مسئلہ ۱۹۵ و ۱۹۶: از فتحپور محلہ ایرانیاں مرسلہ حکیم سیدنعمت اللہ صاحب ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
مولانا المعظم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آج کل اخباروں میں علماء نے شائع فرمایا ہے کہ مصلحتا ضرورت ہے کہ ہندوؤں سے اتفاق کیا جائے اور بجائے گائے کی قربانی کے بکری بھیڑ کی قربانی کی جائے، تو جناب والا اس کی نسبت کیا فرماتے ہیں کہ جو قربانی گائے کی کرتاہے اس کو آجکل اس مصلحت سے گائے کی قربانی نہ کرنا کیساہے؟
(۲) اصل میں بکری بھیڑ کی قربانی افضل ہے یا گائے کی، فقط
الجواب
یہاں گائے کی قربانی قائم رکھنا واجب ہے اور اس ناپاک مصلحت کے لئے اس کام کا چھوڑنا حرام، گائے کی قربانی اسلام کا شعار ہے، او رشعار اسلام بند کرنے کی وہی کوشش کرے گا جو اسلام کا بدخواہ ہے، ایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا بلکہ ظالم ہے، اور کس پر ظلم ہوتاہے، اسلام پر اور ہنود سے جیسا اتحاد منایا جارہاہے حرام ہے حرام قطعی حرام ہے، نصوص قرآن عظیم سے حرام ہے اور اس کے جو نتائج ہورہے ہیں کہ مسلمانوں نے قشقے لگوائے۔ رام لچمھن پر پھول چڑھائے، مشرک کی ٹکٹکی اپنے کندھوں پراٹھا کر اس کی جے بولتے ہوئے مرگھٹ میں لے گئے۔ قرآن عظیم ایک ڈولے میں رامائن کی پوجاکراتے مندر میں لے گئے، ان کے بڑے لیڈر نے قرآن وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثارکردی، یہ فضائح کھلے ہوئے کفر نہیں رہے؟ مشرک سے اتحاد ہوکر یہ نتیجہ آپ ہی ضرور تھا، قرآن کریم میں صاف ارشاد فرمایا کہ تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا، وہ سب انھیں میں سے ہے، آیہ کریمہ کا رڈ پر نہیں لکھی جاسکتی، ترجمہ اس کا یہی ہے، پھر کیونکر ممکن تھا کہ مشرکوں سے اتحاد کرنے والے مشرک نہ ہوجاتے یہ یہاں ہے، اور اگر سچے دل سے تائب ہوکر باز نہ آئے تو صحیح حدیثوں کا ارشاد ہے کہ ان کا حشر بھی بت پرستوں کے ساتھ ہوگا، مولٰی عزوجل اپنے غضب سے پناہ دے، ہدایت فرماکر دل نہ الٹے۔ راہ دکھا کر آنکھیں نہ پلٹیں،
(اے دلوں اور آنکھوں کو بدلنے والے! ہماری حفاظت فرما۔ ت) وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷: از لکھنؤ کنٹونمنٹ روڈ کوٹھی ۳۳ مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب ۵ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
عالیجناب معلی القاب مولانا صاحب قبلہ ادام اللہ برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آج کل اہل ہنود جگہ جگہ میونسپلٹی کے ذریعہ سے انسداد گاؤ کشی کی کوشش کررہے ہیں، چنانچہ فیض آباد، ہاتھرس اور شہر لکھنؤ میں ہندو ممبران میونسپلٹی نے اپنی زیادتی تعداد کی وجہ سے تمامی مسلمانوں ممبروں کے خلاف انسداد گاؤ کشی کا قانون پاس کردیا ہے، اگر خدانخواستہ گاؤ کشی قانونا ممنوع قرار دی گئی تو عام مسلمانوں کو صرف اسی قدر نہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں ان کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ تقریبا تمام غیر مستطیع مسلمان جو تعداد میں نوے فیصدی سے بھی زائد ہیں ان سب کو عید الضحٰی میں قربانی کرنا بھی نصیب نہ ہو گا اس لیے کہ غریب مسلمان کسی طرح اس کی مقدرت نہیں رکھتے کہ وہ فرداً فرداً پندرہ بیس روپے کا بکراہرسال خرید سکیں، لہذا دریافت طلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں عام مسلمانوں کو خاموشی اختیار کرنی چاہئے یا انسداد گاؤ کشی کے خلاف ان کو بھی امکانی جدوجہد کرنی چاہئے، اور مذہباً ان پر کیا واجب ہے؟
یہ ایک استفتاء ہے جس کا جواب براہ کرم وبرائے خد ا ورسول اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) جلد تر عطا فرمائیں تاکہ مسلمانوں کے عام جلسہ میں جو کہ صرف پانچ چھ یوم میں ہونے والا ہے آنجناب کا شرعی حکم پھر سب کو پڑھ کر سنادیا جائے ۔
الجواب
