Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
124 - 150
مسئلہ ۲۰۶: از قصبہ حافظ گنج ضلع بریلی مسئولہ عبداللہ رضوی عرف چھنگے ۱۳صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ حافظ گنج میں ہندوؤں کی جل بہار اٹھتی تھی مگر اب کی مرتبہ مسجد کے قریب کے راستہ سے گزرنا چاہا تھا تمام اہلسنت وجماعت نے کہاکہ ہماری مسجد کے سامنے سے نہیں نکلتی ہے، عمرو نے جودیوبند کو اپنا پیشوا مانتاہے ہندوؤں کے ہمراہ ہوکر تھا نہ میں کہہ دیاکہ مسجد کے سامنے سے نکلتی ہے اس حالت میں عمرو برادری کے قابل ہے مسلمان مانا جائے یانہیں،ا ور بی بی عمرو کی ہندو کے ہمراہ میلہ رام لیلا کو جائے شریعت سے اس کانکاح جائزرہایانہیں؟
الجواب

میلا،میں جانا توحرام ہی ہے اگرچہ اس سے نکاح نہ کیا جائے اور کفار کے لئے جھوٹی گواہی دینی اور وہ بھی ایسی ناپاک بات میں، اور اس کے سبب مسجد کی توہین کرانی قریب بہ کفرہے اگرچہ اس پر کفر مطلق کا حکم نہ بھی ہو، مگر جب وہ دیوبندیوں کا معتقد ہے تو اسی قدر اس کے کفر کے لئے کافی ہے، فتوٰی علمائے حرمین شریفین میں دیوبندیوں کی نسبت ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جوان کے کافرہونے اوران کے عذاب کے بارے میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔
 (۱؎ درمختار        باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
بہرحال عمرو کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہے، اور اس سے میل جول حرام ہے، اور اسے برادری سے خارج کرنا فرض، مگر جب اسلام لائے اوراپنے کفر اور ان کبائر سے توبہ کرے، اور دیوبندیہ و دیگر وہابیہ وجملہ کفا ر کو کافر مانے اس وقت برادری میں شامل کیاجاسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی صاحب طالب علم ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معاذاللہ یہ کہے کہ میں عیسائی یاوہابی یا کافر ہوجاؤں گا، نام ایک فرقہ کا لیا آیا وہ انھیں میں سے ہوگا یانہیں؟ یایہ کہے کہ جی چاہتاہے کہ غیر مقلد ہوجاؤں یا یہ کہے کہ غیرمقلد ہونے کا جی چاہتاہے، یہ قول کیسا ہے، اگرچہ کسی کو چھیڑ نے یا مذاق کی غرض سے کہے، بینوا توجروا
الجواب

جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہوگیا مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے،واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ تا ۲۱۲: از قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مسئولہ ضیاء الدین صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم۔

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ادام فیضہم المولی العلام ان مسائل میں، بینوا توجروا

(۱) ایک صاحب مسمی مولوی اشرف علی ساکن قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور دوسرے صاحب حکیم عبداللہ مقیم تلہر ہیں، حکیم صاحب کا یبان ہے کہ ''یزید فاسق فاجر نہ تھا اس کو برا نہ کہا جائے اور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس کے یہاں جانا نہ چاہئے تھا، کیوں گئے، اور یہ ملکی جنگ تھی'' دوسرے یہ کہ نماز فجر کے بعد مسلمانوں نے ان سے مصافحہ کرناچاہا انھوں نے مصافحہ نہ کیا اور بدعت بتادیا، کیا حکیم صاحب کایہ بیان سراسر غلط نہیں۔ کیا انھوں نے حضرت سیدا لشہدا رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان ارفع واعلٰی میں گستاخی نہ کی؟ داد کذب بیانی نہ دی؟ کیا مصافحہ سے دست کشی وانکار اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ اس کی مراد بدعت سے بدعت سیئہ ہے اور ان کایہ فعل وہابیانہ ہے؟

