے پیٹ کی خاطر عیسائی ہوجاتے ہیں انھیں بھی کہئے کافر نہ ہوئے کہ بضرورت کفر اختیار کیا، یہاں وہ ضرورت معتبر ہے کہ حداکراہ شرعی تک پہنچی اور یہ بداہۃً ظاہر کہ دھوکا دینا ضروری بھی سہی تاہم تو حداکراہ تک کسی طرح نہیں پہنچ سکتا، کیا قائل اگر یہ دھوکا نہ دیتا تو کوئی اسے قتل کردیتا یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا یاآنکھیں پھوڑدیتا، کچھ بھی نہ ہوتا اس کے ایک رونگٹے کو بھی ضرر نہ پہنچتا تو یقینا اس نے بلااکراہ وہ کلمات کفر بکے اور واحد قہار عزجلالہ نے کلمہ کفربکنے میں کافر ہونے سے صرف مبتلائے اکراہ کا استثناء فرمایا ہے کہ ارشاد فرماتاہے:
الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ۲؎۔
سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم          ۱۶/ ۱۰۶)
یہاں اکراہ درکنار ایک رونگٹے کو بھی کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا ایک دھیلا بھی گرہ سے نہ جاتا تھا اور بکے وہ کلمات کہ مجرد علامت کفر نہیں، بلکہ حقیقۃً خود کفر خالص ہیں تو قطعا دل کھول کر کفر بکنا ہوا اور یقینا بنص قطعی قرآن کفر ہے ولہذا جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا کافرہے عورت اس کی نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے جب تک از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے کلمات ملعونہ سے براءت وتوبہ صادقہ نہ کرے ہر گز اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اوراگر اسلام لے آئے تو بہ کرے اور پھر نکاح سابق کی بنا پر عورت کو زوجہ بنائے تو قطعا زنائے خالص ہے، 

فتاوٰی امام قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافر اولایکون عنداﷲ تعالٰی مومنا ۳؎۔
ایک شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیاحالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالٰی کے ہاں مومن نہیں ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     باب المرتد        نورانی کتب خانہ پشاور        ۲/ ۲۸۳)
حاوی میں ہے:
من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فھو کافر ولیس بمومن عنداﷲ تعالٰی ۱؎۔
جس نے زبان سے کفرکیا حالانکہ دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالٰی کے ہاں بھی مومن نہیں۔ (ت)
 (۱؎ حاوی)
جواہر الاخلاطی اور مجمع الانہر میں ہے:
من کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالٰی ۲؎۔
جس نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کااظہا ر کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر اور اللہ تعالٰی کے ہاں بھی مومن نہیں۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر        باب المرتد        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۸۸)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا وعدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافر اوامااذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا ۳؎۔
زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کااظہار کرتاہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے قدرت اظہار پر نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔ (ت)
(۳؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     با ب الایمان ھو الاقرار والتصدیق    مصطفی البابی مصر    ص۸۶)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
حکمہ ای التکلم بکلمۃ الکفر ان کان طوعا ای لم یکرھہ احد من غیر سبق لسان الیہ، احباط العمل وانفساخ النکاح ۴؎۔
اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہو، تو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا۔ (ت)
 (۴؎ الحدیقۃ الندیۃ        باب کلمۃ الکفر        مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور    ۲/ ۹۸۔ ۱۹۷)
یہ شرح ہے میرے ان الفاظ کی، کہئے اس میں کون سی ان کے لئے مفرہے، ہاں اللہ مجھے معاف کرے اتنا قصور ضرور ہواکہ لہجہ نرم تھا جس کے سبب گنجائش کا وہم گزرا وہ بے عقل یہاں سے سبق لیں جو سختی سختی پکارتے ہیں زمانہ کی حالت یہ ہے کہ ذرا نرم لفظوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، ایک بات اور بھی قابل گزارش ہے کہ حدیث میں ارشاد فرمایا:
اذ اعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السربالسروالعلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎۔
اگر کوئی برائی کر بیٹھو تو اس سے توبہ کرو، مخفی گناہ پر مخفی اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ کرو (امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر     حدیث ۳۳۱        مکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۲۰/ ۱۵۹)

(کنز العمال    حدیث ۱۵۱۸۰    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۴/ ۲۰۹)
بسند حسن علانیہ گناہ کی علانیہ توبہ کاحکم ہے اور انھوں نے اس کا یہاں تک اعلان کیا کہ اخبار میں شائع کرایا، اللہ تعالٰی ہدایت دے۔ والسلام
Flag Counter