مولٰنا المکرم وذوالمجد والکرم اکرمکم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یہ مسئلہ بھی کچھ قابل سوال ہے، حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کان یجب ان یعلم منزلتہ عنداﷲ فلینظر کیف منزلۃ اﷲ عندہ۔ فان اﷲ ینزل العبد منہ حیث انزلہ من نفسہ ۱؎۔ رواہ الحاکم فی المستدرک و الدارقطنی فی الافراد عن انس وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃوعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جو یہ جاننا پسندکرے کہ اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ کتنا ہے وہ یہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کی قدر کیسی ہے کہ بندے کے دل میں جتنی عظمت اللہ کی ہوتی ہے اللہ اسی کے لائق اپنے یہاں اسے مرتبہ دیتاہے (اسے حاکم نے مستدرک میں اور دارقطنی نے افراد میں انس وابونعیم نے حلیہ میں ابوہریرہ اورسمرہ بن جندب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
آدمی اگر اللہ ورسول کے معاملہ کوا پنے ذاتی معاملہ کے برابر ہی رکھے، تو دین میں اس کی سرگرمی کے لئے بس ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ذرا سی نالی یاپرنالے کی ملک بلکہ مجرد حق کے لئے کس قدر جان توڑ عرق ریزیاں کرتاہے اس کا مقدمہ منتہاتک پہنچا تاہے، کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا، پیسہ کے مال پر ہزاروں اٹھادیتاہے، دنیوی فریق کے مقابل کسی طرح اپنی دبتی گوارانہیں کرتا، گائے کشی مسلمان کا دینی حق ہے، اور حق بھی کیسا، خاص شعار اسلام،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
والبدن جعلنہا لکم من شعائر اﷲ ۲؎۔
اونٹ اور گائے کی قربانی کوہم نے تمھارے لئے دین الہٰی کے شعاروں سے کیا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۲ /۳۶)
امام محمد جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
وَالْبُدْنَ مِنَ اَلْاِبِلِ وَالْبَقَرِ ۳؎
(اونٹ اور گائے بُدنہ ہیں۔ت )
(۳؎ الجامع الصغیر باب تقلید البُدن مطبع یوسفی لکھنؤ ص ۳۱)
اور اگرشعار اسلام کو اور بھی خاص اعدائے اسلام کے مقابلہ میں اپنی ایک نالی کے برابر بھی نہ سمجھو، تو جان لو کہ اللہ واحد قہار ہے یہاں تمھاری قدر کتنی ہے اگر وہ ضرورت وضرر جو سوال میں مذکور ہوئے نہ بھی ہوتے بقدر قدرت کوشش لازم تھی،
حدیث میں ہے:
لیس منا من اعطی الدنیۃ فی دیننا ۱؎
ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے دین کے معاملہ میں دبتی رکھنے دے کہ ان ضرورتوں اور ضرروں کے ہوتے ہوئے بیشک جو اس میں بے پروائی وچشم پوشی برتے گا اور حسب طاقت دین کی مدد نہ کرے گا اور شعار اسلام کو نقصان پہنچنے دے گا،روز قیامت سخت بازپرس میں پکڑا جائے گا اور اس کی جزایہ ہے کہ اللہ تعالٰی قیامت میں اس کی شدید حاجت کے بوقت اسے بے یارومددگار چھوڑے، جیسا اس نے دین کی مدد سے منہ موڑا،
قال اﷲتعالٰی فکذلک الیوم تنسی ۲؎
اس سے قیامت میں فرمایا جائے گا جیسا تونے دین کو بھلاد یا تھا تو ایسا ہی آج تو بھلادیا جائے گا کہ کوئی تیری خبر نہ لے گا،
والعیاذباللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد ۱/ ۳۸۰)
(مسند احمد بن حنبل فلم نعطی الدنیہ فی دیننا ۴/ ۳۳۰)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۰/ ۱۲۶)
مسئلہ ۱۹۸: از پرولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان شب ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ترک گاؤ کشی یا ترک قربانی گاؤ مصلحت وقت سمجھ کر چھوڑ دیا جائے اس پر مذہبی نقصان ہے یانہیں؟
الجواب
گاؤ کشی مباح قطعی ہے، مشرکین کی خاطر اسے بند کرنا مشرک کا بول بالا کرنا ہے، اور قربانی گاؤ شعار اسلام ہے، مشرکین کی خاطر اس کا بند کرنا حرام ہے، وھو تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: از شہر بریلی صد ربازار مکان ۷۸۹ مرسلہ حافظ بنے خاں صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