(۲) اول الذکر مولوی صاحب ایک زمانہ تک مدرسہ مولوی یسین واقع بریلی محلہ سرائے خام کے مدرس رہ چکے ہیں، کیا ان کی وہابیت کو اسی قدرکافی  نہیں کہ ایک بدمذہب کے مدرسہ میں ملازم رہ کر اس مدرسہ کے دستور العمل درس تعلیم کی پابندی کرکے درس دیا چہ جائیکہ علم غیب حبیب خدا سید ہردوسرا علیہ افضل التحیۃ والثناء میں وہابیہ کا خیال مغویانہ قیل وقال، جو کوئی شخص صحیح العقیدہ علم حضور سراپانور کو روز اول سے قیامت تک کے تمام اشیاء ذرہ ذرہ کو کلیۃً وجزیۃً محیط جانے اور ان کے واسطے ماکان ومایکون کاعلم مانے اور قائل علم غیوب خمسہ ہو وہ شخص ان مولوی صاحب کے نزدیک مضل وضال قابل عقاب ونکال، اکابرعلمائے اہلسنت کثرہم اللہ تعالٰی کی شان میں جن کی مدح وستائش میں مفتیان علام وعلمائے ذوی الاحترام حرمین طیبین وروم وشام وغیرہم مبالغہ فرمائیں اور ان کو پیشوا وسردار علمائے اہلسنت بتائیں، یہ صاحب بیہودہ الفاظ وناشائستہ کلمات زبان پرلائیں، ان صاحب کے تمام اوصاف میں باستثنائے مدرسی مدرسہ مذکورہ حکیم صاحب مذکور بھی شریک وہمخیال یہ دونوں صاحب مولوی قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند ومولوی شید احمد گنگوہی ومولوی اشرف علی تھانوی کو اپنا پیشوا جانتے اور سرتاج اہلسنت مانتے ہیں، کیا دونوں صاحب کم سے کم بدعتی وبدمذہب نہیں؟، کیا ان کے ساتھ ان احادیث واقوال کے مطابق عمل نہ کیا جائے جو فتاوٰی الحرمین طبع بمبئی میں مذکور ہیں:
فی صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۔
صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ان سے الگ رہو انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء     قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۱۰)
ولابی داؤد عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلاتشہدوھم ۱؎۔
ابوداؤد کی حدیث میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ، مرجائیں توجنازے پرحاضر نہ ہو۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب السنہ باب فی القدر        آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/ ۲۸۸)
زاد ابن ماجۃ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیہم ۲؎۔
ابن ماجہ نے بروایت جابررضی اللہ تعالٰی عنہ اس قدر اور بڑھایا:ـ جب انھیں ملو تو سلام نہ کرو۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     باب فی القدر            ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۱۰)
وعند العقیلی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولاتناکحوھم ۳؎۔
عقیلی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ان کے پاس نہ بیٹھو، ساتھ پانی نہ پیو، ساتھ کھانانہ کھاؤ، شادی بیاہ نہ کرو۔
 (۳؎ الضعفاء الکبیر     ترجمہ احمد بن عمران        دارالکتب العلمیہ بیروت        ۱/ ۱۲۶)
زاد ابن حبان عنہ لاتصلوا علیہم و لاتصلوا معہم ۴؎۔
ابن حبان نے انھیں کی روایت سے زائد کیا ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
 (۴؎ کنز العمال        حدیث ۳۲۵۲۹        موسسۃ الرسالہ بیروت        ۱۱/ ۵۴۰)

(میزان الاعتدال    ترجمہ ۱۲۰۳ بشیر بن عبیداللہ        القیصر دارالمعرفۃ بیروت        ۱/ ۳۲۰)
الدیلمی عن معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انی برئ منہم وھم براء منی جھادھم کجھاد الترکیۃ والدیلم ۵؎۔
دیلمی نے معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے بیزارہوں وہ مجھ سے بے علاقہ ہیں ان پر جہاد ایسا ہے جیسا کہ کافران ترک ودیلم پر۔
 (۵؎ فردوس الاخبار    حدیث ۳۲۵۴ معاذ بن جبل    دارالکتب العربی بیروت        ۲/ ۴۴۹)
ولابن عساکر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا رأیتم صاحب بدعۃ فاکھروافی وجہہ فان اﷲ یبغض کل مبتدع ولایجوز احد منہم علی الصراط لکن یتھا فتون فی النار مثل الجراد والذباب ۱؎۔
ابن عساکر انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کسی بدمذہب کو دیکھو تو اس کے بررُو اس سے ترش روئی کرو اس لئے کہ اللہ تعالٰی ہر بدمذہب کو دشمن رکھتاہے ان میں کوئی پل صراط پر گزر نہ پائے گا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آگ میں گر پڑیں گے جیسے ٹیری اور مکھیاں گرتی ہیں۔
 (۱؎ تذکرۃ الموضوعات للفتنی   باب افتراق الامۃ علی ثلاث وسبعین فرقۃ    کتب خانہ مجیدیہ ملتان   ص۱۵)
وللطبرانی وغیرہ عن عبداﷲ بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۲؎۔
 (طبرانی وغیرہ عبداللہ بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ت) جوکسی بدمذہب کی توقیر کرے اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد دی۔
 (۲؎ المعجم الاوسط  مروی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حدیث ۶۷۶۸    مکتبۃ المعارض الریاض   ۷/ ۳۹۶)

