Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
125 - 150
الجواب

الحمدﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین عندہ وسائر المسلمین المتبعین سعدہ۔
سب تعریف اللہ تعالٰی کے لئے جو اکیلا ہے، صلوٰۃ وسلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں اور اس کے آل واصحاب پر جواس کے ہاں عزت والے ہیں اور باقی تمام مسلمانوں پر جو اس کی سعادت کے پیروکار ہیں۔ (ت)

فاضل سائل بلکہ مجیب سلمہ القریب المجیب کا یہ سوال خودہی جواب حق وصواب ہے
فماذا بعد الحق الاالضلال ۲؎
 (حق کے بعد گمراہی ہوتی ہے۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم      ۱۰/ ۳۲)
ہمیں زید وعمرو کی شخصیت سے کام نہیں احکام شرعیہ عام ہوتے ہیں جس سے یہ امرصادر ہوا س کایہ حکم ہے
کسے باشد خاک بود یا خسے باشد
(خواہ کوئی ہو مٹی ہو یا تنکا۔ت ) اسی عموم کے طورپر ہم کلام کریں گے اگر فلاں وفلاں اس کے مصداق تو ضرور وہی ان  احکام کے استحقاق ہیں ورنہ جس پر صادق ومستحق ولائق۔
واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل ۳؎ و حسبنا اﷲ ونعم الوکیل ۴؎۔
اور اللہ حق فرماتاہے اور وہی راہ دکھاتاہے اور اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز ہے۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۳۳/ ۴)(۴؎القرآن الکریم      ۳/ ۱۷۳)
 (۱) یزید پلید علیہ مایستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں:
فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنہم اﷲ فاصمہم واعمی ابصارھم ۱؎۔
کیا قریب ہے کہ اگر والی ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی تو انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۴۷/ ۲۳۔ ۲۲)
شک نہیں کہ یزید نے والی ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اورپیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی،مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ تابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا۔ مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے گو دکے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے، سرانور کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔ حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا،ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے،
قرآن عظیم میں صراحۃً اس پر
لعنہم اﷲ۲؎
(ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ ت) فرمایا۔
 (۲؎القرآن الکریم            ۳۳/ ۵۷)
لہذا مام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطاً سکوت فرمایا کہ ا س سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں، اور بحال احتمال نسبت کبیر ہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر اور امثال وعیدات مشروط بعدم توبہ ہیں لقولہ تعالٰی،
فسوف یلقون غیا الامن تاب ۳؎
(توعنقریب دوزخ میں غی کاجنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوگئے۔ ت) اورتوبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہے، بلکہ انصافا یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا شمّہ ہو۔
 (۳؎القرآن الکریم            ۱۹/ ۵۹)
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹاکھائیں گے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                    ۲۶/ ۲۲۷)
شک نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اہل سنت کا عدووعنود ہے، ایسے گمراہ بددین سے مسئلہ مصافحہ کی شکایت بے سود ہے، ا س کی غایت اسی قدر کہ اس نے قول صحیح کا خلاف کیا اور بلاوجہ شرعی دست کشی کرکے ایک مسلمان کا دل دکھایا مگر وہ توان کلمات ملعونہ سے حضرت بتول زہرا وعلی مرتضٰی اور خود حضور سیدالانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کا دل دکھا چکاہے، اللہ واحدقہار کو ایذاد ے چکا ہے،
والذین یؤذون رسول اﷲ لہم عذاب الیم ۲؎ o ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنہم اﷲ فی الدنیا والاخرۃ واعدلہم عذابا مھینا ۳؎o
اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھاہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم                    ۹/ ۶۱) (۳؎القرآن الکریم                    ۳۳/ ۵۷)
 (۲) سوال نے یہاں بھی قطعیات کے ساتھ قرائن کو ضم کیا قطعی کے ہوتے قرینی باطنی کی کیا بحث کسی مدرسہ محلہ سرائے خام کی نوکری یا علم ماکان ومایکون یاغیوب خمسہ میں کلام یا علماء اہل سنت کو سب ودشنام تفاصیل رکھتے ہیں جن کی اصلا حاجت نہیں جب علمائے حرمین طیبین زادھما اللہ شرفا وتکریما نانوتوی وگنگوہی وتھانوی  کی نسبت نام بنام تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ سب کفار مرتدین ہیں اور یہ کہ "من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۴؎" جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر، نہ کہ ان کو پیشوا و سرتاج اہلسنت جاننا، بلاشبہہ جو ایسا جانے ہر گز ہر گز صرف بدعتی وبدمذہب نہیں قطعا کافر ومرتد ہے اور ان تمام احادیث کا کہ سوال میں فتاوٰی الحرمین سے منقول ہوئیں موردہے، بلاشبہہ اس سے دور بھاگنا، اور اسے اپنے سے دور کرنا، اس سے بغض، اس کی اہانت، اس کا رد فرض ہے، اورتوقیر حرام وہدم اسلام اسے سلام کرنا اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کے ساتھ کھانا پینا حرام، اس کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالص، اور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام ،اسے مسلمانوں کا ساغسل وکفن دینا حرام، اس پر نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفر، اس کا جنازہ اپنےکندھوں پر اٹھانا، اس کے جنازے کی مشایعت حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر کھڑا ہونا حرام، اس کے لئے دعائےمغفرت یاایصال ثواب حرام بلکہ کفر، والعیاذباﷲ رب العالمین۔
 (۴؎ درمختار        باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
(۳) جواب سابق میں واضح ہوچکا کہ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق فرض ہے، اور جب وہ تمام علمائے حرمین شریفین کے متفق علیہ فتوے سے کافر ومرتد ہیں تو مسجد میں ان کاکیاحق، حدیث ابن حبان مذکور فتاوٰی الحرمین میں ہے: لاتصلوا معہم ۱؎ ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ ان کے پیچھے تونماز باطل محض ہی ہے صف میں ان کاکھڑا ہونا بھی جائز نہیں کہ ان کی نماز نماز ہی نہیں، توعین نماز میں بالکل خارج از نماز ہیں تو ان کے کھڑے ہونے سے صف قطع کہ غیر نمازی حائل اور صف قطع کرنا حرام نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من قطع صفا قطعہ اﷲ ۲؎ جو صف قطع کرے اللہ اسے کاٹ دے، تو جو مسلمانوں میں سربرآوردہ ہو جوا ن کے منع پر بلافتنہ وفساد قدرت رکھتاہو اس پر فرض ہے کہ انھیں مسجد میں آنے سے روکے اور مسلمانوں کی نماز کو خراب ہونے سے بچائے، مسلمانوں کو نرمی وتفہیم اور جو نہ مانے اسے ہر جائز سختی وتشدد کے ساتھ ان کے میل جول سے باز رکھے کہ یہ نہی عن المنکر ہے اور نہی عن المنکر تاقدر قدرت فرض قطعی ہے اور جو نہ کرے وہ اسی مجرم کا اس کے عذاب میں ساتھی، اصحاب سبت پر جب عذاب الہٰی نازل ہوا کہ "قلنا لہم کونوا قردۃ خاسئین ۳؎" ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔ جوانھیں منع نہ کرتے تھے وہ بھی ان کے ساتھ بندر کردئے گئے منع کرنے والوں نے نجات پائی جو ان کے خیالات وحالات پرمطلع ہو کر انھیں عالم جانے یاقابل امامت مانے ان کے پیچھے نماز پڑھے وہ بھی انھیں کی طرح کافر ومرتد ہے کہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۴؎ جو ان کے کفر وعذاب میں شک کرے خود کافر ہے۔ ت) اس کے لئے حسام الحرمین کی وہ عبارتیں کہ سوال سوم میں مذکور ہوئیں کافی ہیں یونہی جوان احکام ضروریات اسلام کوکہے کہ یہ مولوی کے جھگڑے ہیں وہ بھی کافر ہے،
 (۱؎ فتاوٰی الحرمین    جواب سوال عاشر    مکتبہ حامدیہ لاہور        ص۱۹)