قربانی گاؤ کے متعلق ہمارے علمائے دین کیا فرماتے ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
ہندوستان میں قربانی گاؤ کاجاری رکھنا واجب ہے اور خوشنودی ہنود کے لئے اس کا بند کرنا حرام ہے،
واﷲ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ۳؎۔
اللہ ورسول زیادہ اس سے مستحق ہیں کہ انھیں راضی کرو اگر تم مسلمان ہو۔
مسئلہ۲۰۰ و ۲۰۱: از آنولہ ضلع بریلی مرسلہ چودھری رحیم بخش صاحب مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید گائے قربانی کے واسطے خرید کی، چونکہ قربانی گائے کی اہل ہنود کے واسطے باعث دل آزاری ہوگی اس لئے زید خوشنودی اہل ہنود کے واسطے گائے خریدکردہ سے بیل یا بھینس وغیرہ بدل کر قربانی کرنا چاہتاہے تو عندالشرع یہ بدلنا درست ہے یا نہیں؟ اور گائے کی قربانی بوجہ اتحاد کے موقوف کردینا درست ہے یانہیں؟
(۲) محض خوشنودی اہل ہنود کے لئے قربانی بجائے تین روز کے ایک ہی دن مقرر کریں، درست ہے یانہیں؟ اور ایک دن مقرر کرلینے والوں کو عندالشرع کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب
(۱) وہ گائے کہ بہ نیت قربانی خریدی، اس کا دوسری گائے سے بدلنا بھی منع ہے کہ اللہ کے واسطے ا س کی نیت کرکے پھرنا معیوب ہے، اور ہندوؤں سے اتحاد حرام، اور اس کی وجہ سے گائے کی قربانی موقوف کرنا حرام، اور حرام موجب غضب جبار وعذاب نار، ایسا کرنے والوں کو حشر ہندوؤں کے ساتھ ہوگا، حدیث میں ارشاد ہوا کہ ''میں قسم کھاکرفرماسکتاہوں کہ جو جس سے اتحاد رکھے گا اس کاحشر اسی کے ساتھ ہوگا۱؎'' واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) یہ بھی حرام ہے، ہنود کی خوشنودی کے لئے اللہ ورسول کے حکم میں تنگی کرنا مسلمانوں کا کام نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۲: مسئولہ حافظ سلیم اللہ بہاری پوربریلی ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بغیر پردہ عورتوں کر مرید کرتاہے اور ان بے پردہ کو اپنے پاس بٹھلاتاہے، بات بھی کرتا ہے بجائے داڑھی منڈانے کے خشخشی کرنے کاحکم دیتاہے، عالموں کی غیبت کرتاہے، اذان اور صلوٰۃ اورتکبیر اپنے کانوں سے سنے مگر نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتاہے اورکہتایہ ہے کہ پیر رسول تک نہیں بلکہ خدا تک براہ راست پہنچادے گا، ایسے پیرکے واسطے ہماری شریعت کیا حکم دیتی ہے، ایسے پیر کا مرید ہونا کیسا ہے اور جو اس کے پیروکار ہیں ان کے واسطے اور ایسے پیر کے واسطے ہماری شریعت اہل سنت والجماعت کیا حکم دیتی ہے؟ کوئی بات خلاف نہیں ہے۔
الجواب
اگر یہ باتیں واقعی ہیں تو ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں، ایسا شخص اور اس کے پیرو سب گمراہ ہیں، اور یہ کہنا کہ پیر رسول تک نہیں بلکہ براہ راست اللہ تک پہنچادیتاہے اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ بے واسطہ رسول، اگر یہی مراد ہے تو صریح کفر ہے، واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: از بلنڈا ضلع پیلی بھیت مسئولہ محمد حسین صاحب ۴ ربیع الاخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تین شخصوں کو جوبستی کے تھے مسلمان کیا، اس پر اس بستی کے ایک مسلمان نے کہا کہ مسلمانوں کے کلمہ میں یہ طاقت ہے کہ سور کھانے والوں کو کلمہ پڑھاکر مسلمان کرلیتے ہیں تو ایسی حالت میں سورپر کلمہ پڑھ کرکیوں نہیں کھالیتے، ایسی حالت میں شرع اس پر کیاحکم لگاتی ہے، وہ شخص نماز نہیں پڑھتا روزہ نہیں رکھتا ہے نام کا مسلمان کہلاتاہے اور کہتاہے کہ ہم کو مسلمانوں سے واسطہ نہیں ہے ہم کو ہندوؤں سے کام ہے اور واسطہ ہے ہمارا روزگار ایساہے اور اس پر منع کیاگیا تو فوجداری پر آمادہ ہوگیا۔
الجواب
اگریہ بیان واقعی ہے تو وہ شخص کافر ہوگیا۔ اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، مسلمانوں کو اس سے میل جول سلام کلام حرام ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