(حلیۃ الاولیاء            ترجمہ ۳۱۷ حضرت خالد بن معدان      دارالکتب العربی بیروت        ۵/ ۲۱۸)
ولہ فی الکبیر ولابی نعیم فی الحلیۃ عن معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من مشی الی صاحب بدعۃ لیوقرہ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۳؎ وغیرہ من الاحادیث، قال العلماء فی کتب العقائد کشرح المقاصد وغیرہ ان حکم المبتدع البغض و الاھانۃ والرد والطرد ۴؎۔
نیز طبرانی معجم کبیر اور ابونعیم نے حلیہ میں معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی بدمذہب کی طرف اس کی توقیر کرنے کو چلے اس نے اسلام کے ڈھانے میں اعانت کی، اور اس کے سوا اور حدیثیں ہیں، علماء کتب عقائد مثل شرح مقاصد وغیرہ میں فرماتے ہیں کہ بدمذہب کاحکم اس سے بغض رکھنا اسے ذلت دینا اس کا رد کرنا اسے دور ہانکنا ہے۔
 (۳؎ المعجم الکبیر             از معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۱۸۸    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۲۰/ ۹۶)

(حلیۃ الاولیاء            ترجمہ ۳۶۔ ۳۳۵            دارالعربی بیروت        ۶/ ۹۷)

(۴؎ شرح المقاصد        الفصل الرابع فی الامامۃ            دارالمعارف النعمانیۃ لاہور        ۲/ ۲۷۰)
وفی غنیۃ الطالبین قال فضیل بن عیاض من احب صاحب بدعۃ احبط اﷲ عملہ واخرج نورالایمان من قلبہ واذا علم اﷲ عزوجل من رجل انہ مبغض صاحب بدعہ رجوت اﷲ تعالٰی ان یغفر ذنوبہ وان قل عملہ واذارأیت مبتدعا فی طریق فخدطریقا  اٰخر اھ ۱؎۔
غنیۃ الطالبین میں ہے فضیل بن عیاض نے فرمایا جو کسی بدمذہب سے محبت رکھے اس کے عمل حبط ہوجائیں گے اور ایمان کا نور اسکے دل سے نکل جائے گا اور جب اللہ تعالٰی اپنے کسی بندے کو جانے کہ وہ بدمذہب سے بغض رکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ مولٰی سبحنہ وتعالٰی اس کے گناہ بخش دے اگرچہ اس کے عمل تھوڑے ہوں  اور جب کسی بدمذہب کو راہ میں آتا دیکھو تو تم دوسری راہ لو، انتہی بقدر الضرورۃ۔
 (۱؎ غنیۃ الطالبین  فصل فی اعتقاد اہل السنۃ ان امۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ مصطفی البابی مصر  ۱/ ۸۰)
 (۳) جب شرع مطہر نے ایسے لوگوں سے اس درجہ نفرت دلائی اور اس قدر برائی بیان فرمائی تو کیا مسلمانوں کا فرض مذہبی نہیں کہ ان کو مسجد میں آنے سے روکیں، ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کرلیں، علی الخصوص وہ شخص جس کے ہاتھ میں مسلمانوں کاکام ہوا ور مسلمان اس کو مانتے ہوں  اور عزت ووقار کی نظر سے دیکھتے ہوں خواہ بباعث علم یا بجہت پیری مریدی یابخیال تونگری وغیرہ اس پر سخت ضروری کہ ان کو خود دخول مسجد سے حتی الوسع روکے اور ان کے ساتھ میل جول سے مسلمانوں کو بازر کھے، جو شخص ان مولوی صاحب وحکیم صاحب کے خیالات باطلہ وحالات فاسدہ پر مطلع ہوکر ان دونوں کو امام بنائے اور ان کے پیچھے نماز پڑھے اور کہے یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں ہمیں ان سے کیا سروکار آخریہ دونوں عالم توہیں، کیا وہ شخص زیاں کار اور انھیں مفسدین فی الدین سے نہیں اور وہ نماز اس کی باطل ومردود نہیں؟ حالانکہ جن تین علمائے مذکورین کو یہ دونوں صاحب پیشواجانتے ہیں ان کے بارے میں مفتیان وعلمائے مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ نے یہ حکم دیا جیساکہ فتاوٰی حسام الحرمین میں مذکور ہے:

