Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
120 - 150
مسئلہ ۱۸۷: ازبنارس چوک جدید مسئولہ حاجی محمد امیر وعبدالکریم صاحبان گلٹ فروش ۲۹ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ

ہمارے سنی حنفی علماء رحہم اللہ تعالٰی اس میں کیا فرماتے ہیں کہ ہم مسلمانان ہند کو باوجود کفا ر کے گاؤ کی قربانی کے مٹانے پر کمر بستہ رہنے کے صرف ہندؤوں سے سلطانی چندہ وصول کرنے کی غرض ومصلحت سے گائے کی قربانی کوہمیشہ کے لئے ترک کردینا، اور بغرض مذکور اس کے ترک کردینے کو تحریرا وتقریرا عام جلسوں میں یہ بیان کرنا اور شائع کرنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

گائے کی قربانی ہندوستان میں اعظم شعائر اسلام سے ہے:

قال اﷲ تعالٰی
والبدن جعلنہا لکم من شعائر اﷲ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانیوں سے کئے۔ (ت)
 (۱؂ القرآن الکریم        ۲۲/ ۳۶)
اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں ثابت کیا ہے کہ یہاں اس کی قربانی واجب ہے اور بلحاظ ہنود اس کا ترک ناجائز، کسی دینی کام کے لئے کفار سے چندہ لینا اول تو خود ہی ممنوع اور سخت معیوب ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بمشرک ۲؎
ہم کسی مشرک سے مددنہیں لیتے،
 (۲؎ سنن ابوداؤد     باب فی المشرک یسہم لہ    آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/ ۱۹)

(سنن ابن ماجہ        باب الاستعانۃ بالمشرکین     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۲۰۸)
ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی کتابی کافر سے قربانی کا ذبح کرانا مکروہ ہے اگرچہ کتابی کا ذبیحہ جائزہے، تنویر الابصار میں ہے:
کرہ ذبح الکتابی ۱؎
 (کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے۔ ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۴)
ردالمحتار میں ہے:
لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین ۲؎۔
کیونکہ یہ عبادت ہے اور دینی امور میں کافر سے مدد لینا مناسب نہیں۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب الاضحیۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۸)
امام نسفی کافی میں فرماتے ہیں:
امرالمسلم کتابیا بان یذبح اضحیۃ جاز، لانہ من اھل الذبائح والقربۃ (عہ) ابانابتہ ونیتہ ویکرہ لان ھذا من عمل القرب وفعلہ لیس بقربۃ ۳؎۔
مسلمانوں نے کسی کتابی کافر کو قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کاحکم دیا توجائز ہے کیونکہ کتابی لوگ ذبح کے اہل ہیں۔ (ت)
 (۳؎ کافی امام نسفی)
عہ: کافی سے مقابلہ نہ ہوسکا اس لئے یہاں کا کچھ لفظ رہ گیا ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
تو مشرک سے مسلمان مجاہدوں کے لئے چندہ لے کر اس کی نگاہ میں اسلام کومعاذاللہ محتاج وذلیل ٹھہرانے کے لئے اس کے مذہب باطل کو اپنے دین پر فتح دینا اور اسلام کا ایک بڑا شعار بندکردینا اسی کا کام ہوسکتاہے جو سخت احمق اور اسلام کانادان دوست یاصریح منافق اور اسلام کا چالاک دشمن ہو، والعیاذ باللہ تعالٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مسئولہ حافظ خورشید علی صاحب از مدرسہ خیر المعاد رہتک ۱۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی نبیہ الکریم۔
اللہم ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ ط انک انت الوھاب ۴؎۔
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاکر، بیشک تو ہے بڑا دینے والا۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم            ۳/ ۸)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے دوسرے مسلمانوں کی ایذا دہی اورتکلیف رسانی کے لئے ہندوؤں ا ور آریوں سے عقد محبت اور بھائی بندی مضبوط کیا، اور کافروں کے دباؤ سے محض ان کی خوشنودی اوراپنی غرض حاصل کرنے کے لئے علی الاعلان پنچایت میں کہہ دیا کہ ہم گائے کی قربانی ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ گائے کی قربانی کہیں نہیں آئی ہے۔

اب استفسار یہ ہے کہ گروہ مذکور اس عقد سے موافق آیہ ربانی:
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذواٰ اٰبائکم واخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان ط ومن یتولہم منکم فاولئک ھم الظلمون ۱؎ o
اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفرپسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم            ۹/ ۲۳)
اور حدیث رسول:
من تشبہ بقوم فہو منہم ۲؎
 (جو کسی قوم کی مشابہت اخیتار کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔ ت)
 (۲؎ سنن ابوداؤد     با ب فی لبس الشہرۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۰۳)

(مسند احمد بن حنبل    مروی از عبداللہ بن عمر    دارالفکر بیروت    ۲/ ۵۰)
خواہ تشبہ اعتقادیات میں ہو یا عملیات میں، یادونوں میں کافرہو ایا نہیں؟ علاوہ ازیں مسلمانوں کی ضد میں اپنے کئے پر جم جانے اور برتقدیر گناہ کبیرہ ہونے کے اس پر اصرار کرنے سے کافر ہوایانہیں؟ اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے، اور علماء کی شان میں کلمات بد کہنے، اور شریعت محمدیہ کی توہین سے یہ لوگ کافرہوئے ہیں یانہیں؟
الجواب

صورت مستفسرہ میں وہ لوگ سخت اشد اخبث اشنع کبیرہ کے مرتکب ہیں گائے کی قربانی بلا شبہ قرآن عظیم سے ثابت ہے، جواز کے لئے تو آیات کثیرہ ہیں۔ مثلا:
قال اﷲ تعالٰی ان اﷲ یأمر ان تذبحوا بقرۃ ۳؎۔
 (۳؎ القرآن الکریم                    ۲/ ۶۷)
اللہ تعالٰی کا ارشاد مبارک ہے: بیشک اللہ تعالٰی تمھیں حکم دیتاہے کہ گائے ذبح کرو۔

اور فرماتاہے:
من الابل اثنین ومن البقر اثنین ط قل ءٰ الذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین ۱؎۔
اونٹ میں سے دو،ا ور گائے میں سے دو تم فرماؤ کیا اللہ نے اونٹ اور بیل حرام کئے ہیں، یا اونٹنی اور گائے یا بوتا اوربچھڑا۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۶/ ۱۴۴)
یعنی ان میں سے کچھ حرام نہ فرمایا، سب تمھارے لئے حلال ہیں، اور خاص عبادت قربانی کے لئے فرماتاہے:
والبُدن جعلنہا لکم من شعائر اﷲ ۲؎۔
قربانی کے اونٹ اور گائے ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانیوں سے بنائے۔
 (۲؎ القرآن الکریم        ۲۲/ ۳۶)
خصوصا ہندوستان میں کہ یہاں تو بالخصوص گائے کی قربانی واجبات شرعیہ سے ہے جیسے ہم نے اپنے رسالہ ''انفس الفکر فی قربان البقر'' میں بدلائل واضحہ ثابت کیا ہے، خوشی ہنود کے لئے اس سے باز رہنے والا بلاشبہ بدخواہ اسلام ومسلمین ہے، دشمنان دین سے دوستی کرنے والا دشمن دین ہوتاہے، اور روز قیامت ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جاتاہے،
قال تعالٰی ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے وہ انھیں میں سے ہے۔
 (۳؎القرآن الکریم        ۵/ ۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المرء مع من احب ۴؎
آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے۔
 (۴؎ صحیح البخاری        باب علامۃ الحب فی اﷲ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۱۱)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
انت مع من احببت ۵؎
تو اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ دوستی رکھے۔
(۵؎صحیح البخاری    باب مناقب عمر بن الخطاب  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۵۲۱)
اور ایک حدیث میں ہے قسم کھاکر ارشادفرمایا:
مااحب رجل قوما الاحشرہ اﷲ فی زمرتہم ۶؎ اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جو کسی قوم کے ساتھ دوستی رکھے گا ضرور اللہ تعالٰی انھیں کے ساتھ اس کا حشر کریگا۔
 (۶؎ المعجم الکبیر        حدیث ۲۵۱۹        المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۳/ ۱۹)
گناہ کبیرہ پر اصرار اگرچہ کفرنہیں، مگر دشمنان دین کی دوستی اگر آج کفر نہ  ہو تومعاذاللہ مرتے وقت کافر اٹھاتی ہے کہ انھیں کے ساتھ حشر ہو، اورمطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب براکہنا، یا شریعت مطہر کی ادنٰی توہین کرنا، یہ تو یقینا قطعاًکفر وارتداد ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter