مسئلہ ۱۸۹ تا ۱۹۴: ازرائے بریلی مقام مدرسہ رحمانیہ عربیہ مسئولہ مسلمانان رائے بریلی ۲۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیڈران قوم جو علم شریعت سے ناواقف اوراحکام شریعت سے بے بہرہ ہیں، انھوں نے ۷ جنوری ۱۳۱۰ھ کو بمقام ٹاؤن ہال ایک میٹنگ منعقد کرکے اہالیان شہر کو جمع کیا اور قوم ہنود کی ہمدردی کو اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ نہایت پر زور تقریر و تائید میں دکھلاتے ہوئے باوجود مقامی عالم دین کے اختلاف ومتفق الرائے نہ ہونے کے اس امر پر بے حد مصر ہوئے کہ قوم ہنود کی ہمدردی کے صلہ میں گائے کی قربانی جو ان کے سخت دل آزاری کا سبب، اورباہمی اتفاق اور اتحاد کے لئے سدباب اور رخنہ انداز ہے قطعا چھوڑدینا چاہئے کیونکہ اس وقت ان کی محبت اور ہمدردی بالخصوص معاملت ترکی وخلافت عثمانیہ کے بارے میں بیحد ضروری ہے ان کی معیت معاملات مذکورہ میں قطعا مفید، اور ان کی علیحدگی قطعا مضر ہوگی، اور یہ بھی بیان کیا کہ شریعت نے ہم کو اختیار دیا ہے کہ گائے بکری، بھیڑ وغیرہ جس کی چاہیں قربانی کریں بلکہ مینڈھا کی قربانی افضل ہے، لہذا افضل کے ہوتے ہوئے گائے کی قربانی جس میں دل آزاری قوم ہنود کی ہے ہر گز نہ کرنا چاہئے، چنانچہ افسر علمائے ہند جناب مولانا عبدالباری صاحب نیز دیگر علمائے پنجاب نے ایسا ہی فتوٰی دے دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیاکہ وہ غرباء جو مثلا دس روپے کی گائے لے کر سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کرلیا کرتے تھے اب ان کے لئے یہ انتظام کیاجائے گا کہ ان سے دس روپیہ لے کر سات بکرایا بھیڑ ہم لوگ بہم پہنچادیا کریں گے اور زائد روپیہ ہم لوگ اپنے پاس سے لگادیا کریں گے، یا بھیڑ اور بکری بہ نرخ بازار مثلا چارپانچ روپیہ راس ہم لوگ خرید کر فراہم رکھیں گے اور غرباء کو مثلا ایک روپیہ راس دیا کرینگے، جس کے لئے کچھ چندہ بھی کیا گیا ہے، مگر اس کے لئے نہ کوئی جائداد وقف کرتے ہیں اور نہ ہمیشہ کے لئے کوئی رجسٹری کی صورت ہے، چونکہ اس امر پر پورااعتماد ہے کہ یہ لوگ اس بار عظیم کو ہمیشہ نہ نباہ سکیں گے، لہذا ضرور اور اغلب ہے کہ اس میں قوم ہنود سے خفیہ یا صراحۃ ضرور امداد لیں گے۔
لیڈران قوم کاخیال ہے کہ جس قدر قربانیاں سالہا ئے گزشتہ میں گائے کی لوگوں نے کی ہیں انھیں کوا مداد دی جائے گی، او رجو لوگ جدید قربانی کرنا چاہیں گے ان کو امداد نہ دی جائے گی، نیز جو لوگ پیغمبر علیہ السلام یا اپنے دیگر بزرگوں کی طرف سے قربانیاں کیا کرتے تھے چونکہ یہ بلاضروت ہے اس لئے ان کو امداد نہ دی جائے، اور یہ بھی خیال ہے کہ قربانی ہی پر کیا منحصر ہے، بلکہ جملہ شادی وغمی وغیرہ وغیرہ میں گائے ذبح نہ کی جائے، بجائے اس کے بکری وغیرہ کا گوشت استعمال کیا جائے، اور رائے بریلی میں اس امر کا تجربہ بھی ہوچکا ہے کہ جن مقامات میں گائے کی قربانیاں ہوا کرتی ہیں اس جگہ ایک سال قربانی نہ ہونے سے پھر آئندہ سال اس جگہ قربانی میں سخت رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے، اور نہیں ہوسکتی، چنانچہ اس کی نظیرموجود ہے، اس موقع پر کسی قانون دان لیڈر کو حِس تک نہیں ہوتی کہ اس کو بمقتضائے قانون جاری کرادیوے، بلکہ فتنہ وفساد کے الفاظ سے مرعوب کرکے غرباء کو خاموش کردیا جاتاہے۔ لہذا امور ذیل دریافت طلب ہیں:
(۱) قوم ہنود کی ہمدردی گزشتہ وآئندہ کے صلہ میں اور باہمی اتحاد قائم رکھنے کی غرض سے گائے کی قربانی ترک کردینا شرعا جائزہے یا ناجائز؟
(۲) اور ان لوگوں کے وعدہ موہومہ مذکورہ پر بھروسہ کرناچاہئے یانہیں؟ اور ان کے فراہم کردہ چندہ سے امداد لے کر اپنی طر ف سے وجوبا خواہ استحبابا قربانی کرنا درست ہوگا یانہیں؟
(۳) ان لوگوں کے فراہم کردہ چندہ سے جس میں شبہ قوی ہے کہ رقوم ہنود بھی شامل ہوں گی قربانی کرنا جائز ہوگا یاناجائز؟
(۴) فی الواقع اگر مولوی عبدالباری صاحب وغیرہ کا اس کے متعلق فتوٰی ہوچکا ہے اس پر عمل کرناچاہئے یا نہیں؟
(۵) اور ایسے محرکین کی کمیٹی میں شرکت کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور اس کے محرک اور مرتکب عنداللہ ماجور رہوں گے یا گنہ گار؟
(۶) گائے بھیڑ بکری اونٹ وغیرہ میں منجانب شریعت مختار ہونا، اس کے کیا معنی ہیں؟ بینوا توجروا