ان ھٰؤلاء الفرق الواقعین فی السؤال غلام احمد القادیانی ورشید احمد و من تبعہ کخلیل الانبھتی واشرف علی وغیرھم لاشبھۃ فی کفرھم بلامجال بل لاشبھۃ فی من شک بل فی من توقف فی کفرھم بحال من الاحوال ۱؎۔

بیشک یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں اورنہ شک کی مجال، بلکہ جو ان کے کفرمیں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انھیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہہ نہیں۔
 (۱؎ حسام الحرمین     تقریظ اسمٰعیل بن خلیل        مکتبہ نبویہ لاہور     ص۴۹)
اسی میں ہے:
اظھرفضائحہم القبیحۃ فی المعتمد المستند فلم یبق من نتائجہم الفاسدۃ بکل واضحۃ دامغۃ جلیلۃ لاسیما المتصدی لحل رایۃ ھذہ الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوہابیۃ ومنہم مدعی النبوۃ غلام احمد قادیانی والمارق الاخر المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی ورشید احمد الکنکوھی وخلیل احمد الانبھتی واشرف علی التانوی، ومن حذاحذ وھم ۲؎۔ انتہی بقدر الضرورۃ۔
مصنف نے اپنی کتاب معتمد المستند میں اس گروہ کی بری رسوائیاں ظاہر کیں پس ان کے فاسد عقیدوں سے ایک بھی بغیر پوچ لچر کئے نہ چھوڑا تو اے مخاطب تجھ پر لازم ہے کہ اسی روشن رسالہ کا دامن پکڑے جسے مصنف نے بزدوی لکھ دیا تو ان گروہوں کے رد میں ہر ظاہر وروشن وسرکوب دلیل پائے گا خصوصا جو اس گروہ خارجی ازدین کے باندھے ہوئے نشان کھول دینے کا قصد کرے، وہ گروہ خارج از دین کون ہے جسے وہابیہ کہاجاتاہے اور ان میں مدعی نبوت غلام احمد قادیانی ہے اور دین سے دوسرا نکلنے والا شان الوہیت ورسالت گھٹانے والا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی تھانوی اور جو ان کی چال چلا، انہتی بقدر الضرورۃ۔
 (۲؎حسام الحرمین    تقریظ مفتی تاج الدین الیاس   مکتبہ نبویہ لاہور   ص ۱۰۷)
اسی میں ہے:
وبالجملۃ ھٰؤلاء الطوائف کلہم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیۃ والدرر والغرر والفتاوٰی الخیریۃ ومجمع الانہر والدرالمختار وغیرہا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤلاء الکفار من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر اھ وقال فی الشفاء الشریف ونکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام من الملل اووقف فیہم شک اھ وقال فی بحرالرائق وغیرہ من حسن کلام اھل الاھواء اوقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذٰلک کفرا من القائل کفرا لمحسن اھ وقال؛ الامام ابن حجرفی الاعلام فی فصل الکفر المتفق علیہ بین ائمتنا الاعلام من تلفظ الکفر یکفر وکل من استحسنہ او رضی بہ یکفر اھ ۱؎۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب (اسماعیلیہ، نذیریہ، امیریہ، قاسمیہ، مرزائیہ، رشیدیہ، اشرفیہ) مرتد ہیں، باجماع امت اسلام سے خارج ہیں اور بیشک بزازیہ اور درر غرر اور فتاوٰی خیریہ اور مجمع الانہر اوردرمختار وغیرہا معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے خود کافرہے، اورشفا شریف میں فرمایا ہم اسے کافر کہتے ہیں جو ایسے کو کافرنہ کہے جس نے ملت اسلام کے سوا کسی ملت کا اعتقاد کیا یاان کے بارے میں توقف کرے یا شک لائے، اور بحرالرائق وغیرہ میں فرمایا جو بددینوں کی بات کی تحسین کرے یا کہے کچھ معنی رکھتی ہے یا اس کلام کے کوئی صحیح معنی ہیں اگر اس کہنے والے کی وہ بات کفر تھی تو یہ جو اس کی تحسین کرتاہے یہ بھی کافر ہوجائے گا، اورامام ابن حجر نے کتاب الاعلام کی اس فصل میں جس میں وہ باتیں گنائی ہیں جن کے کفر ہونے پر ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے فرمایا جو کفر کی بات کہے وہ کافر ہے اور جو اس بات کو اچھا بتائے یا اس پر راضی ہو وہ بھی کافر ہے انتہی۔
 (۱؎ حسام الحرمین     کتاب المعتمد المستند        مکتبہ نبویہ لاہور    ص۳۱)
تو موافق ارشاد علمائے مکہ مکرمہ ومدینہ ومطابق حکم معتمد المستند نذیر حسین دہلوی وامیر احمد سہسوانی و قاسم نانوتوی ومرزا غلام احمد قادیانی ورشید احمد گنگوہی واشرف علی تھانوی اور ان سب کے مقلدین ومتبعین وپیروان ومدح خوان باتفاق علمائے اعلام کافرہوئے او رجو ان کو کافر نہ جانے ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی بلا شبہ کافرہے چہ جائیکہ پیشوا اور سردارجانیں
والعیاذ باﷲ الکریم۔ وھویہدی من یشاء الی صراط مستقیم ۲؎
(وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ چلاتاہے۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                        ۲/ ۱۴۲ و ۲۴۳ و ۱۰/ ۲۵)
ہم کو چونکہ اختصار منظور تھا لہذا ان گمراہوں گمراہ گروں کافروں کے وہ اقوال ملعونہ ومردودہ جن پرحکم فسق و کفر لگایا گیا بالکل نقل نہیں کئے، اور ان اقوال پر علمائے حرمین نے جس قدر احکام لگائے ہیں ان میں صرف دس پانچ تحریر ہوئے، جو صاحب ان فرق باطلہ کے اقوال عقوبت مال اور ان احکام علمائے اہل کمال پر اطلاع چاہیں وہ فتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین مطالعہ فرمائیں۔

(۴) ایسے نازک وقت میں کہ ہر چہار طرف سے دین حق پر حملے ہورہے ہیں اور بیخ کنان سخت یکبارگی ٹوٹ پڑے ہیں کیا علمائے اہلسنت پر واجب نہیں کہ اپنے علم کو ظاہر کریں اورمیدان میں آکر تحریرا وتقریرا احیاء سنت اماتت بدعت ونصرت ملت فرمائیں اگر ایسانہ کریں سکوت وخاموشی سے کام لیں تو کیا اس حدیث شریف کے مورد نہ ہوں گے جو فتاوٰی الحرمین میں مذکور ہے۔
قال الامام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ ان الحامل الداعی لی علی التالیف فی ذٰلک وان کنت قاصرا عن حقائق ماھنالک  مااخرجہ الخطیب البغدادی فی الجامع وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اذا ظھرت الفتن او قال البدع وسب اصحابی فلیظھر العالم علمہ فمن لم یفعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۱؎ اھ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور  میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اللہ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔
 (۱؎ فتاوٰی الحرمین    جواب سوال تاسع     مکتبہ حامدیہ لاہور    ص۱۷)
 (۵) جو شخص مسجد میں آکر اپنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتاہو اس شخص کو مسجد سے نکالنے کا حکم ہے، اس کے نکالنے کے بارے میں درمختارکایہ قول نص صریح ہے یانہیں؟
واکل نحوثوم ویمنع منہ وکذاکل موذولو بلسانہ ۲؎۔
یعنی مسجد میں داخل ہونے سے بد بودار چیزوں مثل کچا لہسن کھانے والے کو منع کیا جائے اور اسی طرح ہر ایذا دینے والا اگرچہ زبان سے دیتاہو دخول مسجد سے روکا جائے۔
 (۲؎ درمختار        باب مایفسد الصلوٰۃ ویکرہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۵)
ردالمحتارمیں تحت قول واکل نحوثوم فرمایا:
ای کبصل ونحوہ ممالہ رائحۃ کریھۃ للحدیث الصحیح فی النھی عن قربان اکل الثوم والبصل المسجد، قال الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری قلت علۃ النھی اذی الملئکۃ واذی المسلمین ۱؎۔
یعنی جیسے پیاز وغیرہ ان چیزوں سے جن میں بدبو ہویہ حکم موافق حدیث صحیح ہے جو کچالہسن اور پیاز کھانے والے کی ممانعت دخول مسجد میں ہے امام عینی نے اپنی شرح میں جو صحیح بخاری پر لکھی ہے فرمایا کہ میں کہتاہوں دخول مسجد سے ممانعت کا سبب ایذائے ملائکہ وایذا ئے مسلمانان ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلوٰۃ ویکرہ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۴۴۴)
والحمدﷲ رب العلمین وافضل الصلوات واکمل التسلیمات علی اشرف الانبیاء والمرسلین وعلی صحبہ والہ ومن تبعہم اجمعین۔
Flag Counter