(۲؎ سنن ابوداؤد     کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۹۷)

(۳؎ القرآن الکریم                        ۲/ ۶۵)

(۴؎ درمختار        باب المرتد            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
محیط و عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال بادست آنچہ می گویند اوقال تزویرست اوقال من علم حیلہ رامنکرم ھذا کلہ کفر ۱؎۔
کوئی آدمی کہتاہے یہ علم سیکھنے والے کہانیاں سیکھ رہے ہیں یا کہتاہے جوکہتے ہیں یہ تمام جھوٹ ہے

یا کہتاہے میں علم حیلہ کا منکر ہوں،یہ تمام کفر ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        باب المرتد        نورانی کتب خانہ پشاور        ۲/ ۲۷۰)
(۴و۵) بلا شبہہ علمائے اہلسنت پر اعانت سنت واہانت بدعت تحریراً وتقریراً بقدر قدرت فرض اہم واعظم ہے او رہر موذی کو مسجد سے نکالنا بشرط استطاعت واجب بلکہ اگرچہ صرف زبان سے ایذا دیتاہو خصوصا وہ جس کی ایذا مسلمانوں میں بدمذہبی پھیلانا اور اضلال واغواہو ان کی سند میں وہی احادیث وروایات کہ سائل فاضل نے ذکرکیں کافی ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter