مسئلہ ۲۰۴: از شہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب ۷ صفر ۱۳۳۹ھ
مسئلہ مسئولہ سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی ۲ صفر ۱۳۳۹ھ
میں جو دربارہ مطلب ومعنی آیہ شریفہ
مَنْ یشفع شفاعۃ حسنۃ ۱؎
(الی مقیتا) ہے اس بات پر منطقی دلائل قائم کرکے ایک بحث طویل کی جاسکتی ہے کہ فلاں مسلم یا نامسلم فلاں سلطنت مظلومہ اور فلاں ملک کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور حفاظت کی کوشش بلیغ کررہاہے اس کے جلسہ وجلوس اور وعظ وبیان کی شرکت اور اس کی تعظیم ومدح اور اس کی اقتداء وپیروی سب جائز بلکہ ضروری ہے اور جو اس بات سے احتراز کرے یاا س پر اعتراض کرے تو وہ آیہ شریفہ کے خلاف کام کرتاہے اور گنہ گار ہے جو دوسروں کو امورمتذکرہ بالا سے منع کرتاہے یا روکتاہے وہ آیہ شریفہ کے حصہ آخر یعنی شفاعت سیئہ کا مرتکب ہوا، امید کہ اس کی نسبت تصریح ووضاحت فرماکر ماجور ومشکور ہوں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۸۵)
الجواب
آیہ کریمہ کی نسبت ایسا وسوسہ محض القائے شیطان رجیم ہے، قرآن عظیم میں اعمال حسنہ و سیئہ کی ایک عام میزان ومعیار مقرر فرمائی ہے کہ تمام فروع میں ملحوظ ومرعی ہے اللہ جل وعلا ارشاد فرماتاہے:
کون ایسا ہے جو اللہ کے لئے قرض حسن دے اللہ اسے دونا دون عطا فرمائے اور اس کے لئے عزت والاثواب ہے۔
(۳؎القرآن الکریم ۵۷/ ۱۱)
کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ کافر اگر کسی کودوا یک روپے بے سود قرض دے دے وہ اس آیت میں داخل ہے اور اس کے لئے عزت کا ثواب ہے، صورت دائرہ نہ صورت شفاعت ہے نہ شفاعت حسنہ بلکہ بداہۃ سخت شناعت سیئہ ہے، مسلمان کہلانے والوں نے مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامی وانقیاد واختیار کیا، شعائر اسلام کی بندش میں کوشاں ہیں، اورشعار کفر قبول کرنے پر نازاں، مشرکوں کی تعظیم کہ سخت مخالفت قرآن عظیم ہے اعلان کے ساتھ ہورہی ہے ان کی جے پکاری جاتی ہے، انھیں اپنی مزعوم حاجت دینیہ میں پیشوا ورہنما بنایا جاتاہے آیات واحادیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہے، مشرکوں کو مساجد میں لے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا جاتاہے مشرک کی ٹکٹکی کندھوں پراٹھاکر مرگھٹ تک لے گئے اس کے لئے دعائے مغفرت ونماز جنازہ کے اشتہار دئے جو صریح کفرہے، صاف کہہ دیا کہ آج تم نے اگر اپنے ہندوبھائیوں کو راضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلیا اوریہ کہ خدا کی رسی مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین نہ ملے دنیا تو ضرور ملے گی، علانیہ چھاپ دیا کہ ہم ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندومسلم کا امتیاز موقوف کردے گا او ر سنگم وپریاگ کو مقدس علامت بنائے گا، یہاں اس قول کے معنی کھلے جو خدا کی رسی کی نسبت کہاتھا، حبل اللہ قرآن عظیم ہے محال ہے کہ اسے مضبوط تھامنے سے دین نہ ملے، مگریہ دین جو معابد کفار کو مقدس بنائے او رمسلم وکافر کا امتیاز اٹھائے البتہ قرآن عظیم سے نہیں مل سکتا، قرآن عظیم تو اس کا بیخ کن ہے۔
ان الدین عنداﷲ الاسلام ۱؎
بیشک اللہ کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۹)
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاٰخرۃ من الخسرین ۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۸۵)
ا ور جو اسلام کے سوا کوئی بھی دوسرا دین چاہے وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں زیاں کاررہے گا۔
لہذا تصریح کردی کہ قرآن عظیم کو مضبوط تھامنے سے اگرچہ دین نہ ملے اور کہاں تک ان کے افعال و اقوال ذکر کئے جائیں جن کے دل اللہ نے الٹ دئے اور آنکھیں پلٹ دیں
فسبحن مقلب القلوب والابصار
(پاک ومنزہ ہے وہ ذات جو دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتی ہے۔ ت) باقی امور تحریم تعظیم مشرکین وغیرہ بار ہا بیان ہوچکے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵: از لاہور بازارکٹرہ کالج شرونوالہ مسئولہ خادم اسلام ملامحمد بخش حنفی چشتی سابق منیجر اخبار ہنر ۹صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امر مشروع اور مباح شرعی کو کوئی شخص حرام شرعی اور ممنوع مذہبی بنانے کی طاقت رکھتاہے یانہیں؟ غیر مشروع پر کوئی شخص مشروع اور حلال شرعی بناسکتاہے یانہیں؟ جیسے کہ گائے کی قربانی مشروع اور مباح شرعی ہے کیا اس کوکوئی لیڈر قوم ممنوع شرعی کراسکتاہے، ہنود کی مجالس اعیاد میں شرکت جو ممنوع اور حرام شرعی ہے کیا لیڈروں کی رائے سے وہ شرکت جائز اور حلال ہوسکتی ہے یانہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب
یہ دین پاک اللہ واحد قہار نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پرتمام جہان کے لئے قیامت تک کے واسطے اتاراہے۔
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعٰلمین نذیرا ۱؎o قل یایھاالناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا ۲؎۔
بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو، تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۱) (۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۵۸)
اور ان سے نبوت کا دروازہ بند فرمادیا، محال ہے کہ ابدالآبادتک اب کوئی جدید نبی ہو۔
ہاں اللہ کے رسول ہیں، اور سب نبیوں میں پچھلے، اوراللہ سب کچھ جانتاہے۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
محال ہے کہ ان کی کتاب کا ایک حرف یا ان کی شریعت کاکوئی حکم کبھی بدل سکے
لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ط تنزیل من حکیم حمید ۴؎۔
باطل کو اس کی طرف راہ نہیں، نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔
(۴؎القرآن الکریم ۴۱/ ۴۲)
ان کی شریعت کے کسی حلال کو جو حرام بتائے یا کسی حرام کو حلال بتائے وہ حلال حرام یا حرام حلال تونہ ہوجائے گا بلکہ یہی کہنے والا الٹا کافر ہوجائے گا۔
ولاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ط ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۱؎ o متاع قلیل ثم ماوٰھم جھنم وبئس المہاد ۲؎ o قل اٰﷲ اذن لکم ام علی اﷲ تفترون ۳؎ o ویلکم لاتفتروا علی اﷲ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتری ۴؎o
اورنہ کہو اسے جو تمھاری باتیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو، بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا، تھوڑا برتنا ہے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھونا، کیا اللہ نے اس کی تمھیں اجازت دی ہے یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو، تمھیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو وہ تمھیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶)
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۹۷)(۳؎القرآن الکریم ۱۰/ ۵۹)(۴؎القرآن الکریم ۲۰/ ۶۱)
قربانی گاؤ کی حلت اور مجالس اعیادہنود میں شرکت کی حرمت دونوں ضروریات دین میں سے ہیں جو اسے حرام یاحلال کہے وہ اللہ ورسول پرافتراء کرتاہے اوربحکم قرآن اس کا ٹھکانا جہنم ہے اورحکم کفر اس پر لازم والزم۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۵؎ o
اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ (ت)
(۵؎القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس طرح چھٹکارا پائیں گے، ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں، اللہ تعالٰی بلند وعظیم کی طاقت وتوفیق کے بغیر انسان نہ برائی سے پھر سکتاہے اور نہ نیکی بجالا سکتاہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